🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ
مغرب میں قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1630
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبٍ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ، مَا صَلَّى بَعْدَهَا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹ کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور سورۂ مرسلات کی تلاوت کی، اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی، حتی کہ فوت ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث: «أخطأ موسي بن داود الضبي، فأدخل حديثا في حديث۔ فقولھا: صلي بنا رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في بيته متوشحا في ثوب، انما ھو من حديث انس، وھو حديث صحيح (مسند احمد: 13260)، وأما حديث: قرأ رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في المغرب سورة المرسلات، فھو من حديث ام الفضل، وھو حديث صحيح (مسند احمد: 26868) أما ھذا الحديث، فأخرجه النسائي: 2/ 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27408»

الحكم على الحديث:
أخطأ موسي بن داود الضبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1631
عَنْ حَنْظَلَةَ السُّدُوسِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ: إِنِّي أَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِـ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}، وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَلِكَ عَلَيَّ، فَقَالَ: وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ، اقْرَأْهُمَا فَإِنَّهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ
حنظلہ سدوسی کہتے ہیں: میں نے عکرمہ سے کہا کہ میں مغرب کی نماز میں سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تلاوت کرتا ہوں، لیکن لوگ مجھ پر اس کا عیب لگاتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے، تو ان کو پڑھ سکتا ہے، کیونکہ یہ قرآن سے ہیں۔مجھے تو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بھی بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں صرف سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حنظلة السدوسي۔ أخرجه البيھقي: 2/ 61 مختصرا بالمرفوع فقط، وأخرجه بطوله ابن خزيمة513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2550»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرنا درست ہے، پہلے اس کی وضاحت کی جا چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف حنظلة السدوسي۔ أخرجه البيھقي: 2/ 61 مختصرا بالمرفوع فقط
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1632
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ وَسُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ! لَمْ تُقْرَأْ سُورَةٌ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أَبْلَغُ عِنْدَهُ مِنْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} قَالَ يَزِيدُ: لَمْ يَكُنْ أَبُو عِمْرَانَ يَدَعُهَا، وَكَانَ لَا يَزَالُ يَقْرَأُهَا فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ) )
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کے ساتھ چمٹ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہود اور سورۂ یوسف پڑھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عتبہ بن عامر!کوئی ایسی سورت نہیں پڑھی گئی جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند اور سب سے زیادہ بلیغ ہو، ما سوائے سورۂ فلق کے۔ (یہ حدیث سننے کے بعد) ابو عمران اس سورت کو نہیں چھوڑتے تھے اور ہمیشہ نماز مغرب میں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 254، والدارمي: 3439 (17241، 17418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17554»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 254
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ
عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1633
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُقْرَأَ بِالسَّمَاوَاتِ فِي الْعِشَاءِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز عشاء میں سماوات والی سورتوں کی تلاوت کی جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1633]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8312»
وضاحت: فوائد: … سماوات سے مراد سورۂ بروج اور سورۂ طارق ہیں، جو یوں شروع ہوتی ہیں: { وَالسَّمَائِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ۔ وَالسَّمَائِ وَالطَّارِقِ۔}

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8312
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1634
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِالسَّمَاءِ يَعْنِي ذَاتِ الْبُرُوجِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز میں السماء والی یعنی سورۂ بروج اور سورۂ طارق کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1634]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو المھزم ضعفه ابن معين و ابو زرعة وابو حاتم، وقال الدارقطني: يترك، وقال النسائي: متروك الحديث، ورزيق بن ابي سلمي مجھول الحال۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8314»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1635
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ فِي سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَمَا سَمِعْتُ إِنْسَانًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ (وَفِي أُخْرَى) فَلَمْ أَسْمَعْ أَحْسَنَ صَوْتًا وَلَا أَحْسَنَ صَلَاةً مِنْهُ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِعشا کی ایک رکعت میں سورۂ تین پڑھی، میں نے ایسا انسان نہیں سنا جو قرأت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچھا ہو۔ ایک روایت میں ہے: میں نے کسی ایسے آدمی کو نہیں سنا جو آواز کے لحاظ سے اور نماز کے لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچھا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 767، 4952، ومسلم: 464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18697»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 767
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1636
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا مِنَ السُّوَرِ
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز میں سورۂ شمس اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه الترمذي: 309، والنسائي: 2/ 173، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23382»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه الترمذي: 309
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1637
عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: صَلَّى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَصْحَابِهِ وَهُوَ مُرْتَحِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ فِي رَكْعَةٍ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمِي حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدَمَهُ، وَأَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابو مجلز کہتے ہیں: سیدناابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جبکہ وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کررہے تھے، انہوں نے دو رکعت نماز ِ عشاء پڑھائی، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں سورۂ نساء کی سو آیات پڑھ دیں۔ جب لوگوں نے اس چیز کا ان پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا قدم رکھا، میں نے اسی جگہ پر قدم رکھنے میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ کیا، میں نے اسی طرح کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1637]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 512، والنسائي: 3/ 243، وللوتر بركعة شواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19998»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے میں سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی شدت کو مبالغہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، ان کا مقصدیہ ہے کہ یہ عمل ان کے ذاتی اجتہاد کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس سلسلے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کی ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وتر سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھے بغیر صرف ایک رکعت وتر ادا کرنا بھی درست ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 512
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَصُبْحِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1638
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} وَ {يٰسٓ وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ}
مدینہ منورہ کا ایک باشندہ کہتا ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نمازِ فجر میں سورۂ ق اور سورۂ یس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1638]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ((يسن والقرآن الحكيم)) لتفرد سماك بن حرب به، وھو ممن لا يحتمل تفرده لسوء حفظه۔ ولقراء ة النبي صلي الله عليه وآله وسلم سورة {ق} في الفجر شاھد من حديث قطبة بن مالك عند مسلم: 457، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16396)۔ (1639) أخرجه مسلم: 456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16510»
وضاحت: فوائد: … سورۂ تکویر کی آیات کی تعداد (۲۹) ہے

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ((يسن والقرآن الحكيم)) لتفرد سماك بن حرب به
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1639
عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ} وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ}
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نمازِ فجر میں سورۂ تکویر کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت بھی پڑھی: {وَاللَّیْلِ إِذَاعَسْعَسَ} [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1639]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18940»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18940
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں