🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3137 ترقیم الرسالہ : -- 3176
نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا جَدِّي ، نَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو قُتَيْبَةَ ، وَابْنُ بِنْتِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ شَيْءٍ خَطَأٌ إِلا السَّيْفَ، وَفِي كُلِّ شَيْءٍ خَطَأُ أَرْشٍ" عَنِ تَابَعَهُ زُهَيْرٌ وَقَيْسٌ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ جَابِرٍ. وَقَالَ وَرْقَاءُ عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَرَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ، فَإِنْ كَانَ حَفِظَ فَهُوَ اسْمُ أَبِي عَازِبٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تلوار کے علاوہ ہر چیز (کے ذریعے کیا جانے والا قتل) قتل خطا شمار ہو گا، اور قتل خطا میں دیت (کی ادائیگی لازم) ہو گی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3176]
ترقیم العلمیہ: 3137
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16081، 16082، 16083، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3176، 3177، 3178، 3179، 3180، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18686»
«قال ابن عدي: جابر الجعفي لم أر له أحاديث جاوزت المقدار في الإنكار وهو مع هذا كله أقرب إلى الضعف منه إلى الصدق، الكامل في الضعفاء: (2 / 324)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3138 ترقیم الرسالہ : -- 3177
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ شَيْءٍ خَطَأٌ إِلا السَّيْفَ، وَلِكُلِّ خَطَأٍ أَرْشٌ" ، كَذَا قَالَ: عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، وَالَّذِي قَبْلَهُ أَصَحُّ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تلوار کے علاوہ ہر چیز (کے ذریعے کیا جانے والا قتل) قتل خطا شمار ہو گا، اور قتل خطا میں دیت (کی ادائیگی لازم) ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3177]
ترقیم العلمیہ: 3138
تخریج الحدیث: «موقوف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16081، 16082، 16083، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3176، 3177، 3178، 3179، 3180، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18686»
«قال الذھبي: جابر لا شيء ولعل الخبر موقوف، لسان الميزان: (8 / 54)»

الحكم على الحديث: موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3139 ترقیم الرسالہ : -- 3178
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا زُهَيْرٌ ، وَقَيْسٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ شَيْءٍ سِوَى الْحَدِيدَةِ فَهُوَ خَطَأٌ، وَفِي كُلِّ خَطَأٍ أَرْشٌ" ،.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوہے (کے ہتھیار کے) علاوہ ہر چیز (کے ذریعے قتل کیا جانے والا قتل) قتل خطا شمار ہو گا، اور قتل خطا میں دیت (کی ادائیگی لازم) ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3178]
ترقیم العلمیہ: 3139
تخریج الحدیث: «موقوف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16081، 16082، 16083، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3176، 3177، 3178، 3179، 3180، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18686»
«قال الذھبي: جابر لا شيء ولعل الخبر موقوف، لسان الميزان: (8 / 54)»

الحكم على الحديث: موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3140 ترقیم الرسالہ : -- 3179
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3179]
ترقیم العلمیہ: 3140
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16081، 16082، 16083، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3176، 3177، 3178، 3179، 3180، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18686»
«: (8 / 54)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3141 ترقیم الرسالہ : -- 3180
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ حَبَّانَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، نَا شَبَابَةُ ، نَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَرَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ شَيْءٍ خَطَأٌ، إِلا مَا كَانَ أُصِيبَ بِحَدِيدَةٍ، وَلِكُلِّ خَطَأٍ أَرْشٌ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوہے (کے ہتھیار کے) علاوہ ہر چیز (کے ذریعے قتل کیا جانے والا قتل) قتل خطا شمار ہو گا، اور قتل خطا میں دیت (کی ادائیگی لازم) ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3180]
ترقیم العلمیہ: 3141
تخریج الحدیث: «موقوف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16081، 16082، 16083، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3176، 3177، 3178، 3179، 3180، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18686»
«قال الذھبي: جابر لا شيء ولعل الخبر موقوف، لسان الميزان: (8 / 54)»

الحكم على الحديث: موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3142 ترقیم الرسالہ : -- 3181
نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الصَّوَّافُ ، نَا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْقَوَدُ بِالسَّيْفِ، وَالْخَطَأُ عَلَى الْعَاقِلَةِ" ، كَذَا قَالَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: قصاص صرف اس وقت لیا جائے گا، جب تلوار کے ذریعے قتل کیا گیا، اور قتل خطا میں (دیت کی ادائیگی قاتل کے) خاندان پر عائد ہو گی۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3181]
ترقیم العلمیہ: 3142
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، و أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3176، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن الملقن: وعلته جابر الجعفي وأبو عازب السالف وفيه أيضا أبو شيبة وهو غير محتج به، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 390)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3143 ترقیم الرسالہ : -- 3182
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" حَرَّقَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلامِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ لأُحَرِّقَهُمْ بِالنَّارِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ، وَكُنْتُ أقْتُلُهُمْ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ" ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا، فَقَالَ: وَيْحَ ابْنِ عَبَّاسٍ. هَذَا ثَابِتٌ صَحِيحٌ.
عکرمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مرتد ہونے والے کچھ لوگوں کو جلا دیا، اس بات کی اطلاع سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی، تو انہوں نے فرمایا: میں ان لوگوں کو آگ میں نہ جلاواتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’اللہ کے عذاب دینے کے طریقے کی طرح (یعنی آگ میں جلا کر) کسی کو عذاب (یعنی سزا) نہ دو۔‘ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:) میں ان لوگوں کو قتل کروا دیتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’جو شخص اپنا دین (یعنی اسلام) تبدیل کر لے، اسے قتل کر دو۔‘ راوی بیان کرتے ہیں: اس بات کی اطلاع سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ملی، تو انہوں نے فرمایا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ستیاناس ہو۔ یہ روایت ثابت ہے اور صحیح ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3182]
ترقیم العلمیہ: 3143
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 3017، 6922، وابن الجارود فى "المنتقى"، 910، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4475، 4476، 5606، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6351،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4064، 4065، 4066، 4067، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3508، 3509، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4351، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1458، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2535، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3182، 3200، 3201، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 543، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1896»
«قال الدارقطني: هذا ثابت صحيح، سنن الدارقطني: (4 / 108) برقم: (3182)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3144 ترقیم الرسالہ : -- 3183
نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَمُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ثُمَّ أَنَّهُمَا أَتَيَا خَيْبَرَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ، فَتَفَرَّقَا لِحَوَائِجِهِمَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلا، فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، وَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَحُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ سِنًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرِ الْكُبْرَ، فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ مِنْكُمْ فَتَسْتَحِقُّوا دَمَ صَاحِبِكُمْ؟، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ؟، قَالَ: أَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ؟، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كَفَرُوا، فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ" ،.
بشیر بن یسار، سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں: یہ دونوں حضرات خیبر تشریف لے گئے، ان دنوں (مسلمانوں اور یہودیوں کی) صلح چل رہی تھی، یہ دونوں حضرات اپنے اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ اپنے دوسرے ساتھی سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، تو وہ خون میں لت پت تھے، اور قتل ہو چکے تھے، سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دفن کیا، بعد میں جب وہ مدینہ منورہ آئے، تو عبدالرحمن بن سہل، حویصہ بن مسعود اور محیصہ بن مسعود، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبدالرحمن بن سہل گفتگو کرنے لگے، وہ ان تینوں میں سب سے کم عمر تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے بڑے کو موقع دو۔ تو وہ خاموش ہو گئے، باقی دونوں حضرات نے بات کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پچاس افراد حلف اٹھا کر اپنے ساتھی کے خون (کے بدلے، راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے قاتل کے خون کے مستحق بننے کے لیے تیار ہو جائیں گے؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم کیسے حلف اٹھا سکتے ہیں؟ جب کہ ہم وہاں موجود ہی نہیں تھے، ہم نے (قتل ہوتے) دیکھا ہی نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں کے پچاس افراد قسم اٹھا کر بری الذمہ ہو جائیں گے۔ انہوں نے عرض کی: ہم کفار کی قسموں کا کیسے اعتبار کریں؟ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے ان لوگوں کو دیت ادا کی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3183]
ترقیم العلمیہ: 3144
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2702، 3173، 6142، 6898، 7192، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1669، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1544، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2384، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6009، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4716، 4717، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1638، 4520، 4521، 4523، 4524، 4525، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1422، 1422 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2677، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3183، 3184، 3185، 3187، 3188، 3189، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16339»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3145 ترقیم الرسالہ : -- 3184
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، نَا أَبِي . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ بُشَيْرَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا فَقِيهًا وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ رِجَالا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ: رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثُوهُ، أَنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِيهِمْ فِي بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ فِي رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يُدْعَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ قُتِلَ بِخَيْبَرَ، فَذَكَرَ بَشِيرٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنُ زَيْدٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ وَأَهْلُهَا الْيَهُودُ، فَتَفَرَّقَ عَبْدُ اللَّهِ وَمُحَيِّصَةُ بِخَيْبَرَ فِي حَوَائِجِهِمَا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ،.
بنو حارثہ کے آزاد کردہ غلام بشیر بن یسار، جو ایک بزرگ اور سمجھدار آدمی تھے اور انہوں نے اپنے (آقا کے) خاندان بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے کچھ صحابہ کرام کی زیارت بھی کی ہوئی تھی، جن میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ، سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ شامل ہیں، بشیر بن یسار ان حضرات کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں: قسامت کا حکم بنو حارثہ کے بارے میں آیا تھا، انصار کے ایک فرد سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ خیبر میں قتل کر دیے گئے۔ بشیر نے یہ بات ذکر کی: سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو حارثہ سے تھا، یہ دونوں حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں خیبر میں تشریف لے گئے، ان دنوں (مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان) صلح چل رہی تھی، خیبر میں یہودی ہی رہتے تھے، خیبر میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ اپنے اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے)، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ہم کفار کی قوم کی قسموں کو کیسے قبول کر سکتے ہیں؟ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3184]
ترقیم العلمیہ: 3145
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2702، 3173، 6142، 6898، 7192، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1669، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1544، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2384، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6009، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4716، 4717، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1638، 4520، 4521، 4523، 4524، 4525، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1422، 1422 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2677، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3183، 3184، 3185، 3187، 3188، 3189، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16339»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3146 ترقیم الرسالہ : -- 3185
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الأَنْصَارِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَوْ حُدِّثَا، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ أَتَيَا خَيْبَرَ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
بشیر بن یسار، سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ان دونوں حضرات نے یہ بات بیان کی ہے: سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر گئے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3185]
ترقیم العلمیہ: 3146
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2702، 3173، 6142، 6898، 7192، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1669، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1544، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2384، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6009، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4716، 4717، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1638، 4520، 4521، 4523، 4524، 4525، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1422، 1422 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2677، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3183، 3184، 3185، 3187، 3188، 3189، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16339»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں