🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3215 ترقیم الرسالہ : -- 3256
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الطَّبَرِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ، نَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ، وَالْحَجَّاجُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، مِثْلَهُ سَوَاءٌ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3256]
ترقیم العلمیہ: 3215
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16037، 16038، 16054، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3255، 3256، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 18139، بدون ترقيم، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28087، 28088»
«قال ابن الملقن: وفي إسناده ابن أرطاة وقد ضعفوه لكن تابعه عليه عمرو بن عامر، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 368)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3216 ترقیم الرسالہ : -- 3257
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَكَ، نَا عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، نَا أَبُو غَسَّانَ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِذِي عَهْدٍ، وَلا حُرٌّ بِعَبْدٍ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سنت (کا حکم) یہ ہے: کسی معاہد (یعنی غیر مسلم) کے بدلے میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور غلام کے بدلے میں آزاد شخص کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3257]
ترقیم العلمیہ: 3216
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 111، 1870، 3047، 3172، 3179، 6755، 7300، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1370، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3716، 3717، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2639، 7347، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4759، 4760، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2034، 4530، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1412، 2127، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2658، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3152، 3153، 3254، 3257، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 609»
«‏‏‏‏قال ابن الملقن: وهو ضعيف، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 368)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3217 ترقیم الرسالہ : -- 3258
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ، نَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" فِي الْحُرِّ يَقْتُلُ الْعَبْدَ، قَالَ: فِيهِ ثَمَنُهُ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آزاد شخص کے غلام کو قتل کرنے کے بارے میں یہ فرمایا ہے: اس میں قیمت (بطور دیت) ادا کی جائے گی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3258]
ترقیم العلمیہ: 3217
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16056، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3258»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3218 ترقیم الرسالہ : -- 3259
نَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرَّهَاوِيُّ ، أَخْبَرَنِي جَدِّي سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّهَاوِيُّ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ مَطَرٍ ، حَدَّثَهُمْ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" قَتَلَ مُسْلِمًا بِمُعَاهَدٍ، وَقَالَ: أَنَا أَكْرَمُ مَنْ وَفَى بِذِمَّتِهِ" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معاہد (ذمی) کے بدلے میں مسلمان کو قتل کروا دیا تھا، آپ نے ارشاد فرمایا تھا: میں اس بات کا سب سے زیادہ حق دار ہوں کہ اپنی دی ہوئی پناہ کو پورا کروں۔ اس روایت کو صرف ابراہیم بن ابویحییٰ نے مسند کے طور پر نقل کیا ہے، یہ شخص متروک الحدیث ہے، درست یہ ہے کہ یہ روایت ابن بیلمانی کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر منقول ہے، ابن بیلمانی ضعیف ہے، ایسی روایت کو بھی حجت قرار نہیں دیا جا سکتا، جسے اس نے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہو، چہ جائیکہ وہ روایت جو اس نے مرسل کے طور پر نقل کی ہو، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3259]
ترقیم العلمیہ: 3218
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16022، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3259»
«قال البيهقي: أخطأ راويه عمار بن مطر على إبراهيم في سنده، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 272)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3219 ترقیم الرسالہ : -- 3260
ثنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا: نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، يَرْفَعْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَقَادَ مُسْلِمًا قَتَلَ يَهُودِيًّا" ، وَقَالَ الرَّمَادِيُّ:" أَقَادَ مُسْلِمًا بِذِمِّيٍّ"، وَقَالَ:" أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَّى بِذِمَّتِهِ".
عبدالرحمن بن بیلمانی نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کو قصاص میں قتل کروا دیا تھا، اس مسلمان نے ایک یہودی کو قتل کیا تھا۔ رمادی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ذمی کے بدلے میں مسلمان کو قتل کروا دیا تھا، آپ نے ارشاد فرمایا تھا: میں اس بات کا سب سے زیادہ حق دار ہوں کہ اپنی دی ہوئی پناہ کو پورا کروں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3260]
ترقیم العلمیہ: 3219
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16023، 16024، 16025، 16026، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3260، 3261، 3262، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 18514، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28031»
«ضعيف، المفهم لما أشكل من تلخيص مسلم: (5 / 37)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3220 ترقیم الرسالہ : -- 3261
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، قَالَ:" قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ، وَقَالَ: أَنَا أَحَقُّ مَنْ أَوْفَى بِذِمَّتِهِ" ،.
عبدالرحمن بن بیلمانی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قبلہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو ایک ذمی کے بدلے میں قتل کروا دیا تھا، آپ نے ارشاد فرمایا تھا: میں اس بات کا سب سے زیادہ حق دار ہوں کہ اپنے ذمہ کو پورا کروں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3261]
ترقیم العلمیہ: 3220
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16023، 16024، 16025، 16026، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3260، 3261، 3262، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 18514، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28031»
«ضعيف، المفهم لما أشكل من تلخيص مسلم: (5 / 37)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3221 ترقیم الرسالہ : -- 3262
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3262]
ترقیم العلمیہ: 3221
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16023، 16024، 16025، 16026، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3260، 3261، 3262، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 18514، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28031»
«ضعيف، المفهم لما أشكل من تلخيص مسلم: (5 / 37)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3222 ترقیم الرسالہ : -- 3263
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" إِنَّمَا سَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَهُمْ لأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرِّعَاءِ" ، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: يَعْنِي الْعُرَنِيِّينَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (مرتد ہونے والے لوگوں) کی آنکھوں میں سلائیاں پھیروا دی تھیں، کیونکہ ان لوگوں نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے) چرواہے کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی تھیں۔ ابن صاعد کہتے ہیں: ان (مرتد ہونے والے لوگوں) سے مراد عرینہ قبیلے کے لوگ ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3263]
ترقیم العلمیہ: 3222
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 233، 1501، 3018، 4192، 4193، 4610، 5685، 5686، 5727، 6802، 6803، 6804، 6805، 6899، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1671، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 115، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1386، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 304، 305، 4035، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4364، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2578، 3503، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 476، 3263، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12224»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3223 ترقیم الرسالہ : -- 3264
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ إِمْلاءً، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ خُدَيْنِقَ بِنْتِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" قَتَلَ حِرَاشُ بْنُ أُمَيَّةَ بَعْدَمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَتْلِ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ قَاتِلا مُؤْمِنًا بِكَافِرٍ، لَقَتَلْتُ حِرَاشًا بِالْهُذَلِيِّ" ، يَعْنِي لَمَّا قَتَلَ حِرَاشٌ رَجُلا مِنْ هُذَيْلٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: خراش بن امیہ (نے ایک غیر مسلم) کو قتل کر دیا، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے ہی غیر مسلم) کو قتل کرنے سے منع کر چکے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں نے کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل کرنا ہوتا، تو ہذیل قبیلے کے اس شخص کے بدلے میں خراش کو قتل کروا دیتا۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) یہ اس وقت ہوا، جب فتح مکہ کے موقع پر خراش بن امیہ نے ہذیل قبیلے کے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3264]
ترقیم العلمیہ: 3223
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16019، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3264، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3593، 3594، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 208، 209»
«وهذا الإسناد وإن كان واهيا ولكنه أمثل من حديث ابن البيلماني قال هو طرف من حديث الفتح قال وحديثنا متصل وحديث ابن البيلماني منقطع لا تقوم به حجة، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 335)»

الحكم على الحديث: منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3224 ترقیم الرسالہ : -- 3265
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ ، نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ الصَّدَفِيُّ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " سَرَقَ مَمْلُوكٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ وَقَدْ سَرَقَ، فَعَفَا عَنْهُ، فَرُفِعَ الثَّالِثَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الرَّابِعَةَ وَقَدْ سَرَقَ، فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الْخَامِسَةَ وَقَدْ سَرَقَ، فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّادِسَةَ، فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّابِعَةَ، فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّامِنَةَ، فَقَطَعَ رِجْلَهُ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعٌ بِأَرْبَعٍ" .
سیدنا عصمہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک غلام نے چوری کی، اس کا مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا، پھر اس کا مقدمہ دوسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا کہ اس نے چوری کی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے معاف کر دیا، پھر اس کا مقدمہ تیسری بار پیش کیا گیا، تو آپ نے پھر اسے معاف کر دیا، پھر چوتھی مرتبہ آپ کے سامنے مقدمہ پیش کیا گیا کہ اس نے چوری کی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے معاف کر دیا، پھر جب پانچویں مرتبہ اس کے چوری کرنے کا مقدمہ پیش ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ایک ہاتھ کٹوا دیا، پھر جب چھٹی مرتبہ آپ کے سامنے پیش ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ایک پاؤں کٹوا دیا، پھر جب ساتویں مرتبہ آپ کے سامنے مقدمہ پیش ہوا، تو آپ نے اس کا دوسرا ہاتھ کٹوا دیا، جب آٹھویں مرتبہ مقدمہ پیش ہوا، تو آپ نے اس کا دوسرا پاؤں کٹوا دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ان چار (مرتبہ معاف کرنے) کے بدلے چار (مرتبہ) سزا دی گئی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3265]
ترقیم العلمیہ: 3224
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3265، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 483»
«قال ابن حجر: وإسناده ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 127) اس روایت میں الفضل بن المختار جیسے ضعیف راوی کا ذکر ہے، جس کی وجہ سے سند کو ضعیف قرار دیا گیا۔»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں