سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
7. بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب قبرپر (نماز جنازہ) ادا کرنا
ترقیم العلمیہ : 1825 ترقیم الرسالہ : -- 1849
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قَطَنٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ ، وَابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ" .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ آٹھ سال بعد ادا کی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1849]
ترقیم العلمیہ: 1825
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1344، 3596، 4042، 4085، 6426، 6590، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2296،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3198، 3199، 3224، 6595، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1953، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2092، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3223، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1849، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17617»
ترقیم العلمیہ : 1826 ترقیم الرسالہ : -- 1850
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نا بِشْرٌ ، وَمَطَرٌ، قَالا: نا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْنَعُوا لآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَإِنَّهُ قَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ، أَوْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر آئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ انہیں ایک ایسی صورت حال لاحق ہو گئی ہے، جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1850]
ترقیم العلمیہ: 1826
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1381، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3132، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 998، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1610، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7196، 7197، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1850، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1776، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 1026، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 547، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 1472، 14787»
«قال ابن ملقن: صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 355)»
«قال ابن ملقن: صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 355)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 1827 ترقیم الرسالہ : -- 1851
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَنْدَلٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَوْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ " أَنَّ فَاطِمَةَ أَوْصَتْ أَنْ يُغَسِّلَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ وَأَسْمَاءُ، فَغَسَّلاهَا" .
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ وصیت کی تھی کہ انہیں ان کے شوہر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اسماء (بنت عمیس) غسل دیں گے، تو ان دونوں نے ہی انہیں غسل دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1851]
ترقیم العلمیہ: 1827
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 4797، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6759، 6760، 6761، 7031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1851، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6122»
ترقیم العلمیہ : 1828 ترقیم الرسالہ : -- 1852
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى عَلَى سَبْعِ جَنَائِزَ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ، فَجَعَلَ الرِّجَالَ مِمَّا يَلِيهِ وَالنِّسَاءَ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ، وَصَفَّهُمْ صَفًّا وَاحِدًا، وَقَالَ: وَوَضَعَ جِنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَابْنٍ يُقَالُ لَهُ: زَيْدُ بْنُ عُمَرَ، وَالإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ، وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: السُّنَّةُ" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سات افراد کی نماز جنازہ ایک ساتھ پڑھائی، جن میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی، تو آپ نے مردوں کو اپنے آگے رکھا اور خواتین کو قبلہ والی سمت میں رکھا، آپ نے ان سب کے لیے ایک ہی صف بنائی۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ان کے صاحبزادے کی میت رکھی گئی۔ ان صاحبزادے کا نام زید بن عمر تھا۔ ان دنوں سیدنا سعید بن العاص گورنر تھے اور حاضرین میں سیدنا عبداللہ بن عباس، ابوہریرہ، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کیا طریقہ ہے؟ انہوں نے بتایا: ”یہ سنت ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1852]
ترقیم العلمیہ: 1828
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 596، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1977، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2116، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7020، 7053، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1852، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6331، 6336، 6337، 6340، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11682، 11695»
«قال ابن حجر: إسناده صحيح، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (3 / 183)»
«قال ابن حجر: إسناده صحيح، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (3 / 183)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
8. بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى فِي جَمَاعَةٍ
باب چاشت کی نماز باجماعت ادا کرنا
ترقیم العلمیہ : 1829 ترقیم الرسالہ : -- 1853
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِهِ سَاعَةَ الضُّحَى فَقَامُوا وَرَاءَهُ فَصَلُّوا" .
سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں چاشت کے وقت نوافل ادا کیے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے بھی نماز ادا کی۔ باب: نماز کے دوران تھوڑا عمل کرنا جائز ہے اور جس شخص پر بے ہوشی طاری ہو جائے، اس پر کون سی نماز کی قضاء لازم ہو گی، نفل نماز ادا کرنے کا وقت۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1853]
ترقیم العلمیہ: 1829
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1231، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1853، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24296»
9. بَابُ جَوَازِ الْعَمَلِ الْقَلِيلِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا يَلْزَمُ الْمُغْمَى عَلَيْهِ مِنَ الْقَضَاءِ وَوَقْتِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ
باب نماز کے دوران قلیل عمل کا جواز
ترقیم العلمیہ : 1830 ترقیم الرسالہ : -- 1854
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثنا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَإِذَا اسْتَفْتَحَ إِنْسَانٌ الْبَابَ فَتَحَ لَهُ مَا كَانَ فِي قِبْلَتِهِ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ، وَلا يَسْتَدْبِرُ الْقِبْلَةَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، اگر اس دوران کوئی شخص دروازے پر دستک دیتا، تو اگر دروازہ آپ کے سامنے کی طرف یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف یا بائیں طرف ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازہ کھول دیا کرتے تھے، البتہ قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے (اس طرف منہ موڑ کر) دروازہ نہیں کھولتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1854]
ترقیم العلمیہ: 1830
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2355، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1205، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 528، 1130، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 922، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 601، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3488، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1854، 1855، 1856، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24661»
ترقیم العلمیہ : 1831 ترقیم الرسالہ : -- 1855
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا عَمِّي ، ثنا مُسَدَّدٌ ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ، فَمَشَى فَفَتَحَ لِي، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلاهُ"، وَذَكَرَتْ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے اور دروازہ بند ہوتا، میں دوران میں آتی اور دروازہ کھولنے کے لیے کہتی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے آتے اور میرے لیے دروازہ کھول دیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر تشریف لے جاتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات ذکر کی تھی کہ وہ دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1855]
ترقیم العلمیہ: 1831
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2355، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1205، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 528، 1130، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 922، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 601، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3488، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1854، 1855، 1856، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24661»
«قال الترمذی: حسن غريب، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (6 / 381)»
«قال الترمذی: حسن غريب، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (6 / 381)»
ترقیم العلمیہ : 1832 ترقیم الرسالہ : -- 1856
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا عَمِّي ، وَشَاذَانُ ، قَالا: نا حَجَّاجٌ ، ثنا حَمَّادٌ ، عَنْ بُرْدٍ أَبِي الْعَلاءِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَمَشَى عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ فَفَتَحَ لِي، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَقَامِهِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں دروازہ کھولنے کے لیے کہتی، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے نوافل ادا کر رہے ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف سے آ کر دروازہ کھول دیتے اور پھر واپس اپنی جگہ تشریف لے جاتے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1856]
ترقیم العلمیہ: 1832
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2355، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1205، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 528، 1130، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 922، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 601، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3488، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1854، 1855، 1856، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24661»
«قال الترمذی: حسن غريب، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (6 / 381)»
«قال الترمذی: حسن غريب، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (6 / 381)»
10. بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ بِالنَّهَارِ
باب دن میں نفلی نماز کا وقت
ترقیم العلمیہ : 1833 ترقیم الرسالہ : -- 1857
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قُلْنَا لِعَلِيٍّ حَدِّثْنَا عَنْ تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَمَنْ يُطِيقُهُ، قُلْنَا: حَدِّثْنَا بِهِ نُطِيقُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْهِلُ فَإِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَطَلَعَتْ فَكَانَتْ مِقْدَارُهَا مِنَ الْعَصْرِ مِنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَفْصِلُ فِيهِنَّ بِالسَّلامِ عَلَى الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَ الضُّحَى فَكَانَ مِقْدَارُهَا مِنَ الظُّهْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ صَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهِنَّ مثل الْقَوْلِ الأَوَّلِ، ثُمَّ يُمْهِلُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهَا بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ يَفْصِلُ بِمِثْلِ ذَلِكَ، ثُمَّ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بِمِثْلِ ذَلِكَ" .
عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے بارے میں کوئی حدیث سنائیں، تو انہوں نے فرمایا: ”ان کی طاقت کون رکھ سکتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی کہ آپ ہمیں اس بارے میں بتائیں، جہاں تک ہماری طاقت ہو گی، ہم اتنے ادا کر لیا کریں گے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز ادا کر لینے کے بعد) انتظار کرتے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو جاتا اور مشرق کی سمت میں اتنا بلند ہو جاتا، جتنا عصر کے وقت (مغرب کی سمت میں بلند ہوتا ہے)، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت ادا کرتے، آپ ان کے درمیان فصل کرتے ہوئے فرشتوں، انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مومنین اور مسلمانوں پر سلام بھیجتے، پھر اس کے بعد آپ انتظار کرتے رہتے، یہاں تک کہ چاشت کے وقت وہ اتنا بلند ہو جاتا کہ جتنی ظہر کے وقت مشرق کی سمت اس کی مقدار ہوتی، پھر آپ چار رکعت ادا کرتے، جن کے درمیان سابقہ طریقے کے مطابق فصل کرتے، پھر آپ انتظار کرتے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، تو آپ چار رکعت نماز ادا کرتے اور ان میں آپ مقرب فرشتوں، انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مومنوں اور مسلمانوں پر سلام فصل کرتے، اس کے بعد آپ ظہر کی نماز کے بعد دو رکعت (سنت) ادا کرتے اور اس کی مانند فصل کرتے، پھر آپ سے پہلے چار رکعات (سنت) ادا کرتے اور ان کے درمیان بھی اسی طرح فصل کرتے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1857]
ترقیم العلمیہ: 1833
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1211، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 873، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 330، 333، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1272، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 424، 429، 598، 599، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1161، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4560، 4992، 4993، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1857، 1858، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1124، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 660»
«قال عبداللہ بن المبارک: ضعف هذا الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 137)»
«قال عبداللہ بن المبارک: ضعف هذا الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 137)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 1834 ترقیم الرسالہ : -- 1858
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ أَبِي حَيَّةَ ، ثنا عِيسَى بْنُ يُوسُفَ بْنِ الطَّبَّاعِ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قُلْنَا: مَا أَطَقْنَا، قَالَ:" كَانَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَطْلِعِهَا قَدْرَ مَغْرِبِهَا صَلاةَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَطْلِعِهَا قَدْرَ مَغْرِبِهَا صَلاةَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَ الزَّوَالِ أَرْبَعًا وَبَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا" .
عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟“ ہم نے عرض کی: ہم طاقت نہیں رکھتے (لیکن آپ ہمیں اس بارے میں بتائیں)، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتظار کرتے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے مقام سے اتنا دور ہو جاتا، جتنا عصر کے وقت غروب ہونے کی جگہ سے دور ہوتا ہے، اس وقت آپ دو رکعت نماز ادا کرتے، پھر آپ انتظار کرتے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے مقام سے اتنا دور ہو جاتا، جتنا غروب ہونے کے مقام سے دور ہوتا (یعنی زوال کا وقت ہو جاتا)، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعت سنت ادا کرتے، ظہر کے بعد آپ دو رکعت سنت ادا کرتے اور پھر سے پہلے چار رکعت ادا کرتے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1858]
ترقیم العلمیہ: 1834
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1211،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 873، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 330، 333، أبو داود فى ((سننه)) برقم: 1272، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 424، 429، 598، 599، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1161، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1858، 1857، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 660»