🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب شَيْبِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6078
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالصمد نے مثنیٰ (بن سعید) سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6078]
یہی روایت امام صاحب رحمہ اللہ کے ایک اور استاد بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6078]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2341 ترقیم شاملہ: -- 6079
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وهارون بن عبد الله جميعا، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، سَمِعَ أَبَا إِيَاسٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا شَانَهُ اللَّهُ بِبَيْضَاءَ ".
خلید بن جعفر نے ابوایاس سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے سفید بالوں کے ساتھ آپ کے جمال میں کمی نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6079]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اللہ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بالوں کو سفید بالوں سے عیب دار نہیں کیا تھا، یعنی چند سفید بال محسوس نہیں ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6079]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2341
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2342 ترقیم شاملہ: -- 6080
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَذِهِ مِنْهُ بَيْضَاءَ "، وَوَضَعَ زُهَيْرٌ بَعْضَ أَصَابِعِهِ عَلَى عَنْفَقَتِهِ، قِيلَ لَهُ: مِثْلُ مَنْ أَنْتَ يَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ: أَبْرِي النَّبْلَ وَأَرِيشُهَا.
زہیر نے ابواسحاق سے، انہوں نے حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کی اس جگہ پر سفیدی تھی، زہیر نے نچلے ہونٹ کے نیچے والے اپنے بالوں پر انگلی رکھ دی، ان (ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) سے کہا گیا: ان دنوں آپ (حاضرین میں سے) کس عمر کے تھے (آپ سب سے چھوٹے ہوں گے؟) انہوں نے کہا: میں تیروں کے پیکان اور ان کے پر لگاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6080]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حصہ کے بال سفید دیکھے اور زہیر نے اپنی انگلی اپنی «عَنْفَقَة» نیچے والے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیانی بال پر رکھی، ان سے پوچھا گیا: ان دنوں آپ کس جیسے تھے؟ انہوں نے کہا: میں تیر تراشتا تھا اور ان میں پر لگاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6080]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2342
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2343 ترقیم شاملہ: -- 6081
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبْيَضَ قَدْ شَابَ، كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ.
محمد بن فضیل نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے حضرت جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ گورے تھے، بالوں میں تھوڑی سی سفیدی آئی تھی، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آپ سے مشابہت رکھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6081]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید تھا، بڑھاپا شروع ہو گیا تھا اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6081]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2343
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2343 ترقیم شاملہ: -- 6082
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، بِهَذَا، وَلَمْ يَقُولُوا: أَبْيَضَ قَدْ شَابَ.
سفیان، خالد بن عبداللہ اور محمد بن بشر، سب نے اسماعیل سے، انہوں نے حضرت جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ان سب نے یہ نہیں کہا: آپ گورے تھے، بالوں میں تھوڑی سی سفیدی آئی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6082]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے یہ روایت بیان کرتے ہیں، لیکن رنگ کی سفیدی اور بڑھاپے کے آغاز کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6082]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2343
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2344 ترقیم شاملہ: -- 6083
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، سُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " كَانَ إِذَا دَهَنَ رَأْسَهُ، لَمْ يُرَ مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِذَا لَمْ يَدْهُنْ رُئِيَ مِنْهُ ".
سماک بن حرب نے کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق سوال کیا گیا تھا، انہوں نے کہا: جب آپ سر مبارک کو تیل لگاتے تھے تو سفید بال نظر نہیں آتے تھے اور جب تیل نہیں لگاتے تھے تو نظر آتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6083]
سماک بن حرب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑھاپے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیل لگا لیتے تو کوئی سفید بال نظر نہیں آتا تھا اور جب تیل نہ لگاتے تو سفید بال دکھائی دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6083]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2344
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. باب إِثْبَاتِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ وَصِفَتِهِ وَمَحِلِّهِ مِنْ جَسَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: مہر نبوت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2344 ترقیم شاملہ: -- 6084
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ، وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ، وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ، قَالَ: لَا، بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَكَانَ مُسْتَدِيرًا، وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ، مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ، يُشْبِهُ جَسَدَهُ ".
اسرائیل نے سماک سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی کا آگے کا حصہ سفید ہو گیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیل ڈالتے تو سفیدی معلوم نہیں ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی بہت گھنی تھی۔ ایک شخص بولا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح یعنی لمبا تھا؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سورج اور چاند کی طرح گول تھا اور میں نے نبوت کی مہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر دیکھی جیسے کبوتر کا انڈا ہوتا ہے اور اس کا رنگ جسم کے رنگ سے ملتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6084]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی کے اگلے بال سفید ہو گئے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیل لگا لیتے تو وہ واضح نہیں ہوتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر پراگندہ ہوتا تو وہ نظر آتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کے بال بہت تھے، ایک آدمی نے پوچھا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ تلوار جیسا تھا؟ یعنی لمبا چمکدار تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ آفتاب و مہتاب جیسا تھا، گول تھا اور روشن تھا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے کے پاس کبوتری کے انڈے جیسی مہر دیکھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کے مشابہ تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6084]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2344
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2344 ترقیم شاملہ: -- 6085
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ خَاتَمًا فِي ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّهُ بَيْضَةُ حَمَامٍ ".
شعبہ نے سماک سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی، جیسے وہ کبوتری کا انڈا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6085]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر مہر دیکھی گویا کہ وہ کبوتری کا انڈا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6085]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2344
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2344 ترقیم شاملہ: -- 6086
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
حسن بن صالح نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6086]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6086]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2344
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2345 ترقیم شاملہ: -- 6087
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ، فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ ".
جعد بن عبدالرحمان نے کہا: میں نے حضرت سائب بن یزید سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میرا بھانجا بہت بیمار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی۔ پھر وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوا تو مجھے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان آپ کی مہر (نبوت) مسہری کے لٹو کی طرح نظر آئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6087]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے بھانجے کو تکلیف ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی پیا، پھر میں آپ کی پشت کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان آپ کی مہر دیکھی، جو ڈولی کے بٹن جیسی تھی یا ہنس کے انڈے جیسی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6087]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2345
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں