الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ نَهْيِ الْغَنِيِّ عَنِ السُّؤَالِ وَحَدِّ الْغِنَى - وَمَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ
مالدار کو سوال سے منع کرنے، غِنٰی کی حد اور ان لوگوں کا بیان، جن کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3512
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
۔ سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غنی کا سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پر عیب ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3512]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ 362، وفي ’’الاوسط‘‘: 8173، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20059»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ 362
حدیث نمبر: 3513
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْرَابِيٌّ قَدْ أَلَحَّ عَلَيْهِ فِي الْمَسْأَلَةِ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَطْعِمْنِي، يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعْطِنِي، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْمَنْزِلَ وَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْحُجْرَةِ وَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَقَالَ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ فِي الْمَسْأَلَةِ مَا سَأَلَ رَجُلٌ رَجُلًا وَهُوَ يَجِدُ لَيْلَةً تُبِيتُهُ) ) ، فَأَمَرَ لَهُ بِطَعَامٍ
۔ سیدناعائد بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بدو آیا اور وہ خوب اصرار اور ضد کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کھلائیں، اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور گھر تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوکھٹ کے دو بازؤوں کو پکڑا اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے!سوال کرنے اور بھیک مانگنے کے (انجام کے بارے میں) جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم بھی اسے جان لو تو جس کے پاس ایک شام کا کھانا موجود ہو، وہ کسی سے کوئی چیز نہ مانگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے کھانے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3513]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20922»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک وقت کے کھانے کو سوال نہ کرنے کے لیے معیار قرار دیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3514
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کو زیادہ کرنے کے لئے لوگوں سے سوال کرتا ہے، وہ دراصل آگ کے انگارے جمع کر رہا ہے، یہ اب اس کی مرضی ہے وہ تھوڑے جمع کر لے یا زیادہ۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3514]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7163»
وضاحت: فوائد: … مقدار کے بارے میں مزید ایک حدیثیہ ہے: مزنی قبیلے کے ایک آدمی کو اس کی ماں نے کہا: کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں جاتا، تاکہ آپ سے کچھ مانگ لائے، جیسا کہ لوگ سوال کرتے رہتے ہیں؟ میں (ان کے کہنے پر) کچھ مانگنے کے لیے چلا گیا، میں نے دیکھا کہ آپ لوگوں سے مخاطب تھے اور فرما رہے تھے: ((مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَغْنٰی أَغْنَاہُ اللّٰہُ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَہُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ، فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافاً۔)) ”جس نے پاکدامنی اختیار کی، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن کر دے گا اور جس نے (لوگوں سے) بے نیاز ہونا چاہا، اللہ اسے بے نیاز کر دے گا۔ (یاد رکھو کہ) جس کے پاس پانچ اوقیے ہوںاور وہ پھر بھی سوال کرے تو اس کا سوال اصرار سے ہو گا۔“ میں نے اپنے دل میں ہی کہا: ہماری اونٹنی پانچ اوقیوں سے تو بہتر ہے اور ایک اونٹنی میرے غلام کی بھی ہے وہ بھی پانچ اوقیوں سے بہتر ہے۔ اس بنا پر میںلوٹ آیااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی سوال نہ کیا۔ (مسند احمد: ۴/ ۱۳۸، صحیحہ:۲۳۱۴) درج بالا احادیث ِ مبارکہ میں جہاں سوال کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے، وہاں درج ذیل مختلف پانچ مقداروں کو غِنٰی کی حداور سوال کرنے سے مانع قرار دیا گیا ہے:
(۱) … پچاس درہم یعنی (۱۲، ۱۳) تولے چاندی
(۲) … چالیس درہم یعنی (۱۰) تولے چاندی
(۳) … دو وقت کا کھانا
(۴) … ایک وقت کا کھانا
(۵) … پانچ اوقیہ،یعنی (۲۰۰) درہم، جو کہ تقریبا (۵۲) تولے چاندی بنتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ قوانین علی الاطلاق نہیں ہیں، بلکہ مقید ہیں، مثال کے طور پرجس آدمی کی زندگی کے اخراجات چالیس درہموں کے ساتھ پورے ہو سکتے ہوں، وہ کسی صورت میں سوال نہیں کر سکتا، مثلا ایک مزدور جو روزانہ آٹھ نو درہم کماتا ہے اور اس کے پاس چالیس درہم موجود بھی ہوں تو وہ لوگوں سے بھیک نہیں مانگ سکتا، اگرچہ بسا اوقات اسے کام نہ ملتا ہو، یہی معاملہ چھابڑی فروشوں اور معمولی درجے کے دوکانداروں کا ہے۔ لیکن ایک آدمی کے پاس رہنے کے لیے گھراور دودھ کے لیے بکری موجود ہے، لیکن ان دو چیزوں سے اس کے گھر کے اخراجات کا سلسلہ تو قطعی طور پر جاری نہیں رہ سکتا، حالانکہ وہ چالیس درہم سے زیادہ مال کا مالک ہے،اس لیے وہ لوگوں سے سوال کر سکتا ہے۔ ماحصل یہ ہے کہ جس کی زندگی کا سرکل چالیس درہم یا اس سے کم قیمت کے مال سے چل سکتا ہو، وہ دوسروں کے سامنے دست ِ سوال نہیں پھیلا سکتا۔ مقصودِ شریعتیہ ہے کہ جس آدمی کی آمدن اس کے اور اس کے اہل خانہ کے ضروری اخراجات پورے کر رہی ہو، وہ لوگوں سے سوال نہیں کر سکتا، بصورت ِ دیگر اس کے جواز کی رائے دی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
(۱) … پچاس درہم یعنی (۱۲، ۱۳) تولے چاندی
(۲) … چالیس درہم یعنی (۱۰) تولے چاندی
(۳) … دو وقت کا کھانا
(۴) … ایک وقت کا کھانا
(۵) … پانچ اوقیہ،یعنی (۲۰۰) درہم، جو کہ تقریبا (۵۲) تولے چاندی بنتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ قوانین علی الاطلاق نہیں ہیں، بلکہ مقید ہیں، مثال کے طور پرجس آدمی کی زندگی کے اخراجات چالیس درہموں کے ساتھ پورے ہو سکتے ہوں، وہ کسی صورت میں سوال نہیں کر سکتا، مثلا ایک مزدور جو روزانہ آٹھ نو درہم کماتا ہے اور اس کے پاس چالیس درہم موجود بھی ہوں تو وہ لوگوں سے بھیک نہیں مانگ سکتا، اگرچہ بسا اوقات اسے کام نہ ملتا ہو، یہی معاملہ چھابڑی فروشوں اور معمولی درجے کے دوکانداروں کا ہے۔ لیکن ایک آدمی کے پاس رہنے کے لیے گھراور دودھ کے لیے بکری موجود ہے، لیکن ان دو چیزوں سے اس کے گھر کے اخراجات کا سلسلہ تو قطعی طور پر جاری نہیں رہ سکتا، حالانکہ وہ چالیس درہم سے زیادہ مال کا مالک ہے،اس لیے وہ لوگوں سے سوال کر سکتا ہے۔ ماحصل یہ ہے کہ جس کی زندگی کا سرکل چالیس درہم یا اس سے کم قیمت کے مال سے چل سکتا ہو، وہ دوسروں کے سامنے دست ِ سوال نہیں پھیلا سکتا۔ مقصودِ شریعتیہ ہے کہ جس آدمی کی آمدن اس کے اور اس کے اہل خانہ کے ضروری اخراجات پورے کر رہی ہو، وہ لوگوں سے سوال نہیں کر سکتا، بصورت ِ دیگر اس کے جواز کی رائے دی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7163
33. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْيَدِ الْعُلْيَا وَالْيَدِ السُّفْلَى
اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
حدیث نمبر: 3515
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ: ( (إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعْ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى) )
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیا، میں نے پھر سوال کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا مطالبہ پورا کر دیا، میں نے تیسری بار مطالبہ کر دیا، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دے دیا، لیکن یہ بھی فرمایا: یہ مال دلکش اور دل پسند چیز ہے، جو کوئی اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو شخص حریص بن کر اس کو لے گا، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہو گی، اوروہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھانا کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا، بہرحال اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3515]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 6441، ومسلم: 1035، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15659»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 6441
حدیث نمبر: 3516
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَالِ فَأَلْحَفْتُ، فَقَالَ: ( (يَا حَكِيمُ! مَا أَكْثَرَ مَسْأَلَتَكَ! يَا حَكِيمُ! إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّهُ مَعَ ذَلِكَ أَوْسَاخُ أَيْدِي النَّاسِ، وَيَدُ اللَّهِ فَوْقَ يَدِ الْمُعْطِي، وَيَدُ الْمُعْطِي فَوْقَ يَدِ الْمُعْطَى وَأَسْفَلُ الْأَيْدِي يَدُ الْمُعْطَى) )
۔ (دوسری سند) سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور خوب اصرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حکیم! تم کس قدر کثرت سے سوال کر رہے ہو! اے حکیم! یہ مال دلکش اور دل پسند ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں کے ہاتھوں کی میل کچیل بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ دینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3516]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الحاكم: 3/ 484، والطبراني في ’’الكبير‘‘3095، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15321 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15395»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ بندے کو دنیوی زندگی گزارنے کے لیے مختلف اسباب کی ضرورت تو ہے، لیکن وہ حسب ِ استطاعت محنت کر کے ان اسباب کو پورا کرنے کی کوشش کرے اور آزادانہ شب و روز کو گزارتے ہوئے کسی کے مال و دولت کی طرف حریصانہ نگاہ سے مت دیکھے۔ خدا نخواستہ اگر اسے دست ِ سوال پھیلانا پڑ جاتا ہے تو اس کو بھی اپنا حق سمجھ کر ضرورت پورا ہونے تک استعمال کرے اور اپنی عزت و غیرت میں کمی نہ آنے دے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الحاكم: 3/ 484
حدیث نمبر: 3517
عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ) ) ، فَقُلْتُ: وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ( (وَمِنِّي) ) ، قَالَ حَكِيمٌ: لَا تَكُونُ يَدِي تَحْتَ يَدِ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ أَبَدًا
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم میں سے ہر کوئی اپنے زیر کفالت افراد پر خرچ کرنا شروع کرے، سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے اور جو آدمی لوگوں سے مستغنی ہونا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، اور جو آدمی مانگنے سے بچنا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا دے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سے بھی مانگنے کا یہی حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، مجھ سے بھی ایسے ہی ہے۔ یہ سن کر سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا ہاتھ کسی بھی عربی کے ہاتھ کے نیچے نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3517]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه البخاري: 1427، ومسلم: 1034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15663»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه البخاري: 1427
حدیث نمبر: 3518
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ، فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى) )
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین قسم کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اوپر ہے، اس سے نیچے دینے والے کا ہاتھ اور مانگنے والے کا ہاتھ تو سب سے نیچے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3518]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن خزيمة: 2435، والحاكم: 1/ 408، والبيھقي: 4/ 198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4261»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه ابن خزيمة: 2435
حدیث نمبر: 3519
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ: ( (فَأَعْطِ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجَزْ عَنْ نَفْسِكَ) )
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: تم زائد چیز صدقہ کر دو اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3519]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1649، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15985»
وضاحت: فوائد: … ”اپنے نفس سے عاجز نہ آ جاؤ“اس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے آپ کو کنگال نہ کردو، بلکہ اپنی ذات سے متعلقہ اہم امور کے لیے کچھ سرمایہ بچا کر رکھو، وگرنہ اپنے زیرِ کفالت افراد کی کفالت کرنے سے بھی عاجز آ جاؤ گے اور لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانا پڑے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1649
حدیث نمبر: 3520
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى، الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ، وَالْيَدُ السُّفْلَى السَّائِلَةُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوپر والا ہاتھ،نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3520]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1429، ومسلم: 1033، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5344»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1429
حدیث نمبر: 3521
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ذاتی ضروریات کے بعد ہی صدقہ کیا جائے، اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل اور بہتر ہے اور تم اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3521]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1428 بلفظ: ((خير الصدقة))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10518»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1428 بلفظ: ((خير الصدقة))