صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقام نہ لیتے مگر اللہ کے واسطے۔
ترقیم عبدالباقی: 2327 ترقیم شاملہ: -- 6048
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ".
ابواسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو کاموں میں انتخاب کرنا ہوتا، ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت آسان ہوتا تو آپ ان میں سے آسان ترین کا انتخاب فرماتے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو۔ اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6048]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے آسان تر کو پسند فرمایا، بشرطیکہ وہ گناہ کا باعث نہ ہو، اور اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6048]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2327
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2327 ترقیم شاملہ: -- 6049
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: أَيْسَرَهُمَا، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ.
ابوکریب اور ابن نمیر دونوں نے عبداللہ بن نمیر سے، انہوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ان کے قول ”دونوں میں سے زیادہ آسان“ تک روایت کی اور ان دونوں (ابوکریب اور ابن نمیر) نے اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6049]
امام صاحب کے دو اساتذہ یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن ”آسان تر“ تک بیان کرتے ہیں، بعد والا حصہ بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6049]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2327
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2328 ترقیم شاملہ: -- 6050
حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا خَادِمًا، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ، فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ، إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
ابواسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، نہ کسی عورت کو، نہ کسی غلام کو، مگر یہ کہ آپ اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہوں۔ اور جب بھی آپ کو نقصان پہنچایا گیا تو کبھی (ایسا نہیں ہوا کہ) آپ نے اس سے انتقام لیا ہو مگر یہ کہ کوئی اللہ کی محرمات میں سے کسی کو خلاف ورزی کرتا تو آپ اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لے لیتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6050]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی راہ میں جہاد کے سوا کسی عورت یا غلام کو کبھی اپنے ہاتھ سے نہیں پیٹا اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی طریقے سے اذیت نہیں پہنچائی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کرنے والے سے انتقام لیا ہو، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کی خلاف ورزی کی گئی ہو تو اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6050]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2328
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2328 ترقیم شاملہ: -- 6051
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.
عبدہ، وکیع، اور ابومعاویہ، سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ان میں سے کوئی راوی دوسرے سے کچھ زائد (الفاظ) بیان کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6051]
امام صاحب کے تین اساتذہ، دو سندوں سے کم و بیش کرتے ہوئے یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6051]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2328
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
21. باب طِيبِ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِينِ مَسِّهِ وَالتَّبَرُّكِ بِمَسْحِهِ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن کی خوشبو اور نرمی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2329 ترقیم شاملہ: -- 6052
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَهُوَ ابْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْأُولَى، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَهْلِهِ، وَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا، قَالَ: وَأَمَّا أَنَا، فَمَسَحَ خَدِّي، قَالَ: فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بَرْدًا، أَوْ رِيحًا، كَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ ".
سماک نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر جانے کو نکلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا۔ سامنے کچھ بچے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک بچے کے رخسار پر ہاتھ پھیرا اور میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں وہ ٹھنڈک اور وہ خوشبو دیکھی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشبو ساز کے ڈبہ میں سے ہاتھ نکالا ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6052]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کی طرف نکلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، تو سامنے سے کچھ بچے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک کر کے ان کے رخساروں پر ہاتھ پھیرنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کی یا مہک، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عطر فروش کی ڈبیہ سے نکالا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6052]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2329
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2330 ترقیم شاملہ: -- 6053
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ أَنَسٌ : " مَا شَمَمْتُ عَنْبَرًا قَطُّ، وَلَا مِسْكًا، وَلَا شَيْئًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ دِيبَاجًا، وَلَا حَرِيرًا، أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ".
جعفر بن سلیمان اور سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کبھی کوئی عنبر، کوئی کستوری اور کوئی بھی ایسی خوشبو نہیں سونگھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے جسم اطہر) کی خوشبو سے زیادہ اچھی اور پاکیزہ ہو اور میں نے کبھی کوئی ریشم یا دیباج نہیں چھوا جو چھونے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے ہاتھوں) سے زیادہ نرم و ملائم ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6053]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کبھی عنبر، کستوری یا کوئی اور ایسی چیز نہیں سونگھی جس کی خوشبو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے بہتر ہو، اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی چیز، دیباج اور نہ ریشم چھوا جس کی ملائمت و نرمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن سے زیادہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6053]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2330
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2330 ترقیم شاملہ: -- 6054
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ، كَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ، وَلَا مَسِسْتُ دِيبَاجَةً، وَلَا حَرِيرَةً، أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً، وَلَا عَنْبَرَةً، أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حماد نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک سفید، چمکتا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ مبارک موتی کی طرح تھا، اور جب چلتے تو، اور میں نے دیباج اور حریر بھی اتنا نرم نہیں پایا جتنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی نرم تھی اور میں نے مشک اور عنبر میں بھی وہ خوشبو نہ پائی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6054]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگِ مبارک سفید، چمک دار تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ گویا موتی تھا (صفائی اور سفیدی میں)، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے، آگے کو جھک کر چلتے اور میں نے کوئی دیباج یا کوئی ریشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہیں چھوا اور نہ کوئی کستوری یا عنبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن کی خوشبو سے بہتر سونگھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6054]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2330
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
22. باب طِيبِ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّبَرُّكِ بِهِ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کا خوشبودار اور متبرک ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 2331 ترقیم شاملہ: -- 6055
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامْ عِنْدَنَا، فَعَرِقَ، وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ، فَجَعَلَتْ تَسْلِتُ الْعَرَقَ فِيهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ؟ قَالَتْ: هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ ".
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اور آرام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا، میری ماں ایک شیشی لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو؟“وہ بولی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6055]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہمارے ہاں قیلولہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6055]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2331
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2331 ترقیم شاملہ: -- 6056
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا، وَلَيْسَتْ فِيهِ، قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا، فَأُتِيَتْ، فَقِيلَ لَهَا: هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَامَ فِي بَيْتِكِ، عَلَى فِرَاشِكِ، قَالَ: فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ، فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا، فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا، فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا، قَالَ: أَصَبْتِ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے گھر میں جاتے اور ان کے بچھونے پر سو رہے، اور وہ گھر میں نہیں ہوتی تھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے بچھونے پر سو رہے۔ لوگوں نے انہیں بلا کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بچھونے پر سو رہے ہیں، یہ سن کر وہ آئیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ چمڑے کے بچھونے پر جمع ہو گیا ہے۔ ام سلیم نے اپنا ڈبہ کھولا اور یہ پسینہ پونچھ پونچھ کر شیشوں میں بھرنے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا:”اے ام سلیم! کیا کرتی ہے؟“انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم اپنے بچوں کے لیے برکت کی امید رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم نے ٹھیک کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6056]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر میں تشریف لے جاتے اور ان کے بستر پر سو جاتے، جبکہ وہ گھر میں نہیں ہوتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور ان کے بستر پر سو گئے۔ ان کے پاس آ کر انہیں بتایا گیا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے گھر میں، آپ کے بستر پر سوئے ہوئے ہیں، وہ آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آ چکا تھا، بستر پر بچھے ہوئے ایک چمڑے کے ٹکڑے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ جمع ہو چکا تھا، انہوں نے اپنا صندوقچہ کھولا اور اس پسینے کو سمیٹ کر اپنی شیشی میں نچوڑنے لگیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر بیدار ہوئے اور پوچھا: ”کیا کر رہی ہو؟ اے ام سلیم!“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اپنے بچوں کے لیے اس کی برکت کے امیدوار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے درست رائے قائم کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6056]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2331
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2332 ترقیم شاملہ: -- 6057
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا، فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ، فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ وَالْقَوَارِيرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا؟ قَالَتْ: عَرَقُكَ أَدُوفُ بِهِ طِيبِي ".
ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اور آرام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا، میری ماں ایک شیشی لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو؟“وہ بولی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6057]
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آتے اور ان کے ہاں قیلولہ کرتے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کا ٹکڑا بچھا دیتیں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیلولہ کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ بہت آتا تھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ جمع کر کے خوشبو اور شیشی میں ڈال لیتیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے ام سلیم! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: آپ کا پسینہ ہے، میں اسے اپنی خوشبو میں ملا لیتی ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6057]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2332
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة