صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب صِفَةِ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2338 ترقیم شاملہ: -- 6068
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ ".
ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6068]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کندھوں پر پڑتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6068]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2338
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2338 ترقیم شاملہ: -- 6069
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ".
حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کے وسط تک تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6069]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں کے آدھے حصے تک پہنچتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6069]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2338
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
27. باب فِي صِفَةِ فَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَيْنَيْهِ وَعَقِبَيْهِ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خوبصورت چہرہ مبارک کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2339 ترقیم شاملہ: -- 6070
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ضَلِيعَ الْفَمِ، أَشْكَلَ الْعَيْنِ، مَنْهُوسَ الْعَقِبَيْنِ "، قَالَ: قُلْتُ لِسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ؟ قَالَ: عَظِيمُ الْفَمِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنِ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ، قَالَ، قُلْتُ: مَا مَنْهُوسُ الْعَقِبِ؟ قَالَ: قَلِيلُ لَحْمِ الْعَقِبِ.
سماک بن حرب نے کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن کشادہ تھا آنکھوں میں سرخ ڈورے ہوتے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ سماک سے (شعبہ نے) پوچھا کہ «ضليع الفم» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ بڑا چہرہ۔ پھر (شعبہ) نے کہا «اشكل العين» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا دراز آنکھوں کی شگاف (لیکن سماک کا یہ کہنا غلط ہے اور صحیح وہی ہے کہ سفیدی میں سرخی ملی ہوئی) شعبہ نے کہا «منهوس العقبين» کیا ہے تو انہوں نے کہا ایڑی پر کم گوشت والے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6070]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن فراخ اور کشادہ تھا، آنکھیں سرخ و سپید تھیں اور ایڑیوں پر گوشت کم تھا، شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: «ضَلِیْعُ الْفَمِ» کا کیا معنی ہے؟ اس نے کہا: بڑے دہن والا۔ میں نے کہا: «أَشْكَلُ الْعَيْن» کا کیا مفہوم ہے؟ اس نے کہا: آنکھوں کے بڑے شگاف والا۔ میں نے پوچھا: «مَنْهُوسُ الْعَقِب» کا کیا مطلب ہے؟ جواب دیا: ایڑیوں پر کم گوشت والا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6070]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2339
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
وضاحت: نوٹ: …… امام سماک نے «أَشْكَلُ الْعَيْن» کی تفسیر درست نہیں کی، علامہ نووی کے نزدیک «بِالْتَاقِ الشَّكْلَة» ، آنکھوں کی سفیدی کے اندر سرخی کو کہتے ہیں، جو محمود وصف ہے۔ [مولانا عبدالعزيز علوي رحمه الله]
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
28. باب كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ مَلِيحَ الْوَجْهِ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید تھا، چہرے پر ملاحت تھی۔
ترقیم عبدالباقی: 2340 ترقیم شاملہ: -- 6071
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: " أَرَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ أَبْيَضَ، مَلِيحَ الْوَجْهِ "، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الحْجَّاجِ: مَاتَ أَبُو الطُّفَيْلِ، سَنَةَ مِائَةٍ، وَكَانَ آخِرَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
خالد بن عبداللہ نے جریری سے، انہوں نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے ان (ابوطفیل رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ کا رنگ سفید تھا، چہرے پر ملاحت تھی۔ امام مسلم بن حجاج نے کہا: حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ ایک سو ہجری میں فوت ہوئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے آخری فوت ہوئے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6071]
جریری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ کا رنگ سفید تھا، چہرہ «مَلِيح» یعنی ”حسین“ تھا، امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ کہتے ہیں: حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ 100ھ میں فوت ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سب سے آخر میں وفات پانے والے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6071]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2340
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2340 ترقیم شاملہ: -- 6072
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ رَجُلٌ رَآهُ غَيْرِي، قَالَ، فَقُلْتُ لَهُ: فَكَيْفَ رَأَيْتَهُ؟ قَالَ: كَانَ أَبْيَضَ، مَلِيحًا، مُقَصَّدًا ".
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں جریری سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اب زمین پر سوا میرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والوں میں سے کوئی نہیں رہا۔ (راوی حدیث جریری) کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ ملاحت لیے ہوئے تھا، میانہ قامت تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6072]
حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور اب میرے سوا روئے زمین پر آپ کو دیکھنے والا کوئی شخص نہیں ہے، جریری کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا: تو آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے (کس حالت میں) دیکھا؟ انہوں نے کہا: آپ سفید رنگ، حسین اور میانہ قد تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6072]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2340
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
29. باب شَيْبِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال۔
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6073
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ رَأَى مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا "، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: كَأَنَّهُ يُقَلِّلُهُ، وَقَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ.
ابن ادریس نے ہشام سے، انہوں نے سیرین سے روایت کی، کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کبھی) بالوں کو رنگا تھا؟ کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال نہیں دیکھے تھے، سوائے (چند ایک کے)۔ ابن ادریس نے کہا: گویا وہ ان کی بہت ہی کم تعداد بتا رہے تھے۔ جبکہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما مہندی اور کتم سے رنگتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6073]
ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا تھا (بال رنگے تھے)؟ انہوں نے جواب دیا: آپ نے بہت کم سفید بال دیکھے تھے یا آپ نے بہت کم بڑھاپا دیکھا تھا، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے مہندی اور وسمہ کا خضاب لگایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6073]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6074
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : " هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَضَبَ؟ فَقَالَ: لَمْ يَبْلُغْ الْخِضَابَ، كَانَ فِي لِحْيَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ "، قَالَ، قُلْتُ لَهُ: أَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَخْضِبُ، قَالَ، فَقَالَ: نَعَمْ، بِالْحِنَّاءِ، وَالْكَتَمِ.
عاصم احول نے ابن سیرین سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگ لگایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ رنگنے کے مرحلے تک نہیں پہنچے تھے، کہا: آپ کی داڑھی میں چند ہی بال سفید تھے۔ میں نے کہا: کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رنگتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ مہندی اور کتم سے رنگتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6074]
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال رنگنے کی حد کو نہیں پہنچے، آپ کی داڑھی میں چند سفید بال تھے، میں نے ان سے پوچھا: کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بال رنگتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، مہندی اور وسمہ سے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6074]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6075
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: " سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا قَلِيلًا ".
ایوب نے محمد بن سیرین سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگا تھا؟ کہا: انہوں نے آپ کے بہت ہی کم سفید بال دیکھے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6075]
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب استعمال کیا (بال رنگے)؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑھاپا بہت کم دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بہت کم سفید ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6075]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6076
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: " سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأْسِهِ فَعَلْتُ، وَقَالَ: لَمْ يَخْتَضِبْ، وَقَدِ اخْتَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ، وَالْكَتَمِ، وَاخْتَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ بَحْتًا ".
ثابت نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں جو سفید بال موجود تھے، اگر میں انہیں گننا چاہتا تو گن لیتا۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگ نہیں لگایا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہندی اور کتم کو ملا کر بالوں کو رنگ لگایا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خالص مہندی کا رنگ لگایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6076]
ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے بارے میں دریافت کیا گیا انہوں نے جواب دیا: اگر میں ان بالوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں تھے، گننا چاہتا گن لیتا اور کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگا نہیں ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہندی اور وسمہ سے بالوں کو رنگا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خالص مہندی سے رنگا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6076]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6077
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " يُكْرَهُ أَنْ يَنْتِفَ الرَّجُلُ الشَّعْرَةَ الْبَيْضَاءَ مِنْ رَأْسِهِ، وَلِحْيَتِهِ، قَالَ: وَلَمْ يَخْتَضِبْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي عَنْفَقَتِهِ، وَفِي الصُّدْغَيْنِ، وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ ".
علی جہضمی نے کہا: ہمیں مثنیٰ بن سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: سر اور ڈاڑھی کے سفید بال اکھیڑنا مکروہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی ڈاڑھی میں جو نیچے کے ہونٹ تلے ہوتی ہے، کچھ سفیدی تھی، اور کچھ کنپٹیوں پر اور سر میں کہیں کہیں سفید بال تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6077]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ چیز ناپسند کی جاتی تھی کہ آدمی اپنے سر اور اپنی داڑھی کے سفید بال اکھاڑے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نہیں رنگے، آپ کے سفید بال صرف آپ کے داڑھی بچہ (نچلے ہونٹ کے نیچے کا گڑھا)، کنپٹیوں اور سر میں چند سفید بال تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6077]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة