سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
10. بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ
باب: نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
ترقیم العلمیہ : 990 ترقیم الرسالہ : -- 1003
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا فَنُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَنَا، قَالَ: نَعَمْ"، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ، فَنُحِرَتْ، ثُمَّ قُطِعَتْ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا فَأَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ہم اونٹ قربان کرنا چاہتے ہیں ہم یہ چاہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں تشریف لائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ کے ساتھ ہم بھی چلے گئے تو وہاں ہم نے یہ صورت حال پائی کہ اونٹ کو ابھی قربان نہیں کیا گیا تھا، پھر اسے قربان کیا گیا پھر اس کا گوشت بنایا گیا پھر اسے پکایا گیا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ہم نے اسے کھا بھی لیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1003]
ترقیم العلمیہ: 990
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 624، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1516، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2117، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1002، 1003»
ترقیم العلمیہ : 991 ترقیم الرسالہ : -- 1004
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ، ثنا الْحَسَّانِيُّ، نا وَكِيعٌ، نا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، قَالَ:" إِنَّمَا سُمِّيَتِ: الْعَصْرُ لأَنَّهَا تَعْصَرُ" .
ابوقلابہ کہتے ہیں: عصر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے نچوڑ لیا جاتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1004]
ترقیم العلمیہ: 991
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1004، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3337، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1155»
ترقیم العلمیہ : 992 ترقیم الرسالہ : -- 1005
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، أَنَّ الْحَسَنَ، وَابْنَ سِيرِينَ، وَأَبَا قِلابَةَ" كَانُوا يُمْسُونَ بِالْعَصْرِ" .
خالد حذاء بیان کرتے ہیں: حسن بصری، ابن سیرین اور ابوقلابہ تاخیر سے عصر ادا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1005]
ترقیم العلمیہ: 992
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1005، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2087، 2088»
ترقیم العلمیہ : 993 ترقیم الرسالہ : -- 1006
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثنا عَمِّي كَثِيرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا ابْنُ شُبْرُمَةَ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِيَّةِ:" إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْعَصْرُ لِتَعْصُرَ" .
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں: عصر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے نچوڑ لیا جاتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1006]
ترقیم العلمیہ: 993
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1006، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 994 ترقیم الرسالہ : -- 1007
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ، نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: أَخَّرَ طَاوُسٌ الْعَصْرَ جِدًّا، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْعَصْرُ لِتَعْصُرَ" .
ایک مرتبہ طاؤس نے عصر کی نماز تاخیر سے ادا کی ان سے اس بارے میں بات کی گئی تو وہ بولے: عصر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے نچوڑ لیا جاتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1007]
ترقیم العلمیہ: 994
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1007، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 995 ترقیم الرسالہ : -- 1008
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا إِسْرَائِيلُ ، وَعَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ" .
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1008]
ترقیم العلمیہ: 995
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1008، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2089، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3329، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 9279»
11. بَابُ إِمَامَةِ جَبْرَائِيلَ
باب: حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
ترقیم العلمیہ : 996 ترقیم الرسالہ : -- 1009
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، إِمْلاءً، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ:" جَاءَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ، فَجَاءَهُ الْعَصْرَ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ، فَقَامَ فَصَلاهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءً، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ، فَقَامَ فَصَلاهَا، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ، فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزَلْ عَنْهُ، قَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَهُ لِلصُّبْحِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ كُلُّهُ وَقْتٌ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت سورج ڈھل چکا تھا اور بولے: ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر کچھ وقت گزر گیا اتنا کہ جب کسی شخص کا سایہ اس کے جتنا ہو جاتا تو وہ عصر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، تو جبرائیل علیہ السلام بولے: ”اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے یہ نماز اس وقت ادا کی جب سورج مکمل غروب ہو چکا تھا، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ شفق رخصت ہو گئی، تو جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: ”اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے یہ نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب صبح صادق ہو چکی تھی، وہ بولے: ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کی، اگلے دن جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ظہر کے وقت اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے جتنا ہو چکا تھا، اور بولے: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس سے دوگنا ہو چکا ہوتا ہے اور بولے: ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مغرب کے وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا، یہ وہی ایک ہی وقت تھا (اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی) وہ بولے: ”اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجیے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عشاء کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب ایک تہائی رات گزر چکی تھی اور بولے: ”اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز ادا کی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب روشنی اچھی طرح پھیل چکی تھی، اور بولے: ”اٹھیے اور صبح کی نماز ادا کیجیے۔“ پھر انہوں نے بتایا: ”ان دونوں کے درمیان کا وقت (نمازوں کا مخصوص شرعی) وقت ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1009]
ترقیم العلمیہ: 996
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 997 ترقیم الرسالہ : -- 1010
ثنا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، ثنا جَابِرٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1010]
ترقیم العلمیہ: 997
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 998 ترقیم الرسالہ : -- 1011
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَمْرُو بْنُ بِشْرٍ الْحَارِثُ ، ثنا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الصَّلاةَ، فَجَاءَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ صَارَ الظِّلُّ مثل قَامَةِ شَخْصِ الرَّجُلِ، فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِيَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ وَقْتٌ، قَالَ: فَسَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ، فَصَلَّى بِهِمْ كَمَا صَلَّى بِهِ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلاةِ؟ مَا بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ وَقْتٌ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز کے بارے میں بتائیں وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل چکا تھا، جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا، جبرائیل علیہ السلام آگے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے انہوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد انہوں نے باقی حدیث ذکر کی ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اگلے دن جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا جبرائیل آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے انہوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ اس روایت کے آخر میں یہ ہے: جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”ان دونوں نمازوں کے درمیان (نمازوں کا شرعی) وقت ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں (کے اوقات) کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس طرح نماز پڑھائی جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو پڑھائی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ ان دونوں (اوقات کے) کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1011]
ترقیم العلمیہ: 998
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 999 ترقیم الرسالہ : -- 1012
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ، ثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ . ح وَثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّنِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ:" وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فِي وَقْتِهَا بِالأَمْسِ" . حَدِيثُ صَالِحِ بْنِ مَالِكٍ مُخْتَصَرٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جبرائیل نے مکہ میں مجھے دو بار نماز پڑھائی۔“ اس کے بعد انہوں نے حدیث ذکر کی ہے، جس میں ان کے یہ الفاظ ہیں: ”اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہو چکا تھا، اگلے دن بھی مغرب کی نماز اس وقت میں ادا کی جس وقت میں پہلے دن ادا کی تھی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1012]
ترقیم العلمیہ: 999
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
الحكم على الحديث: صحيح