🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَرْدِ وَحِينَ يَأْتِيهِ الْوَحْيُ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول وحی کے وقت سردی کے موسم میں پسینہ آنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2333 ترقیم شاملہ: -- 6058
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " إِنْ كَانَ لَيُنْزَلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ، ثُمَّ تَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: سخت سردی کی صبح وحی نازل ہوتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6058]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ٹھنڈی یا سرد صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہہ نکلتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6058]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2333
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2333 ترقیم شاملہ: -- 6059
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ: أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، ثُمَّ يَفْصِمُ عَنِّي، وَقَدْ وَعَيْتُهُ، وَأَحْيَانًا مَلَكٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ، فَأَعِي مَا يَقُولُ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کبھی وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وحی منقطع ہوتی ہے تو میں اس کو یاد کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے میں اسے یاد رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6059]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی وحی گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے اور یہ صورت میرے لیے سخت ترین ہے، پھر یہ سمٹ جاتی ہے، یہ کیفیت چھٹ جاتی ہے اور میں اسے یاد کر چکا ہوتا ہوں، اور کبھی کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے تو وہ جو کچھ کہتا ہے میں یاد کر لیتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6059]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2333
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2334 ترقیم شاملہ: -- 6060
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، كُرِبَ لِذَلِكَ، وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ ".
سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حطان بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بنا پر کرب کی سی کیفیت سے دوچار ہو جاتے اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6060]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی طاری ہوتی تو اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرب و تکلیف میں مبتلا ہو جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خاکستری رنگ کا ہو جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6060]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2334
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2335 ترقیم شاملہ: -- 6061
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، نَكَسَ رَأْسَهُ، وَنَكَسَ أَصْحَابُهُ رُءُوسَهُمْ، فَلَمَّا أُتْلِيَ عَنْهُ، رَفَعَ رَأْسَهُ.
ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حطان بن عبداللہ رقاشی سے، انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی جاتی تو آپ اپنا سر مبارک جھکا لیتے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی سر جھکا لیتے اور جب (یہ کیفیت) آپ سے ہٹا لی جاتی تو آپ اپنا سر اقدس اٹھاتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6061]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی جاتی تو آپ اپنا سر جھکا لیتے اور آپ کے ساتھی اپنے سر جھکا لیتے، اور جب منقطع ہو جاتی تو آپ اپنا سر اٹھا لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6061]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2335
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب صِفَةِ شَعْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ وَحِلْيَتِهِ
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی تعریف اور آپ کے حلیہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2336 ترقیم شاملہ: -- 6062
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ مَنْصُورٌ: حَدَّثَنَا، وقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ، فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ ".
ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے (یعنی مانگ نہیں نکالا کرتے تھے) اور مشرک مانگ نکالا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کے طریق پر چلنا دوست رکھتے تھے جس مسئلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حکم نہ ہوتا (یعنی بہ نسبت مشرکین کے اہل کتاب بہتر ہیں تو جس باب میں کوئی حکم نہ آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت اس مسئلے میں اختیار کرتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیشانی پر بال لٹکانے لگے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مانگ نکالنے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6062]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بال کھلے چھوڑتے تھے اور مشرک لوگ اپنے سروں کی مانگ نکالتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کاموں میں حکم نہ آتا، اہل کتاب کی موافقت کو پسند کرتے تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) پیشانی پر بال لٹکائے، پھر بعد میں مانگ نکالنے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6062]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2336 ترقیم شاملہ: -- 6063
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6063]
یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاذ نے سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6063]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت کا بیان، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سب سے زیادہ حسین ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2337 ترقیم شاملہ: -- 6064
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَرْبُوعًا، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، عَظِيمَ الْجُمَّةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
شعبہ نے کہا: میں نے ابواسحاق سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے آدمی تھے، دونوں شانوں کے درمیان بہت فاصلہ تھا، بال بڑے تھے جو کانوں کی لوتک آتے تھے، آپ پر سرخ جوڑا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کبھی کوئی خوبصورت نہیں دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6064]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے قد کے آدمی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کا درمیانی فاصلہ کافی تھا، آپ کے جمہ بال گھنے تھے اور کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سرخ جوڑا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی کوئی حسین نہیں دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6064]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2337
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2337 ترقیم شاملہ: -- 6065
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ، وَلَا بِالْقَصِيرِ "، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: لَهُ شَعَرٌ.
عمرو ناقد اور ابوکریب نے کہا: ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا، آپ کے بال کندھوں کو چھوتے تھے، آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا، قد نہ بہت لمبا تھا نہ بہت چھوٹا تھا۔ ابوکریب نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایسے تھے (جو کندھوں کو چھوتے تھے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6065]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی کندھوں پر گرنے والے بالوں والی شخصیت کو سرخ جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حسین نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں پر پڑتے تھے اور دونوں شانوں کا فاصلہ زیادہ تھا، نہ قد لمبا تھا اور نہ پستہ، ابوکریب نے «شَعْرَةٌ» کے لفظ کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6065]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2337
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2337 ترقیم شاملہ: -- 6066
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَحْسَنَهُ خَلْقًا، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الذَّاهِبِ، وَلَا بِالْقَصِيرِ ".
یوسف نے ابواسحاق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سب لوگوں سے زیادہ حسین تھا اور (باقی تمام اعضاء کی) ساخت میں سب سے زیادہ حسین تھے، آپ کا قد نہ بہت زیادہ لمبا تھا نہ بہت چھوٹا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6066]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مہرہ سب انسانوں سے حسین تھا اور آپ کا «خُلُقٌ» سب سے بہتر تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6066]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2337
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب صِفَةِ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2338 ترقیم شاملہ: -- 6067
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " كَيْفَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَانَ شَعَرًا رَجِلًا، لَيْسَ بِالْجَعْدِ، وَلَا السَّبْطِ بَيْنَ أُذُنَيْهِ، وَعَاتِقِهِ ".
جریر بن حازم نے کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کیسے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تقریباً سیدھے تھے، بہت گھنگرالے نہ تھے نہ بالکل سیدھے، آپ کے کانوں اور کندھوں کے درمیان تک آتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6067]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جبکہ قتادہ رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کیسے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال درمیانے تھے، نہ گھنگھریالے اور نہ بالکل کھلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں اور کندھوں کے درمیان پڑتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6067]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2338
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں