🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1620
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَتْ تُعْرَفُ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ بِتَحْرِيكِ لِحْيَتِهِ
ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتا ہے کہ: ظہر کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت آپ کی داڑھی کی حرکت سے پہنچانی جاتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1620]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 362، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23540»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 362
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1621
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ: فَحَزَرْنَا قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً قَدْرَ قِرَاءَةِ سُورَةِ {الٓم تَنْزِيلُ} السَّجْدَةِ، قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنَ الْأُوْلَيَيْنِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے، تو ہم نے ظہرکی پہلی دو رکعتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کا تیس آیتیں یعنی سورۂ سجدہ کے پڑھنے کے برابر اندازہ لگایا اور ہم نے آپ کے قیام کا دوسری دو رکعتوں میں اس کے نصف کااندازہ لگایا،ہم نے عصر میں پہلی دو رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ (ظہر کی پہلی دو رکعتوں) کے نصف کے برابر لگایا۔ اور دوسری دو رکعتوں میں پہلی دو کے نصف کا اندازہ لگایا۔؎ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1621]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10999»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت تیس تیس آیتوں کے برابر ہوتی اور دوسری دو رکعتیں اس قیام کے نصف یعنی پندرہ پندرہ آیتوں کے برابر ہوتیں اور عصر کی پہلی دو رکعتیں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر ہوتیں اور اس کی دوسری دو رکعتیں اس سے بھی نصف یعنی سات سات آیات کے برابر ہوتیں تھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 452
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1622
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنِي قَزْعَةُ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَٰؤُلَاءِ عَنْهُ، قُلْتُ: أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لَكَ فِي ذَلِكَ مِنْ خَيْرٍ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُوْلَى
قزعہ کہتے ہیں: میں سیدنا أبو سعید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کے پاس بہت لوگ آئے ہوئے تھے، جب وہ ان سے علیحدہ ہو ئے تو میں نے کہا: جس چیز کے بارے میں یہ لوگ سوال کر رہے تھے، میں اس کے بارے میں پوچھنے کے لیے نہیں آیا، میں تو آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں، انھوں نے کہا: اس میں تو تیرے لیے کوئی خیر نہیں ہے۔لیکن جب میں نے اپنی بات کو دوہرایا تو انھوں نے کہا: ظہر کی نماز کھڑی کر دی جاتی، ہم میں سے ایک آدمی بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، پھر مسجد کی طرف آتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک پہلی رکعت میں ہوتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1622]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ وھو حديث طويل، أخرجه بعضه مسلم: 1120، وابوداود 2406، لكن ليس فيھما قصة صلاة الظھر ھذه۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11327»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر میں مذہب سے دوری، اس میں عدم دلچسپی اور عجلت پسندی نے لوگوں کو اس قسم کی احادیث ِ مبارکہ سے بہت دور کر دیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ وھو حديث طويل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1623
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُوْلَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لَا يَسْمَعَ وَقْعَ قَدَمٍ
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں قیام جاری رکھتے، حتی کہ کسی (داخل ہونے والے کے) قدم کی آواز نہ سنتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبد الله بن ابي اوفي۔ أخرجه ابوداود: 82، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19359»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبد الله بن ابي اوفي۔ أخرجه ابوداود: 82
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1624
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَنَحْوِهَا، وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز میں سورۂ اعلی اور اس جیسی سورتوں کی اور نماز فجر میں اس سے لمبی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 460، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21093»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد میں ہی اس حدیث کے دوسرے طرق میں نماز ظہر میں سورۂ لیل، سورۂ بروج اور سورۂ طارق کے پڑھنے کا بھی ذکر موجود ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 460
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1625
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: أَمَّا مَا يَجْهَرُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ فَقَدْ عَلِمْنَاهُ، وَمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ فَلَا نَقِيسُ بِمَا يَجْهَرُ بِهِ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمْ اثْنَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَيَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ فِي الْأُوْلَيَيْنِ بِقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ قِرَاءَتِهِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ
ابو العالیہ کہتے ہیں: تیس صحابہ جمع ہوئے اور انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جن نمازوں) میں بلند آواز سے قراءت کرتے تھے، اس کو تو ہم جانتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جن نمازوں میں) جہری قراءت نہیں کرتے تھے، اب ان کو جہر والی نمازوں پر قیاس تو نہیں کرتے۔ پھر وہ اس امر پر متفق ہو گئے اور ان میں کوئی دو بھی اختلاف کرنے والے نہیں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ظہرکی پہلی دو رکعتوں میں تیس تیس آیتوں کے بقدر اور دوسری دو رکعتوں میں اس سے نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے، اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر اور اس کی آخری دو رکعتوں میں اس سے بھی نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1625]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذان اسنادا ضعيفان۔ أخرجه ابن ماجه: 828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23485»
وضاحت: فوائد: … ظہر و عصر کی تلاوت کی مقدار کے بارے میں مذکورہ بالا اور دیگر مختلف روایات مروی ہیں، کسی سے طویل مقدار کا ثبوت ملتا ہے اور کسی سے مختصر مقدار کا۔ امام نووی نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: علمائے کرام کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازیوں کے حالات کو دیکھ کر اطالت یا اختصار اختیار کرتے تھے، اگر مقتدی لمبی نماز کو پسند کر رہے ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور ان کی کوئی مصروفیت بھی نہ ہوتی تو قیام کو لمبا کر دیا جاتا تھا، بصورت ِ دیگر اختصار کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تھا، کبھی کبھار ایسے بھی ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ تو یہ ہوتا کہ طویل قیام کیا جائے، لیکن کسی عذر کے جنم لینے کی وجہ سے مختصر قیام کو ترجیح دی جاتی تھی، مثلا بچے کے رونے کی آواز سننا، …۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ بیمار، کمزور اورحاجت مند لوگوں کی وجہ سے تخفیف کو ہی ترجیح دی جائے، اگر یہ وجوہات معدوم ہوں تو طوالت کو اختیار کر لینا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ
مغرب میں قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1626
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ بَعْضَ إِخْوَتِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ بَهْزٌ فِي فِدَاءِ أَهْلِ بَدْرٍ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَمَا أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ، قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالطُّورِ قَالَ فَكَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِي حَيْثُ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ، وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ فَكَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِي حِينَ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بدر والے (قیدی) مشرکوں کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت وہ مسلمان نہیں تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا توآپ نمازِ مغرب پڑھا رہے تھے اور اس میں سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے، یہ قرآن سن کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا دل پھٹنے لگا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: فكأنما صدع قلبي حيث سمعت القرآن۔ أخرجه الطيالسي: 943، وابو يعلي: 7407، وأخرجه البخاري: 4854، ومسلم: 463 بذكر الطور في المغرب فقط۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16735، 16785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16907»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے دل کییہ کیفیت سماعِ قرآن کی تأثیر کی وجہ سے تھی، جبکہ وہ اس وقت مسلمان بھی نہیں تھے، ہم کو اس واقعہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جبکہ ہم مسلمان بھی ہیں۔ سورۂ طور کے دو رکوع اور انچاس آیات ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: فكأنما صدع قلبي حيث سمعت القرآن ۔ أخرجه الطيالسي: 943
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا ابْنُ جُرَيجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ لَهُ: مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِطُولَي الطُّولَيَيْنِ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ قُلْتُ لِعُرْوَةَ) مَا طُولَا الطُّولَيَيْنِ؟ قَالَ الْأَعْرَافُ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مروان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں تجھے نماز مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتوں کی تلاوت کرتے ہوئے ہی سنتا ہوں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت پڑھتے تھے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: میں نے عروہ سے کہا: دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ سورۂ اعراف ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 764، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21980»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 764
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1628
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَوْ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالْأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ
سیدنا ابو ایوب یا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی دو رکعتوں میں سورۂ اعراف کی تلاوت کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: 575، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23940»
وضاحت: فوائد: … سورۂ اعراف کے چوبیس رکوع اور (۲۰۶) آیتیں ہیں۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث رقم: 575
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1629
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ! لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَٰذِهِ السُّورَةَ، إِنَّهَا آخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام فضل بنت حار ث رضی اللہ عنہا نے مجھے سورۂ مرسلات کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو نے یہ سورت پڑھ کر مجھے(یہ بات) یاد کرادی ہے کہ یہ آخری سورت ہے، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 763، ومسلم: 462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27422»
وضاحت: فوائد: … سورۂ مرسلات کے دو رکوع اور پچاس آیات ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 763
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں