🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابٌ فِي الْإِيْمَانِ بِالنَّبِيِّ ﷺ وَفَضْلَ مَنْ آمَنَ بِهِ وَلَمْ يَرَهُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 139
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي سَبْعَ مَرَّاتٍ) )
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور جو آدمی مجھ پر ایمان لایا، جب کہ اس نے مجھے دیکھا ہی نہیں، اس کے لیے سات دفعہ خوشخبری ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22633»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 140
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَرَآنِي مَرَّةً وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي سَبْعَ مَرَّاتٍ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے ایک دفعہ خوشخبری ہے، جو مجھ پر ایمان لایا اور میرا دیدار کیا، لیکن جو آدمی بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لایا، اس کے لیے سات دفعہ خوشخبری ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 3391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12606»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 141
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ رَاكِبَانِ فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ: ( (كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ) ) حَتَّى أَتَيَاهُ فَإِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ، قَالَ: فَدَنَا إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ قَالَ: فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ فَآمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ مَا ذَا لَهُ؟ قَالَ: ( (طُوبَى لَهُ) ) قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ وَلَمْ يَرَكَ قَالَ: ( (طُوبَى لَهُ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ) ) قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ
سیدنا ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک طرف سے دو سوار نمودار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: یہ دو کندی مذحجی آدمی ہیں۔ جب وہ دونوں پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ واقعی ان کا تعلق مذحج قبیلے سے ہے، پھر ان میں سے ایک بیعت کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی آپ کا دیدار کرتا ہے، آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتا ہے، اس کے لیے اجر میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا، پھر دوسرا بندہ آگے آیا اور بیعت کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ جو آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتا ہے، لیکن وہ آپ کو دیکھ نہیں پاتا تو اس کے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھر اس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 742، والبزار: 2769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17523»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا، فَمَرَّ بِي رَجُلٌ فَقَالَ: طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ! لَوَدِدْنَا أَنَّنَا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ فَاسْتُغْضِبَ، فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ، مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَا يَحْمِلُ الرَّجُلَ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مَحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ يَكُونُ فِيهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ، أَوَلَا تَحْمَدُونَ اللَّهَ إِذْ أَخْرَجَكُمْ لَا تَعْرِفُونَ إِلَّا رَبَّكُمْ مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ قَدْ كُفِيتُمُ الْبَلَاءَ بِغَيْرِكُمْ، وَاللَّهِ! لَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بَعَثَ عَلَيْهَا نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فِي فَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دِينًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَقَ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَالِدَهُ وَوَلَدَهُ وَأَخَاهُ كَافِرًا وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلْإِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ فَلَا تَقِرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ وَأَنَّهَا الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ}
جبیر بن نفیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم ایک دن سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثنا میں ایک آدمی کا گزر ہوا اور اس نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر کہا: خوشخبری ہے ان دو آنکھوں کے لیے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا، اللہ کی قسم! ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم نے بھی وہ کچھ دیکھا ہوتا جو تم نے دیکھا اور ہم نے بھی ان چیزوں کا مشاہدہ کیا ہوتا، جن کا تم نے مشاہدہ کیا۔ یہ سن کر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے، مجھے بڑا تعجب ہونے لگا کہ اس بندے نے بات تو خیر والی ہی کی تھی، اتنے میں وہ اس پر متوجہ ہو کر کہنے لگے: کون سی چیز بندے کو اس خیال پر آمادہ کر دیتی ہے کہ وہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ ایسی جگہ پر حاضر ہوا ہوتا، جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے غائب رکھا، وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ اس مقام پر موجود ہوتا تو اس کی کیفیت کیا ہوتی، اللہ کی قسم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے لوگ بھی موجود تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو نتھنوں کے بل جہنم میں گرا دیا، ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو قبول نہیں کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق نہیں کی تھی، کیا تم اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی تعریف نہیں کرتے کہ جب اس نے تم کو پیدا کیا تو تمہاری حالت یہ تھی کہ صرف اپنے رب کو پہچانتے تھے اور اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق کرنے والے تھے، تم سے پہلے والے لوگوں نے تمہیں آزمائشوں سے کفایت کیا۔ اللہ کی قسم! جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا تھا تو اس وقت بڑے سخت حالات تھے، فترت اور جاہلیت کا ایسا دور تھا کہ جس میں مشرک لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ بت پرستی والا دین سب سے بہتر ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا فرقان لے کر آئے، جس نے حق و باطل کے مابین فرق کیا اور باپ اور اس کی اولاد میں اس طرح فرق کیا کہ ایک آدمی دیکھ رہا ہوتا کہ اس کے والدین، اولاد اور بھائی کافر ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کا تالہ ایمان کے لیے کھول دیا ہے، اس کو یہ علم ہو جاتا تھا کہ اگر وہ اس دین کو قبول کیے بغیر مر گیا تو وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا اور اس طرح اس کی آنکھ کبھی بھی ٹھنڈی نہیں ہو گی، جب کہ اسے یہ سمجھ ہوتی تھی کہ اس کا پیارا جہنم میں جا رہا ہے، یہی چیز ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ» (اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔) (سورۂ فرقان: ۷۴) [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البخاري في الادب المفرد: 87، وابن حبان: 6552، والطبراني في الكبير: 20/ 600، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24311»
وضاحت: فوائد: … طُوْبٰی کے مزید معانی: جنت، جنت کی ہر خوشگوار چیز، بقائے لازوال، ابدی عزت، سرمدی دولت، جنت کا ایک درخت، سعادت، خیر و بھلائی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر معنی دوسرے تمام معانی کو مستلزم ہے۔ذہن نشین کر لیں کہ اس امت میں کلی اعتبار سے صحابۂ کرام ہی افضل ہیں، جو شرف اور سعاد ت ان کے نصیبے میں آئی، وہ اس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، اس مقام پر اس موضوع سے متعلقہ شرعی نصوص کا احاطہ کرنا ضروری نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھے بغیر آپ پرایمان لاناایسی جزوی فضیلت ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والوں کی ان لوگوں پر برتری بیان کی گئی ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر ایمان لائے، لیکن یہ فضیلت جزوی ہے، کلی نہیں ہے۔درج ذیل حدیث میں اس خصوصیت کی وجہ بیان کی گئی ہے:
ایک مقام پر دس صحابہ کرام جمع تھے، انھوں نے کہا: ((یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ مِنْ قَوْمٍ ھُمْ اَعْظَمُ مِنَّا اَجْرًا، آمَنَّا بِکَ وَاتَّبَعْنَاکَ؟ قَالَ: ((مَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ ذَالِکَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَیْنَ أَظْھُرِکُمْ یَأْتِیْکُمْ بِالْوَحْیِ مِنَ السَّمَائِ؟ بَلْ قَوْمٌ یَأْتُوْنَ مِنْ بَعْدِکُمْ، یَأْتِیْھِمْ کِتَابٌ بَیْنَ لَوْحَیْنِ، یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَعْمَلُوْنَ بِمَا فِیْہِ، اُولٰئِکَ اَعْظَمُ مِنْکُمْ اَجْرًا)) … اے اللہ کے رسول! کیا ایسے لوگ بھی ہیں جو اجر و ثواب میں ہم سے بڑھ کر ہوں، ہم تو آپ پر (براہِ راست) ایمان لائے ہیں اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: بھلا (تم ایمان کیوں نہ لاتے) کون سی چیز تمھارے راستے میں روڑے اٹکا سکتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمھارے اندر موجود ہیں، (تمھارے سامنے) آسمان سے ان پر وحی نازل ہوتی ہے؟ (اجر و ثواب میں افضل لوگ) وہ ہیں جو تمھارے بعد آئیں گے، انھیں (یہ قرآن مجید) دو گتوں میں موصول ہو گا، وہ اس پر ایمان لائیں اور اس پر عمل کریں گے (حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا ہو گا نہ قرآن مجید کو نازل ہوتے ہوئے)، یہ لوگ اجر و ثواب میں تم سے افضل و اعلی ہوں گے۔ (معجم طبرانی کبیر: ۱/ ۱۷۴/ ۱، مسند ابو یعلی: ۳/ ۱۲۸، صحیحہ: ۳۳۱۰)
صحابہ کرام کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کی کئی علامتیں موجود تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات کا مشاہدہ کر رہے ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ وحی کی کیفیت کو دیکھ رہے ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکات کا عملی ظہور ان کے سامنے تھا، علی ہذا القیاس، اس لیے ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا جائے، جبکہ بعد میں ایمان لانے والوں کی بنیاد کتابوں میں لکھے ہوئے الفاظ تھے یا لوگوں سے سنے ہوئے۔
ان احادیث میں صحابہ کے بعد والے مسلمانوں کی افضلیت کا بیان ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم لوگ اس حدیث کا مصداق بنتے ہیں کہ ہمارے پاس قبولیت ِ ایمان کے لیے کوئی ایسی نشانی موجود نہ تھی، جو انبیا ورسل اور ان کے براہِ راست پیروکاروں کے پاس ہوتی تھی، یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے، اس اعزاز کی وجہ سے ہمیں ثابت قدمی اختیار کرتے ہوئے اعمال صالحہ کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تاکہ دنیا و آخرت میں عزت پا سکیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابٌ فِي فَضْلِ الْمُؤْمِنِ وَصِفَتِهِ وَمِثْلِهِ
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 143
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اس بات کی منادی کرے کہ جنت میں صرف اور صرف مسلمان جان داخل ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3062، ومسلم: 111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8076»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا (يَعْنِي بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ الْقَتِيلِ الَّذِي قُتِلَ فَأَذَّنَ فِيهِ سُحَيْمٌ؟ قَالَ: كُنَّا بِحُنَيْنٍ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ) إِلَّا مُؤْمِنٌ
ابو زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس مقتول کے بارے میں سوال کیا کہ جس کے بارے میں سیدنا سحیم رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہم حنین میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سحیم رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ صرف اور صرف جنت میں مومن داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3062، ومسلم: 111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14823»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا (یَعْنِی بْنَ عَبْدِ اللّٰہِؓ) عَنِ الْقَتِیْلِ الَّذِیْ قُتِلَ فَأَذَّنَ فِیْہِ سُحَیْمٌ؟ قَالَ: کُنَّا بِحُنَیْنٍ فَأَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سُحَیْمًا أَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَ لَا لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ) اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند أحمد: 14823)
ابو زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس مقتول کے بارے میں سوال کیا کہ جس کے بارے میں سیدنا سحیم رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہم حنین میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سحیم رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ صرف اور صرف جنت میں مومن داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14764 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
- عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيْدِ وَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَحْمِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُ كَمَا تَحْمُوْنَ مَرِيضَكُمْ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ تَخَافُونَهُ عَلَيْهِ) )
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا (اور اس کے مال و اسباب) سے بچاتا ہے، حالانکہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے تم اپنے بیمار آدمی پر ڈرتے ہوئے اور اس کو کھانے پینے سے بچاتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي في شعب الايمان: 10450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24027»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ اگر مؤمن بندے کو دنیوی مال و اسباب دے دیئے جائیں تو وہ ان کے برے اثرات میں ملوث ہو جائے اور ان سے دھوکہ کھا کر بغاوت اور سرکشی پر اتر آئے، جیسا کہ سرمایہ دار لوگوں کو دیکھا گیا ہے، مگر وہ جس پر اللہ تعالیٰ خصوصی رحمت کر دے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 147
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَجْزَاءٍ، الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ عَلَى طَمَعٍ تَرَكَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں مومنوں کی تین اقسام ہیں: (۱) وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر کسی شک میں نہ پڑے اور اللہ کے راستے میں مال و جان سے جہاد کیا، (۲) وہ آدمی کہ جس کے بارے میں دوسرے لوگوں کو اپنے مالوں اور جانوں پر امن رہتا ہے اور (۳) پھر وہ آدمی جو حرص پر جھانکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے لیے اسے ترک کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد المصري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11065»
وضاحت: فوائد: … بہرحال مومن کو طمع اور حرص سے محفوظ رہ کر اعمالِ صالحہ کے ذریعے بلندیٔ درجات کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 148
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الْمُؤْمِنَ غِرٌّ كَرِيمٌ وَإِنَّ الْفَاجِرَ خَبٌّ لَئِيمٌ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بھولا بھالا اور بزرگی والا ہوتا ہے اور فاجر آدمی مکار، (دغاباز) اور کمینہ (اور رذیل) ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 4790، والترمذي: 1964، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9107»
وضاحت: فوائد: … ابوجعفر طحاویؒ نے کہا: عرب لوگ اس شخص کو غِرّ کہتے ہیں، جس میں فتنہ و فساد اور مکاری و چالاکی جیسا کوئی وصف نہ پایا جائے، اس کا ظاہر و باطن ایک ہو۔ ظاہر ہے کہ جو آدمی ایسے اوصاف سے متصف ہو گا، دوسرے مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے امن میں رہیں گے اور یہی مومنوں کی صفات ہیں۔ جبکہ فاجر ایسے شخص کو کہا جاتا ہے، جس کے ظاہر اور باطن میں تضاد ہو، کیونکہ ایسے آدمی کا باطن مکروہ ہوتا ہے اور اس کا ظاہر باطن کے مخالف ہوتا ہے، یعنی وہ منافق کی طرح ہوتا ہے جو بظاہر ایسی چیز سے متصف ہوتا ہے، جو پسندیدہ ہوتی ہے اور وہ اسلام ہے، جس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، لیکن اس کے باطن میں اسلام کی مخالفت ہوتی ہے، یعنی کفر، جس کی مسلمان مذمت کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ حدیث ِ مبارکہ میں مومن اور فاجر کے مابین پیش کئے گئے موازنہ کو سمجھیں اور مومن والی صفات سے متصف رہنے اور فاجر والی صفات سے دور رہنے کی کوشش کریں۔ مومن کے بھولا بھالا ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ مکرو فریب، افترا و کذب، ابن الوقتی اور ظاہرو باطن میں پائے جانے والے فرق سے پاک ہوتا ہے، کسی کی عیب جوئی نہیں کرتا اور نہ کسی کی ٹوہ اور جاسوسی میں رہتا ہے، وہ مستقل مزاج ہوتا ہے اور وقت کی تیز ہوائیں اس کے رخ کو بدلنے میں ناکام رہتی ہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ سمجھدار یا دور اندیش نہیں ہوتا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں