الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ الْحُجَّةِ فِي الصَّلَاةِ بِقِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأُبَيٍّ مِمَّنْ أَثْنَى عَلَى قِرَاءَتِهِ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیّدنا ابی رضی اللہ عنہ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان¤جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
حدیث نمبر: 1660
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: حِينَ أُنْزِلَ {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا} وَقَالَا جَمِيعًا: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا} قَالَ: وَقَدْ سَمَّانِي؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) قَالَ: فَبَكَى
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} یعنی سورۂ بینہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر اس سورت {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} کی تلاوت کروں۔ انھوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پس وہ رونے لگ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1660]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3809، 4959، ومسلم: 799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13921»
وضاحت: فوائد: … اس میں سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کی عظیم منقبت کا بیان ہے، جس کو سن کر وہ خود بھی خوشی کے آنسو رونے لگ گئے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3809
حدیث نمبر: 1661
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي يَعْلَى ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (خُذُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ عَنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ، وَعَنْ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، قَالَ يَعْلَى: وَنَسِيتُ الرَّابِعَ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرو نے سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور پھر کہا: یہ ایسا آدمی ہے، جس سے میں ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا، (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: چار آدمیوں سے قرآن کی تعلیم حاصل کرو:ام عبد کے بیٹے، معاذ اور مولائے ابی حذیفہ سالم سے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے اِن کا ذکر کیا۔ یعلی راوی کہتے ہیں: میں چوتھے شخص کا نام بھول گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1661]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3760، ومسلم: 2464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6523، 6767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6523»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3760
حدیث نمبر: 1662
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ) )
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار آدمیوں سے قرآن مجید پڑھو: عبد اللہ بن مسعود، مولائے ابی حذیفہ سالم، معاذ بن جبل اور اُبی بن کعب سے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1662]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاوّل۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6767»
وضاحت: فوائد: … یہ احادیث اِن چار صحابہ کی فضیلت پر اور نماز وغیرہ میں ان کی قراء ت کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہیں، بشرطیکہ وہ قراء ت صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاوّل۔
24. بَابُ تَكْبِيرَاتِ الِانْتِقَالِ
تکبیرات الانتقال کا بیان
حدیث نمبر: 1663
عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَتْ؟ قَالَ: فَذَكَرَ التَّكْبِيرَ كُلَّمَا وَضَعَ رَأْسَهُ وَكُلَّمَا رَفَعَهُ وَذَكَرَ السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ السَّلامُ عَلَيْكُمْ عَنْ يَسَارِهِ
واسع بن حبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیسی تھی؟ انہوں نے (جواب میں) یہ چیز بھی ذکر کی کہ آپ جب بھی اپنا سر جھکاتے اور اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر انھوں نے دائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحَمْۃُ اللّٰہ ِاور بائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کا ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1663]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه النسائي: 3/ 63، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5402»
وضاحت: فوائد: … رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہنامسنونہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه النسائي: 3/ 63
حدیث نمبر: 1664
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ فَيَكَبِّرُونَ إِذَا سَجَدُوا وَإِذَا رَفَعُوا أَوْ خَفَضُوا كَبَّرُوا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما جب سجدہ کرتے اور جب اٹھتے اور جھکتے تھے تو تکبیر کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1664]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابو يعلي: 4281، والطحاوي: 1/ 221، والبيھقي: 1/ 68، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12259، 12349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12374»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابو يعلي: 4281
حدیث نمبر: 1665
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَمَعَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: هَلُمَّ أُصَلِّي صَلَاةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، قَالَ فَدَعَا بِجَفْنَةٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأُذُنَيْهِ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، قَالَ: فَصَلَّى الظُّهْرَ فَقَرَأَ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے کہا: آؤ میں تمہیں اللہ کے نبی کی نماز پڑھاتا ہوں، وہ اشعری قبیلے کے آدمی تھے، پھر انھوں نے ایک ٹب منگوایا، اپنے ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر تین بار دونوں بازو دھوئے اور اس کے بعد اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا اور پھر اپنے پاؤں دھوئے، پھر نماز ِ ظہر پڑھائی، اس میں سورۂ فاتحہ پڑھی اور بائیس دفعہ اللہ اکبر کہا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1665]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل شھر بن حوشب۔ أخرجه ابن ماجه: 417، والطبراني في الكبير: 3412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23281»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف من اجل شھر بن حوشب۔ أخرجه ابن ماجه: 417
حدیث نمبر: 1666
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهْرِ قَدَمَيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَسْمَعَ مَنْ يَلِيهِ
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: اور انہوں نے اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے پر مسح کیا، پھر ان کو نماز پڑھائی اور بائیس تکبیریں کہیں، جب وہ سجدہ کرتے اور سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، انھوں نے دونوں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی اور (اپنی آواز کو ہلکا بلند کرکے) اپنے قریب والوں کو سنائی۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1666]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23286»
وضاحت: فوائد: … چار رکعت نماز میں کل بائیس تکبیرات کہی جاتی ہیں، ہر رکعت کی پانچ اور تکبیر تحریمہ اور تیسری رکعت والی تکبیر۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 1667
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ، وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلُهُنَّ لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ، وَيَجْعَلُ الرِّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ، وَالْغِلْمَانَ خَلْفَهُمْ وَالنِّسَاءَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًا
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چاروں رکعتوں کی قراءت اور قیام برابر برابر ہوتے تھے، البتہ پہلی رکعت لمبی کرتے تھے تاکہ لوگ پہنچ جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کو بچوں کے آگے، بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے کھڑا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی سجدہ کرتے اور اس سے اٹھتے تو تکبیر کہتے، اسی طرح جب دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھ کر (تیسری رکعت) کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1667]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 3436، وأخرجه ابوداود بذكر صف الرجال والغلمان فقط: 677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22896، 22911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23299»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رکعات کی طوالت کی مقدار مذکورہ بالا کمیت سے مختلف بھی رہی ہے، مثلا ظہر کی پہلی دو رکعتیں تیس تیس آیتوں کے برابر اور آخری دو رکعتیں پندرہ پندرہ آیتوں کے برابر ہوتی تھیں، اسی طرح نماز عصر کی پہلی دو رکعتیں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر اور اس کی آخری دو رکعتیں اس سے بھی نصف کے برابر ہوتی تھیں، جہری نمازوں میں بھییہ فرق نظر آتا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 3436
حدیث نمبر: 1668
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے بطحاء میں ایک شیخ کی اقتداء میں ظہر کی نماز پڑھی ہے، اس بیوقوف نے تو بائیس تکبیریں کہہ دی ہیں، جب وہ سجدہ کرتا اور اس سے سر اٹھاتا تو تکبیر کہتا تھا۔ (یہ سن کر) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1668]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1886»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 787
حدیث نمبر: 1669
عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ، أَوْ خَدِّهِ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑا ہونے اوربیٹھنے پر تکبیر کہتے اور دائیں بائیں سلام پھیرتے وقت (چہرۂ مبارک کو اتنا پھیرتے کہ) رخساروں کی سفیدی نظر آ جاتی، پھر میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1669]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه النسائي: 2/ 205، والترمذي: 253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3660»
الحكم على الحديث:
صحيح