🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ الْإِشَارَةِ فِي الصَّلَاةِ
باب نماز کے دوران اشارہ کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1844 ترقیم الرسالہ : -- 1869
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلاةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اشارہ کر دیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1869]
ترقیم العلمیہ: 1844
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1869، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3470»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ مَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَهَا
باب جو شخص صبح کی نماز میں سورج نکلنے سے پہلے ایک سجدہ پالے ‘ اس نے نماز کو پالیا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1845 ترقیم الرسالہ : -- 1870
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ عَمْرُو بْنُ سَعْدٍ ، وَوَفَاءُ بْنُ سُهَيْلٍ ، قَالا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، أَوْ سَجْدَةً قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کا ایک سجدہ پا لے، اس نے اس نماز کو پا لیا، یا سورج غروب ہونے سے پہلے (عصر کی نماز کا) سجدہ پا لے، اس نے اس نماز کو پا لیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1870]
ترقیم العلمیہ: 1845
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 579، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 608، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 8، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 984، 985، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 513، 549، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 412، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 186، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1258، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 699، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1870، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7913»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ تَكْرَارِ الْمَسَاجِدِ
باب کئی مسجدیں بنانا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1846 ترقیم الرسالہ : -- 1871
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ، حَدَّثَهُ" أَنَّهُ كَانَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَةُ مَسَاجِدَ مَعَ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْمَعُ أَهْلُهَا تَأْذِينَ بِلالٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلُّونَ فِي مَسَاجِدِهِمْ، أَقْرَبُهَا مَسْجِدُ بَنِي عَمْرِو بْنِ مَبْذُولٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، وَمَسْجِدُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَمَسْجِدُ بَنِي عُبَيْدٍ، وَمَسْجِدُ بَنِي سَلِمَةَ، وَمَسْجِدُ بَنِي رَاتِجٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، وَمَسْجِدُ بَنِي زُرَيْقٍ، وَمَسْجِدُ بَنِي غِفَارَ، وَمَسْجِدُ أَسْلَمَ، وَمَسْجِدُ جُهَيْنَةَ" ، وَيَشُكُّ فِي التَّاسِعِ.
بکیر بن اشج بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد مبارکہ کے ساتھ نو مسجدیں تھیں، اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ان مسجدوں کے آس پاس رہنے والے لوگ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سنتے تھے، لیکن وہ ان مسجدوں میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے، ان میں سب سے زیادہ قریب مسجد بنو عمرو تھی، جس کا تعلق بنو نجار سے تھا، ایک مسجد بنو صاعدہ تھی، ایک مسجد بنو عبید تھی، ایک مسجد بنو سلمہ تھی، ایک مسجد بنو راتج تھی، جس کا تعلق بنو عبد الاشہل سے تھا، ایک مسجد بنو زریق تھی، ایک مسجد بنو غفار تھی، ایک مسجد اسلم تھی اور ایک مسجد جہینہ تھی، نویں مسجد کے بارے میں راوی کو شک ہے۔ باب: جو شخص کسی دوسرے شخص کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرے، جسے وہ اپنے سامنے قبلہ کی سمت میں دیکھ رہا ہو، اس پر دوبارہ نماز ادا کرنا لازم ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1871]
ترقیم العلمیہ: 1846
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏مرسل، أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1871، وأبو داود فى "المراسيل"، 15»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ الْإِعَادَةِ عَلَى مَنْ يُصَلِّي إِلَى رَجُلٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ مُسْتَقْبِلَهُ
باب دوسرے شخص کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1847 ترقیم الرسالہ : -- 1872
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، ثنا إِسْرَائِيلُ ، ثنا عَبْدُ الأَعْلَى ، أنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَنَفِيَّةِ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلا يُصَلِّي إِلَى رَجُلٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الصَّلاةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَتْمَمْتُ الصَّلاةَ، فَقَالَ:" إِنَّكَ صَلَّيْتَ وَأَنْتَ تَنْظُرُ إِلَيْهِ مُسْتَقْبِلَهُ" .
محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا، جو دوسرے شخص کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو حکم دیا کہ وہ دوبارہ نماز ادا کرے، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں تو مکمل نماز ادا کر چکا ہوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے نماز ایسی حالت میں ادا کی ہے کہ تم قبلہ کی سمت میں ایک دوسرے شخص کی طرف دیکھ رہے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1872]
ترقیم العلمیہ: 1847
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1872، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 661، وأبو داود فى "المراسيل"، 30»
«قال الدارقطني: عبد الأعلى مضطرب الحديث والمرسل أشبه بالصواب، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (4 / 123)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ تَخْفِيفِ الْقِرَاءَةِ لِحَاجَةٍ
باب کسی کام کی وجہ سے قرأت کو مختصر کردینا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1848 ترقیم الرسالہ : -- 1873
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مِنَ الأَئِمَّةِ طَرَّادِينَ" . زَادَ ابْنُ مَخْلَدٍ: قَالَ قَتَادَةُ: لا أَعْلَمُ الطَّرَّادِينَ، إِلا الَّذِينَ يُطَوِّلُونَ عَلَى النَّاسِ، حَتَّى يَطْرُدُونَهُمْ عَنْهُ.
سیدنا عباس جشمی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: بعض امام بھگانے والے ہوتے ہیں۔ اس روایت کے راوی قتادہ کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق یہاں بھگانے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں، جو امامت کے دوران طویل قراءت کرتے ہیں، یہاں تک کہ لوگ انہیں چھوڑ کر چلے جائیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1873]
ترقیم العلمیہ: 1848
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1873، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 4695، وأبو داود فى "المراسيل"، 38»
«قال ابن رجب الحنبلی: مرسل، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (4 / 216)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1849 ترقیم الرسالہ : -- 1874
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي السَّوْدَاءِ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِسِتِّينَ آيَةً، فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِيٍّ فَرَكَعَ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ آيَتَيْنِ، ثُمَّ رَكَعَ" .
ابن سابط بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سات آیات تلاوت کیں، پھر آپ نے ایک بچے (کے رونے) کی آواز سنی، تو آپ رکوع میں چلے گئے، پھر اس کے بعد آپ (دوسری رکعت میں) کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آیات کی تلاوت کی اور رکوع میں چلے گئے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1874]
ترقیم العلمیہ: 1849
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1874، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 3724، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 4714، وأبو داود فى "المراسيل"، 39»
«قال ابن رجب الحنبلی: مرسل، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (4 / 224)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1850 ترقیم الرسالہ : -- 1875
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا لُوَيْنٌ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمِّهِ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ، فَيَقْرَأُ السُّورَةَ الْخَفِيفَةَ أَوِ الْقَصِيرَةَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اپنی ماں کے ساتھ موجود کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تھے، آپ اس وقت نماز کی حالت میں ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (چھوٹی سی سورت پڑھ کر) رکوع میں چلے جاتے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1875]
ترقیم العلمیہ: 1850
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 709، 710، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 470، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1609، 1610، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2139، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 376، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 989، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1875، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12249»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1851 ترقیم الرسالہ : -- 1876
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ السَّرَّاجُ ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَكْشِفْ عَنْ فَخِذِكَ وَلا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلا مَيِّتٍ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا تھا: تم اپنے زانوؤں کو کسی کے سامنے بے پردہ نہیں کرنا اور کسی بھی زندہ یا مرحوم شخص کے زانوؤں کی طرف نہیں دیکھنا (کیونکہ زانوؤں، ستر کا حصہ ہیں)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1876]
ترقیم العلمیہ: 1851
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 515، 516، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7455، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3140، 4015، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1460، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3282، 6720، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1876، 874، 875، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 694»
«قال ابن حجر: إن حبيبا لم يسمعه من عاصم وإن بينهما رجلا ليس بثقة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 504)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1852 ترقیم الرسالہ : -- 1877
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْكَعْبِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنٌ يُطْرِبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الأَذَانَ سَهْلٌ سَمْحٌ، فَإِنْ كَانَ أَذَانُكَ سَمْحًا سَهْلا وَإِلا فَلا تُؤَذِّنْ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک موذن تھا، جو طربیہ انداز میں اذان دیتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان آسان اور نرمی کا کام ہے، اگر تم آسانی اور نرمی کے ساتھ اذان دے سکتے ہو، تو ٹھیک ہے، ورنہ اذان نہ دو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1877]
ترقیم العلمیہ: 1852
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1877، 917»
«قال الدارقطني: فيه إسحاق بن أبي يحيى ضعيف، لسان الميزان: (2 / 84)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1853 ترقیم الرسالہ : -- 1878
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ تَبِيعٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، قَالَ:" مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ فَقَرَأَ فِيهِنَّ وَأَحْسَنَ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ، كَانَ أَجْرُهُ كَأَجْرِ مَنْ صَلاهُنَّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ" .
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جو شخص عشاء کی نماز کے بعد چار رکعت ادا کرے، ان میں قراءت کرے، ان میں اچھی طرح رکوع اور سجدہ کرے، تو اس شخص کو اس نماز کا اسی طرح اجر ملے گا، جس طرح شب قدر میں ان رکعتوں کو ادا کرنے کا اجر ملتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الجنائز/حدیث: 1878]
ترقیم العلمیہ: 1853
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4969، 4970، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7400، 7401، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4582، 17273، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1878، 3434، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 7354، 7355»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں