سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. بَابُ
باب
ترقیم العلمیہ : 3734 ترقیم الرسالہ : -- 3790
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ:" يُزَوِّجُ الرَّجُلُ كَرِيمَتَهُ مِنْ ذِي الدِّينِ إِذَا لَمْ يَكُنِ الْمَنْصِبُ مِثْلَهُ؟، قَالَ: نَعَمْ" .
اسحاق بن بہلول بیان کرتے ہیں: میں نے سفیان سے کہا: ”اگر منصب کے اعتبار سے کوئی شخص لڑکی کا ہم پلہ نہ ہو، تو کیا کوئی شخص کسی دین دار (کم تر مالی، یا خاندانی حیثیت کے مالک) شخص کے ساتھ اپنی (بہن یا بیٹی) کی شادی کر سکتا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3790]
ترقیم العلمیہ: 3734
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3790، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 3735 ترقیم الرسالہ : -- 3791
نَا الْحُسَيْنُ، نَا إِسْحَاقُ، قَالَ: سَأَلْتُ وَكِيعًا، عَنِ الْكُفْؤِ، فَقَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: " الْكُفْؤُ فِي الدِّينِ وَالْمَنْصِبِ" ، قَالَ وَكِيعٌ: سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ، يَقُولُ:" الْكُفْؤُ فِي الدِّينِ وَالْمَنْصِبِ، وَالْمَالِ".
ابن ابی لیلی فرماتے ہیں: دین اور منصب میں کفو کا اعتبار کیا جائے گا، وکیع بیان کرتے ہیں: میں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دین، منصب اور مال میں کفو کا اعتبار کیا جائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3791]
ترقیم العلمیہ: 3735
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3791، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18002»
ترقیم العلمیہ : 3736 ترقیم الرسالہ : -- 3792
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَوَّجْتُ الْمِقْدَادَ وَزَيْدًا لِيَكُونَ أَشْرَفُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا" .
شعبی روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے مقداد اور زید (کے ساتھ تمہاری خواتین کی) شادی کروائی ہے، کیونکہ اللہ کی بارگاہ میں تم میں زیادہ معزز وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3792]
ترقیم العلمیہ: 3736
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13896، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3792»
ترقیم العلمیہ : 3737 ترقیم الرسالہ : -- 3793
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، نَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ النَّحَّاسِ ، نَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، وَابْنِ سَمْعَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا هِنْدَ مَوْلَى بَنِي بَيَاضَةَ كَانَ حَجَّامًا" فَحَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَنْ صَوَّرَ اللَّهُ الإِيمَانَ فِي قَلْبِهِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي هِنْدَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْكِحُوهُ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بنو بیاضہ کا غلام ابوہند پچھنے لگانے کا کام کرتا تھا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگائے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جو شخص کسی ایسے فرد کو دیکھنا چاہتا ہو، جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو نقش کر دیا ہے، وہ ابوہند کو دیکھ لے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”اس کے ساتھ (اپنی رشتہ دار خاتون) کا نکاح کرو، اور اس سے رشتہ قائم کرو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3793]
ترقیم العلمیہ: 3737
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3793، 3795، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6544، وأبو داود فى "المراسيل"، 230»
«قال ابن عدي: هذا الحديث ينفرد به ابن عياش عن الزبيدي وهو منكر من حديث الزبيدي، الكامل في الضعفاء: (1 / 471)»
«قال ابن عدي: هذا الحديث ينفرد به ابن عياش عن الزبيدي وهو منكر من حديث الزبيدي، الكامل في الضعفاء: (1 / 471)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3738 ترقیم الرسالہ : -- 3794
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هِنْدَ" حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَافُوخِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدَ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوہند نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں پچھنے لگائے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے بنو بیاضہ! ابوہند کی شادی کروا دو اور (اپنی کسی لڑکی کے ساتھ) اس کی شادی کر دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3794]
ترقیم العلمیہ: 3738
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4067، 6078، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2708، 8351، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2102، 3857، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3476، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13891، 13892، 19582، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3794، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 8631، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24149»
«قال الدارقطني: المرسل أشبه، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (9 / 289)»
«قال الدارقطني: المرسل أشبه، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (9 / 289)»
الحكم على الحديث:
مرسل
ترقیم العلمیہ : 3739 ترقیم الرسالہ : -- 3795
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الطَّيِّبِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَنْ نَوَّرَ اللَّهُ الإِيمَانَ فِي قَلْبِهِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي هِنْدَ، وَقَالَ: أَنْكِحُوهُ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ، وَكَانَ حَجَّامًا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص ایسے فرد کو دیکھنا چاہتا ہو، جس کے دل کو اللہ نے ایمان سے منور کر دیا ہو، وہ ابوہند کو دیکھ لے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی شادی کروا دو اور (اپنی کسی لڑکی کا) اس کے ساتھ رشتہ کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ شخص پچھنے لگانے کا کام کرتا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3795]
ترقیم العلمیہ: 3739
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3793، 3795، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6544، وأبو داود فى "المراسيل"، 230»
«قال ابن عدي: هذا الحديث ينفرد به ابن عياش عن الزبيدي وهو منكر من حديث الزبيدي، الكامل في الضعفاء: (1 / 471)»
«قال ابن عدي: هذا الحديث ينفرد به ابن عياش عن الزبيدي وهو منكر من حديث الزبيدي، الكامل في الضعفاء: (1 / 471)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3740 ترقیم الرسالہ : -- 3796
نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ جَابِرٍ الرَّمْلِيُّ ، نَا حُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، نَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَسَدِيُّ ، عَنِ الْكُمَيْتِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مَذْكُورٌ مَوْلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَتْ:" خَطَبَنِي عِدَّةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَرْسَلَتْ أُخْتِي حَمْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَشِيرُهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ هِيَ مِمَّنْ يُعَلِّمُهَا كِتَابَ رَبِّهَا وَسُنَّةَ نَبِيِّهَا؟"، قَالَتْ: وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَغَضِبَتْ حَمْنَةُ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُزَوِّجُ ابْنَةَ عَمِّكَ مَوْلاكَ؟، قَالَتْ: وَجَاءَتْنِي فَأَخْبَرَتْنِي فَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِهَا وَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ سورة الأحزاب آية 36، فَأَرْسَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوِّجْنِي مِمَّنْ شِئْتَ، فَزَوَّجَنِي زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فَأَخَذْتُهُ بِلِسَانِي، فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ" ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قریش سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا، تو میں نے اپنی بہن حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ لوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”وہ اس شخص کے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتی، جس نے اسے اس کے پروردگار کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی تعلیم دی ہے؟“ حمنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! وہ کون شخص ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زید بن حارثہ۔“ تو حمنہ کو غصہ آیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا زاد کی شادی اپنے (آزاد شدہ، سابقہ) غلام کے ساتھ کریں گے؟ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حمنہ میرے پاس آئی اور مجھے اس بارے میں بتایا، تو مجھے اس سے زیادہ غصہ آیا اور میں نے اس سے زیادہ سخت الفاظ استعمال کیے۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”کسی بھی مومن مرد یا عورت کو (اس بارے میں اختیار نہیں ہے) کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ دیں، تو انہیں اپنے اس معاملے میں (اس فیصلے سے مختلف کام کرنے) کا اختیار ہو۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے ساتھ چاہیں میری شادی کروا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میری شادی کروا دی۔ میں نے ان کے ساتھ تیز مزاجی کا مظاہرہ کیا، تو انہوں نے میری شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھو (یعنی اسے طلاق دینے کا نہ سوچو) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔“ اس کے بعد انہوں نے باقی حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3796]
ترقیم العلمیہ: 3740
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13894، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3796، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 109»
ترقیم العلمیہ : 3741 ترقیم الرسالہ : -- 3797
نَا ابْنُ مَخْلَدٍ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقِ، نَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ أُخْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ تَحْتَ بِلالٍ" .
حنظلہ بن ابوسفیان اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بہن، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3797]
ترقیم العلمیہ: 3741
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3797، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 3742 ترقیم الرسالہ : -- 3798
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، قَالا: نَا سَلامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَبُ: الْمَالُ، وَالْكَرَمُ: التَّقْوَى" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسب مال ہے، اور کرم تقویٰ ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3798]
ترقیم العلمیہ: 3742
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2705، 8017، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3271، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 4219، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13889، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3798، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20419، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4578، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 6912، 6913»
ترقیم العلمیہ : 3743 ترقیم الرسالہ : -- 3799
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَبُ الْمَالُ، وَالْكَرَمُ التَّقْوَى" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسب مال ہے، اور کرم تقویٰ ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3799]
ترقیم العلمیہ: 3743
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3799، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8385»