الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ جَامِعِ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَوَاتِ
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
حدیث نمبر: 1610
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا (وَفِي رِوَايَةٍ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ، الْإِمَامِ كَانَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ: فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَكَانَ يُطِيلُ الْأُوْلَيَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ) مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ، وَيَقْرَأُ فِي الْأُوْلَيَيْنِ مِنَ المَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَيَقْرَأُ فِي الْأُوْلَيَيْنِ مِنَ الْعِشَاءِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَيَقْرَأُ فِي الْغَدَاةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي الصُّبْحِ) بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ، قَالَ الضَّحَّاكُ: وَحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ هَٰذَا الْفَتَى يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ الضَّحَّاكُ: فَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَكَانَ يَصْنَعُ مِثْلَ مَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی، جس کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو، یہ آدمی مدینہ میں امام تھا۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: (یہ سن کر) جب میں نے اس کے پیچھے نماز پڑھی تو دیکھاکہ وہ ظہر کی پہلی دودو رکعتوں کو لمبا اور دوسری دو کو ہلکا کرتا تھا اور مغرب کی پہلی دو میں قصار مفصل کی، عشاء کی پہلی دو میں وسط مفصل کی اور صبح کی نماز میں طوال مفصل کی تلاوت کرتا تھا۔ ضحاک کہتے ہیں: مجھے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سننے والے ایک آدمی نے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبد العزیز کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا کہ جس کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو۔ ضحاک کہتے ہیں: پھر میں نے عمر بن عبد العزیز کے پیچھے نماز پڑھی، پھر انھوں نے سلیمان بن یسارکی طرح کاہی طریقہ بیان کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث: «حديث انس بن مالك اسناده قوي۔ أخرجه ابن سعد في الطبقات: 5/ 332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8366 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8348»
وضاحت: فوائد: … مُفَصَّل سورتوں کا آغاز سورۂ حجرات یا سورۂ ق سے ہوتا ہے اور قرآن کے آخر تک جاری رہتا ہے، اس کی تین قسمیں ہیں، پہلے قول کے مطابق ان کی تفصیلیہ ہے:
(۱) طوال مفصل: سورۂ حجرات سے سورۂ بروج تک۔
(۲) وسط مفصل: سورۂ بروج سے سورۂ بینہ {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} تک
(۳)قصار مفصل: سورۂ بینہ سے آخر ِ قرآن تک۔
(۱) طوال مفصل: سورۂ حجرات سے سورۂ بروج تک۔
(۲) وسط مفصل: سورۂ بروج سے سورۂ بینہ {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} تک
(۳)قصار مفصل: سورۂ بینہ سے آخر ِ قرآن تک۔
الحكم على الحديث:
حديث انس بن مالك اسناده قوي۔ أخرجه ابن سعد في الطبقات : 5/ 332
حدیث نمبر: 1611
عَنْ جَابِرٍ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} وَنَحْوِ ذَلِكَ، وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر میں سورۂ لیل، عصر میں بھی اسی طرح کی سورتیں اور فجر میں اس سے لمبی قراءت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1611]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 459، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21270»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 459
حدیث نمبر: 1612
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤُمُّنَا يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيُطَوِّلُ فِي الْأُوْلَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يُطَوِّلُ الْأُوْلَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَانَ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے اور پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرتے اور کبھی کبھار (کوئی) آیت بھی سنا دیتے، (اس نماز کی) پہلی رکعت کو لمبا کرتے اور دوسری کو مختصر اور صبح کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے، یعنی پہلی رکعت کو لمبا کرتے اور دوسری کو مختصر اور نمازِ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی (سورۂ فاتحہ کے ساتھ کسی اور سورت) کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1612]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 759، 762، 779، وابوداود: 798، وابن ماجه: 829، والنسائي: 2/ 165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22887»
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 759
حدیث نمبر: 1613
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُلُّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ فِيهَا فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہر نماز میں قراءت کی جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو ہمیں سناتے تھے، ہم بھی تمہیں سنا دیتے ہیں اور جو ہم سے مخفی رکھتے، ہم بھی تم سے مخفی رکھتے ہے۔ یعنی: ہم جہری یا سرّی قراءت کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کے پابند ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1613]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 396، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8506»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 396
حدیث نمبر: 1614
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤُمُّنَا فِي الصَّلَاةِ فَيَجْهَرُ وَيُخَافِتُ، فَجَهَرْنَا فِيمَا جَهَرَ فِيهِ، وَخَافَتْنَا فِيمَا خَافَتَ فِيهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ( (لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ہماری امامت کراتے تھے، جس میں آپ جہر کرتے، ہم بھی جہر کرتے ہیں اور جس میں سرّی تلاوت کرتے، ہم بھی سری کرتے ہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کوئی نماز نہیں ہے، مگر قراءت کے ساتھ۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1614]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، ابن ابي ليلي سيء الحفظ لكنه متابع۔ أخرجه أخرجه الطحاوي: 1/ 208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8062»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
17. بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 1615
عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: قُلْنَا لِخَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقُلْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ
ابو معمر کہتے ہیں: ہم نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر میں قراءت کرتے تھے؟ انہوں فرمایا: جی ہاں۔ ہم نے کہا: تم اس کو کیسے پہچانتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی کے حرکت کرنے سے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1615]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 361، والنسائي في الكبري: 530، وابن خزيمة: 505، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21067، 21078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21393»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 361
حدیث نمبر: 1616
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَفَتَى مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَسَأَلُوهُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: لَا، فَقَالُوا: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ؟ قَالَ: خَمْشًا، هَٰذِهِ شَرٌّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَخُصَّنَا دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ
عبد اللہ بن عبید اللہ بن عباس کہتے ہیں: میں اور کچھ قریشی نوجوان سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور یہ سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر میں قراءت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ وہ کہنے لگے: شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دل میں پڑھتے ہوں۔انہوں نے کہا:تمہارا چہرہ چھل جائے، یہ تو اس سے بھی بری بات ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مامور بندے تھے، جو چیز دے کر بھیجے گئے وہ آپ نے پہنچا دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں لوگوں میں سے کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا، ماسوائے اِن تین چیزوں کے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اچھی طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور (خچر پیدا کرنے کے لیے) گدھے کو گھوڑی پر نہ چڑھائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1616]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 808، والترمذي: 1701، والنسائي: 6/ 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1977، 2238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2238»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے آخری حصے کا یہ مطلب ہوا کہ تین امور میں اہل بیت کو خاص کیا گیا، جبکہ دوسری روایات میں پہلی اور آخری چیز کا حکم تو دوسرے امتیوں کو بھی دیا گیا ہے۔ علامہ عظیم آبادی نے کہا: یہ دو امور بھی اہل بیت کے حق میں واجب ہیں،یا اس کا معنییہ ہے کہ ان دو چیزوں کا ذکر بطورِ مبالغہ اور تاکید کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سرے سے تخصیص کی نفی کی جا رہی ہے، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اِلَّا فِیْ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 808
حدیث نمبر: 1617
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَوَاتٍ وَسَكَتَ فَنَقْرَأُ فِيمَا قَرَأَ فِيهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَسْكُتُ فِيمَا سَكَتَ، فَقِيلَ لَهُ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ، فَغَضِبَ مِنْهَا وَقَالَ: أَيُتَّهَمُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَتَتَّهِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض نمازوں میں قراءت کرتے اور بعض میں خاموش رہتے، اس لیے ہم ان نمازوں میں قراءت کرتے ہیں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی اور ان میں خاموش رہتے ہیں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ کسی نے ان سے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دل میں پڑھتے ہوں، لیکن وہ غصہ میں آگئے اور کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تہمت لگائی جا رہی ہے؟ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1617]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني: 12005، والطحاوي في شرح المعاني: 1/ 205، و أخرجه البخاري: 774 بلفظ سيأتي في شرح ھذا الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1887، 3399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1887»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاوت کرنے کا حکم دیا، آپ نے تلاوت کی اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، وہاں آپ خاموش رہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور تیرا ربّ بھولنے والا نہیں ہے۔ (سورۂ مریم: ۶۴) مزید ارشاد ہوا: البتہ تحقیق تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے۔ (احزاب: ۲۱) حقیقت ِ واقعہ یہ ہے کہ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراء ت کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ متردد تھے، ان سے مروی روایات میں سے بعض میں سرے سے نفی کی گئی ہے، بعض میں ثابت کیا گیا ہے اور بعض میں انھوں نے شک کا اظہار کیا ہے۔ بہرحال کئی صحابہ کرام سے ظہر و عصر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تلاوت کرنا ثابت ہے۔ مثلا: سیدنا ابو قتادہ، سیدنا خباب، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا جابر بن سمرہ، سیدنا براء بن عازب اور سیدنا انس۔ اس لیے ان مثبت روایات کو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی منفییا شک والی روایت پر ہر صورت میں مقدم کیا جائے گا۔ مزید تطبیق والی بحث میں پڑھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ معاملہ واضح ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني: 12005
حدیث نمبر: 1618
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا؟ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَلَكِنَّا نَقْرَأُ) وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَٰذَا الْحَرْفَ {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا أَوْ عُسِيًّا}
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ساری سنتیں یاد کی ہیں، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر کی نمازوں میں قراءت کرتے تھے یا نہیں؟ بہرحال ہم تو قراءت کرتے ہیں، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے تھے: {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْکِبَرِ عِتِیًّایا عُسِیًّا۔} [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1618]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه ابوداود: 809 واقتصر علي القسم الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2246»
وضاحت: فوائد: … ان امور کو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ذاتی علم پر محمول کیا جائے گا، ان کو علم نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان امور کا کوئی وجود نہیں تھا۔ جبکہ دوسرے صحابہ کرام نے وضاحت کر رکھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر کے قیام میں تلاوت کرتے تھے۔
فوائد: … اگرچہ ہم یہ آیت عِتِیًّا کے الفاظ کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں، لیکن اُبی اور مجاہد کی قراء ت عُسِیًّا ہے۔
فوائد: … اگرچہ ہم یہ آیت عِتِیًّا کے الفاظ کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں، لیکن اُبی اور مجاہد کی قراء ت عُسِیًّا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه ابوداود: 809 واقتصر علي القسم الاول
حدیث نمبر: 1619
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: تَمَارَوْا فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَأَرْسَلُوا إِلَى خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: قَالَ أَبِي: قَامَ أَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَدْ أَعْلَمْ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ إِلَّا لِقِرَاءَةٍ
مطلب بن عبد اللہ کہتے ہیں: ظہر اور عصر میں قراءت کے بارے میں لوگوں میں بحث ہونے لگی، انھوں نے (فیصلہ کروانے کے لیے) خارجہ بن زید کی طرف پیغام بھیجا، اس نے کہا: میرے باپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لمبا قیام کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے، میں جانتا ہوں کہ یہ حرکت صرف قراءت کرنے کے لیے ہی ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1619]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري في القراء ة خلف الامام: 292، والطبراني: 4886، واحمد بن منيع في مسنده كما في اتحاف الخيرة: 1847،و البيھقي: 2/ 193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21913»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري في القراء ة خلف الامام : 292