🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابٌ فِي الْوَقْتِ الَّذِي يَضْمَحِلُّ فِيهِ الْإِيمَانُ
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 169
عَنْ عَلْقَمَةَ الْمُزَنِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: يَا فُلَانُ! كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْعَتُ الْإِسْلَامَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ جَذْعًا، ثُمَّ ثَنِيًّا، ثُمَّ رَبَاعِيًّا، ثُمَّ سُدَاسِيًّا، ثُمَّ بَازِلًا) ) فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا بَعْدَ الْبُزُولِ إِلَّا النُّقْصَانُ
علقمہ مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے ایک بندے نے بیان کرتے ہوئے کہا: میں مدینہ منورہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تھا، انہوں نے ایک شخص سے کہا: اے فلاں! تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی کیفیت بیان کر رہے تھے؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اسلام کی ابتدا (پانچویں سال میں داخل ہونے والے) نوجوان اونٹ کی طرح ہوئی، پھر وہ چھٹے سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح قوی ہو گا، پھر وہ ساتویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت ور بنے گا، پھر آٹھویں سال میں داخل ہونے والے اور پھر نویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت حاصل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اونٹ کی عمر کے نویں کے بعد تو کمزوری شروع ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام راويه عن الصحابي۔ أخرجه ابو يعلي: 192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15895»
وضاحت: فوائد: … لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسلام کو عروج ملا اور بہت عروج ملا، پھر اہل اسلام مختلف فتنوں میںمبتلا ہو گئے، یہ سلسلہ کسی نہ کسی انداز میں ابھی تک جاری ہے، لیکن پھر ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ روئے زمین پر صرف ایک مذہب ہوگا، جس کو اسلام کہتے ہیں، اس کے بعد پھر زوال شروع ہو گا اور بالآخر صفحۂ ہستی سے اسلام کا نام ہی مٹ جائے گا اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن پر قیامت برپا ہو گی۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 170
عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهَى؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ) ) قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: كَلَّا، (وَفِي رِوَايَةٍ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ) قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَعُودَنَّ فِيهَا أَسَاوِدُ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ) )
سیدنا کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، عرب و عجم کے جس گھر والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر و بھلائی کا ارادہ کرے گا، ان پر اسلام کو داخل کر دے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر سایوں (یعنی پہاڑوں اور بادلوں) کی طرح فتنے رونما ہو جائیں گے۔ اس نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو ایسے ہرگز نہیں ہو گا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم خبیث ترین بڑے سانپ کی طرح ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے کے لیے جھپٹ پڑو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 1290، وابن ابي شيبة: 15/ 13، والحاكم: 1/ 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16012»
وضاحت: فوائد: … اسلام کے عروج و زوال کی جو صورتیں ظہور پذیر ہو چکی ہیں، اُن کو اس حدیث کا مصداق بنایا جا سکتا ہے، پہلی دو صدیوں میں ہی مسلمانوں کی آپس کی قتل و غارت کی حیران کن مثالیں موجود ہیں۔ وَاللّٰہَ نَسْأَلُ الْعَافِیَۃَ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 171
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ ( (يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ) ) وَقَرَأَ عَلَى سُفْيَانَ قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَسَاوِدَ صُبًَّا، قَالَ سُفْيَانُ: الْحَيَّةُ السَّوْدَاءُ تَنْصَبُّ أَيْ تَرْتَفِعُ
(دوسری سند) امام زہری رحمہ اللہ نے امام سفیان رحمہ اللہ پر یہ الفاظ پڑھے: «أَسَاوِدَ صُبًّا»، اور امام سفیان رحمہ اللہ نے کہا: بڑا اور کالا سانپ جو بلند ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 171]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16012»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 172
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ) وَزَادَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَأَفْضَلُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِي شَعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ) )
(تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زیادہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا شخص وہ مومن ہو گا، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو جائے گا اور اپنے رب سے ڈرے گا اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 172]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16014»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 173
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَيُنْقَضَنَّ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، فَكُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَةٌ تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا وَأَوَّلُهُنَّ نَقْضًا الْحُكْمُ وَآخِرُهُنَّ الصَّلَاةُ) )
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے کنڈوں یعنی اسلام کے احکام کو ایک ایک کر کے گرایا جاتا رہے گا، جب ایک کنڈا گر جائے گا تو لوگ اگلے کنڈے کے درپے ہو جائیں گے، سب سے پہلے جس حکم کو توڑا جائے گا، وہ عدل ہو گا اور سب سے آخر میں نماز کو منہدم کر دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 7486، وابن حبان: 6715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22513»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! جہاں تک عدل و انصاف کا تعلق ہے، تو کئی صدیوں سے اکثر مسلم آبادی میں اس کے آثار مٹ چکے ہیں اور اب نوے فیصد سے زیادہ مسلمانوں نے نماز کو بھی منہدم کر دیا ہے، لیکن دھوکے کی بات یہ ہے کہ وہ بزعم خود پھر بھی کامل مسلمان ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 174
عَنِ ابْنِ فَيْرُوزٍ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَيُنْقَضَنَّ الْإِسْلَامُ عُرْوَةً عُرْوَةً كَمَا يُنْقَضُ الْحَبْلُ قُوَّةً قُوَّةً) )
سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے کنڈوں یعنی احکام کو ایک ایک کر کے گرا دیا جائے گا، بالکل ایسی ہی جیسے ایک ایک لڑی کرتے کرتے رسی کو توڑ دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18202»
وضاحت: فوائد: … کہیں شرک غالب آیا، کہیں بدعت کو عروج ملا، کہیں سنتیں مفقود ہوئیں، کہیں بے پردگی عام ہوئی، کہیں مردو زن کا اختلاط ظاہر ہوا، کہیں زنا عام ہوا، کہیں رشوت نے رقص کیا، کہیں سود نے پنجے گاڑھے، کہیں اسلامی حدود کے ساتھ استہزا کیا گیا، کہیں اہل علم کی رسوائی ہوئی، کہیں مربیّ لوگوں کا زوال ہوا، قتل و غارت گری، چوری و ڈاکہ زنی، عصمت دری، ظلم و ستم، انسانیت کی طبقوں میں تقسیم، نمودو نمائش، اسلام کے ارکان و فرائض کی ادائیگی سے بدترین غفلت …، یقین مانیں کوئی ایسا قابل تعریف فعل یا قول نہ رہا، جس کو چھوڑا نہ گیا ہو اور کوئی ایسی قابل مذمت کاروائی نہیں رہی، جس کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 175
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثًا مُنْذُ زَمَانٍ إِذَا كُنْتَ فِي قَوْمٍ عِشْرِينَ رَجُلًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ فَتَصَفَّحْتَ فِي وُجُوهِهِمْ فَلَمْ تَرَ فِيهِمْ رَجُلًا يُهَابُ فِي اللَّهِ فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّ
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کافی عرصہ ہو گیا ہے کہ میں نے ایک بات سنی تھی، جب تو بیس یا اس سے کم یا زیادہ لوگوں میں ہو اور پھر ان کے چہروں کو غور سے دیکھے، اگر ان میں تجھے ایک چہرہ بھی ایسا نہ لگے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جس کی تعظیم و تکریم کی جاتی ہو، تو جان لینا کہ ایمان کمزور پڑ چکا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 175]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، لكنه ليس بحديث نبوي كما توضحه رواية الطبراني۔ أخرجه الطبراني في الشاميين: 1008، 1009، والبيھقي في الشعب: 9078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17831»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ِ نبوی نہیں ہے،ویسے سیدنا عبد اللہ بن بسرؓکی سنی ہوئی ایک بات ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب محبت و مودّت اور نفرت و عداوت کا معیار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ذات نہ رہے تو دین میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْأَمَانَةِ وَالْإِيمَانِ
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 176
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، حَدَّثَنَا أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَةِ فَقَالَ: ( (يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ) ) قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى رِجْلِهِ قَالَ: ( (فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ حَتَّى يُقَالَ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا حَتَّى يُقَالَ لِلْرَّجُلِ: مَا أَجْلَدَهُ وَأَظْرَفَهُ وَأَعْقَلَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ حَبَّةٌ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ) ) وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ، لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لِأُبَايِعَ مِنْكُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو حدیثیں بیان کی، میں نے ایک کا مصداق تو دیکھ لیا ہے اور دوسرے کا انتظار کر رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان کیا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی اصل میں داخل ہوئی، پھر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے قرآن مجید اور سنت کی تعلیم حاصل کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس امانت کے اٹھ جانے کے بارے میں بتلاتے ہوئے فرمایا: آدمی سوئے گا اور اس کے دل سے یہ امانت کھینچ لی جائے گی اور ہلکے سے نشان اور دھبے کی طرح اس کا اثر باقی رہ جائے گا، پھر جب اس کے دل سے رہی سہی امانت کو اٹھا لیا جائے گا تو چھالے اور آبلے کی طرح اس کا اثر باقی رہ جائے گا، بالکل ایسی ہی جیسے تو انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکائے اور پھر تو اس کے نتیجے میں ورم کے نشان دیکھے، جب کہ اس میں کوئی چیز بھی نہیں ہوتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کرنے کے لیے ایک کنکری کو اپنے پاؤں پر لڑھکایا، پھر فرمایا: پھر لوگ خرید و فروخت تو کریں گے، لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہو گا، جو امانت ادا کرے گا، حتی کہ لوگ کہیں گے: بنو فلاں میں ایک امانت دار آدمی ہے، (لیکن یہ شہادت بھی اس طرح کی ہو گی کہ) لوگ ایک آدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہیں گے: وہ کس قدر باہمت و بااستقلال ہے، وہ کیسا زیرک اور خوش اسلوب آدمی ہے، وہ کتنا عقل مند شخص ہے، جبکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں ہو گا۔ پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک زمانہ ایسا تھا کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ میں کس سے سودا کر رہا ہوں، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا دین اس کو میری امانت لوٹانے پر مجبور کرتا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہوتا تو اس سے جزیہ وصول کرنے والا میرا حق لوٹا دیتا تھا، لیکن اس زمانے میں، تو میں صرف اور صرف فلاں فلاں آدمی سے لین دین کروں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 176]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6497، 7086، 7276، ومسلم: 143 ورواية البخاري مختصرة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23644»
وضاحت: فوائد: … یقین مانیں کہ اس وقت بازاروں میں عدم اعتمادی کی یہی صورتحال ہے، جن لوگوں نے دوکانیں اور مکانات کرائے پر دے رکھے ہیں، ان کو یہی خطرہ رہتا ہے کہ کرایہ دار قبضہ نہ کر لے، کوئی کسی کو اس وجہ سے ادھار دینے کے لیے تیار نہیں ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کل کلاں انکاری ہو جائے۔ نیز ایسے ایسے لوگوں کو امانتدار، غیر جانبدار اور انصاف پسندکہا جا رہا ہے، جو بیچارے اسلامی شعائر اور ارکان سے محروم ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 177
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ بِخَمْسٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: عَلَى رَأْسِ خَمْسٍ) وَثَلَاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ يَهْلِكُوا فَسَبِيلُ مَنْ قَدْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمِمَّا مَضَى أَمْ مِمَّا بَقِيَ؟ قَالَ: مِمَّا بَقِيَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی، اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر ان کے لیے ان کا دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔ میں نے کہا اور ایک روایت کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستقل ستر سال۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 177]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 4254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3730»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 178
( (وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا مَضَى أَمْ مَا بَقِيَ؟
(دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ماضی مستقل یا مستقل اتنا عرصہ ہے؟ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 178]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں