سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
9. فَضْلُ الصَّلَاةِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ
باب: یہ جو منقول ہے: سب سے افضل عمل نماز ہے
ترقیم العلمیہ : 971 ترقیم الرسالہ : -- 983
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَقْتُ الأَوَّلُ مِنَ الصَّلاةَ رِضْوَانُ اللَّهِ، وَالْوَقْتُ الآخِرِ عَفْوُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کر لینا اللہ کی رضامندی کے حصول کا باعث ہے اور آخری وقت میں ادا کرنا اللہ کی طرف سے ملنے والی معافی کا باعث ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 983]
ترقیم العلمیہ: 971
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الترمذي فى ((جامعه)) برقم: 172، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2081، 2082، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 983»
«قال ابن حبان: تفرد به يعقوب بن الوليد وكان يضع الحديث، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (5 / 12)»
«قال ابن حبان: تفرد به يعقوب بن الوليد وكان يضع الحديث، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (5 / 12)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 972 ترقیم الرسالہ : -- 984
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنِي فَرَجُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ الْوَقْتِ رِضْوَانُ اللَّهِ، وَآخِرُ الْوَقْتِ عَفْوُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نماز کا ابتدائی وقت اللہ کی رضامندی (کے حصول کا باعث) ہے اور اس کا آخری وقت اللہ کی معافی (کے ملنے کا) باعث ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 984]
ترقیم العلمیہ: 972
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، قال ابن حجر: فى سنده من لا يعرف، التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 321/1»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 973 ترقیم الرسالہ : -- 985
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عِيسَى الْفَامِيُّ ، قَالا: نا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا مِنْ أَهْلِ عَبْدَسِيٍّ، نا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ الْوَقْتِ رِضْوَانُ اللَّهِ، وَوَسَطُ الْوَقْتِ رَحْمَةُ اللَّهِ، وَآخِرُ الْوَقْتِ عَفْوُ اللَّهِ" .
ابراہیم بن عبدالملک اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”نماز کا ابتدائی وقت اللہ کی رضامندی، درمیانہ وقت اللہ کی رحمت اور آخری وقت اللہ کی معافی (کے حصول کا باعث ہوتا ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 985]
ترقیم العلمیہ: 973
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2083، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 985»
«قال ابن حجر: في إسناده إبراهيم بن زكريا العجلي وهو متهم، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 321)»
«قال ابن حجر: في إسناده إبراهيم بن زكريا العجلي وهو متهم، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 321)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
10. بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ
باب: نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
ترقیم العلمیہ : 974 ترقیم الرسالہ : -- 986
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ صَلاةَ الْعَصْرِ شَيْئًا، فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلاةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَعْلَمُ مَا تَقُولُ، قَالَ عُرْوَةُ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" نزل جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ"، يَحْسِبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الأُفُقُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ، قَالَ الرَّبِيعُ: سَقَطَ مِنْ كِتَابِي، حَتَّى فَقَطْ، وَصَلَّى الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ، ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى، فَأَسْفَرَ ثُمَّ كَانَتْ صَلاتَهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغَلَسِ حَتَّى مَاتَ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ .
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے (یعنی خطبہ دے رہے تھے) انہوں نے عصر کی نماز میں ذرا تاخیر کر دی، تو عروہ بن زبیر بولے: جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے وقت کے بارے میں بتایا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا: ”آپ ذرا سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔“ تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابومسعود کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے انہوں نے یہ فرمایا ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تو انہوں نے مجھے نماز کے وقت کے بارے میں بتایا، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ساتھ اگلی نماز ادا کی پھر میں ان کے ساتھ اگلی نماز ادا کی، انہوں نے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کا حساب لگا کر بتایا۔“ (سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے آپ ظہر کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا البتہ جب گرمی زیادہ ہوتی تھی تو آپ اس نماز کو موخر کر دیا کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے جب سورج بلند اور روشن ہوتا تھا، ابھی اس میں زردی نہیں آئی ہوتی تھی (یعنی دھوپ ماند نہیں ہوئی تھی) اور کوئی شخص نماز ادا کرنے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا۔ عشاء کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ادا کرتے تھے، جب افق سیاہ ہو جاتا تھا، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اتنی دیر تک موخر کر دیتے تھے تاکہ لوگ اکٹھے ہو جائیں۔ (راوی کہتے ہیں: ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں) صبح کی نماز کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں ادا کر لیتے تھے اور کبھی روشنی میں ادا کیا کرتے تھے لیکن پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اندھیرے میں ہی ادا کرنا شروع کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک یہی معمول رہا۔ دوبارہ آپ نے کبھی روشنی میں یہ نماز ادا نہیں کی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 986]
ترقیم العلمیہ: 974
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 521، 3221، 4007، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 610، 611، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 5، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 352، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1448،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 697، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 493، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1494، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1223، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 668، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1723، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 456، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 986، 987، 992، 1025، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17364، 22785»
ترقیم العلمیہ : 975 ترقیم الرسالہ : -- 987
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا مُحَمَّدُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ، ثنا أَبُو صَالِحٍ ، ثنا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: الْعَصْرُ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ يَسِيرُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْهَا إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَقَالَ فِيهِ أَيْضًا: وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيُغَلِّسُ بِهَا، ثُمَّ صَلاهَا يَوْمًا آخَرَ فَأَسْفَرَ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى الإِسْفَارِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: جب آپ عصر کی نماز ادا کرتے تھے اس وقت سورج روشن اور بلند ہوتا تھا، کوئی شخص چلتا ہوا جاتا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا جو چھ میل کے فاصلے پر تھا اور وہ سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچ سکتا تھا۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: صبح کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں ادا کیا کرتے تھے پھر کسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روشنی میں بھی ادا کر لیتے تھے (لیکن پھر اس کے بعد آپ نے اسے اندھیرے میں ہی ادا کرنے کا معمول اختیار کیا)۔ دوبارہ کبھی روشنی میں آپ نے یہ نماز ادا نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک آپ کا یہی معمول رہا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 987]
ترقیم العلمیہ: 975
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 521، 3221، 4007، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 610، 611، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 5، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 352، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1448،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 697، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 493، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1494، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1223، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 668، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1723، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 456، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 986، 987، 992، 1025، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17364، 22785»
ترقیم العلمیہ : 976 ترقیم الرسالہ : -- 988
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا: نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ، وَالْكُوفَةُ يَوْمَئِذٍ أَخْصَاصٌ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: الصَّلاةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِلْعَصْرِ، فَقَالَ:" اجْلِسْ"، فَجَلَسَ، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" هَذَا الْكَلْبُ يُعَلِّمُنَا بِالسُّنَّةِ"، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي كُنَّا فِيهِ جُلُوسًا، فَجَثَوْنَا لِلرُّكَبِ لِنُزُولِ الشَّمْسِ لِلْمَغِيبِ نَتَرَآهَا . زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ مَجْهُولٌ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ.
زیاد بن عبداللہ نخعی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد اعظم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کوفہ ان دنوں اخصاص تھا، موذن ان کے پاس آیا اور بولا: ”امیر المؤمنین! عصر کی نماز کا وقت ہو گیا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ وہ بیٹھ گیا، اس نے پھر دوبارہ یہی عرض کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ گدھا ہمیں سنت کی تعلیم دے گا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد پھر اسی جگہ پر آکر بیٹھ گئے، جہاں پہلے بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے گھٹنوں کے بل اٹھ کر اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی کہ سورج غروب تو نہیں ہو گیا۔ اس روایت کا راوی زیادہ بن عبداللہ نخعی مجہول ہے، اس کے حوالے سے صرف عباس نامی راوی نے روایت نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 988]
ترقیم العلمیہ: 976
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 695، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 988»
«قال الدارقطني: زياد بن عبد الله النخعي مجهول لم يرو عنه غير العباس بن ذريح سنن الدارقطني:، 988»
«قال الدارقطني: زياد بن عبد الله النخعي مجهول لم يرو عنه غير العباس بن ذريح سنن الدارقطني:، 988»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 977 ترقیم الرسالہ : -- 989
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالا: نا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ نا أَبُو عَاصِمٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بِالْعَصْرِ، قَالَ: وَشَيْخٌ جَالِسٌ فَلامَهُ، وَقَالَ: إِنَّ أَبِي أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِتَأْخِيرِ هَذِهِ الصَّلاةِ" ، قَالَ: فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجِ بْنِ رَافِعٍ. هَذَا لَيْسَ بِقَوِيٍّ، وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، فَكَنَّاهُ: أَبَا الرَّمَّاحِ، وَخَالَفَ فِي اسْمِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَسَمَّاهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ.
عبدالواحد بن نافع بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ کی مسجد میں داخل ہوا تو موذن نے عصر کی اذان دی، راوی بیان کرتے ہیں وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے موذن کو ملامت کی اور یہ بولے: ”میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو تاخیر کے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ان بزرگ کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا عبداللہ بن رافع بن خدیج ہیں (یعنی صحابی رسول سیدنا رافع بن خدیج کے صاحبزادے ہیں)۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا رافع کے یہ صاحبزادے قوی نہیں ہیں۔ موسیٰ بن اسماعیل نامی راوی نے یہ روایت نقل کرتے ہوئے یہ بات بیان کی ہے: ان کی کنیت ابورماح تھی، اسی طرح ان کے نام کے بارے میں بھی اختلاف ہے، بعض راویوں نے ان کا نام عبدالرحمن نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 989]
ترقیم العلمیہ: 977
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 989، 990، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16047، 17555، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4376»
«قال الدارقطني: حديث ضعيف الإسناد والصحيح عن رافع وغيره ضد هذا وعبد الله بن رافع ليس بالقوي، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 245)»
«قال الدارقطني: حديث ضعيف الإسناد والصحيح عن رافع وغيره ضد هذا وعبد الله بن رافع ليس بالقوي، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 245)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 978 ترقیم الرسالہ : -- 990
حَدَّثَنَا بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَاحِدِ أَبَا الرَّمَّاحِ الْكِلابِيَّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ بِصَلاةِ الْعَصْرِ فَكَأَنَّهُ عَجَّلَهَا، فَلامَهُ قَالَ:" وَيْحَكَ أَخْبَرَنِي أَبِي ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعَصْرِ" . وَرَوَاهُ حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ هَذَا، وَقَالَ: عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ نُفَيْعٍ خَالَفَ فِي نَسَبِهِ، وَهَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفُ الإِسْنَادِ مِنْ جِهَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ هَذَا، لأَنَّهُ لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ غَيْرُهُ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي اسْمِ ابْنِ رَافِعٍ هَذَا، وَلا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ رَافِعٍ، وَلا عَنْ غَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَالصَّحِيحُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَعَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضِدُّ هَذَا، وَهُوَ التَّعْجِيلُ بِصَلاةِ الْعَصْرِ وَالتَّبْكِيرِ بِهَا. فَأَمَّا الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.
عبدالرحمن بن رافع کے بارے میں منقول ہے: ایک مرتبہ موذن نے عصر کی اذان دی، اس نے اذان ذرا جلدی دے دی، تو سیدنا عبدالرحمن بن رافع نے اسے ملامت کرتے ہوئے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو! میرے والد نے (جو صحابی رسول تھے) مجھے یہ بات بتائی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، جبکہ بعض دیگر صحابہ کرام سے اس کے برعکس منقول ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سیدنا رافع بن خدیج کے حوالے سے صحیح روایت یہ (درج ذیل) ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 990]
ترقیم العلمیہ: 978
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 989، 990، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16047، 17555، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4376»
«قال الدارقطني: حديث ضعيف الإسناد والصحيح عن رافع وغيره ضد هذا وعبد الله بن رافع ليس بالقوي، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 245)»
«قال الدارقطني: حديث ضعيف الإسناد والصحيح عن رافع وغيره ضد هذا وعبد الله بن رافع ليس بالقوي، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 245)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 979 ترقیم الرسالہ : -- 991
فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعَصْرِ، ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قَسْمٍ، ثُمَّ تُطْبَخُ وَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ" . أَبُو النَّجَاشِيِّ هَذَا اسْمُهُ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ ثِقَةٌ مَشْهُورٌ صَحِبَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ سِتَّ سِنِينَ، وَرَوَى عَنْهُ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، وَالأَوْزَاعِيُّ، وَأَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، وَغَيْرُهُمْ، وَحَدِيثُهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَوْلَى مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ ابْنِ رَافِعٍ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ، يَسِيرُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْهَا إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ" .
ابونجاشی بیان کرتے ہیں: سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے وہ فرماتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کرتے تھے پھر اس کے بعد اونٹ قربان کیا جاتا تھا، اس کے گوشت کے دس حصے کیے جاتے تھے پھر انہیں پکایا جاتا تھا اور سورج غروب ہونے سے پہلے ہم بھنا ہوا گوشت کھا بھی لیتے تھے۔ ابونجاشی نامی راوی کا نام عطاء بن صہیب ہے، یہ ثقہ اور مشہور ہے، یہ چھ سال تک سیدنا رافع بن خدیج کی خدمت میں رہا ہے، اس کے حوالے سے عکرمہ بن عمار، امام اوزاعی، ایوب اور دیگر حضرات نے احادیث نقل کی ہیں۔ اس راوی کی نقل کردہ روایت جو سیدنا رافع بن خدیج سے منقول ہے، یہ اس روایت سے زیادہ بہتر ہے، جسے عبدالواحد نامی راوی نے سیدنا رافع کے صاحبزادے کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 991]
ترقیم العلمیہ: 979
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 559، 2485، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 625، 637، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1515، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 696، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 687، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1756، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 991، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17548»
ترقیم العلمیہ : 980 ترقیم الرسالہ : -- 992
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا اللَّيْثُ ،.
عروہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا بشیر بن ابومسعود کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز ادا کرتے تھے اس وقت سورج چمکدار اور بلند ہوتا تھا، کوئی شخص نماز سے فارغ ہونے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا جو چھ میل کے فاصلے پر تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 992]
ترقیم العلمیہ: 980
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 521، 3221، 4007، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 610، 611، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 5، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 352، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1448،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 697، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 493، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1494، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1223، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 668، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1723، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 456، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 986، 987، 992، 1025، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17364، 22785»