الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابٌ فِي حُكْمِ الْإِقْرَارِ بِالشَّهَادَتَيْنِ وَ أَنَّهُمَا تَعْصِمَانِ قَائِلَهُمَا مِنَ الْقَتْلِ وَ بِهِمَا يَكُونُ مُسْلِمًا وَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ
دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
حدیث نمبر: 129
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ فَسَارَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟) ) قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟) ) قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (أَلَيْسَ يُصَلِّي) ) قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ) )
عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی نے ان کو بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تھے، پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سرگوشی کی، دراصل وہ ایک آدمی کو قتل کرنے کی اجازت لے رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باواز بلند فرمایا: ”کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟“ اس انصاری نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! لیکن اس کی کوئی شہادت نہیں ہے،“ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! لیکن اس کی کوئی نماز نہیں ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے لوگوں (کو قتل کرنے) سے منع کر دیا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه مرسلا مالك في المؤطا: 1/ 171، والبيھقي: 8/ 196، والشافعي في المسند: 1/ 13، وعبد الرزاق: 18688، وابن حبان: 5971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24070»
وضاحت: فوائد: … کسی کے نفاق کو معلوم کرنے کا ذریعہ وحی ٔ الہی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے یہ ذریعہ ختم ہو چکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صرف دو چیزیں باقی رہ گئی ہے، ظاہری اسلام اور ظاہری کفر، باطن کے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیئے جائیں گے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض مصلحتوں کی بنا پر منافقوں کو برداشت کیا تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب لوگ تین سے زیادہ ہوں تو ان میں سے کوئی دو علیحدہ سے سرگوشی کر سکتے ہیں، البتہ جب تین افراد ہوں تو ان میں سے دو افراد کو الگ سے مشورہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 130
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يَعْنِي يَسْتَأْذِنُهُ أَيْ يُسَارُّهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
(دوسری روایت) عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عدی انصاری نے ان سے بیان کیا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کی، باقی روایت مذکورہ بالا کی طرح ہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 130]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24071»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 131
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عِتْبَانَ اشْتَكَى عَيْنُهُ فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا أَصَابَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَعَالَ صَلِّ فِي بَيْتِي حَتَّى أَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مَا يَلْقَوْنَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَأَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخَيْشِمٍ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ( (أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟) ) فَقَالَ قَائِلٌ: بَلَى وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلَنْ تَطْعَمَهُ النَّارُ، أَوْ قَالَ: لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ کی آنکھ میں تکلیف ہو گئی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لاحق ہونے والی تکلیف کا پیغام بھیجا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ تشریف لائیں، میرے گھر میں ایک مقام پر نماز پڑھیں، تاکہ میں اس کو جائے نماز بنا سکوں،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق چند صحابہ تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور صحابہ گفتگو میں مصروف ہو گئے، پھر وہ منافقوں کی طرف سے ہونے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے اور اس کا بڑا سبب مالک بن دخشم کو قرار دیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور فرمایا: ”کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ایک آدمی نے جواب دیا: ”جی کیوں نہیں، وہ یہ گواہی تو دیتا ہے، لیکن اس کے دل میں اس کے مطابق عقیدہ نہیں ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے نے یہ شہادت دی کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اس کا رسول ہوں، تو ہرگز آگ اس کو نہیں کھائے گی یا (فرمایا) وہ ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 131]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12411»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 132
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَيْنِ فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أُقَاتِلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَقْتُلُهُ أَمْ أَدَعُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ) )
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک کافر آدمی سے میرا ٹاکرا ہو جائے، وہ مجھ سے لڑ پڑے، ہم دونوں ایک دوسرے کو ایک ایک ضرب لگائیں، لیکن وہ میرے ہاتھ کو تلوار سے ایسی ضرب لگائے کہ اس کو کاٹ دے اور پھر مجھ سے پناہ طلب کرنے کے لیے ایک درخت کی اوٹ میں جا کر یہ کہنے لگ جائے: میں اللہ کے لیے مسلمان ہو گیا ہوں، اے اللہ کے رسول! اب کیا میں اس سے لڑائی کروں؟“ ایک روایت میں ہے: ”یہ بات کہنے کے بعد کیا میں اس کو قتل کر دوں یا چھوڑ دوں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کو قتل نہ کر، اگر تو نے اس کو قتل کر دیا تو اس قتل سے پہلے اسلام والی جو تیری حالت تھی، وہ اس میں آ جائے گا اور اس قبولیتِ اسلام والی بات سے پہلے جو اس کی حالت تھی، تو اس میں چلا جائے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 132]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4019، ومسلم: 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24332»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ، یہ کلمۂ شہادت کا تقدس ہے کہ جو کافر تلوار کے سائے میں آ کر اس کا اقرار کر لے، اس کا جان و مال محفوظ بھی ہو جائے گا، اس حدیث کے آخر میں جو وعید سنائی گئی ہے، اس کا تعلق مسلمان کے قتل سے ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
20. بَابٌ فِي الْإِيْمَانِ بِالنَّبِيِّ ﷺ وَفَضْلَ مَنْ آمَنَ بِهِ وَلَمْ يَرَهُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 133
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت کا جو یہودی اور عیسائی میرے بارے میں سنے گا اور پھر اس چیز پر ایمان نہیں لائے گا، جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے، تو وہ جہنمیوں میں سے ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8203 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8188»
وضاحت: فوائد: … چونکہ یہودی اور عیسائی اہل کتاب تھے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت رکھتے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لانا، یہ بڑا جرم ہے، اس وجہ سے حدیث ِ مبارکہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ جو غیر مسلم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہیں لائے گا، وہ آخرت میں ناکام و نامراد ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 134
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ وَفِيهِ ( (لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ) ) بَدَلَ قَوْلِهِ ( (إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ) )
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں وہ جہنمیوں میں سے ہو گا کی بجائے یہ الفاظ ہیں: ”وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 134]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 509، والنسائي في الكبري: 11241، وابن حبان: 4880، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19765»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 135
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ لَآمَنَ بِي كُلُّ يَهُودِيٍّ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ) ) قَالَ كَعْبٌ: اثْنَا عَشَرَ مِصْدَاقُهُمْ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہودیوں کے دس علماء مجھ پر ایمان لے آئیں تو روئے زمین پر موجود ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے گا۔“ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بارہ کا مصداق سورۂ مائدہ میں ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 135]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3941، ومسلم: 2793، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9377»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 136
عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ تَعَالَى، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي، وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ) )
رباح بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی دادی نے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ) سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا، اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص مجھ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 136]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي ثقال المري۔ أخرجه الترمذي: 25 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27147 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27688»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 137
عَنْ أَبِي مُحَيْرِيزٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جُمْعَةَ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا جَيِّدًا، تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا؟ أَسْلَمْنَا مَعَكَ وَجَاهَدْنَا مَعَكَ، قَالَ: ( (نَعَمْ قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي) )
ابو محیریز رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک صحابی ابو جمعہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ ہمیں ایسی حدیث بیان کریں، جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو،“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں، میں تم لوگوں کو بڑی عمدہ حدیث بیان کرتا ہوں، ایک دفعہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کا کھانا کھایا، ہمارے ساتھ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ہم سے بھی بہتر ہو سکتا ہے؟ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا،“ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، وہ لوگ بہتر ہیں، جو تمہارے بعد آئیں گے اور بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لے آئیں گے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 137]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الدارمي: 2744، والطبراني في الكبير: 3538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17102»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 138
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيتُ إِخْوَانِي) ) قَالَ: فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ إِخْوَانُكَ، قَالَ: ( (أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَلَكِنْ إِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو ملوں۔“ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”ہم آپ کے بھائی ہی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تو میرے ساتھی ہو، میرے بھائی تو وہ ہیں، جو بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 138]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 3390، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12579 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12607»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ چاہ رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت والے دن ان لوگوں کو ملیں، جو بِن دیکھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے، نیز اس حدیث میں صحابہ کرام کی زائد خوبی بھی بیان کی جا رہی ہے کہ اُن کو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح