🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْيَدِ الْعُلْيَا وَالْيَدِ السُّفْلَى
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3522
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ) ) ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَؤُلَاءِ بَنُو يَرْبُوعٍ قَتَلَةُ فُلَانٍ، قَالَ: ( (أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى) ) ، وَقَالَ أَبِي: قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ: ( (يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا) )
۔ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے، تم پہلے اپنی ماں پر خرچ کرو، پھر باپ پر، پھر اپنی بہن پر، پھر جس طرح قریبی بنتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو یربوع ہیں،یہ فلاں شخص کے قاتل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نفس دوسرے کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ابو نضر نے اپنی حدیث میں کہا: میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3522]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ اخرجه ابوداود: 4495 بلفظ مختلف منه وفيه: ((اما انه لا يجني عليك، ولا تجني عليه۔))، وأخرجه النسائي: 4832 بلفظ ابي داود المذكوره فقط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7105»
وضاحت: فوائد: … دورِ جاہلیت میں قصاص لینے کے لیے قاتل کے بجائے اس کے قبیلے کے کسی بندے کو بھی قتل کر دیتے تھے، لگتا ہے کہ سائل اس قسم کی بات کرنا چاہتا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ردّ کر دیا کہ ہر مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے۔
”سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے۔“ اور” اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کیا جائے۔“ ان دو جملوں سے مراد وہ خودساختہ پرتکلف زندگی نہیں ہے، جو اس وقت سرمایہ دار اور ان سے متأثر ہونے والے لوگوں کا معیار بن چکیہے، لوگوں کو ان کے مزاجوں نے اس قدر ستا رکھا ہے کہ ان کے گھروں کے اخراجات لاکھوں روپوں پر مشتمل ہیں۔ لیکن روایت کے مطابق ایک ماہ میں چار پانچ سو یا ایک ہزار روپے کا صدقہ کر لینے کو کافی سمجھتے ہیں، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مختلف عبادات کی مقدار کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ مقدار صدقہ و خیرات کی نظر آئے گی۔
ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے روحانی بیٹے بننے کو اعزاز سمجھیں،جنہوں نے مدینہ منورہ کے غریب مسلمانوں کو پینے کا پانی مہیا کرنے کے لیے بیس ہزار درہم کا بئر رومہ خریدا تھا، یہ (۵۲۴۰) تولے چاندی بنتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ اخرجه ابوداود: 4495 بلفظ مختلف منه وفيه: ((اما انه لا يجني عليك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ التَّكَسُّبِ اتِّكَالًا عَلَى السُّؤَالِ وَوَعِيدِ فَاعِدٍ
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3523
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَذْهَبَ إِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبَ، ثُمَّ يَأْتِي بِهِ يَحْمِلُهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ فَيَأْكُلَ خَيْرٌ لَهُ، مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، وَلَأَنْ يَأْخُذَ تُرَابًا فَيَجْعَلَهُ فِي فِيهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْعَلَ فِي فِيهِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف جائے اور وہاں سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پشت پر لاد کر لائے اور اسے فروخت کرکے کھائے، تو یہ اس کے حق میں لوگوں سے بھیک مانگنے کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ کسی چیز کو منہ میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ بندہ مٹی اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3523]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بالطرق، لكن قوله: ((ولأن ياخذ۔)) ضعيف بعنعنة محمد بن اسحاق المدلس۔ اخرجه البخاري: 1470، ومسلم: 1042 دون الجملة الاخيرة الضعيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7482»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ بندہ حلال کھانے کی کوشش کرے، اگرچہ وہ سالن کے بغیر جَو کی روٹی ہی ہو، مٹی کا ذکر بطورِ مبالغہ کیا گیا ہے، کیونکہ اس کو کھایا تو نہیں جاتا، رہا مسئلہ حرام کے کھانے کا تو وہ دل کو اندھا کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بالطرق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3524
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَاللَّهِ! لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ فَيَحْمِلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَأْكُلَ أَوْ يَتَصَدَّقَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِي رَجُلًا أَغْنَاهُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ، ذَلِكَ بِأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى) )
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر جائے اور لکڑیاں کاٹ کر اپنی کمر پر لاد کر لائے اور اس طرح (ان کی قیمت سے) کھانا بنائے یا صدقہ کر دے تو یہ کام اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے بندے کے پاس جا کر سوال کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے غنی کر رکھا ہو، آگے سے اس کی مرضی کہ کچھ دے دے یا نہ دے، یہ اس وجہ سے ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3524]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7315»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3525
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَفْتَحُ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، يَأْخُذُ الرَّجُلُ حَبْلَهُ فَيَعْمِدُ إِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَأْكُلُ بِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ مُعْطًى أَوْ مَمْنُوعًا) )
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی اپنے لیے سوال اور بھیک کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیےفقیری اور حاجت کا دروازہ کھول دیتا ہے، اگر ایک آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف نکل جائے اور اپنی کمر پر ایندھن کاٹ کر لائے اور (اس کے ذریعے) کھانا کھائے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے اور کہیں اسے کوئی چیز دے دی جائے اور کہیں محروم کر دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3525]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9411»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو حلال کمائی کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے سے بچنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3526
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ، حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بندہ بھی ہمیشہ بھیک مانگتا رہے گا، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3526]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1474، ومسلم: 1040، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4638»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1474
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3527
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (الْمَسْأَلَةُ كُدُوحٌ فِي وَجْهِ صَاحِبِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَسْتَبْقِ عَلَى وَجْهِهِ، وَأَهْوَنُ الْمَسْأَلَةِ مَسْأَلَةُ ذَوِي الرَّحِمِ، تَسْأَلُهُ فِي حَاجَةٍ، وَخَيْرُ الْمَسْأَلَةِ عَنْ ظَهْرٍ غَنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھیک مانگنا تو قیامت والے دن مانگنے والے کے چہرے پر خراشوں کا سبب ہو گا، لہٰذا اب جو آدمی چاہتا ہے، ان خراشوں کو اپنے چہروں پر باقی رکھے، اس سلسلے میں سب سے آسان سوال تو رشتہ داروں سے مانگ لینا ہے، لیکن وہ بھی ضرورت کے وقت ہونا چاہیے، اور سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد کیا جائے اور خرچ کرتے وقت اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3527]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5680 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5680»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3528
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِي قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ فَقُلْتُ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ سَمْرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْمَسَائِلُ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ يَسْأَلَ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ) )
۔ یزید بن عقبہ فزاری کہتے ہیں: میں حجاج بن یوسف کے ہاں گیا اورکہا: اللہ تعالیٰ امیر کے احوال کی اصلاح فرمائے، کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک حدیث سناؤں جو مجھے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی ہے، اس نے کہا: جی ہاں۔ یزید نے کہا: میں نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا خراش ہے، جس کے ذریعے بندہ اپنے چہرہ کو زخمی کرتا ہے،اب جو آدمی چاہتا ہے وہ اپنے چہرے کوبچا لے اور جو چاہتا ہے تووہ اسے چھوڑ دے۔ ہاں انسان کو چاہیے کہ وہ حکمران سے سوال کر لے یا کوئی ایسی ضرورت پوری کرنی ہو، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3528]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1639، والترمذي: 681، والنسائي: 5/ 100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20366»
وضاحت: فوائد: … (۱) یعنی سوال کر کے زخمی نہ کرے اور چہرہ زخموں سے محفوظ رکھے۔ (۲) یعنی سوال نہ کر کے چہرے پر جو رونق رہتی ہے اور چہرہ زخمی نہیں ہوتا اس کیفیت کو چھوڑے یعنی سوال کرے اور چہرہ زخمی کرے۔ (عون المعبود:۲/ ۳۹)۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1639
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3529
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا يُحْسِنَانِ الثَّنَاءَ، يَذْكُرَانِ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُمَا دِينَارَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَكِنْ وَاللَّهِ! فُلَانًا مَا هُوَ كَذَلِكَ، لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ، فَمَا يَقُولُ ذَاكَ، أَمَا وَاللَّهِ! إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُخْرِجُ مَسْأَلَتَهُ مِنْ عِنْدِي تَتَأَبَّطُهَا يَعْنِي تَكُونُ تَحْتَ إِبْطِهِ يَعْنِي نَارًا) ) ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِمَ تُعْطِيهَا إِيَّاهُمْ؟ قَالَ: ( (فَمَا أَصْنَعُ؟ يَا ابْنَ أُمَّ الْخَيْرِ إِلَّا ذَاكَ وَيَا ابْنِ أُمَّ الْخَيْرِ لَا يَبْخَلُ اللَّهُ لِي) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں اور فلاں آدمی کو سنا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ِ خیر کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دو دینار دیئے تھے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم!فلاں آدمی تو اس طرح کا نہیں ہے، میں نے تو اسے دس سے سو دینار دیئے ہیں، لیکن اس نے تو (احسان مند ہونے کی اور اچھے کلمات کہنے کی) کوئی بات ہی نہیں کی۔ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ تم میں سے ایک آدمی کا سوال مجھ سے کوئی مال نکال تو لیتا ہے، پھر بغل میں دبا کر چلا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنی بغل کے نیچے آگ دے رہا ہوتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے لوگوں کو دیتے کیوں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کیا کروں، وہ مانگنے سے باز نہیں آتے اور اللہ تعالیٰ مجھے بخل نہیں کرنے دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3529]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ اخرجه البزار: 925، وابن حبان: 3412، 3414، والحاكم: 1/ 46، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11004 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11017»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے لوگوں کو نہ دیں تو وہ زبان درازی شروع کر دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخیل کہنا شروع کردیں گے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فطرت اور جبلّت میں سخاوت رکھ دی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ اخرجه البزار: 925
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3530
عَنْ مُعَاوِيَةَ (بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَاللَّهِ! لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ شَيْئًا فَتَخْرُجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ، فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهَا) )
۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مانگنے پر اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم! جو بندہ بھی مجھ سے سوال کرے گا اور پھر اس کا سوال مجھ سے مال بھی نکال لے گا تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3530]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1038، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17017»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَوَاللّٰہِ! لَا یَسْاَلُنِیْ اَحَدٌ مِنْکُمْ شَیْئًا فَتُخْرِجُ لَہٗمَسْاَلَتُہٗمِنِّیْ شَیْئًا وَاَنَا لَہٗکَارِہٌفَیُبَارَکَ لَہٗفِیْ مَا اَعْطَیْتُہٗ۔)) یعنی: ”اللہ کی قسم! جو بندہ بھی مجھ سے سوال کرتا ہے اور اس کا سوال مجھ سے مال بھی نکال لیتا ہے، جبکہ میں ناپسند کرنے والا ہوں، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی۔“

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1038
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3531
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ وَإِنَّمَا يُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِطِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَطِيبِ طَعْمَةٍ، فَإِنَّهُ يُبَارَكُ لَهُ فِيهَا، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِشَرَهِ نَفْسٍ وَشَرَهِ مَسْأَلَةٍ فَهُوَ كَالَّذِي يَأْكُلُ فَلَا يَشْبَعُ) )
۔ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو خزانچی (اور تقسیم کرنے والا) ہوں، دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے، میں جس آدمی کو بخوشی کوئی چیز دوں گا تو اس کے لئے اس میں برکت کی جائے گی اور میں جس کو اس کے نفس اور سوال کی شدید حرص کے ساتھ دوں گا تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھاتاتو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3531]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17045»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1037
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں