الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغَارِمِينَ
قرض داروں کو زکوۃ دینا
حدیث نمبر: 3473
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) ( (وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ أَوْ حَاجَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ قَدْ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ أَوْ فَاقَةٌ) )
۔ (دوسری سند) یہی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: (تیسرا) وہ فاقہ کش اور ضرورت مند آدمی ہے کہ جس کی قوم کے تین عقلمند آدمی یہ گواہی دے دیں کہ واقعی فلاں آدمی حاجت اور فاقے میں مبتلا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3473]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16011»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16011
حدیث نمبر: 3474
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثٍ: ذِي دَمٍ مُوْجِعٍ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سوال کرنا حلال نہیں ہے، مگر تین افراد کے لیے: کسی مقتول کی تکلیف دہ دیت ادا کرنے والا، بہت زیادہ مقروض اور بہت زیادہ فقیر۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3474]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، وھذا الحكم لھذه القطعة، وھو حديث طويل۔ اخرجه ابوداود: 1641، وابن ماجه: 2198، والترمذي: 1218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12158»
الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد
حدیث نمبر: 3475
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ (مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا قَوْمٌ نَتَسَاءَلُ أَمْوَالَنَا، قَالَ: ( (يَتَسَاءَلُ الرَّجُلُ فِي الْجَائِحَةِ وَالْفَتْقِ، لِيُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ قَوْمِهِ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرَبَ، اسْتَعَفَّ) )
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی قوم ہیں کہ ایک دوسرے سے مانگتے ہیں،(کیایہ جائز ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کسی آفت یا لڑائی کے سلسلے میں لوگوں کے مابین صلح کروانے کے لیے مانگتا ہے، لیکن جب وہ اپنے مقصد تک پہنچ جاتا ہے یا اس کے قریب ہو جاتا ہے تو باز آ جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3475]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ اخرجه البيھقي: 7/ 22، وعبد الرزاق: 20018، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20286»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ اخرجه البيھقي: 7/ 22
حدیث نمبر: 3476
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ) ) ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خُذُوا مَا وَجَدْتُّمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ) )
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے پھل خریدے، لیکن وہ کسی آفت میں مبتلا ہو گیا اور اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اس پر صدقہ کرو۔ چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ تو کیالیکن اس سے اس کا قرضہ پورا نہ ہو سکا۔بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (قرض خواہوں سے) فرمایا: جو مال تم نے اس کے پاس پا لیا ہے، وہ لے لو، اور تمہیں صرف یہی ملے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3476]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1556 وابوداود: 3469، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11337»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی مقروض مفلس اور کنگال ہو جاتا ہے اور زکوۃ سے بھی اس کا تعاون کرنے والا کوئی نہیں ہے تو اس کے قرض خواہ دنیا میں محروم ہو جائیں گے، آخرت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے کہ مقروض آدمی قرضہ واپس کرنے کی رغبت رکھتا تھا یا نہیں اور قرض خواہ معاف کرتے ہیںیا نہیں، بہرحال ایسا مقروض دوسروں کا حق لے کر فوت ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ زکوۃ کا ایک مصرف مقروض لوگ بھی ہیں، تین قسم کے لوگ اس مصرف کا مصداق بن سکتے ہیں:
(۱) وہ مقروض جو اپنے اہل و عیال کے نان و نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں لوگوں کے زیر بار ہو گئے اور ان کے پاس نقد رقم بھی نہیں ہے اور ایسا سامان بھی نہیں ہے، جسے بیچ کر وہ قرض ادا کر سکیں۔
(۲) وہ ذمہ دار اصحاب ِ ضمانت ہیں، جنہوں نے کسی کی ضمانت دی اور پھر وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار قرار پا گئے۔
(۳) وہ لوگ کہ جن کی فصلیں تباہ ہو جائیںیا کاروبار خسارے کا شکار ہو گیا اور اس بنیاد پر وہ مقروض ہو گیا۔ ان سب افراد کی زکوۃ کی مدّ سے مدد کرنا جائز ہے۔
(۱) وہ مقروض جو اپنے اہل و عیال کے نان و نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں لوگوں کے زیر بار ہو گئے اور ان کے پاس نقد رقم بھی نہیں ہے اور ایسا سامان بھی نہیں ہے، جسے بیچ کر وہ قرض ادا کر سکیں۔
(۲) وہ ذمہ دار اصحاب ِ ضمانت ہیں، جنہوں نے کسی کی ضمانت دی اور پھر وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار قرار پا گئے۔
(۳) وہ لوگ کہ جن کی فصلیں تباہ ہو جائیںیا کاروبار خسارے کا شکار ہو گیا اور اس بنیاد پر وہ مقروض ہو گیا۔ ان سب افراد کی زکوۃ کی مدّ سے مدد کرنا جائز ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1556 وابوداود: 3469
28. بَابُ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا جَاءَ فِي اسْتِيعَابِ الْأَصْنَافِ
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3477
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَى لَهُ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مال دار کے لئے زکوۃ لینا حلال نہیں ہے، مگر تین افراد کے لیے: جہاد کرنے والا، مسافر اور وہ (غنی) آدمی کہ اس کے پڑوسی کو زکوۃ دی گئی اور اس نے اپنے پڑوسی کو کوئی تحفہ دے دیا۔ــ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3477]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن ابي ليلي وعطية۔ اخرجه ابوداود: 1637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11288»
وضاحت: فوائد: … حدیث اپنے مفہوم میں واضح ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ زکوۃ کا مال کھاتے ہیں، ان کی دعوت اور تحفہ قبول کیا جا سکتا ہے، بعض مالدار لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ زکوۃ کا مال سمجھ کر ان چیزوں سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ ایسی دعوت اور تحفے پر زکوۃ کا حکم نہیں لگایا جا سکتا، کیونکہ مستحق آدمی زکوۃ کے مال کا مالک بن جاتا ہے اور وہ جہاں مرضی خرچ کر سکتا ہے۔ مسافر کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی مالدار ہے، لیکن سفر میں کچھ وجوہات کی بنا پر اس کے اسباب ِ سفر ختم ہوجاتے ہیں، اب بجائے اس کے کہ وہ اپنا سفر پورا کرنے کے لیے کسی سے قرضہ لینے کی کوشش کرے، اسے چاہیے کہ اگر کہیں زکوۃ مل سکتی ہے تو ظن غالب کے مطابق اتنی مقدار میں لے لے، جو اسے سفر میں کفایت کرے گی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 3478
عَنْ أُمِّ مَعْقِلٍ الْأَسَدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ زَوْجَهَا جَعَلَ بَكْرًا لَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَّهَا أَرَادَتِ الْعُمْرَةَ فَسَأَلَتْ زَوْجَهَا الْبَكْرَ فَأَبَى، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ) ) ، وَقَالَ: ( (عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً أَوْ تُجْزِئُ حَجَّةً) ) ، وَقَالَ حَجَّاجٌ: ( (تَعْدِلُ بِحَجَّةٍ أَوْ تُجْزِئُ بِحَجَّةٍ) )
۔ سیدہ ام معقل اسدیہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں:میرے شوہر نے ایک جوان اونٹ اللہ کی راہ کے لئے وقف کر دیا، جبکہ میں عمرہ کے لئے جانا چاہتی تھی، اس لیے میں نے اپنے شوہر سے وہ اونٹ طلب کیا، لیکن اس نے دینے سے انکار کر دیا۔ جب میں نے اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرےشوہر کو حکم دیا کہ وہ اونٹ مجھے دے دے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ بھی اللہ کی راہ میں ہی ہے۔ نیز فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3478]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، لكن ذكر لفظ ’’العمرة‘‘ منكر علي كل حال۔ اخرجه ابوداود: 1988، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27829»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِہَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … ”جی ہاں، عورتوں پر جہاد ہے، لیکن اس میں قتال نہیں ہے، یعنی حج اور عمرہ۔“ (ابن ماجہ: ۲۹۰۱) معلوم ہوا کہ حج اور عمرہ پر بھی فی سبیل اللہ کا اطلاق کیاجا سکتا ہے۔
رمضان میں عمرہ کرنے سے حج کا ثواب ملے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر اس عمرہ کرنے والے پر حج بھی فرض تھا تو اس عمرہ سے اس کے حج کی ادائیگی تصور ہوگی۔ ثواب ملنا اور چیز ہے اور فرض کا ادا ہو جانا چیزے دیگر۔ جیسے کوئی آدمی جماعت کے ساتھ نماز پڑھے تو اسے پچیسیا ستائیس گنا ثواب ملے گا۔ لیکن اس کا یہ نتیجہ نہیں کہ اس کے آئندہ پانچ دن کی نمازیں ادا ہوگئیں ہیں، اسے اب اتنے دن نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں، نہیں ہرگز نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
رمضان میں عمرہ کرنے سے حج کا ثواب ملے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر اس عمرہ کرنے والے پر حج بھی فرض تھا تو اس عمرہ سے اس کے حج کی ادائیگی تصور ہوگی۔ ثواب ملنا اور چیز ہے اور فرض کا ادا ہو جانا چیزے دیگر۔ جیسے کوئی آدمی جماعت کے ساتھ نماز پڑھے تو اسے پچیسیا ستائیس گنا ثواب ملے گا۔ لیکن اس کا یہ نتیجہ نہیں کہ اس کے آئندہ پانچ دن کی نمازیں ادا ہوگئیں ہیں، اسے اب اتنے دن نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں، نہیں ہرگز نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3479
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ غَارِمٍ أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غنی لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں ہے، مگر ان پانچ افراد کے لیے: عاملِ زکوۃ، زکوۃ کے مال کو اپنے مال کے عوض خریدنے والا، چٹی بھرنے والا (یعنی کسی کی طرف سے ادائیگی کا ذمہ لینے والا)، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا اور وہ غنی آدمی کہ زکوۃ لینے والا مسکین جس کو کوئی تحفہ دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3479]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1635، 1636، وابن ماجه: 1841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11559»
وضاحت: فوائد: … یہ ضروری نہیں کہ چٹی بھرنے والے اپنے مال سے ہی ادائیگی کرے، کیونکہ اس معاملے میں اس کی ذات کاکوئی دخل نہیں ہوتا، اس لیے وہ ایسے بوجھ اتارنے کے لیے زکوۃ بھی لے سکتا ہے اور سوال بھی کر سکتا ہے۔ آل محمد سے تعلق رکھنے والا عامل، زکوۃ سے تنخواہ نہیں لے سکتا، اگلے باب میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔
قرآن مجید میںکل آٹھ مصارفِ زکوۃ بیان کیے گئے ہیں، اس باب سے معلوم ہوا کہ چٹی بھرنے والا بھی زکوۃ وصول کر کے اپنی ذمہ داری کو ادا کرسکتا ہے، سوال یہ ہے کہ ایک آدمی زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام مصارف میں خرچ کرے یا کسی ایکمصرف میں کرنے سے اس کا فرض ادا ہو جائے؟ مؤخر الذکر مسلک راجح ہے، کئی احادیث اور آثار سے ثابت ہے کہ صرف ایک ایک صنف میں بھی زکوۃ خرچ کی جاتی رہی۔
قرآن مجید میںکل آٹھ مصارفِ زکوۃ بیان کیے گئے ہیں، اس باب سے معلوم ہوا کہ چٹی بھرنے والا بھی زکوۃ وصول کر کے اپنی ذمہ داری کو ادا کرسکتا ہے، سوال یہ ہے کہ ایک آدمی زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام مصارف میں خرچ کرے یا کسی ایکمصرف میں کرنے سے اس کا فرض ادا ہو جائے؟ مؤخر الذکر مسلک راجح ہے، کئی احادیث اور آثار سے ثابت ہے کہ صرف ایک ایک صنف میں بھی زکوۃ خرچ کی جاتی رہی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1635
29. تَحْرِيمُ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَأَزْوَاجِهِمْ وَمَوَالِيْهِمْ، لَا الْهَدِيَّةِ
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 3480
عَنْ أَبِي الْحَوْرَائِ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلْتُهَا فِي فِيِّ، قَالَ: فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِهَا، فَجَعَلَهَا فِي التَّمْرِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ لِهَذَا الصَّبِيِّ؟ قَالَ: ( (وَإِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ) ) ، قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ: ( (دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طَمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ) ) ، قَالَ: وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ: ( (اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ) ) ، قَالَ شُعْبَةُ وَأَظُنُّهُ قَدْ قَالَ هَذِهِ أَيْضًا: ( (تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ) )
۔ ابو حوراء کہتے ہیں: میں نے سیدناحسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کونسی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دفعہ صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈالی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ لعاب سمیت میرے منہ سے کھنیچ کر نکالی اور کھجور کے ڈھیر میں واپس ڈال دی۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کا ایک کھجور لے لینا، اس سے آپ کو کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمدہیں اور ہمارے لئے زکوۃ حلال نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے: شک والی بات کو چھوڑ کر ایسی صورت کو اختیار کرو جو شک و شبہ سے پاک ہو، سچائی میں سکون ہے اورجھوٹ میں قلق اور اضطراب ہے، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اس دعا کی تعلیم بھی دیتے تھے: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، … تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ یعنی: اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمار ے ربّ! تو بڑی برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3480]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرج الترمذي منه لفظ: ((دع ما يريبك وان الكذب ريبة))، وأخرجه بتمامه عبد الرزاق: 4984، والطبراني: 2711، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1727»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرج الترمذي منه لفظ: ((دع ما يريبك وان الكذب ريبة))
حدیث نمبر: 3481
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ شَيْبَانَ أَنَّهُ قَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَدْخَلَنِي غُرْفَةَ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتُ مِنْهَا تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فَمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلْقِهَا فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ وَلَا لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ) )
۔ ربیعہ بن شیبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص چیزیاد ہے؟ انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے زکوۃ والے سٹور میں لے گئے، میں نے وہاں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دو، یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت کے کسی فرد کے لئے حلال نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3481]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 214، وابن خزيمة: 2349، والطحاوي: 2/ 7، وھو نفس الحديث المتقدم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1724»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 214
حدیث نمبر: 3482
عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسُئِلَ: مَا عَقَلْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى جَرِينٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فَمِي فَأَخَذَهَا بِلُعَابِي، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: وَمَا عَلَيْكَ لَوْ تَرَكْتَهَا، قَالَ: ( (إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ) ) ، قَالَ: وَعَقَلْتُ مِنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ
۔ ابو حوراء کہتے ہیں: ہم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، کسی نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر اس کھلیان سے ہوا، جہاں زکوۃ کی کھجوریں پڑی تھیں، میں نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعاب سمیت اس کو نکال دیا۔ کسی نے کہا: اگر آپ یہ کھجور اس بچے کے پاس ہی رہنے دیتے تو اس سے آپ کو کیا ہو جاتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیےیہ زکوۃ حلال نہیں ہے۔ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پانچ نمازیں بھی سیکھی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3482]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني: 2714، وھو نفس الحديثين المتقدمين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1725»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني: 2714