🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3167 ترقیم الرسالہ : -- 3206
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، قَالا: نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ، عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ، فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ: أَعْقِلُ مَنْ لا أَكَلَ وَلا شَرِبَ، وَلا صَاحَ وَلا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ فِيهِ غُرَّةٌ، عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، أَوْ فَرَسٌ أَوْ بَغْلٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے (کو ضائع کر دینے) کا تاوان ایک غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر کی ادائیگی مقرر کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فریق کے خلاف فیصلہ دیا تھا، ان کے ایک فرد نے کہا: کیا میں اس کی دیت ادا کروں؟ جس نے کچھ کھایا نہیں، کچھ پیا نہیں، کوئی آواز نہیں نکالی، وہ رویا نہیں، اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تو شاعروں کی طرح گفتگو کر رہا ہے، اس بارے میں ایک غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر تاوان کے طور پر ادا کرنا ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3206]
ترقیم العلمیہ: 3167
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5758، 5759، 5760، 6740، 6904، 6909، 6910، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1681،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6017،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4821، 4822، 4823، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4576، 4579، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1410، 2111،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2639، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3206، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7337»
«قال الدارقطني: وقال إسماعيل بن جعفر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة مرسلا وهو صحيح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (9 / 294)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3168 ترقیم الرسالہ : -- 3207
نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، ح وَنا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، نَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ. ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي طَاوُسٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَشَدَ النَّاسَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لِي فَأَخَذَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى مِسْطَحًا فَضَرَبَتْ بِهِ رَأْسَهَا فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ، عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا" ، وَقَالَ ابْنُ بُهْلُولٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَشَدَ النَّاسَ: مَا تَعْلَمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ؟ فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، قَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِمِسْطَحٍ، فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ، وَأَمَرَ أَنْ تُقْتَلَ بِهَا"، وَقَالَ ابْنُ الْجُنَيْدِ: فَقَامَ حَمَلُ أَوْ حَمَلَةُ بْنُ مَالِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے دریافت کیا: پیٹ میں موجود بچے (کو ضائع کرنے) کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فیصلہ دیا تھا؟ تو سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ انصاری کھڑے ہوئے، انہوں نے بتایا: میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی ماری، اس نے وہ لکڑی اس کے سر میں ماری، جس کے نتیجے میں وہ دوسری عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ مر گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ اس کے تاوان میں ایک غلام یا کنیز ادا کیا جائے گا، اور عورت کے بدلے میں (قتل کرنے والی) عورت کو قتل کر دیا جائے گا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے دریافت کیا: پیٹ میں موجود بچے (کو ضائع کرنے) کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فیصلہ دیا تھا؟ تو سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ انصاری کھڑے ہوئے، انہوں نے بتایا: میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی ماری، اس نے وہ لکڑی اس کے سر میں ماری، جس کے نتیجے میں وہ دوسری عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ مر گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ اس کے تاوان میں ایک غلام یا کنیز ادا کیا جائے گا، اور عورت کے بدلے میں (قتل کرنے والی) عورت کو قتل کر دیا جائے گا۔ ابن جنید نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: حملہ بن مالک یا شاید حمل بن مالک کھڑے ہوئے (یعنی ان کے نام کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3207]
ترقیم العلمیہ: 3168
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6521،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4832، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6915، 6991، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4572، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2641، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16086، 16087، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3208، 3209، 3210، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3507»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3169 ترقیم الرسالہ : -- 3208
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى الْبَزَّارُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَجَاءَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَقَالَ:" كَانَ شَيْءٌ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا" . فَقُلْتُ لِعَمْرٍو: لا، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: شَكَّكْتَنِي.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وہ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ دینے کے وقت موجود تھے، حمل بن نابغہ انصاری آئے اور بتایا: دو عورتوں کے درمیان لڑائی ہو گئی، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی مار کر دوسری عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کا تاوان ادا کرنے اور مقتول عورت کے بدلے میں قاتل کو قتل کر دیے جانے کا فیصلہ دیا۔ راوی (ابن جریج) بیان کرتے ہیں: میں نے عمرو (بن دینار) سے دریافت کیا، طاؤس کے صاحبزادے نے اپنے والد کے حوالے سے مجھے اس طرح نہیں بتایا، تو عمرو بن دینار بولے: تم نے مجھے شک میں مبتلا کر دیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3208]
ترقیم العلمیہ: 3169
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6521،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4832، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6915، 6991، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4572، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2641، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16086، 16087، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3208، 3209، 3210، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3507»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3170 ترقیم الرسالہ : -- 3209
أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُس عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: أُذَكِّرُ اللَّهَ امْرَءًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، كُنْتُ بَيْنَ جَارِيَتَيْنِ، يَعْنِي ضَرَّتَيْنِ، فَجَرَحَتْ، أَوْ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِمِسْطَحِ عَمُودٍ ظَلَّتْهَا، فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ نَسْمَعْ هَذِهِ الْقَضِيَّةَ لَقَضَيْنَا بِغَيْرِهِ . قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ، أَوْ أَمَةٍ، أَوْ فَرَسٍ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے پیٹ میں موجود بچے (کو قتل کیے جانے) کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ سنا ہے۔ تو سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کھڑے ہوئے اور بولے: اے امیر المؤمنین! میں دو عورتوں (یعنی دو سکنوں) کے درمیان تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی مار کر اس دوسری عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کی (دیت) ایک غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ حدیث نہ سنتے، تو مختلف فیصلہ دیتے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3209]
ترقیم العلمیہ: 3170
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6521،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4832، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6915، 6991، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4572، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2641، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16086، 16087، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3208، 3209، 3210، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3507»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3170/2 ترقیم الرسالہ : -- 3210
قَالَ: وَنا قَالَ: وَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ، نَحْوَهُ، وَقَالَ:" فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ فِي الْمَرْأَةِ، وَفِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ، أَوْ أَمَةٍ، أَوْ فَرَسٍ" .
طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ طلب کیا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں:) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی دیت ادا کرنے کا حکم دیا، اور پیٹ میں موجود بچے کے تاوان کے طور پر غلام یا کنیز یا گھوڑے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3210]
ترقیم العلمیہ: 3170/2
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6521،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4832، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6915، 6991، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4572، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2641، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16086، 16087، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3208، 3209، 3210، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3507»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3171 ترقیم الرسالہ : -- 3211
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْجَزَرِيُّ ، نَا عَفَّانُ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُقْتَلُ الْمَرْأَةُ إِذَا ارْتَدَّتْ" ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى كَذَّابٌ، يَضَعُ الْحَدِيثَ عَلَى عَفَّانَ وَغَيْرِهِ، وَهَذَا لا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا رَوَاهُ شُعْبَةُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب عورت مرتد ہو جائے، تو اسے قتل نہ کیا جائے۔ اس روایت کا راوی عبداللہ بن عیسیٰ کذاب ہے، اس نے عفان اور دیگر راویوں کے حوالے سے جھوٹی روایات نقل کی ہیں، اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی درست روایت منقول نہیں ہے، شعبہ نے بھی اسے روایت نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3211]
ترقیم العلمیہ: 3171
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16970، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3211، 3212، 3213، 3455، 3456، 3458، 3459، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 18731، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 29599، 33443»
«قال الدارقطني: عبد الله هذا كذاب يضع الحديث على عفان وغيره وهذا لا يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم ولا رواه شعبة، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 456)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3172 ترقیم الرسالہ : -- 3212
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نَا أَبُو يُوسُفَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْعَطَّارُ الْفَقِيهُ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " فِي الْمَرْأَةِ تَرْتَدُّ، قَالَ: تُجْبَرُ وَلا تُقْتَلُ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں فرماتے تھے: اسے قید کر دیا جائے گا، اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3212]
ترقیم العلمیہ: 3172
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16970، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3211، 3212، 3213، 3455، 3456، 3458، 3459، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 18731، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 29599، 33443»
«قال الدارقطني: لا يصح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 569)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3173 ترقیم الرسالہ : -- 3213
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي، نَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" الْمُرْتَدَّةُ عَنِ الإِسْلامِ، تُحْبَسُ وَلا تُقْتَلُ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اسلام سے مرتد ہونے والی عورت کو قید کیا جائے گا، اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3213]
ترقیم العلمیہ: 3173
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16970، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3211، 3212، 3213، 3455، 3456، 3458، 3459، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 18731، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 29599، 33443»
«قال الدارقطني: لا يصح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 569)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3174 ترقیم الرسالہ : -- 3214
وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ السَّرَّاجُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، نَا أَبِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأَنْصَارِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ:" ارْتَدَّتِ امْرَأَةٌ يَوْمَ أُحُدٍ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسْتَتَابَ، فَإِنْ تَابَتْ وَإِلا قُتِلَتْ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: غزوہ احد کے موقع پر ایک عورت مرتد ہو گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ اسے توبہ کرنے کے لیے کہا جائے، اگر وہ توبہ کر لیتی ہے، تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3214]
ترقیم العلمیہ: 3174
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، و أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3213، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الزیلعي: محمد بن عبد الملك هذا قال أحمد وغيره فيه يضع الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 458)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3175 ترقیم الرسالہ : -- 3215
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَطْحَاءَ ، نَا نَجِيحُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، نَا مَعْمَرُ بْنُ بَكَّارٍ السَّعْدِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ،" أَنَّ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا: أُمُّ مَرْوَانَ ارْتَدَّتْ عَنِ الإِسْلامِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرَضَ عَلَيْهَا الإِسْلامُ، فَإِنْ رَجَعَتْ، وَإِلا قُتِلَتْ" ،.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک عورت، جس کا نام ام مروان تھا، وہ اسلام سے مرتد ہو گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا: اس کے سامنے اسلام پیش کیا جائے، اگر وہ دوبارہ اسلام قبول کر لے، تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3215]
ترقیم العلمیہ: 3175
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16966، 16967، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3215، 3216، 3217، 3218»
«قال البيهقي: وإسناداهما ضعيفان، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 92)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں