🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. تَحْرِيمُ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَأَزْوَاجِهِمْ وَمَوَالِيْهِمْ، لَا الْهَدِيَّةِ
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3493
عَنْ أَبِي رَافِعٍ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ الْأَرْقَمُ الزُّهْرِيُّ، أَوِ ابْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ وَاسْتُعْمِلَ عَلَى الصَّدَقَاتِ قَالَ: فَاسْتَتْبَعَنِي (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: اِصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا) قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ( (يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّ الصَّدَقَةَ حَرَامٌ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ) )
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ارقم زہری یا ابن ابی ارقم کا میرے پاس سے گزر ہوا، وہ صدقات کی وصولی پر مامور تھے۔ انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے لیا ایک اور روایت میں ہے۔ وہ مجھے بھی ساتھ لے گئے تاکہ میں بھی اس میں سے کچھ حاصل کر سکوں۔ میں نے واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے صدقہ حرام ہے اور قوم کا غلام انہی میں شمار ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3493]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1650، والترمذي: 657، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24364»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1650
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3494
عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَأَنَا مَمْلُوكٌ فَقُلْتُ: هَذِهِ صَدَقَةٌ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ: هَذِهِ هَدِيَّةٌ، أَهْدَيْتُهَا لَكَ أَكْرَمَكَ اللَّهُ بِهَا فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَأَكَلَ مَعَهُمْ
۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں غلام تھا، ایک دن میں کھانا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہا: یہ صدقہ ہے، (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو (کھانے کا) حکم دیا، پس انہوں نے کھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود نہ کھایا۔ پھر ایک دن میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت دے، یہ ہدیہ ہے، جو میں آپ کیلئے لے کر آیا ہوں، کیونکہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا، پس انہوں نے بھی کھایا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3494]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 8، والطبراني: 6066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24123»
وضاحت: فوائد: … راجح قول کے مطابق آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مراد بنو عبد المطلب اور بنو ہاشم ہیں، اور بنو ہاشم سے مراد سیدنا علی، سیدنا عباس، سیدنا عقیل اور سیدنا حارث بن عبد المطلب کی اولاد ہے۔ مذکورہ بالا بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے غلاموں کا بھییہی حکم ہے۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث سے پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کے غلاموں کے لیے بھی صدقہ حلال نہیں ہے، حنفی مذہب میں بھییہی قول معروف ہے، البتہ ابن ملک کا قول اس کے مخالف ہے، لیکن علامہ ملا علی قاری نے (مرقاۃ المفاتیح: ۲/ ۴۴۸۔ ۴۴۹) میں اس پر ردّ کیاہے، اس کامطالعہ کر لینا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۱۳) آج بھی جن لوگوں کا نسب ان مذکورہ بالا ہستیوں سے ملتا ہے، ان کو اس معاملے انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 8
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ الْغُلُولِ فِي الصَّدَقَةِ وَوَعِيدِ مَنْ فَعَلَهُ
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3495
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا هُوَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا الصَّدَقَةَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ غُلُولَ الصَّدَقَةِ، أَنَّهُ مَنْ غَلَّ فِيهَا بِبَعِيرٍ أَوْ شَاةٍ، أَتَى بِهِ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ: بَلَى
۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک روز میرے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مابین صدقہ کے متعلق گفتگو ہونے لگی،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہیں سنا تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ میں خیانت کا ذکر کیا تو اس وقت یہ بھی فرمایا تھا: جس نے صدقہ کے مال میں ایک اونٹ یا ایک بکری کی خیانت کی، تو وہ قیامت والے دن اسے اٹھا کر حاضر ہو گا؟ سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3495]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1810، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16063 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16160»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1810
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3496
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ، عَلَى صَدَقَةٍ فَجَاءَ فَقَالَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ إِلَيَّ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ( (مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَجِيءُ، فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ إِلَيَّ، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ إِنَ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَةَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ثَلَاثًا، وَزَادَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ سَمِعَتْ أُذُنِي وَأَبْصَرَتْ عَيْنِي وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ) )
۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنوازد کے ایک شخص ابن لُتْبِیَّہ کو صدقہ کی وصولی کیلئے عامل بنایا، جب وہ واپس آیا تو کہنے لگا: یہ چیز تمہارے لئے ہے اور یہ چیز مجھے ہدیہ دی گئی ہے، بات یہ ہے کہ وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہتا پھر دیکھتے کہ اس کو ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! تم میں سے جو آدمی صدقہ میں خیانت کرے گا، وہ اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھا کر حاضر ہو گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلارہا ہو گا، اگر وہ گائے ہوئی تو ڈکار رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اس قدر بلند کیا کہ ہمیں آپ کے بازوؤں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے لوگوں تک پیغام پہنچا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی۔ (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے کانوں نے یہ حدیث سنی اور میری آنکھوں نے اس کا مشاہدہ کیا، بہرحال تم سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھ لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3496]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2597، 7174، ومسلم: 1832، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23996»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2597
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3497
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (هَدَايَا الْعُمَّالِ غُلُولٌ) )
۔ سیدناابو حمید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عاملینِ زکوۃ کے تحفے خیانت ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3497]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسماعيل بن عياش حمصي صدوق في روايته عن اھل بلده، مخلّط في غيرھم، وروايته ھنا عن يحيي بن سعيد الانصاري حجازي۔ اخرجه ابوعوانة: 7073، والبزار في ’’مسنده‘‘: 3723، والبيھقي: 10/ 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23601 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23999»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3498
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ رُبَمَا ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَيَتَحَدَّثُ حَتَّى يَنْحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا إِلَى الْمَغْرِبِ إِذْ مَرَّ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: ( (أُفٍّ لَكَ، أُفٍّ لَكَ) ) مَرَّتَيْنِ فَكَبُرَ فِي ذَرْعِي، وَتَأَخَّرْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُنِي، فَقَالَ: ( (مَا لَكَ؟ امْشِ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: أَحْدَثْتُ حَدَثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (وَمَا ذَاكَ؟) ) قُلْتُ: أَفَّفْتَ بِي، قَالَ: ( (لَا، وَلَكِنْ هَذَا قَبْرُ فُلَانٍ بَعَثْتُهُ سَاعِيًا عَلَى بَنِي فُلَانَ فَغَلَّ نَمِرَةً، فَدُرِّعَ الْآنَ مِثْلُهَا مِنْ نَارٍ) )
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ عصر کی نماز کے بعد بنو عبد الاشھل کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور غروب آفتاب تک وہیں گفتگو میں مگن رہتے۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ (وہاں سے فارغ ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کے لیے جلدی جلدی چلے آ رہے تھے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بقیع سے گزرتے وقت یہ فرمانا شروع کر دیا: تیرے لیے اف ہے، تیرے لیے اف ہے۔ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے یہ کلمات کہہ رہے ہیں اس لیےیہ بات میرے دل پر بڑی گراں گزری اور میں پیچھے کو ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ آگے چلو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہاری مراد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اف کہہ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، دراصل بات یہ ہے کہ یہ فلاں آدمی کی قبر ہے، میں نے اس کو فلاں قبیلہ کی طرف زکوۃ کا عامل بنا کر بھیجا تھا اور اس نے ایک چادر کی خیانت کی تھی، اب اس کو اس کی بقدر آگ کی قمیص پہنا دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3498]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال منبوذ، ثم ان في سماع الفضل عن جده ابي رافع نظراً۔ اخرجه النسائي: 2/ 115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27734»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال منبوذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3499
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ يَعُودُهُ فَقَالَ: مَا لَكَ لَا تَدْعُو لِي؟ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ) ) ، وَقَدْ كُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ يَعْنِي عَامِلًا
۔ سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبد اللہ بن عامر کی تیمار داری کرنے کے لیے گئے، ابن عامر نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا بات ہے، آپ میرے حق میں دعا کیوں نہیں کرتے؟ انھوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ: اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور خیانت والے مال سے صدقہ قبول نہیں کرتا۔ اور تم تو بصرہ کے عامل رہ چکے ہیں (اور ممکن ہے کہ تم سے گڑ بڑ ہو گئی ہو)۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3499]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5419»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 224
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3500
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: ( (قُمْ عَلَى صَدَقَةِ بَنِي فُلَانٍ، وَانْظُرْ لَا تَأْتِيَنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَكْرٍ تَحْمِلُهُ عَلَى عَاتِقِكَ أَوْ عَلَى كَاهِلِكَ لَهُ رُغَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصْرِفْهَا عَنِّي، فَصَرَفَهَا عَنْهُ
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اٹھو اور فلاں قبیلہ سے زکوۃ وصول کر کے لاؤ اور خیال کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے دن اس حال میں آؤ کہ اپنے کندھے پر بلبلاتا ہوا اونٹ اٹھا رکھا ہو۔ یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ ذمہ داری مجھ سے ہٹا لیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اس ذمہ داری کو ختم کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3500]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه البزار 3737، والطبراني: 5363، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22828»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه البزار 3737
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3501
عَنْ سِمَاكِ (بْنِ حَرْبٍ) قَالَ: سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ هُلْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الصَّدَقَةَ فَقَالَ: ( (لَا يَجِيءَنَّ أَحَدُكُمْ بِشَاةٍ لَهَا يُعَارٌ) )
۔ سیدنا ہلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی قیامت کے دن اس حالت میں نہ آئے کہ ممیاتی ہوئی بکری بھی اس کے ساتھ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3501]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 1086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22329»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خیانت کتنا بڑا جرم ہے، اس بارے میں خلاصہ یہ ہے کسی سرکارییا غیر سرکاری ملازمت کے تعین کے وقت جو شروط و قیود طے ہو جائیں، ان کا پاس و لحاظ کرنا انتہائی ضروری ہے، نیز درج ذیل حدیث سے معلوم ہوا کہ جو بطورِ عامل اور ساعی صدقہ و زکوۃ وصول کرنے کے لیے جاتے ہیں، اس سفر میں جو چیز ان کو بطورِ تحفہ دی جائے گی، وہ بھی ان کے لیے جائز نہیں ہوگی: سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازد قبیلہ کے ابن لتبیہ نامی ایک آدمی کو زکوۃ کی وصولی کا عامل بنایا، جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا: یہ مال تو تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیاگیا ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا:
((مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُہٗفَیَجِیْئُ فَیَقُوْلُ: ھٰذَا لَکُمْ وَھٰذَا اُھْدِیَ لِیْ، ھَلَّا جَلَسَ فِیْ بَیْتِ اُمِّہٖاَوْاَبِیْہِ فَیَنْظُرَ اَیُھْدٰی لَہٗاَمْلَا،لَایَأْتِیْ اَحَدٌ مِنْکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ ذَالِکَ اِلَّا جَائَ بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اِنْ کَانَ بَعِیْرًا فَلَہٗرُغُائٌاَوْبَقَرَۃٌ فَلَھَا خُوَارٌ اَوْ شَاۃٌ تَیْعَرُ۔))
”اس عامل کو کیا ہو گیا ہے، جس کو ہم بھیجتے ہیں، لیکن جب وہ واپس آتا ہے تو کہتا ہے: یہ چیز تو تمہاری ہے اور یہ چیز مجھے بطورِ تحفہ دی گئی۔ ذرا وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر میں بیٹھے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کو تحفہ ملتا ہے یا نہیں، جو آدمی اس میں سے جو چیز بھی لے گا، وہ قیامت کے روزہ اس کو اپنے ساتھ لائے گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلا رہا ہو گا، اگر وہ گائے ہوئی تو وہ ڈکار رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔“

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 1086
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. باب
لوگوں سے سوال كي ممانعت
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: Q2502]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں