🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ جَامِعِ صِفَةِ الْقِرَاءَةِ مِنْ سِرٍّ وَجَهْرٍ وَمَدٍّ وَتَرْتِيلٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1650
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ مَدًّا
قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قراءت کرتے ہوئے اپنی آواز کو کافی لمبا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1650]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12222»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت مین یہ الفاظ بھی ہیں: ثُمَّ قَرَأَ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ}، یَمُدُّ {بِسْمِ اللّٰہِ} وَیَمُدُّ بِـ {الرَّحْمٰنِ} وَیَمُدُّ بِـ {الرَّحِیْمِ}۔ یعنی: پھر انھوں نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت کی اور {بِسْمِ اللّٰہِ}، {اَلرَّحْمٰنِ} اور {اَلرَّحِیْمِ} کو لمبا لمبا کر کے پڑھا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {بِسْمِ اللّٰہِ} میں ل کو، {الرَّحْمٰنِ} میں م کو اور {الرَّحِیْمِ} میں ح کو لمبا کر کے پڑھا، اس انداز کو قاری حضرات مد طبعی کہتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا} … (اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن کی تلاوت کیا کرو۔ (سورۂ مزمل: ۴) اس وقت اکثر لوگ، وہ خواص ہوں یا عوام، ائمہ ہوں یا مقتدی، تلاوت ِ قرآن کے اس ادب کا خیال نہیں رکھتے، تلاوت کا اہتمام کرنے والوں کی نظر معیار پر نہیں ہوتی، مقدار کی کثرت پر ہوتی ہے، ہر ایک کییہ خواہش ہوتی ہے کہ نماز تراویح میں ایک دفعہ قرآن مجید کی تلاوت مکمل ہونی چاہیے، قطع نظر اس سے قاری کیسے پڑھ رہا ہے، کوئی لفظ بھی سمجھ آ رہا ہے یا صرف آواز پر اکتفا کیا جا رہا ہے، بلکہ بعض مساجد میں تیز پڑھنے والی قاری کی تعریف کی جاتی ہے اور آہستہ پڑھنے والے کو سنت کی مخالفت کرنے کی ترغیب دلا کر اس بات پر اکسایا جاتا ہے کہ وہ بھی تیز پڑھے، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نمازیوں کا آدھا گھنٹہ قیام میں گزر جائے اور ان کی گپ شپ کا وقت ضائع ہو جائے، (اللہ کی پناہ)۔ اس وقت ایک بڑی مصیبتیہ بھی ہے کہ نمازیوں کی قلت یا کثرت کو مساجد کی انتظامیہ کی ذلت یا عزت کا مسئلہ سمجھ لیا گیا ہے، اس عزت کے حصول کے لیے انتظامیہ کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسا قاری تلاش کیا جائے، جس کی آواز میں خوبصورتی بھی ہو اور تیزی بھی، قطع نظر اس سے کہ وہ خود کیسا ہو، تاکہ نمازی حضرات کھنچے چلے آئیں، اس مقصد کے لیے کھلانے پلانے اور اے سی وغیرہ کی سہولت کی لالچ بھی دی جاتی ہے۔ یہاںیہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اچھی آواز میں تلاوت کرنا ہماری شریعت کی موافقت ہے، لیکن آیت کے معنی و مفہوم اور قاری کے نیک و بد ہونے سے صرف ِ نظر کر کے حسنِ صوت کا ہی ہو کر رہ جانااسی شریعت کی مخالفت ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5045
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1651
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَدْرَ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت اس قدر (بلند)ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمرے میں ہوتے اور صحن والے اس کو سن لیتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1327، والترمذي في الشمائل: 314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2446 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2446»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1327
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1652
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ (ح) ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَمِيلِ وَأَبِي عَامِرِ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَافِعٌ: أُرَاهَا حَفْصَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّكُمْ لَا تَسْتَطِيعُونَهَا، قَالَ: فَقِيلَ لَهَا: أَخْبِرِينَا بِهَا، قَالَتْ: فَقَرَأَتْ قِرَاءَةً تَرَسَّلَتْ فِيهَا، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: قَالَ نَافِعٌ: فَحَكَى لَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} ثُمَّ قَطَعَ، {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، ثُمَّ قَطَعَ، {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}
ایک زوجۂ رسول، غالبا وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، بیان کرتی ہیں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: تم تو اس کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ کسی نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتلا تو دیں۔ جوابا ً انہوں نے قراءت کی اور اس میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ابن ابی ملیکہ نے اس کو یوں بیان کیا: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھا، پھر ٹھہر گئے، پھر {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھا اور اس پر وقف کیا، پھر {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن} پڑھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1652]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27003»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث مختلف طرق سے روایت کی گئی ہے، دو سندیں اور ان کے متون درج ذیل ہیں، غور فرمائیں: ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: ایک زوجۂ رسول، غالباً وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: تمہارے پاس اتنی طاقت ہی نہیںہے کہ وہ قراء ت کر سکو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (صحیح لغیرہ، مسند احمد: ۲۶۴۵۱) ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر آیت پر ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ (صحیح لغیرہ، مسند احمد: ۲۶۵۸۳، ابوداود: ۴۰۰۱، ترمذی: ۲۹۲۷) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران ہر آیت پر وقف بھی کیا جائے اور ٹھہراؤ کا بھی خیال رکھا جائے۔ وائے مصیبت! کہ اکثر مسلمان تلاوت ِ قرآن کے سلسلے میں مقدار کی طرف توجہ کرتے ہیں، معیار کو نہیں دیکھتے، بالخصوص تراویح اور رمضان میں۔ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاروں کی تلاوت کرکے جلدی جلدی قرآن مجید ختم کیا جائے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے عمل میں معیار کے مطابق حسن پیدا کریں، ترتیل کے ساتھ تلاوت کریں اور ہر ایک آیت پر وقف کریں، اگر زیادہ مقدار چاہتے ہیں تو زیادہ وقت دیں۔

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1653
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَنَا أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي هَٰذَا وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں رات کے آخری ایک تہائی حصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کی آواز سنتی تھی، جبکہ میں اپنے اس چھپر کی چھت پر ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے پاس ہوتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 178، ابن ماجه: 1349، والترمذي في الشمائل: 311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26895، 26905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27433»
وضاحت: فوائد: … اس اور حدیث نمبر (۵۹۷) سے پتہ چلتا ہے کہ رات کے قیام میں بآواز بلند تلاوت کرنا بھی درست ہے، اس طریقے سے نمازی کا نماز کی طرف متوجہ ہوناآسان ہو جاتا ہے، جب کسی نمازی کے پاس کوئی آدمی بھی نماز پڑھ رہا ہو تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق آواز کو پست ہی رکھنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 178
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1654
عَنْ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةٍ لَيْسَتْ بِفَرِيضَةٍ فَمَرَّ بِذِكْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَقَالَ: ( (أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، وَيْحٌ أَوْ وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ) )
سیدنا ابو لیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں قراءت کرتے ہوئے سنا، جبکہ وہ نماز فرضی نہیں تھی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت اور آگ کے ذکر سے گزرے تو فرمایا: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَیْحٌ أَوْ وَیْلٌ لِأَھْلِ النَّارِ (میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، آگ والوں کے لئے تباہی ہے۔) [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن ابي ليلي، والمطلب بن زياد الثقفي متكلم فيه، وعدي بن ثابت لم يدرك ابا ليلي۔ أخرجه ابوداود: 881، وابن ماجه: 1352، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19265»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن ابي ليلي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1655
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رحمت والی آیت کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے، جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا تو پناہ مانگتے اور جب ایسی آیت تلاوت کرتے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کی جاتی تو اس کی تسبیح بیان کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1655]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 772، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23650»
وضاحت: فوائد: … سوال کرنے، پناہ مانگنے اور تسبیح بیان کرنے کے لیے کوئی الفاظ بھی کہے جا سکتے ہیں تنزیہ اور تسبیح ہم معنی الفاظ ہیں، ان کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے عیب اور نقص سے پاک قرار دینا، جیسے {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} پڑھ کر سُبْحَانَ اللّٰہ کہنا۔ اس حدیث سے سبق حاصل کر کے ان لوگوں کو اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے، جن کو قرآن مجید کے مفہوم کا ذرا برابر علم نہیں ہوتا اور ان کو کوئی شعور نہیں ہوتا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں۔ امام اور منفرد کو تو ان موضوعات سے متعلقہ آیات کی تلاوت کر کے ان کا جواب دینا چاہیے، مقتدی کے بارے میں اختلاف ہے، ہماری رائے یہ ہے کہ مقتدی خاموش رہے، کیونکہ مقتدی کو امام کی اقتدا میں جہری قراء ت کے دوران خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، وہ کسی مخصوص دلیل کی روشنی میں ہی بول سکتا ہے، مثلا: سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرنا، آمین کہنا، امام کو لقمہ دینا۔ البتہ سرّی نماز میں جب مقتدی خود قراء ت کر رہا ہو تو وہ ایسی آیتوں کی تلاوت کی صورت میں ان کے تقاضے کے مطابق جوابی کلمات کہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 772
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ حُكْمِ مَا يَطْرَأُ عَلَى الْإِمَامِ فِي الْقِرَاءَةِ وَحُكْمِ الْفَتْحِ عَلَيْهِ
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1656
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْفَجْرِ فَتَرَكَ آيَةً فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ( (أَفِي الْقَوْمِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ؟) ) قَالَ أُبَيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نُسِخَتْ آيَةُ كَذَا أَوْ نَسِيتَهَا؟ قَالَ: ( (نَسِيتُهَا) )
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی اور ایک آیت چھوڑ گئے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: کیا لوگوں میں ابی بن کعب ہیں؟ سیدنا ابی نے کہا: اے اللہ کے رسول!فلاں آیت منسوخ ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے بھول گیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1656]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي في الكبري: 8240، والبخاري في القراء ة خلف الامام: 193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15439»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي في الكبري : 8240
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1657
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي الْفَجْرِ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا بَلَغَ ذِكْرَ مُوسَى وَهَارُونَ أَصَابَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ
سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن نمازِ فجرمیں سورۂ مومنون کی تلاوت شروع کی، جب موسی اور ہارونm کے تذکرے تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانسی آ گئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہیں رکوع کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1657]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15393، 15394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15468»
وضاحت: فوائد: … سورۂ مومنون کی (۴۴) آیتوں کے بعد ان دو انبیاء کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی لاحق ہونے والی مجبوری کی وجہ سے امام مزید قیام کا ارادہ ترک کر کے رکوع کر سکتا ہے اور ایسے ہی کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 455
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
عَنْ مُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ آيَةً، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: ( (فَهَلَّا ذَكَّرْتَنِيهَا؟) )
سیدنا مسوّر بن یزید اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور (تلاوت کرتے ہوئے) ایک آیت چھوڑ دی۔ (جب فارغ ہوئے تو)ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فلاں فلاں آیت کو چھوڑ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو نے مجھے یاد کیوں نہیں کروا دیا تھا؟! [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يحييٰ بن كثير الكاھلي2222۔ أخرجه ابوداود: 907، وابن حبان: 2240، وابن خزيمة: 1648، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16812»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی، پس اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراء ت کی، لیکن قراء ت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خلط ملط ہونے لگی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی سے فرمایا: ((اَصَلَّیْتَ مَعَنَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَمَا مَنَعَکَ؟)) … کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تجھے کس چیز نے اس سے روکا (کہ تو مجھے لقمہ دے)؟ (ابوداود: ۹۰۸) صحیح ابن حبان کے الفاظ یوں ہیں: ((فَمَا مَنَعَکَ اَنْ تَفْتَحَ عَلَیَّ؟)) احناف کا مسلک: لقمہ دینے سے نماز باطل ہو جائے گی، الّا یہ کہ لقمہ دینے والا تلاوت کا ارادہ کر لے۔ یہ فرق کرنا خواہ مخواہ کا تکلف ہے، جس نبی نے نماز میں جان بوجھ کر دوسرے سے کلام کرنے سے منع قرار دیا، اسی نے امام کو لقمہ دینے کو مشروع قرار دیا۔ امام شوکانی نے کہا: دلائل کا تقاضایہ ہے کہ امام کی جہری قراء ت میں بھولنے کی صورت میں اس کو لقمہ دینا مشروع ہے، تاکہ اسے وہ آیتیاد آ جائے اور جب وہ ارکان وغیرہ میں بھول جائے تو مرد سبحان اللہ کہہ کر اور عورت تالی بجا کر اس کو متنبہ کریں۔ واللہ اعلم۔ (نیل الاوطار: ۲/ ۳۷۳) شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک امام کو لقمہ دینا درست ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يحييٰ بن كثير الكاھلي2222۔ أخرجه ابوداود: 907
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ الْحُجَّةِ فِي الصَّلَاةِ بِقِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأُبَيٍّ مِمَّنْ أَثْنَى عَلَى قِرَاءَتِهِ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیّدنا ابی رضی اللہ عنہ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان¤جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1659
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَطْبًا (وَفِي رِوَايَةٍ غَضًّا) كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ) )
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ قرآن کو اس طرح تروتازہ پڑھے، جس طرح یہ نازل ہوا تو وہ وہ ام عبد کے بیٹے کی قراءت پر تلاوت کیا کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث: «اسناد صحيح، وھو حديث طويل في المسند، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 175»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سابقین میں سے ہیں، بلکہ یہ چھٹے مسلمان تھے، ان کا باپ دورِ جاہلیت میں ہی فوت ہو گیا تھا، البتہ ان کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا اور مشرف باسلام ہو کر صحابیہ قرار پائیں، اس لیے ان کو کبھی کبھی ماں کی طرف منسوب کرتے ہوئے ابن ام عبد کہا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناد صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں