سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3127 ترقیم الرسالہ : -- 3166
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا يَعِيشُ بْنُ الْجَهْمِ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" إِذَا سَرَقَ السَّارِقُ قُطِعَتْ يَدُهُ الْيُمْنَى، فَإِنْ عَادَ قُطِعَتْ رِجْلُهُ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَادَ ضَمِنَتْهُ السِّجْنُ حَتَّى يُحَدِّثَ خَيْرًا، إِنِّي أَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ أَنْ أَدَعَهُ لَيْسَ لَهُ يَدٌ يَأْكُلُ بِهَا وَيَسْتَنْجِي بِهَا، وَرَجُلٌ يَمْشِي عَلَيْهَا" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: جب کوئی شخص چوری کرے، تو اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے، اگر وہ دوبارہ چوری کرے، تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے، اگر وہ پھر چوری کرے، تو میں اسے قید کر دوں گا، اور اس وقت تک قید رکھوں گا، جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتا، مجھے اس بات سے اللہ سے حیا آتی ہے کہ میں اس (چور) کو ایسی حالت میں کر دوں کہ اس کا کوئی ہاتھ بھی نہ ہو، جس کے ذریعے وہ کچھ کھا سکے یا استنجا کر سکے، یا اس کا کوئی پاؤں نہ ہو، جس کے ذریعے وہ چل سکے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3166]
ترقیم العلمیہ: 3127
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17360، 17361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3166، 3387، 3388»
ترقیم العلمیہ : 3128 ترقیم الرسالہ : -- 3167
نَا نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَنَّاطِ، نَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، نَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَأُمُّهُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ:" إِنَّ ابْنِي هَذَا قَتَلَ زَوْجِي، فَقَالَ الابْنُ: إِنَّ عَبْدِي وَقَعَ عَلَى أُمِّي، فَقَالَ عَلِيٌّ : خِبْتُمَا وَخَسِرْتُمَا، إِنْ تَكُونِي صَادِقَةً يُقْتَلُ ابْنُكِ، وَإِنْ يَكُنِ ابْنُكِ صَادِقًا نَرْجُمُكِ، ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلصَّلاةِ، فَقَالَ الْغُلامُ لأُمِّهِ: مَا تَنْظُرِينَ أَنْ يَقْتُلَنِي أَوْ يَرْجُمَكِ؟ فَانْصَرَفَا، فَلَمَّا صَلَّى سَأَلَ عَنْهُمَا فَقِيلَ: انْطَلَقَا" .
میسرہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اور اس کی والدہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ عورت بولی: ”میرے اس بیٹے نے میرے شوہر کو قتل کر دیا ہے۔“ تو بیٹا بولا: ”(مقتول) میرا غلام تھا، جس نے میری ماں کے ساتھ زنا کیا۔“ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم دونوں رسوا ہوئے اور خسارے کا شکار ہو گئے، (اے عورت!) اگر تم سچی ہو، تو تمہارے بیٹے کو قتل کر دیا جائے گا، اور اگر تمہارا بیٹا سچا ہے، تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے، تو اس لڑکے نے اپنی والدہ سے کہا: ”آپ کا کیا خیال ہے، یہ مجھے قتل کروا دیں گے یا آپ کو سنگسار کروا دیں؟“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ دونوں چلے گئے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو انہوں نے ان دونوں کے بارے میں دریافت کیا، تو بتایا: وہ دونوں جا چکے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3167]
ترقیم العلمیہ: 3128
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17693، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3167»
ترقیم العلمیہ : 3129 ترقیم الرسالہ : -- 3168
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِي ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالا: نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ بِشْرٌ: وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَقُولُ مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ تُعَدُّ وَتُدْعَى وَدَمٍ وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، غَيْرَ سِدَانَةِ الْبَيْتِ وَسِقَايَةِ الْحَاجِّ، أَلا وَإِنَّ فِي قَتِيلِ خَطَأِ الْعَمْدِ، قَتِيلِ السَّوْطِ، وَالْعَصَا مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا" ،.
عقبہ بن اوس ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ نے یہ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس نے اپنے وعدے کو سچ ثابت کیا، اسی نے اپنے بندے کی مدد کی، اسی نے (دشمنوں کے) لشکروں کو پسپا کیا، یاد رکھنا! ہر وہ چیز جو (معاشرے میں) بڑائی اور فضیلت سمجھی جاتی ہو اور شمار کی جاتی ہو، (زمانہ جاہلیت کا ہر) خون (کا بدلہ) اور مال (یعنی ادائیگی) وہ سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے (یعنی میں اسے کالعدم سمجھتا ہوں)، ماسوائے بیت اللہ کی خدمت کے اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے (کیونکہ یہ فضیلت کا معیار ہوں گی)، یاد رکھنا! قتل خطاء شبہ عمدیہ ہے کہ لاٹھی یا عصا کے ذریعے کسی کو مارا گیا ہو، اس کی دیت سو اونٹ ہیں، جن میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3168]
ترقیم العلمیہ: 3129
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 835، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6011،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4797، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4547، 4588، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2627، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3168، 3169، 3170، 3171، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6644»
ترقیم العلمیہ : 3130 ترقیم الرسالہ : -- 3169
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فِي أَسْنَانِ الإِبِلِ، وَلَمْ يَذْكُرْ غَيْرَ ذَلِكَ. كَذَا رَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، لَمْ يَذْكُرْ يَعْقُوبَ بْنَ أَوْسٍ، وَأَسْنَدَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ. كَذَلِكَ رَوَاهُ عَنْهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَمَعْمَرٌ، وَخَالَفَهُمَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَرَوَاهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرِ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَأَسْنَدَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَرَوَاهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْهُ.
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3169]
ترقیم العلمیہ: 3130
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 835، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6011،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4797، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4547، 4588، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2627، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3168، 3169، 3170، 3171، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6644»
ترقیم العلمیہ : 3131 ترقیم الرسالہ : -- 3170
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو سَلَمَةَ ، نَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" لَمَّا فَتَحَ مَكَّةَ، قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ تُعَدُّ أَوْ تُدْعَى تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، إِلا السِّدَانَةَ وَالسِّقَايَةَ، أَلا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَأِ شِبْهِ الْعَمْدِ، قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا" ، يَعْنِي مِائَةً مِنَ الإِبِلِ،.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس نے اپنے وعدے کو سچ ثابت کیا، اس نے اپنے بندے کی مدد کی، اسی نے (دشمنوں کے) لشکروں کو پسپا کیا، یاد رکھنا! ہر وہ چیز جو (معاشرے میں) بڑائی (اور فضیلت) سمجھی جاتی ہو اور شمار کی جاتی ہو، (زمانہ جاہلیت کا ہر) خون (کا بدلہ) اور مال (یعنی ادائیگی) وہ سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے (یعنی میں اسے کالعدم قرار دیتا ہوں)، ماسوائے بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے (کیونکہ یہ فضیلت کا معیار ہوں گے)، یاد رکھنا! قتل خطاء شبہ عمدیہ ہے کہ لاٹھی یا عصا کے ذریعے (کسی کو مارا گیا ہو)، اس کی دیت مغلظہ ہے، جن میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔“ (راوی کہتے ہیں:) یعنی اس کی دیت سو اونٹ ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3170]
ترقیم العلمیہ: 3131
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 835، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6011،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4797، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4547، 4588، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2627، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3168، 3169، 3170، 3171، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6644»
ترقیم العلمیہ : 3132 ترقیم الرسالہ : -- 3171
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ نَا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَالَ ابْنُ السُّكَيْنِ:" أَلا إِنَّ قَتِيلَ خَطَأِ الْعَمْدِ، قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا" نَحْوَهُ.
سیدنا عقبہ بن اوس ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث بیان کی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3171]
ترقیم العلمیہ: 3132
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 835، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6011،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4797، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4547، 4588، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2627، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3168، 3169، 3170، 3171، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6644»
ترقیم العلمیہ : 3133 ترقیم الرسالہ : -- 3172
نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَأِ بِالسَّوْطِ، أَوِ الْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَدَمٍ، وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، إِلا مَا كَانَ مِنْ سِدَانَةِ الْبَيْتِ، أَوْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ، فَإِنِّي أَمْضَيْتُهَا لأَهْلِهَا كَمَا كَانَتْ" ،.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ (میں داخل ہوئے)، سیڑھی پر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، اپنے بندوں کی مدد کی، اسی نے (کفار کے) لشکروں کو پسپا کیا، یاد رکھنا! قتل خطاء کا مقتول وہ ہے، جسے لاٹھی یا عصا کے ذریعے مارا گیا ہو، اس کی دیت مغلظہ یعنی سو اونٹ ہو گی، جس میں چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی، زمانہ جاہلیت کی ہر ترجیحی وجہ، (زمانہ جاہلیت کا ہر) خون کا بدلہ اور مال کی ادائیگی میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے (یعنی میں انہیں کالعدم قرار دیتا ہوں)، ماسوائے (دو چیزوں کے) خانہ کعبہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت، میں انہیں متعلقہ لوگوں کے لیے برقرار رکھتا ہوں، جیسے یہ پہلے (زمانہ جاہلیت میں) تھیں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3172]
ترقیم العلمیہ: 3133
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4803، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6975، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2628،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3172، 3173، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 719، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4673»
«وهو حديث لا يصح لضعف علي بن زيد، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 331)»
«وهو حديث لا يصح لضعف علي بن زيد، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 331)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3134 ترقیم الرسالہ : -- 3173
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہو کر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3173]
ترقیم العلمیہ: 3134
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4803، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6975، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2628،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3172، 3173، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 719، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4673»
«وهو حديث لا يصح لضعف علي بن زيد، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 331)»
«وهو حديث لا يصح لضعف علي بن زيد، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 331)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3135 ترقیم الرسالہ : -- 3174
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ ، نَا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، نَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا قَوَدَ إِلا بِالسَّيْفِ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قصاص صرف تلوار کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3174]
ترقیم العلمیہ: 3135
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2668، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16192، 16193، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3174، 3175، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3663، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 17179، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28295، 28299»
«قال البيهقي: لم يثبت له إسناد، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 38)»
«قال البيهقي: لم يثبت له إسناد، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 38)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3136 ترقیم الرسالہ : -- 3175
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ مُبَارَكٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا قَوَدَ إِلا بِالسَّيْفِ" ، قَالَ يُونُسُ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: عَنْ مَنْ أَخَذْتَ هَذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَذْكُرُ ذَلِكَ.
حسن بصری بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قصاص صرف تلوار کے ذریعے لیا جا سکتا ہے۔“ یونس نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے حسن بصری سے دریافت کیا: آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3175]
ترقیم العلمیہ: 3136
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2668، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16192، 16193، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3174، 3175، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3663، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 17179، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28295، 28299»
«قال البيهقي: لم يثبت له إسناد، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 38)»
«قال البيهقي: لم يثبت له إسناد، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 38)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف