الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَصُبْحِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 1640
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ {لَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ، الْجَوَارِ الْكُنَّسِ}
۔ (دوسری سند)انھوں ے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیات پڑھتے ہوئے سنا: {لاَ أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ۔ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ} [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1640]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18944»
وضاحت: فوائد: … یہ سورۂ تکویر کی ہی آیات ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 1641
عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ {وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ}
سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فجر کی نماز میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: {وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ}۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1641]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 457، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19110»
وضاحت: (۱۶۳۸) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: ((یسن والقرآن الحکیم)) لتفرد سماک بن حرب بہ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ لسوء حفظہ۔ ولقراء ۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۃ {ق} فی الفجر شاھد من حدیث قطبۃ بن مالک عند مسلم: ۴۵۷ (انظر: ۱۶۳۹۶)۔ (۱۶۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۵۶ (انظر: ۱۸۷۳۳)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 457
حدیث نمبر: 1642
عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا أَخَذْتُ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} إِلَّا مِنْ وَرَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان ر ضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے سورۂ ق کو یاد نہیں کیا، مگر اس حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہوتی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں اس کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1642]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، عبد الرحمن بن ابي الرجال صدوق ربما أخطأ، وقد خالف ھنا الرواة عن يحييٰ بن سعيد الانصاري في متن الحديث۔ أخرجه بھذه اللفظة: النسائي: 2/ 157 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28181»
وضاحت: فوائد: … اس مضمون کے ساتھ سیدہ ام ہشام رضی اللہ عنہا کییہ حدیث ضعیف ہے، اس کے مقابلے میں ثقات کی محفوظ اور مقبول روایتیہ ہے: سیدہ ام ہشام کہتی ہیں: میں نے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ} سن کر یاد کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کو خطبہ میں اس سورت کی تلاوت کرتے تھے۔ (مسند احمد: ۲۷۶۲۸، مسلم: ۸۷۲) یہ علیحدہ بات ہے کہ صحیح مسلم (۴۵۷) میں سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز فجر میں سورۂ ق کی تلاوت کرنا ثابت ہے، یہ روایت ابھی ابھی گزری ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة
حدیث نمبر: 1643
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَمَدَّ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بھی اسی طرح رہی، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے، انھوں نے نماز فجر میں قیام لمبا کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1643]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابويعلي: 3844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13104»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلیفۂ اول کی نمازیں مختصر ہوتی تھیں، جیسا کہ اس باب کی دیگر احادیث اور آخر میں دیئے گئے خلاصۂ کلام سے پتہ چلے گا۔ بہرحال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز فجر میں قراء ت کی مقدار کو مزید بڑھا دیا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابويعلي: 3844
حدیث نمبر: 1644
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ يُخَفِّفُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ هَؤُلَاءِ، قَالَ وَنَبَّأَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِـ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} وَنَحْوِهَا
سماک بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدناجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تخفیف کرتے تھے اور اِن موجودہ لوگوں کی نماز کی طرح نماز نہیں پڑھتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں سورۂ ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1644]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21132»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 458
حدیث نمبر: 1645
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كَنَحْوٍ مِنْ صَلَاتِكُمُ الَّتِي تُصَلُّونَ الْيَوْمَ وَلَكِنَّهُ كَانَ يُخَفِّفُ، كَانَتْ صَلَاتُهُ أَخَفَّ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ الْوَاقِعَةَ وَنَحْوَهَا مِنَ السُّوَرِ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: آج تم لوگ جو نماز ادا کر رہے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح ہی نمازیں پڑھتے تھے، البتہ آپ تخفیف کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تمہاری نماز کی بہ نسبت تخفیف والی ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر میں سورۂ واقعہ اور اس جیسی سورتیں تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1645]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه عبد الرزاق: 2720،وابن خزيمة: 531، وابن حبان: 1813، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21306»
وضاحت: فوائد: … سورۂ واقعہ تین رکوعات اور (۹۶) آیات پر مشتمل ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِن بعد والے لوگوں نے نمازوں کو اس قدر طویل کر دیا تھا کہ اس کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سورۂ واقعہ کی تلاوت بھی مختصر نظر آتی تھی۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه عبد الرزاق: 2720
حدیث نمبر: 1646
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1646]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:547، 599، ومسلم:647 (19767، 19800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20005»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري:547
حدیث نمبر: 1647
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ {الٓم تَنْزِيلُ} وَ {هَلْ أَتَى}، وَفِي الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ وَ {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ}
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن نمازِ فجر میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر کی اور نماز جمعہ میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1647]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 879، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1993»
وضاحت: فوائد: … ان سورتوں کی کمیت درج ذیل ہے:
سورہ سجدہ: … تین رکوعات اور (۳۰) آیات
سورۂ دہر: … دو رکوعات اور (۳۱) آیات
سورۂ جمعہ: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
سورۂ منافقون: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
سورہ سجدہ: … تین رکوعات اور (۳۰) آیات
سورۂ دہر: … دو رکوعات اور (۳۱) آیات
سورۂ جمعہ: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
سورۂ منافقون: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 879
حدیث نمبر: 1648
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَرَأَ السَّجْدَةَ فِي الْمَكْتُوبَةِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تین مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض نمازوں میں سورۂ سجدہ کی تلاوت کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1648]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5957»
وضاحت: فوائد: … گزشتہ حدیث، اس حدیث سے کفایت کرتی ہے۔
خلاصۂ کلام:
پانچوں نمازوں کی قراء ت کے بارے میں مختلف روایات گزری ہیں، اگر کسی نماز میں طویل قراء ت کو اختیار کیا گیا تو دوسری طرف اختصار کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ترغیب بھی دلائی گئی، اس سلسلے میں آپ درج ذیل بحث کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں، اگرچہ بعض امور میں تکرار نظر آئے گا، لیکن مسئلہ سمجھانے کے لیے ان کا ذکر ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو مقتدیوں کا خیال رکھتے ہوئے تخفیف کرتے تھے، لیکن اکیلی نماز میں بہت زیادہ طوالت اختیار کرتے تھے، لیکن آج کل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ الا ماشاء اللہ عوام کو یہ سوچنا چاہئے کہ تخفیف کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نماز میں جتنا اختصار چاہیں، اتنا ہی کر دیا جائے، دیکھنا چاہئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہلکی نماز پڑھاتے تھے، تو اس کی مقدار کیا ہوتی تھی؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشاء میں سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دینے والے صحابی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیا تو اس کے ساتھ ساتھ سورۂ شمس، سورۂ اعلی، سورۂ لیل اور سورۂ علق کی تلاوت کرنے کی تعلیم بھی دی،یہ سورتیں بالترتیب (۱۵)، (۱۹)، (۲۱)، اور (۱۹) آیات پر مشتمل ہیں۔ نماز میں تلاوت کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول عمل یہ ہے: نماز فجر میں تین رکوعات پر مشتمل سورۂ ق اور اس جیسی سورتیں پڑھنا، ساٹھ سے سو آیات اور کبھی سورۂ تکویر کی تلاوت کرنا اور جمعہ کے دن پہلی رکعت میں تین رکوعات پر مشتمل سورۂ سجدہ اور دوسری رکعت میں سورۂ دہر کی تلاوت کرنا۔ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تقریبا تیس تیس اور آخری دو رکعتوں میں تقریبا پندرہ پندرہ آیات کی تلاوت کرنا اور نماز عصر کی تلاوت اس سے نصف کرنا، اسی طرح ظہر و عصر میں سورۂ لیل، سورۂ اعلی، سورۂ بروج اور سورۂ طارق جیسی سورتوں کی تلاوت کرنا۔ نماز مغرب میں دو رکوع پر مشتمل سورۂ طور کی اور کبھی دو رکوع پر مشتمل سورۂ مرسلات کی اور کبھی اعراف جیسی لمبی سورت کی تلاوت کرنا۔ نمازِ عشاء میں سورۂ تِین کی تلاوت کرنا اور سورۂ شمس اور سورۂ لیل جیسی سورتوں کی تلاوت کرنے کی تعلیم دینا۔ یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازوں کے چند نمونے، لیکن صحابہ کرام نے ان نمازوں کو خفیف کہا۔ معلوم ہوا کہ اس موضوع پر خفیف کا لفظ عوام الناس کے فہم
کے مطابق علی الاطلاق استعمال نہیں ہو گا، بلکہ یہ نسبتی لفظ ہے، یعنی اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں سمجھا جائے بہرحال امام کو چاہئے کہ وہ مقتدیوں کی رو رعایت کرے اور مقتدی لوگوں کو اگر علم ہو جائے کہ جس نماز کو وہ طویل سمجھ رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی نماز پڑھنے پڑھانے کی تعلیم دی ہے تو پھر انھیں بھی خاموشی اختیار کرنا چاہئے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سب سے پہلے مقتدی حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کمیّت اور کیفیت سے آگاہی حاصل کریں، اگر ان کا امام اس حد سے تجاوز کرے تو وہ اعتراض کر سکتے ہیں، وگرنہ ان کو صبر کے ساتھ خاموش رہنا چاہیے۔ ہاں اگر مقتدیوں میں معروف مریض لوگ ہوں تو ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر مقتدی لوگ اپنے اصرار پر برقرار رہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث نہ سمجھ پا رہے ہوں تو امام صاحب کو چاہئے کہ وہ حکمت و دانائی سے کام لے، نماز کے دوران اختصار کرے اور درجہ بدرجہ مقتدیوں کی تربیت کرے اور ان کو اعلی قول و کردار کا مالک بنا کر احادیث ِ رسول کا شائق بنانے کی کوشش کرے۔
خلاصۂ کلام:
پانچوں نمازوں کی قراء ت کے بارے میں مختلف روایات گزری ہیں، اگر کسی نماز میں طویل قراء ت کو اختیار کیا گیا تو دوسری طرف اختصار کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ترغیب بھی دلائی گئی، اس سلسلے میں آپ درج ذیل بحث کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں، اگرچہ بعض امور میں تکرار نظر آئے گا، لیکن مسئلہ سمجھانے کے لیے ان کا ذکر ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو مقتدیوں کا خیال رکھتے ہوئے تخفیف کرتے تھے، لیکن اکیلی نماز میں بہت زیادہ طوالت اختیار کرتے تھے، لیکن آج کل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ الا ماشاء اللہ عوام کو یہ سوچنا چاہئے کہ تخفیف کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نماز میں جتنا اختصار چاہیں، اتنا ہی کر دیا جائے، دیکھنا چاہئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہلکی نماز پڑھاتے تھے، تو اس کی مقدار کیا ہوتی تھی؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشاء میں سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دینے والے صحابی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیا تو اس کے ساتھ ساتھ سورۂ شمس، سورۂ اعلی، سورۂ لیل اور سورۂ علق کی تلاوت کرنے کی تعلیم بھی دی،یہ سورتیں بالترتیب (۱۵)، (۱۹)، (۲۱)، اور (۱۹) آیات پر مشتمل ہیں۔ نماز میں تلاوت کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول عمل یہ ہے: نماز فجر میں تین رکوعات پر مشتمل سورۂ ق اور اس جیسی سورتیں پڑھنا، ساٹھ سے سو آیات اور کبھی سورۂ تکویر کی تلاوت کرنا اور جمعہ کے دن پہلی رکعت میں تین رکوعات پر مشتمل سورۂ سجدہ اور دوسری رکعت میں سورۂ دہر کی تلاوت کرنا۔ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تقریبا تیس تیس اور آخری دو رکعتوں میں تقریبا پندرہ پندرہ آیات کی تلاوت کرنا اور نماز عصر کی تلاوت اس سے نصف کرنا، اسی طرح ظہر و عصر میں سورۂ لیل، سورۂ اعلی، سورۂ بروج اور سورۂ طارق جیسی سورتوں کی تلاوت کرنا۔ نماز مغرب میں دو رکوع پر مشتمل سورۂ طور کی اور کبھی دو رکوع پر مشتمل سورۂ مرسلات کی اور کبھی اعراف جیسی لمبی سورت کی تلاوت کرنا۔ نمازِ عشاء میں سورۂ تِین کی تلاوت کرنا اور سورۂ شمس اور سورۂ لیل جیسی سورتوں کی تلاوت کرنے کی تعلیم دینا۔ یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازوں کے چند نمونے، لیکن صحابہ کرام نے ان نمازوں کو خفیف کہا۔ معلوم ہوا کہ اس موضوع پر خفیف کا لفظ عوام الناس کے فہم
کے مطابق علی الاطلاق استعمال نہیں ہو گا، بلکہ یہ نسبتی لفظ ہے، یعنی اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں سمجھا جائے بہرحال امام کو چاہئے کہ وہ مقتدیوں کی رو رعایت کرے اور مقتدی لوگوں کو اگر علم ہو جائے کہ جس نماز کو وہ طویل سمجھ رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی نماز پڑھنے پڑھانے کی تعلیم دی ہے تو پھر انھیں بھی خاموشی اختیار کرنا چاہئے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سب سے پہلے مقتدی حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کمیّت اور کیفیت سے آگاہی حاصل کریں، اگر ان کا امام اس حد سے تجاوز کرے تو وہ اعتراض کر سکتے ہیں، وگرنہ ان کو صبر کے ساتھ خاموش رہنا چاہیے۔ ہاں اگر مقتدیوں میں معروف مریض لوگ ہوں تو ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر مقتدی لوگ اپنے اصرار پر برقرار رہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث نہ سمجھ پا رہے ہوں تو امام صاحب کو چاہئے کہ وہ حکمت و دانائی سے کام لے، نماز کے دوران اختصار کرے اور درجہ بدرجہ مقتدیوں کی تربیت کرے اور ان کو اعلی قول و کردار کا مالک بنا کر احادیث ِ رسول کا شائق بنانے کی کوشش کرے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي
21. بَابُ جَامِعِ صِفَةِ الْقِرَاءَةِ مِنْ سِرٍّ وَجَهْرٍ وَمَدٍّ وَتَرْتِيلٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 1649
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُخَافِتُ بِصَوْتِهِ إِذَا قَرَأَ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجْهَرُ بِقِرَاءَتِهِ، وَكَانَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا قَرَأَ يَأْخُذُ مِنْ هَٰذِهِ السُّورَةِ وَهَٰذِهِ، فَذُكِرَ ذَاكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ( (لِمَ تُخَافِتُ؟) ) قَالَ: إِنِّي لَا أُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِي، وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ( (لِمَ تَجْهَرُ بِقِرَاءَتِكَ؟) ) قَالَ: أُفْزِعُ الشَّيْطَانَ وَأُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَقَالَ لِعَمَّارٍ: ( (لِمَ تَأْخُذُ مِنْ هَٰذِهِ السُّورَةِ وَهَٰذِهِ؟) ) قَالَ: أَتَسْمَعُنِي أَخْلِطُ بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ؟ قَالَ: ( (لَا) ) قَالَ: فَكُلُّهُ طَيِّبٌ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ قراءت کرتے تو اپنی آواز کو آہستہ رکھتے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بآواز بلند قراءت کرتے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ جب قراءت کرتے تو کچھ اس سورت سے پڑھ لیتے تھے اور کچھ اُس سورت سے۔ جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ آہستہ کیوں پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی میں جس ہستی سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہوں، اس کو سناتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ بلند آواز سے تلاوت کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں شیطان کو ڈراتا ہوں اور ہلکی نیندسونے والے کو جگاتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کچھ اس سورت سے پڑھتے ہواورکچھ اُس سورت سے، ایسے کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: بھلا کیا آپ نے مجھے سنا ہے کہ میں نے اس قرآن میں ایسا کلام ملا دیا ہو جو اس میں سے نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ انہوں نے کہا: توپھر سارا کلام ہی اچھا ہے، (اس لیے میں جہاں سے چاہتا ہوں، ضرورت کے مطابق پڑھ لیتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1649]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لجھالة حال ھانيء بن ھانيء، وابو اسحاق تغير بأخرة، ورواية زكريا بن ابي زائدة عنه بعد تغيره۔ أخرجه نحوه مختصرا الطبري: 15/ 176، والبيھقي في شعب الايمان: 2612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 865»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کبھی سرّاً تلاوت کیا کرتے تھے اور کبھی جہراً، فرضی نماز میں جہر ی اور سرّی تلاوت کا معاملہ بھی واضح ہے، جب مختلف لوگ ایک مقام پر اپنی اپنی نماز پڑھ رہے ہوں، تو ہر ایک کو سرّی آواز میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ دوسرا نمازی متأثر نہ ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب نمازی اکیلا ہو تو وہ دھیمی آواز میں تلاوت کیا کرے۔ اس حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ مختلف مقامات سے قرآن مجید کی تلاوت کرنا درست ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف