🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي الْمَنِيِّ
منی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 472
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھویا کرتی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 472]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 229، 230، 231، ومسلم: 289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25807»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے کہ منی پاک ہے یا ناپاک ہے، قارئین سے گزارش ہے کہ وہ سنجیدگی سے مطالعہ کریں، ضروری نہیں کہ جس چیز کو وہ اجنبی سمجھتے ہوں، وہ اجنبی ہی ہو۔ سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ، امام شافعی، امام احمد، امام ابن حزم، امام داود، امام اسحاق، امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم، امام صنعانی، صبحی حسن حلاق اور ڈاکٹر وہبہ رخیلی وغیرہ کا خیال ہے کہ منی پاک ہے، جبکہ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شوکانی وغیرہ کی رائے یہ ہے کہ منی ناپاک ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓنے کہا: ((انما ھو بمنزلۃ المخاط والبصاق)) … منی تو ناک کی رطوبت اور تھوک کی مانند ہے۔ (دارقطنی: ۱/ ۱۲۴، بیھقی: ۲/ ۴۱۸)
شیخ البانی نے کہا: اس حدیث کو مرفوعا بیان کرنا وہم ہے، اگرچہ اس میں منی کی طہارت کا جو حکم بیان کیا گیا ہے، وہ درست ہے، اس میں ہمارے لیے سیدنا ابن عباس ؓ کا بالیقین کہہ دینا کافی ہے کہ منی تو ناک کی رطوبت اور تھوک کی طرح ہے اور نہ تو ان کی مخالفت کرنے والا کوئی صحابی معروف ہے اور نہ کتاب و سنت کی کوئی دلیل ان کے اس قول کے متناقض ہے، ابن قیم نے بدائع الفوائد میں مناظرۃ بین فقیھین فی طھارۃ المنی و نجاستہ کے عنوان میں اس موضوع پر بہت اہم اور انتہائی تحقیقی بحث کی ہے۔ (سلسلۃ ضعیفہ: ۹۴۸، ۲/ ۳۶۰)
منی کو نجس قرار دینے والوں نے جتنے دلائل پیش کیے ہیں، ان میں قابل توجہ صرف دو باتیں ہیں:(۱) وہ احادیث، جن میں منی کے دھونے کا ذکر ہے۔ (۲) منی، پیشاب کی جگہ سے خارج ہوتی ہے، لہٰذا اس پر اسی کا حکم لگایا جائے گا۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ دونوں دلائل منی کی نجاست پر دلالت نہیں کرتے، کیونکہ کسی چیز کو دھونے سے یہ لازم تو نہیں آتا ہے کہ وہ پلید ہے، رہا مسئلہ دوسری دلیل کا، تو ہم منی کے ذاتی حکم پر بحث کر رہے ہیں، اس چیز پر بحث نہیں ہو رہی کہ پیشاب کے اجزاء اس میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔ منی کو پاک قرار دینے والوں نے جتنے دلائل پیش کیے ہیں، ان کی زیادہ مضبوطی بھی دو دلائل میں ہے:(۱) ہر چیز اصل میں پاک اور طاہر ہے، جب تک کتاب و سنت سے کسی چیز کے پلید ہونے کی واضح دلیل نہیں آئے گی، اس وقت تک اس کو پاک سمجھا جائے گا اور منی کے پلید ہونے کی کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ (۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس کپڑے میں نماز پڑھنا، جس سے منی کو صرف کھرچا گیا تھا۔ یہ دونوں دلائل مضبوط ہیں اور نجاست کے قائلین کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ کھرچنا بھی پاک کرنے کا ایک طریقہ ہے، کیونکہ شریعت میں پاک کرنے کا اس قسم کا کوئی قانون نہیں ہے کہ نجاست کے بعض اجزا کو زائل کر دو اور بعض کو باقی رہنے دو، جبکہ کھرچنے سے کپڑے میں جذب ہو جانے والے منی کے اجزا زائل نہیں ہوتے۔ چھوٹے بچے کے پیشاب اور مذی پر پانی چھڑکنا اور پتھروں سے استنجا کرنا اس سے مختلف چیز ہے۔
حافظ ابن حجر نے اس موضوع پر بڑی خوبصورت بحث کی ہے، ان کی بحث کا خلاصہ یہ ہے: منی کو دھونے اور کھرچنے والی احادیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ ان میں جمع و تطبیق واضح طور پر ممکن ہے اور وہ اس طرح کہ اگر منی کو پاک قرار دیا جائے تو صفائی کی خاطر دھونے کو استحباب پر محمول کیا جائے گا، نہ کہ وجوب پر، یہ امام شافعی، امام احمد اور محدثین کا طریق کار ہے اور اگر منی کو نجس سمجھ لیا جائے توتر منی کو دھویا جائے گا اور خشک کو کھرچا جائے گا، یہ احناف کا طریقہ ہے، پہلا طریقہ زیادہ راجح ہے، کیونکہ اس میں حدیث اور قیاس دونوں پر عمل کیا جا رہا ہے، اگر منی نجس ہوتی تو قیاس کا تقاضا یہ تھا کہ اس کو دھونا واجب ہے اور کھرچنے پر اکتفا کرنا درست نہیں ہے، جیسا کہ خون وغیرہ کا مسئلہ ہے، احناف خون کے معاملے میں تو کھرچنے پر اکتفا نہیں کرتے، … …۔ اس معاملے میں سب سے واضح روایت صحیح ابن خزیمہ کی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: ((اِنَّھَا کَانَتْ تَحُکُّہٗ مِنْ ثَوْبِہٖ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَھُوَ یُصَلِّیْ …)) سیدہ عائشہ ؓآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچتی تھیں، اس حال میں کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ اگر تسلیم کر لیا جائے کہ یہ چیز ثابت نہیں ہے تو اس قسم کی حدیث تو کوئی نہیں ہے، جو منی کی نجاست پر دلالت کرے، جبکہ اس کو دھونا فعل ہے اور وہ وجوب پر دلالت نہیں کرتا۔ (فتح الباری: ۱/ ۴۴۱)
اس بحث کے بعد ہمارا رجحان اول الذکر مسلک والوں کی طرف ہے کہ منی کا پانی پاک ہے اور کوئی دلیل اس کے ناپاک ہونے پر دلالت نہیں کرتی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 229
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابٌ فِي طَهَارَةِ الْمُسْلِمِ حَيًّا وَمَيِّتًا
مسلمان زندہ ہو یا مردہ، اس کے طاہر ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ: ( (أَيْنَ كُنْتَ؟) ) فَقُلْتُ: لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْلِسَ إِلَيْكَ وَأَنَا جُنُبٌ فَانْطَلَقْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ: ( (سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا، جبکہ میں جنابت کی حالت میں تھا، بہرحال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور میں وہاں سے کھسک گیا اور گھر پہنچ کر غسل کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کہاں تھے؟“ میں نے کہا: ”جی آپ مجھے ملے تھے جبکہ میں جنبی تھا اور میں نے اس جنابت والی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھنے کو ناپسند کیا، اس لیے میں نے جا کر غسل کیا،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! بیشک مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 285، ومسلم: 371، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8956»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 285
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 474
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: لَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَانْخَنَسْتُ فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ (فَذَكَرَ مِثْلَهُ فِيهِ) فَقَالَ: ( (إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ) )
(دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی راستے میں تھے، پس میں کھسک گیا اور جا کر غسل کر کے دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 474]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10087»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10087
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 475
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَأَهْوَى إِلَيْهِ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي جُنُبٌ، قَالَ: ( (إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ) )
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی راستے میں اس کو ملے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف جھکے تو اس نے کہا: ”میں تو جنابت کی حالت میں ہوں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 475]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23653»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 372
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 476
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَّانِ فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: ( (مَا لَكَ؟) ) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ) )
(دوسری سند) ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے، لیکن وہ وہاں سے ایک طرف ہو کر چلے اور غسل کر کے دوبارہ آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم کو کیا ہو گیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں جنبی تھا،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 476]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23810»
وضاحت: فوائد: … یہ احادیث عام ہیں، جو مسلمان کی حیات اور موت دونوں حالتوں کو شامل ہیں، البتہ درج ذیل موقوف روایت میں خصوصیت کے ساتھ موت کی حالت کو بیان کیا گیا ہے:
عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ فِیْ غُسْلِ مَیِّتِکُمْ غُسْلٌ اِذَا غَسَلْتُمُوْہُ، اِنَّ مَیِّتَکُمْ لَمُؤْمِنٌ طَاھِرٌ، وَلَیْسَ بِنَجَسٍ، فَحَسْبُکُمْ اَنْ تَغْسِلُوْا اَیْدِیَکُمْ)) … جب تم میت کو غسل دے لو تو تم پر کوئی غسل نہیں ہے، بیشک تمہاری میت مومن اور طاہر ہے اور نجس نہیں ہے، پس تمہیں ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے۔ (بیہقی: ۱/ ۳۹۸، حاکم: ۱/ ۳۸۶، احکام الجنائز: ص ۵۳، ۵۴)
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے سر کے بال منڈوا کر صحابہ میں تقسیم کر دینا بھی اس چیز کی دلیل بن سکتی ہے۔ جمہور اہل علم کا یہی مسلک ہے کہ مردہ انسان پاک ہے، البتہ احناف نے میت کو نجس قرار دیا ہے، لیکن یہ رائے مرجوح ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23810
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابٌ فِي طَهَارَةِ مَا لَا نَفْسَ لَهُ سَائِلَةٌ حَيًّا أَوْ مَيِّتًا
جن جانداروں میں بہنے والا خون نہ ہو،ان کی طہارت کا بیان، وہ زندہ ہوںیا مردہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 477
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً، وَإِنَّهُ يَتَقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مکھی کسی کے برتن میں گر جائے تو چونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا اور وہ اس پر کے ذریعے بچتی ہے، جس میں بیماری ہوتی ہے، اس لیے آدمی ساری مکھی کو ڈبو دے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 477]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3320، 5782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7141»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3320
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 478
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ثُمَّ لْيَطْرَحْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً وَفِي الْآخَرِ دَاءً) )
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کے مشروب میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو مکمل طور پر ڈبو کر پھینک دے، کیونکہ اس کے ایک پر میں شفا ہے اور دوسرے میں بیماری ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 478]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9157»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9157
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 479
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي طَعَامِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کے کھانے میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو اس میں ڈبو دے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 479]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 7/ 178، وابن ماجه: 3504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11207»
وضاحت: فوائد: … امام شوکانی نے کہا: ان احادیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ مائے قلیل ایسی چیز کے مر جانے سے نجس نہیں ہوتا، جس کا بہنے والا خون نہ ہو، کیونکہ ان احادیث میں موت و حیات کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه النسائي: 7/ 178
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 480
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ، فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ) )
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں، پس وہ دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون جگر اور تلی ہیں۔“ (مسند احمد: 5723) [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 480]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 3218، 3314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5723 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مچھلی، ٹڈی کا مردار اور جگر اور تلی کے خون حلال ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 3218
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. باب
قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے¤اور ان کے آداب کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: Q481]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں