الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابٌ فِي فَضْلِ الْمُؤْمِنِ وَصِفَتِهِ وَمِثْلِهِ
مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان
حدیث نمبر: 149
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْمُؤْمِنُ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ كُلِّ خَيْرٍ يَحْمَدُنِي وَأَنَا أَنْزِعُ نَفْسَهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے نزدیک مومن ہر قسم کی خیر و بھلائی کی منزلت پر ہے، میں اس کے پہلوؤں سے اس کی جان کو کھینچ رہا ہوتا ہوں اور وہ اس وقت بھی میری تعریف کر رہا ہوتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ أخرجه البزار: 781، والبيھقي في شعب الايمان: 4494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8716»
وضاحت: فوائد: … مؤمن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتنا گہرا تعلق ہوتا ہے کہ جب اس کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی جان اس سے چھینی جا رہی ہوتی ہے تو اس وقت بھی وہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھ کر اس کی تعریف کرتا ہے، کیونکہ یہ سارا کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہو رہا ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کرتا ہے، وہ اس قدر مناسب اور درست ہوتا ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان ہونی چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 150
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُنْضِي شَيَاطِينَهُ كَمَا يُنْضِي أَحَدُكُمْ بَعِيرَهُ فِي السَّفَرِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مومن اپنے شیطانوں کو اس طرح تھکا دیتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی اپنے اونٹ کو سفر میں تھکا دیتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8927»
وضاحت: فوائد: … مومن، اعمال صالحہ کو سرانجام دینے میں مصروف رہتا ہے،کھانے پینے سے پہلے اور گھر میں داخل ہونے سے پہلے جیسے امور میں اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے ماکولات و مشروبات میں شیطان کا کوئی حصہ نہیں رہتا اور نہ شیطان اس کے گھر رات گزار سکتا ہے، علاوہ ازیں شیطانی خواہشات اور وساوس اس پر کارگر ثابت نہیں ہوتے،نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شیطان اپنی تمام کاروائیوں میں ناکام اور ضعیف اور مغلوب ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اوامر کی پاسداری، اس کی نواہی سے اجتناب اور نفسانی شہوات سے دوری کی وجہ سے شیطان کی حیثیت قیدی اور مجبور سے زیادہ نہیں رہتی، بلکہ وہ اس جانور کی طرح ہو جاتا ہے، جس کو سفروں نے کمزور اور لاغر کر دیا ہو۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 151
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: ( (أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ، مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ) )
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”کیا میں تم کو مومن کے بارے میں نہ بتلا دوں، مومن وہ ہے کہ لوگ اپنے مالوں اور جانوں کے معاملے میں جس سے امن میں رہیں، مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو ترک کر دے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 3934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24458»
وضاحت: فوائد: … یہ حقیقی ایمان، جہاد اور ہجرت کے تقاضے ہیں، دورِ حاضر کے مسلمان ان ہدایات سے محروم ہیں، دوسروں کی پریشانیاں ان کو پریشان نہیں کرتیں اور دوسروں کی خوشیوں سے ان کے نفسوں میں گھٹن پیدا ہو جاتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 152
عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (تَدْرُونَ مَا الْمُسْلِمُ؟) ) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ( (مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ) ) قَالَ: ( (تَدْرُونَ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟) ) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ( (مَنْ أَمِنَهُ الْمُؤْمِنُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ فَاجْتَنَبَهُ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مسلمان ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مومن کون ہوتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن وہ ہے کہ دوسرے مومن اپنی جانوں اور مالوں کے سلسلے میں جس سے امن میں رہیں اور مہاجر وہ ہے جو برائی کو چھوڑ دے اور اس سے اجتناب کرے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7017»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 153
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان امور کو چھوڑ دے، جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6925»
وضاحت: فوائد: … حقیقی مجاہد اور مہاجر وہی ہے جو اپنے نفس کی مخالفت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کو ترک کر دے‘ اگر ایک انسان ہجرت (یعنی ترک وطن) اور جہاد کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیتوں سے پرہیز نہیں کرتا تو ایسی ہجرت اور جہاد کا کیا فائدہ جو اس کے نفس میں ہی نیکی کا رجحان پیدا نہ کر سکے؟ ہجرت اور جہاد تو اس چیز کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کی جائے‘ وہ پابندی خواہ اپنا وطن چھوڑنے کی صورت میں ہو یا اسلام کی سربلندی کے لئے اللہ کے دشمنوں سے پنجہ آزمائی کرنے کی صورت میں یا شریعت کی منع کردہ چیزوں سے باز رہنے کی صورت میں۔
اصطلاح میں دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف منتقل ہونا ہجرت کہلاتا ہے‘ یاد رہے کہ مسلمان اپنے اسلام کی حفاظت کے لئے اپنے وطن کو خیر آباد کہتا ہے اور ہجرت کا اصل مقصود برائیوں سے محفوظ رہنا ہے‘ جو انسان ہجرت کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیت سے باز نہیں رہتا‘ اس کو اس کی ہجرت کا کوئی فائدہ نہیں‘ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور سے اجتناب کرنا اصل ہجرت ہے یا ہجرت کا بنیادی مقصد ہے۔
اصطلاح میں دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف منتقل ہونا ہجرت کہلاتا ہے‘ یاد رہے کہ مسلمان اپنے اسلام کی حفاظت کے لئے اپنے وطن کو خیر آباد کہتا ہے اور ہجرت کا اصل مقصود برائیوں سے محفوظ رہنا ہے‘ جو انسان ہجرت کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیت سے باز نہیں رہتا‘ اس کو اس کی ہجرت کا کوئی فائدہ نہیں‘ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور سے اجتناب کرنا اصل ہجرت ہے یا ہجرت کا بنیادی مقصد ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 154
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْمُؤْمِنُ مَأْلُوفٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَمْأَلُ وَلَا يُؤْلَفُ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایسا وجود ہے، جس میں مانوسیت پائی جاتی ہے اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں ہے، جو نہ کسی سے انس کرتا ہے اور نہ اس سے مانوس ہوا جاتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 1/ 23، والبيھقي: 10/ 236، والبزار: 3591، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:9198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9187»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ انس کا مومن کے ساتھ گہرا تعلق ہے، لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں اور وہ لوگوں سے مانوس ہوتا ہے، اس کی سب سے بہترین مثال یہ ہے کہ اگر مسجد کا امام خوش اخلاق ہو، عالم باعمل ہو، بلا امتیاز نمازیوں کی قدر کرتا ہو، لوگوں کے بچوں کی تعلیم کی فکر رکھتا ہو اور حرص و بخل سے پاک ہو کر اپنی غیرت و حمیت کو سمجھنے والا اور اس کو برقرار رکھنے والا ہو تو ایسے فرد کو لوگوں کی طرف سے جو مودت و محبت اور احترام و اکرام نصیب ہوتا ہے، عام آدمی کا دل و دماغ اس کی حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہی معاملہ اساتذہ، ڈاکٹر حضرات اور دوسرے لوگوں کا ہے، لیکن سب سے پہلے ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنا فرض ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 155
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: ( (يَا أَبَا أُمَامَةَ! إِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ يَلِينُ لِي قَلْبُهُ) )
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھ سے فرمایا: ”ابو امامہ! بیشک بعض مومن ایسے ہیں کہ ان کے دل میرے لیے (بہت) نرم ہو جاتے ہیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 155]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، تفرد به بقية بن الوليد، وھو ضعيف عند التفرد۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 7655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22655»
وضاحت: فوائد: … مؤمنوں کے درجے مختلف ہوتے ہیں، کوئی بہت جلدی مطیع ہونے والا اور خیر و بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والا ہوتا ہے، جبکہ بعض دوسرے لوگوں میں اس چیز کی رغبت کم ہوتی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ وَمِنْھُمْ مُّقْتَصِدٌ وَّمِنْھُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ} … پھر ہم نے ان لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا، پھر بعضے تو ان میں سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ (سورۂ فاطر: ۳۲)
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 156
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَلَا أَجِدُ قَلْبِي يَعْقِلُ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ قَلْبَكَ حُشِيَ الْإِيمَانَ وَإِنَّ الْإِيمَانَ يُعْطَى الْعَبْدَ قَبْلَ الْقُرْآنِ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں قرآن کی تلاوت تو کرتا ہوں، لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل اس کو سمجھ نہیں پا رہا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تیرا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے اور بندہ قرآن سے پہلے ایمان دیا جاتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحيي بن عبد الله المعافري، وقد تفرد به، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6604»
وضاحت: فوائد: … مفہوم یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓکے دل میں جتنی گنجائش تھی، وہ ایمان کی وجہ سے پُر ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے دوسری چیزیں بھولنا شروع ہو گئی ہیں، ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کمالِ ایمان کے باوجود قرآن مجید اور علم کو محفوظ کرنے کی قوت عطا کر دے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 157
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالْحَدِيثِ، لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: ( (ذَلِكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرے نفس میں بعض باتیں تو ایسی آ جاتی ہیں کہ مجھے آسمان سے گرنا اس سے زیادہ پسند لگتا ہے کہ میں ان کے ساتھ کلام کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو صریح ایمان کی علامت ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9145»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 158
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَسُرُّنَا نَتَكَلَّمُ بِهِ وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَالَ: ( (أَوَجَدْتُّمْ ذَلِكَ؟) ) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ( (ذَكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم اپنے نفسوں میں ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہمیں دنیا کی وہ تمام چیزیں دے دی جائیں، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے تو پھر بھی ہمیں یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ ہم ان کے ساتھ گفتگو کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اس چیز کو محسوس کر لیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صریح ایمان کی علامت ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9692»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۲۳)کے فوائد میں ان احادیث کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح