الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابٌ فِي فَضْلِ الْمُؤْمِنِ وَصِفَتِهِ وَمِثْلِهِ
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
حدیث نمبر: 159
وَأَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ، إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی انگوروں کو کَرْم نہ کہا کرے، بیشک کرم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6183، ومسلم: 2247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8175»
وضاحت: فوائد: … کرم کے معانی: کریم، سخی، سخاوت، فیاضی، کشادہ دلی، مہربانی، عالی ظرفی، عمدہ اور زرخیز زمین، عفوودرگذر۔انگور کو اس بنا پر کرم کہتے ہیں، کہ اس سے بنائی ہوئی شراب سخاوت اور فیاضی پر ابھارتی ہے، اس لیے انگور کا نام ہی کرم یعنی سخاوت رکھ دیا گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسند کیا کہ اعلی معنویت والا یہ لفظ انگور کے لیے استعمال کیا جائے، اس کا حقدار تو مؤمن ہے۔ زمخشری نے کہا: دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے خوبصورت اور لطیف طریقے کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} کے معنی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، حقیقت میں انگور کو کرم کہنے سے منع نہیں کیا جا رہا، بلکہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ متقی مسلمان اس لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا جو نام رکھا ہے، کوئی اور اس میں شرکت نہ کرے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 160
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَقُولُونَ الْكَرْمَ، وَإِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ انگوروں کو کرم کہہ دیتے ہیں، حالانکہ کرم تو صرف مومن کا دل ہوتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7256»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 161
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ، نَفَعَ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا فَلَمْ تَغَيَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ النَّحْلَةِ أَكَلَتْ طَيِّبًا وَوَضَعَتْ طَيِّبًا وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَكْسِرْ وَلَمْ تُفْسِدْ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! بیشک مومن کی مثال سونے کے ٹکڑے کی طرح ہے، جب مالک (اسے بھٹی میں ڈال کر) اس پر پھونک مارتا ہے تو نہ وہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! بیشک مومن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے، جو (پھول جیسی) پاکیزہ چیز کھاتی ہے، (شہد جیسی) پاکیزہ چیز نکالتی ہے اور جب وہ کسی چیز پر بیٹھتی ہے تو وہ اسے نہ توڑتی ہے، نہ خراب کرتی ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6872»
وضاحت: فوائد: … دو مثالوں کے ذریعے مومن کی تعریف کی گئی ہے، جن کی وضاحت یہ ہے کہ مومن سنجیدہ مزاج کا مالک ہوتا ہے، کوئی مجلس اس کے طرزِ حیات کو متاثر نہیں کر سکتی، شہد کی مکھی کی طرح وہ ہر ایک کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے، اور وہ جہاں مرضی بیٹھ جائے، کسی کو اس سے نقصان نہیں پہنچتا، ہر کوئی اس کے کرداراور طرز عمل کو پسند کرتا ہے اور اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے، مؤمن کو یہ شعور ہوتا ہے کہ اچھے لوگوں کی مجلس کے کیا حقوق ہیں اور برے لوگوں کی مجلس کے کیا تقاضے ہیں، وہ طیّب اور حلال چیزیں کھاتا ہے اور دینے کے لیے بھی ان ہی کا انتخاب کرتا ہے، وہ مشتبہ امور کے درپے نہیں ہوتا اور کسی کو کوئی ضرر نہیں پہنچاتا۔ ہر شخص کو اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لینا چاہیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تمثیلوں پر بار بار غور کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 162
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ السُّنْبُلَةِ تَخِرُّ مَرَّةً وَتَسْتَقِيمُ مَرَّةً، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزِ (وَفِي رِوَايَةٍ: الْأَرْزَةِ) لَا يَزَالُ مُسْتَقِيمًا حَتَّى يَخِرَّ وَلَا يَشْعُرُ) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال گندم کے پودے کی طرح ہے، جو کبھی گر جاتا ہے اور کبھی کھڑا ہو جاتا ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے، جو ہمیشہ سیدھا کھڑا ہی رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ گر جاتا ہے، جبکہ اسے کوئی شعور ہی نہیں ہوتا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 162]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 45، 46، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14820»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ مومن اپنے نفس کو بطور عاریہ لی ہوئی ایک چیز سمجھے، اس کو لذات و شہوات سے دور رکھے، مصائب و حوادث کا محور سمجھے، نیز اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کے نفس کو تو آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس طرح سے آزمائشیں اس کے حق میں بہت آسان ہو جائیں گی۔ رہا مسئلہ منافق کا تو سرے سے اس پر نازل ہونے والے امتحانات ہی کم ہوتے ہیں، تاکہ آخرت میں اس کے عذاب میں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ مومن اور منافق دونوں کے حق میں ہواؤں کی طرح آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، لیکن ان سے متأثر ہونے والا اور عبرت حاصل کرنے والا صرف مؤمن ہوتا ہے، جب بھی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بلا آپڑتی ہے تو وہ اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی تو نہیں ہو گئی کہ وہ مجھے سزا دے رہا ہو۔ ہر جسمانی، ذہنی اور مالی آزمائش اس کے لیے یہی پیغام لاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور اس سے دور نہ ہو۔ نیز وہ ہر آزمائش پر صبر کرتا ہے اور اسلامی احکام کے مطابق اس کے تقاضے پورا کرتا ہے، اس طرح اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے گندم کا پودا اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کے لیے اپنے وجود کے اندر لچک پیدا کرتا ہے، جب سخت ہوا چلتی ہے تو زیادہ جھک جاتا ہے، جب ہلکی ہوا چلتی ہے تو کم جھکتا ہے اور جب ہوا ختم ہو جاتی ہے تو پھر سیدھا ہو کر کھڑا جاتا ہے، وہ یہی روٹین جاری رکھتا ہے، یہاں تک پھل دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور کسان کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔ لیکن منافق مضبوط تنے والے درخت کی طرح ان آزمائشوں سے متأثر نہیں ہوتا، وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی پروا کرتا ہے نہ اس کے عذابوں کی۔ حتی کہ ایک دن اچانک کوئی بڑی آفت آتی ہے، جو اس کی زندگی کو ختم کر دیتی ہے۔
یک لخت گرا اور جڑیں تک نکل آئیں
وہ پیڑ جسے آندھی میں ہلتے نہیں دیکھا
یک لخت گرا اور جڑیں تک نکل آئیں
وہ پیڑ جسے آندھی میں ہلتے نہیں دیکھا
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 163
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ عَلَى آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ عَلَى آخِيَّتِهِ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے، جو حلقہ دار رسی کے ساتھ بندھا ہوا ہو، وہ گھومتا ہے، لیکن بالآخر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے، بیشک مومن بھول جاتا ہے، لیکن پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف۔ أخرجه ابويعلي: 1106، 1332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11355»
وضاحت: فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن گناہوں کی وجہ سے اپنے ربّ سے دور تو ہو جاتا ہے، لیکن چونکہ اس میں اصل ایمان موجود ہوتا ہے، اس لیے وہ نادِم ہو جاتا ہے اور توبہ تائب ہو کر پھر سے اپنے ربّ کے قریب ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 164
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (الْإِسْلَامُ ذَلُولٌ لَا يَرْكَبُ إِلَّا ذَلُولًا) )
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام سہولت والا ہے اور یہ سہولت والے کو ہی نصیب ہوتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، معاذ بن رفاعة لين، وابو خلف الاعمي متروك الحديث۔ أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21616»
وضاحت: فوائد: … اسلام، میانہ روی اور اعتدال کا تقاضا کرتا ہے، اسی پر مداومت اور ہمیشگی اختیار کرنے کی امید رکھی جاسکتی ہے، اور جو آدمی افراط اور زیادتی ٔ عمل کو پسند کرتا ہے، اس کے بارے میں یہ خطرہ رہتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ شخص اس سلسلے کو برقرار نہ رکھ سکے، پھر ایسے ہی ہوتا ہے اور وہ اتنا غافل ہو جاتا ہے کہ بد عمل لوگوں میں اس کا شمار ہونے لگتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
22. بَابٌ فِي الْوَقْتِ الَّذِي يَضْمَحِلُّ فِيهِ الْإِيمَانُ
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
حدیث نمبر: 165
عَنْ سَعْدٍ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ( (إِنَّ الْإِيمَانَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى يَوْمَئِذٍ لِلْغُرَبَاءِ إِذَا فَسَدَ الزَّمَانُ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ لَيُؤْرِزَنَّ الْإِيمَانُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تُؤْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا) )
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کا ظہور شروع ہوا تھا اور عنقریب یہ ایسے ہی ہو جائے، جیسے ابتدا کے وقت تھا، بہرحال اس وقت کے اجنبیت والوں کے لیے خوشخبری ہے، جبکہ باقی زمانے میں فساد آ چکا ہو گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! ایمان ان دو مسجدوں کی طرف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ پکڑتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ أخرجه ابويعلي: 756، والبزار: 1119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1604»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ اس وقت دنیا پر اسلام کا خاصہ شہرہ ہے اور اس کو ماننے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، بہرحال عملی اور حقیقی اسلام میں کچھ اجنبیت کا احساس پایا جا رہا ہے، اصل دین اور اس کے تقاضے اکثر مسلمانوں کے ہاں غیر متعارف ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں جو پیشن گوئی کی گئی ہے، اس کا عملی ظہور آخری زمانہ میں ہو گا، ممکن ہے کہ ایسا اس وقت ہو جب دجال کے خروج کا وقت قریب آ جائے گا یا جب بہت زیادہ فتنے ظہور پذیر ہو جائیں گے اور کافر اور ظالم لوگ مسلم ممالک پر غالب آ جائے گے، اس وقت اہل ایمان اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے حرمین شریفین میں پہنچ جائیں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 166
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَنَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا ثُمَّ يَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ) ) قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: ( (الَّذِينَ يُصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَنْحَازَنَّ الْإِيمَانُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا يَحُوزُ السَّيْلُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُؤْرِزَنَّ الْإِسْلَامُ إِلَى مَا بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تُؤْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا) )
سیدنا عبدالرحمن بن سنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کی ابتدا ہوئی تھی اور عنقریب یہ ایسے ہی اجنبیت والا ہو جائے گا، جیسے ابتدا کے وقت تھا، بہرحال (اسلام والے) نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔“ کسی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نامانوس سے کون لوگ مراد ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں میں فساد آ جائے تو وہ اصلاح کرتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ایمان، مدینہ منورہ کی طرف سیلاب (کے نچلی جگہ کی طرف آگے بڑھنے) کی طرح پناہ لے گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اسلام ان دو مسجدوں کی طرف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ لیتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا بھذه السياقة، اسحاق بن عبد الله بن ابي فروة متروك ويوسف بن سليمان واه، قاله ابن حجر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16810»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 167
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین اپنی ابتدا کے وقت بھی نامانوس تھا اور عنقریب یہ نامانوس ہو جائے گا، پس اس کو اپنانے والے نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9042»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 168
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (بِلَفْظِ) إِنَّ الْإِسْلَامَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ، وَقِيلَ: وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: ( (النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث دین کے بجائے اسلام کے لفظ کے ساتھ بیان کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: کسی نے کہا: ”نامانوس کون لوگ ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیلوں (اور رشتہ داروں) سے دور ہو جانے والے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: «صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 2629، وابن ماجه: 3988، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3784»
وضاحت: فوائد: … ایسے مختصر افراد کے لیے مشکل ہو گا کہ وہ اپنے قبیلوں میں رہ کر اسلامی احکام کی مراد پوری کر سکیں، لہٰذا وہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے گھر بار کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
یا پھر مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات و تعلقات کے لحاظ سے لوگ سے الگ تھلگ ہو جائیں گے اگرچہ ان کی رہائش گاہیں الگ نہ ہوں گی۔
یا پھر مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات و تعلقات کے لحاظ سے لوگ سے الگ تھلگ ہو جائیں گے اگرچہ ان کی رہائش گاہیں الگ نہ ہوں گی۔
الحكم على الحديث: صحیح