🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. بَابُ النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ أَوِ اسْتِدْبَارِهَا وَقْتَ الْحَاجَةِ
قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے یا پیٹھ کرنے سے منع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 511
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ: إِنِّي لَا أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، قَالَ سَلْمَانُ: أَجَلْ، أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا نَسْتَدْبِرَهَا) وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلَا عَظْمٌ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی مشرک نے مذاق کرتے ہوئے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا نبی تو تم لوگوں کو قضائے حاجت کے آداب تک کی تعلیم دیتا ہے۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قضائے حاجت کے وقت) قبلہ کی طرف منہ نہ کریں اور نہ پیٹھ اور دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفا نہ کریں اور ان میں کوئی لید، گوبر اور ہڈی نہیں ہونی چاہیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 511]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24103»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت کے دوران قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے سے منع فرمایا ہے، اگلے باب میں اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ احادیث ِ مبارکہ میں مذکورہ باقی آداب کی تفصیل ان سے متعلقہ ابواب میں آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابٌ فِي جَوَازِ ذَلِكَ فِي الْبُنْيَانِ
عمارتوں میں اس چیز کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 512
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ أَوْ أَنْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ یا منہ کرنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال قبل قبلہ کی طرف رخ کر کے (قضائے حاجت کرتے ہوئے) دیکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 512]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 13، وابن ماجه: 325، والترمذي: 9، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14933»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 513
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَقِيتُ يَوْمًا فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام کی طرف منہ کر کے اور قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 513]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 148، 3102، ومسلم: 266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4606»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 514
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِلَفْظِ) لَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلًا بَيْتَ الْمَقْدِسِ
(دوسری سند) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 514]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4991»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 515
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّى عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 515]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 323، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5747»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 516
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: ثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي الطَّبَّاعَ مِثْلَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قَتَادَةَ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 516]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل ابن لھيعة، وصح من غير ھذا الطريق عن جابر بن عبد اللّٰهؓ من حديثه۔ أخرجه الترمذي: 10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22928»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 517
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ قَالَ: مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِفَرْجِي مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَحَدَّثَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِخَلَاءِهِ أَنْ يُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ، (وَفِي رِوَايَةٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَدْ فَعَلُوهَا؟ اسْتَقْبِلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ) )
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اتنے عرصے سے اپنی شرمگاہ کے ساتھ قبلہ کی طرف رخ نہیں کیا، لیکن عراک بن مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ لوگ قبلہ رخ ہونے کو ناپسند کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لیٹرین کو قبلہ رخ کر کے بنا دیا جائے۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا لوگ ایسے ہی سمجھنے لگ گئے ہیں؟ تو پھر میری سیٹ کو قبلہ رخ کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 517]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي نكارة فيه، خالد بن ابي الصلت ضعيف، وفي ھذا الحديث اضطراب۔ أخرجه ابن ماجه: 324، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26015»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت کے دوران قبلہ کی طرف منہ بھی کیا ہے اور پیٹھ بھی، جبکہ پچھلے باب کی احادیث میں ایسا کرنے سے منع کیا ہے، اس ظاہری تناقض کودور کرنے کے لیے کافی ساری آراء جمع ہو گئی ہیں، راجح مسلک یہ ہے کہ اس حالت میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرنا مستحب ہے، اگر کوئی مجبوری بن جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فعلی رخصت پر عمل کر لینا چاہیے۔ دو احادیث میں عمارتوں کی قید نہیں ہے، اس لیے تمام روایات کو عمارتوں پر محمول کر لینا درست نہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. باب
پتھروں سے استنجا کرنے اور اس کے آداب کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: Q518]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي آدَابِهِ
فصل اوّل: اس کے آداب کے بارے میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 518
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوْتِرْ، وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو پتھروں کے ساتھ استنجا کرے، وہ طاق پتھر استعمال کرے اور جس نے ایسا کیا، اس نے اچھا کیا اور جس نے ایسا نہ کیا تو کوئی حرج نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 518]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حصين الحميري ولجھالة ابي سعد الخير۔ أخرجه ابوداود: 35، وابن ماجه: 337، 338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8825»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 519
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَنْثُرْ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوْتِرْ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو وضو کرے تو وہ ناک جھاڑے اور جو پتھروں سے استنجا کرے، وہ طاق پتھر استعمال کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 237، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7220»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں