🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. تَحْرِيمُ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَأَزْوَاجِهِمْ وَمَوَالِيْهِمْ، لَا الْهَدِيَّةِ
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3483
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ يَقْسِمُ تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حِجْرِهِ فَلَمَّا فَرَغَ حَمَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَاتِقِهِ، فَسَالَ لُعَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَإِذَا تَمْرَةٌ فِي فِيهِ، فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: ( (أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صدقہ کی کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کام سے فارغ ہوئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو کندھے پر اٹھا لیا اوران کا لعاب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہنے لگا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے منہ میں داخل کرکے اس کو نکال دیا اور فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے زکوٰۃ حلال نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3483]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1485، ومسلم: 1069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7744»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1485
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3484
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَلَكَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (كِخْ، كِخْ، ثَلَاثًا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھائی اور اس کو اپنے منہ میں چبایا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اوہ، اوہ، اوہ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3484]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10176»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3485
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ نَائِمًا فَوَجَدَ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِهِ فَأَخَذَهَا فَأَكَلَهَا، ثُمَّ جَعَلَ يَتَضَوَّرُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَفَزِعَ لِذَلِكَ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ، فَقَالَ: ( (إِنِّي وَجَدْتُّ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِي فَأَكَلْتُهَا فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اٹھا کر کھا لیا، لیکن بعد ازاں رات کے آخری پہر کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشانی کی وجہ سے الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیویاں بھی گھبرا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی اور میں نے اسے کھا لیا، اب مجھے اندیشہ یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ صدقہ کی کھجور ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3485]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6720»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3486
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ) فَأَكَلَهَا فَلَمْ يَنَمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ بَعْضُ نِسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرِقْتَ الْبَارِحَةَ، قَالَ: ( (إِنِّي وَجَدْتُّ تَحْتَ جَنْبِي تَمْرَةً فَأَكَلْتُهَا وَكَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُ) )
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجور تو کھا لی، مگر ساری رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند نہیں آئی،کسی اہلیہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ تھی کہ گزشتہ رات آپ پر بے خوابی طاری رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنے پہلو کے نیچے سے ایک کھجور ملی تھی، میں نے وہ کھا لی، ہمارے ہاں صدقہ کی کھجوریں بھی پڑی تھیں، اب مجھے اندیشہ یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کھجور ان صدقہ والی کھجوروں میں سے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3486]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6820»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو شبہ ہوا تھا، یہ محض شبہ نہیں تھا، بلکہ اس کے مختلف قرائن ہوں گے، ممکن ہے کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں صدقے کی کھجوریں لائی گئی ہوں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو تقسیم کر دیں، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شبہ ہو گیا ہو، بہرحال ایسی صورتحال میں شبہ میں پڑ جانے کی گنجائش موجود ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب سمجھنے والوں کو اس جگہ غور کرنا چاہیے، اگر آپ غیب جانتے تھے اور کھجور واقعۃ صدقے کی تھی تو یہ کھائی کیوں اور اگر صدقے کی نہیں تھی تو ساری رات بے خوابی اور بے قراری میں کیوں گزاری؟ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3487
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ أَكَلَ وَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ قَالَ: ( (كُلُوا) ) وَلَمْ يَأْكُلْ
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھانا گھر والوں کے علاوہ کہیں اور سے لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے، اگر وہ تحفہ ہوتا تو کھا لیتے اور اگر وہ صدقہ ہوتا تو فرماتے: تم کھا لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود نہیں کھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3487]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2576، ومسلم: 1077، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8001»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2576
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3488
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3488]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 656 (20054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20313»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 656 (20054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20313
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3489
عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَا: وَاللَّهِ! لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ، فَقَالَا لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَأَصَابَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ، فَبَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا ذَا تُرِيدَانِ؟ فَأَخْبَرَاهُ بِالَّذِي أَرَادَا، قَالَ: فَلَا تَفْعَلَا فَوَاللَّهِ! مَا هُوَ بِفَاعِلٍ، فَقَالَا: لَمْ تَصْنَعْ هَذَا؟ فَمَا هَذَا مِنْكَ إِلَّا نَفَاسَةً عَلَيْنَا لَقَدْ صَاحَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنِلْتَ صِهْرَهُ فَمَا نَفِسْنَا ذَلِكَ عَلَيْكَ، قَالَ: فَقَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ، أَرْسِلُوهُمَا ثُمَّ اضْطَجَعَ قَالَ: صَلَّى الظُّهْرَ (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) سَبَقْنَاهُ إِلَى الْحُجْرَةِ فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى مَرَّ بِنَا فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا، ثُمَّ قَالَ: أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ، وَدَخَلَ فَدَخَلْنَا مَعَهُ وَهُوَ حِينَئِذٍ فِي بَيْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَكَلَّمْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! جِئْنَاكَ لِتُوَؤَمِّرَنَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَنُصِيبَ مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ وَنُؤَدِّي إِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي النَّاسُ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ، فَأَشَارَتْ إِلَيْنَا زَيْنَبُ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِهَا، كَأَنَّهَا تَنْهَانَا عَنْ كَلَامِهِ، وَأَقْبَلَ فَقَالَ: ( (أَلَا إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، ادْعُوا لِي مَحْمِيَّةَ بْنَ جَزْءٍ) ) ، وَكَانَ عَلَى الْعُشْرِ، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ فَأَتَيَا فَقَالَ لِمَحْمِيَّةَ: ( (أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ) )
۔ سیدناعبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ جمع ہوئے اور انہوں نے میرے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق مشورہ کیا اور کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دونوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کو صدقات کی وصولی پر مامور فرمائیں، اس طرح یہ دونوں لوگوں سے زکوٰۃ و صدقات وصول کرکے لائیں اور دوسروں کی طرح مالی منفعت یعنی اجرت حاصل کر سکیں،یہ بہتر چیز ہے، ابھی تک وہ دونوں یہ مشورہ ہی کر رہے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے پوچھا: تمہارے کیا ارادے ہیں؟ جب ان دونوں نے ان کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا: آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں؟ آپ یہ بات محض حسد کی بنا پر کر رہے ہیں، دیکھیں کہ آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہتے ہیں اور آپ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد بھی ہیں، لیکن ہم نے تو کبھی بھی آپ پر حسد نہیں کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی آخر ابو حسن ہوں، تم ان دونوں کو بھیج کر دیکھ لو، یہ کہہ کر وہ لیٹ گئے۔ عبد المطلب کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھ لی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل ہی حجرہ کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ہاتھ تھام لئے اور فرمایا: تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اس کا اظہار کر دو، اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لے گئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اندر چلے گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کے ہاں مقیم تھے،ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی اور عرض کیا: اللہ کے رسول۱ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے ہیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں زکوٰۃ و صدقات کی وصولی پر مامور فر ما دیں، اس طرح ہم بھی دوسروں کی طرح مالی منفعت حاصل کر سکیں گے، ہم بھی دوسروں کی طرح وصولیاں کرکے لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیں گے۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک کمرے کی چھت کی طرف اٹھایا، ہم نے کچھ کہنے کا ارادہ تو کیا لیکن سیدہ زینب رضی اللہ عنہ نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کرکے ہمیں بولنے سے روک دیا،کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: خبردار! محمد اور آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محمیہ بن جز کو بلا ؤ۔ جو کہ عشر پر مامور تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خُمُس (پانچواں حصے) میں سے ان دونوں کے مہر ادا کردو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3489]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17660»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1072
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3490
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ هُوَ وَالْفَضْلُ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُزَوِّجَهُمَا وَيَسْتَعْمِلَهُمَا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيُصِيبَانِ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَحْمِيَّةَ الزُّبَيْدِيِّ: ( (زَوِّجِ الْفَضْلَ) ) ، وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: ( (زَوِّجْ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ) ) ، وَقَالَ لِمَحْمِيَّةَ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى الْأَخْمَاسِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْدِقُ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ شَيْئًا، لَمْ يُسَمِّهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی شادیاں کرا دیں اور انہیں صدقات کی وصولی پر مامور کر دیں تاکہ وہ اس طرح کچھ مالی منفعت حاصل کر سکیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ صدقات تو لوگوں کی میل کچیل ہوتے ہیں اور یہ محمد اور آلِ محمد لئے حلال نہیں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا محمیہ زبیدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: فضل کی شادی کرا دو۔ اور سیدنا نوفل بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم عبد المطلب بن ربیعہ کی شادی کرا دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محمیہ زبیدی کو خُمُس کی وصولی پر مامور کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ان دونوں کا مہر خُمُس میں سے ادا کر دو۔ عبد اللہ بن حارث نے اس کی مقدار کا تعین نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3490]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17659»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3491
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: أَتَيْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَرَدَّتْهَا وَقَالَتْ: حَدَّثَنِي مَوْلَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ مِهْرَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ) )
۔ عطاء بن سائب کہتے ہیں: میں سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کی خدمت میں صدقہ کی ایک چیز لے کر حاضر ہوا، لیکن انہوں نے وہ چیز واپس کر دی اور کہا: مولائے نبی سیدنامہران نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، نیز قوم کا غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3491]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 315، وعبد الرزاق: 6942، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15799»

الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 315
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3492
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) أَنَّهَا قَالَتْ: أَخْبَرَنِي مِهْرَانُ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: ( (يَا مَيْمُونُ أَوْ يَا مِهْرَانُ! إِنَّا أَهْلَ بَيْتٍ نُهِينَا عَنِ الصَّدَقَةِ، وَإِنَّ مَوَالِينَا مِنْ أَنْفُسِنَا وَلَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ) )
۔ (دوسری سند) انھوں نے مجھے کہا: مجھے مہران نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلاتے ہوئے کہا: میمون! یا مہران! ہم ایسے اہل بیت ہیں کہ ہم کو صدقات سے روکا گیا ہے۔ ہمارے غلام بھی ہم میں سے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کھاتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3492]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16512»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16512
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں