الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ تَكْبِيرَاتِ الِانْتِقَالِ
تکبیرات الانتقال کا بیان
حدیث نمبر: 1670
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُصَلِّي بِنَا فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ مِنَ الرُّكُوعِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ مِنَ السُّجُودِ وَإِذَا جَلَسَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، وَيُكَبِّرُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ، فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي صَلَاتَهُ، مَا زَالَتْ هَٰذِهِ صَلَاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھاتے تھے، جب وہ کھڑے ہوتے، جب رکوع کرتے، جب رکوع سے اٹھنے کے بعد سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے، جب سجدے سے سر اٹھانے کے بعد دوبارہ سجدہ کرتے، جب بیٹھتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، دوسری دو رکعتوں میں بھی اسی طرح تکبیریں کہتے، جب سلام پھیرتے تو کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں تم سب کی بہ نسبت زیادہ مشابہت رکھنے والا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی یہی کیفیت رہی، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے جدا ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1670]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 803، وأخرج بنحوه مسلم: 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7657، 7658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7644»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 803
حدیث نمبر: 1671
عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
ابو صالح کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہر جھکنے اور اٹھنے میں تکبیر کہتے تھے اور پھر بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1671]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 785، و مسلم: 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7220، 9402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9391»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 785
حدیث نمبر: 1672
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لئے اٹھتے تو تکبیر کہتے، جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے، جب رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے، پھر کھڑے کھڑے رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہتے،پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (دوسرے) سجدے کے لیے گرتے تو تکبیر کہتے، پھر جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر آپ ساری نماز میں اسی طرح کا (تکبیرات کہنے کا) عمل کرتے، یہاں تک کہ اسے پورا کر لیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی اللہ اکبر کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 789، ومسلم: 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9850»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 789
حدیث نمبر: 1673
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْ غَابَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا صَلَّى، قِيلَ لَهُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَى صَلَاتِكَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، وَاللَّهِ مَا أُبَالِي، اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ، هَٰكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي
سعید بن حارث کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے تھے یا کہیں گئے ہوئے تھے، بہرحال ہمیں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، رکوع سے اٹھنے کے لیے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد، سجدہ سے سر اٹھاتے وقت، سجدہ کرتے وقت اور دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہا، حتی کہ انھوں نے اسی طریقے پر نماز پوری کی، جب انھوں نے نماز پڑھ لی تو کسی نے ان سے کہا: لوگوں نے آپ کی نماز پر اعتراض کیا ہے، (یہ سن کر) وہ نکل کر منبر کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ تمہاری نماز مختلف ہے یا نہیں ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1673]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11157»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 825
حدیث نمبر: 1674
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِمَّا نَسِينَاهَا وَإِمَّا تَرَكْنَاهَا عَمَدًا يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ وَكُلَّمَا سَجَدَ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے تو ہمیں وہ نماز یاد کرا دی ہے، جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، یا تو ہم اسے بھول گئے ہیں یا جان بوجھ کر اسے چھوڑ دیا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب رکوع کرتے،(رکوع سے) اٹھتے اور سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1674]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 535، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19723»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 535
حدیث نمبر: 1675
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً ذَكَّرَنِي صَلَاةً صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْخَلِيفَتَيْنِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُوَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ مَنْ أَوَّلُ مَنْ تَرَكَهُ؟ قَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ كَبُرَ وَضَعُفَ صَوْتُهُ تَرَكَهُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں ایک نماز پڑھی، انہوں نے تو مجھے وہ نماز یاد دلا دی، جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دو خلیفوں کے ساتھ پڑھا تھا۔ مطرف کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں چلا گیا اور ان کے ساتھ نماز پڑھی، (میں نے دیکھا کہ) جب وہ سجدہ کرتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر میں نے پوچھا: اے ابو نجید! سب سے پہلے کس نے اس طریقے کو ترک کیا؟ انھوں نے کہا: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بوڑھے ہوئے اور ان کی آواز کمزور ہو گئی تو انھوں نے اس کو ترک کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1675]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 581، وأخرج البخاري: 826، 786 ومسلم: 393 بلفظ متقارب منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19881، 19952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20122»
وضاحت: فوائد: … وَکُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوع (اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو تکبیر کہتے)۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ درست الفاظ مِنَ السُّجُوْد کے ہیں، سیاق و سباق کا یہی تقاضا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کئی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تھے۔ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا عذر تھا، پھر بھی کئی اہل علم نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مخفی انداز میں کہتے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ان تکبیرات کو ترک کرنا جائز سمجھتے ہوں، بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے ان تکبیرات کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یا زیاد نے ترک کیا تھا، ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں اور زیاد نے ان کی اقتدا میں ترک کر دی ہوں۔ بہرحال مسئلہ اپنی جگہ پر واضح ہے اور متواتراحادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان تکبیرات والا عمل ثابت ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 581
حدیث نمبر: 1676
عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِمْرَانَ رَجُلٌ كَانَ بِوَاسِطٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ، يَعْنِي إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،آپ تکبیر نہیں کہتے تھے، یعنی جب جھکتے اور اٹھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1676]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، أعله الأئمة لنكارته، فقد تفرد به الحسن بن عمران وھو ممن لا يحتمل تفرده۔ أخرجه ابوداود: 837، والطيالسي: 1287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15426»
وضاحت: فوائد: … امام ابوداود نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے اور سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو اللہ اکبر نہیں کہتے تھے اور اسی طرح جب سجدوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہیں کہتے تھے۔ امام بیہقی نے کہا: ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی ہو، لیکن اس حدیث کے راوی نے نہ سنی ہو، اور اس امر کا امکان بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواز کے لیے تکبیر نہ کہی ہو۔ (انظر: ۱۵۳۵۲) بہرحال یہ حدیث ضعیف ہے اور کئی احادیث ِ صحیحہ کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تکبیرات الانتقال منقول ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف
25. أبواب الركوع والسجود وما جاء فيهما
رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: Q1677]
26. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ التَّطْبِيقِ فِي الرُّكُوعِ ثُمَّ نَسْخِهِ
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1677
عَنِ ابْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ أَنَّهُمَا كَانَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَتَأَخَّرَ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ فَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِأَيْدِيهِمَا فَأَقَامَ أَحَدَهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرَ عَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ رَكَعَا فَوَضَعَا أَيْدِيهِمَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَضَرَبَ أَيْدِيهِمَا ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَشَبَّكَ وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ وَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ
ابن اسودبیان کرتے ہیں: علقمہ اور اسود دونوں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ایک نمازکا وقت ہو گیا، علقمہ اور اسود پیچھے (ہوکر اور صف بنا کر کھڑے) ہوگئے، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ایک کو دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کر دیا، پھر ان دونوں نے رکوع کیا اور (سنت کے مطابق) اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھوں پر مارا اور پھر اپنے ہاتھوں کے درمیان تطبیق اور تشبیک ڈال کر انہیں اپنی رانوں کے درمیان کرلیا اور کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1677]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3927»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب دو مقتدی ہوں تو وہ امام کی دائیں بائیں کھڑے ہوں گے، اس سے زیادہ تعداد امام کے پیچھے کھڑی ہو گی اور رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر نہیں رکھا جائے گا، بلکہ انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر گھٹنوں کے درمیان ہاتھ رکھے جائیں گے، اسی طریقے کو تطبیق کہتے ہیں۔ لیکنیہ دونوں امور منسوخ ہو چکے ہیں۔ بعد والے احکام کے مطابق ایک مقتدی امام کے ساتھ کھڑا ہو گا، دو ہونے کی صورت میں پیچھے کھڑے ہوں گے اور رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا جائے گا۔ وضاحت اگلی روایت میں آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 534
حدیث نمبر: 1678
عَنِ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَفْرُشْ ذِرَاعَيْهِ فَخِذَيْهِ وَلْيَحْنِأْ ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ فَأَرَاهُمَا
اسود اور علقمہ دونوں سے مروی ہے کہ: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو وہ اپنے بازؤں کو اپنی رانوں پر بچھائے اور کمر کو جھکا لے، پھر انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق ڈالی اور کہا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے میں داخل ہیں، پھر انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق ڈال کر انہیں دکھایا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1678]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: 621، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3588»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث رقم: 621