🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ التَّكَسُّبِ اتِّكَالًا عَلَى السُّؤَالِ وَوَعِيدِ فَاعِدٍ
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3532
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (وَاللَّهِ مَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ وَلَا أُمْنَعُكُمُوهُ، إِنْ أَنَا إِلَّا خَازِنٌ أَصْنَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں نہ کوئی چیز دے سکتا ہوں اور نہ کسی چیز سے محروم کر سکتا ہوں، میں تو محض خزانچی (اور تقسیم کرنیوالا) ہوں، مجھے جیسے حکم ملتا ہے، میں اس کے مطابق کر دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3532]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابوداود: 2949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8140»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابوداود: 2949
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3533
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (هَذِهِ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَطِيبِ طَعْمَةٍ، وَلَا إِشْرَافٍ، بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَغَيْرِ طِيبِ طَعْمَةٍ وَإِشْرَافٍ مِنْهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهَا) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دنیا سر سبز اور میٹھی ہے، ہم جسے خوش دلی سے اور اس کی حرص کے بغیر اس کے حصہ سے زائد بھی دے دیں تو اس کے لئے اس میں برکت ہوتی ہے اور ہم جسے بادل ناخوانستہ اور اس کی حرص کی بنا پر کچھ دیں گے تو اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3533]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لضعف شريك۔ اخرجه ابن حبان: 3215، والبزار: 920، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24898»
وضاحت: فوائد: … جہاں اس باب میں لوگوں سے سوال کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے، وہاں مجبوری میں اس چیز کو جائز بھی قرار دیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ اِن احادیث ِ مبارکہ کا ہماری زندگیوں سے کیا تعلق ہے،یہ فرمودات ِ عالیہ ہمیں کیا سمجھا کر ہماری کس چیز کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، اس چیز کو محسوس کرنے کے لیےیقینا بڑے ضمیر کی ضرورت ہے، جو اس چیز کو پا لینے کی اہلیت رکھتا ہو کہ معاشرے میں عزت کے کیا تقاضے ہیں اور بے عزتی کی کون سی صورتیں ہیں، مصیبتیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جن لوگوں کی نگاہیں دوسروں کے جیبوں پر جمی ہوئی ہیں، وہ اسلامی غیرت اور معاشرتی عزت کو محسوس کرنے سے ہی عاری ہیں اور بے شعور زندگی گزار رہے ہیں، اس معاملے میں مساجد و مدارس سے متعلقہ مذہبی طبقے کے بعض افراد کو بھی کافی توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. فَصْلٌ مِنْهُ فِي التَّعَفُّفِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ وَفَضْلِ ذَلِكَ
سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3534
عَنْ هِلَالِ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَضَمَّنِي وَإِيَّاهُ الْمَجْلِسُ، قَالَ: فَحَدَّثَ أَنَّهُ أَصْبَحَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ عَصَبَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنَ الْجُوْعِ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ أَوْ أُمُّهُ: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: حَتَّى أَلْتَمِسَ شَيْئًا، قَالَ: فَالْتَمَسْتُ فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَخْطُبُ فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (مَنِ اسْتَعَفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنِ اسْتَغْنَى يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَنَا إِمَّا أَنْ نَبْذُلَ لَهُ وَإِمَّا أَنْ نُوَاسِيَهُ، وَمَنْ يَسْتَعِفُّ عَنَّا أَوْ يَسْتَغْنِ يَحْبُبُ إِلَيْنَا مِنْمَنْ يَسْأَلُنَا) ) ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَمَا سَأَلْتُهُ شَيْئًا، فَمَا زَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرْزُقُنَا حَتَّى مَا أَعْلَمُ فِي الْأَنْصَارِ أَهْلَ بَيْتٍ أَكْثَرَ أَمْوَالًا مِنَّا
۔ ہلال بن حصین کہتے ہیں: میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں جا کر ٹھہرا، ہم ایک مجلس میں جمع ہوئے، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ انہوں نے اس حال میں صبح کی کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا، ان کی اہلیہ یا والدہ نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگ کر لاؤ، جب فلاں آدمی نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیا تھا، اسی طرح فلاں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر مانگا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی عطا کیا تھا۔ میں (ابو سعید)نے جواباً کہا: میں پہلے (کسی اور ذریعہ سے) کوئی چیز حاصل کرنے کی کوشش کروں گا، پھر میں نے ایسے ہی کیا، مگر مجھے (کہیں سے) کچھ بھی نہ ملا۔ بالآخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا گیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت یہ بات ارشاد فرما رہے تھے: جو آدمی مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا اور جس نے غِنٰی اختیار کیا،اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا اور جو آدمی ہم سے کوئی چیز مانگے گا تو ہم اسے کچھ نہ کچھ دے دیں گے، بہرحال جو شخص ہم سے مانگنے سے بچے گا اور غِنٰی اختیار کرے گا تو وہ ہمیں سوال کرنے والے آدمی کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہو گا۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ حدیث سن کر میں واپس چلا آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی سوال نہیں کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس قدر رزق دیا کہ میں نہیں جانتا کہ انصار کے کسی گھر والے ہم سے زیادہ مال دار ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3534]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ اخرجه الطيالسي: 2211، وابن ابي شيبة: 3/ 211، والبيھقي في ’’شعب الايمان‘‘: 3504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11421»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ نے جس غیرت کے ساتھ حدیث ِ مبارکہ کے تقاضے پورے کیے، اس کی برکتوں کا سلسلہ لامتناہی ہے، لیکن اس کی ابتداء بندے کے صبر سے ہوتی ہے۔ حقیقی رزّاق اللہ تعالیٰ ہے، ساری مخلوق اسی کی محتاج ہے اور وہ سب سے غنی ہے، اس نے ہر ایک کو رزق دینا ہے، ہمیں چاہیے کہ اچھے انداز میں اس سے اپنا رزق وصول کریں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3535
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَا أَجِدُ لَكُمْ رِزْقًا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبر سے کام لیا، اللہ اسے صابر بنا دے گا،جس نے استغنا اختیار کیا، اللہ تعالیٰ اسے غنی بنا دے گا اورجو مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا اور میں تمہارے لئے صبر سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3535]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 6470، ومسلم: 1053، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11107»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 6470
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3536
عَنْ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ قَوْمِي كَفَرُوا، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَهَّزَ لَهُمْ جَيْشًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ قَوْمِي عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: ( (أَكَذَلِكَ؟) ) فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ لَيْلَتِي إِلَى الصَّبَاحِ فَأَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ لَمَّا أَصْبَحْتُ وَأَعْطَانِي إِنَاءً تَوَضَّأَ مِنْهُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْإِنَاءِ فَانْفَجَرَ عُيُونًا، فَقَالَ: ( (مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلْيَتَوَضَّأْ) ) ، فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ وَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ وَأَعْطَانِي صَدَقَتَهُمْ، فَقَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: فُلَانٌ ظَلَمَنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا خَيْرَ فِي الْإِمْرَةِ لِمُسْلِمٍ) ) ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ صَدَقَةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الصَّدَقَةَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَحَرِيقٌ فِي الْبَطْنِ أَوْ دَاءٌ) ) ، فَأَعْطَيْتُهُ صَحِيفَتِي أَوْ صَحِيفَةَ إِمْرَتِي وَصَدَقَتِي، فَقَالَ: ( (مَا شَأْنُكَ؟) ) فَقُلْتُ: كَيْفَ أَقْبَلُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ، فَقَالَ: ( (هُوَ مَا سَمِعْتَ) )
۔ صحابی ٔ رسول حبان بن بح صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری قوم کے بعض لوگ کافر ہو گئے ہیں تو مجھے اطلاع دی گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک لشکر تیار کیا ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری قوم تو اسلام ہی پر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا واقعی بات ایسے ہی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر میں صبح تک یعنی رات بھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہا، صبح کو میں نے نماز کے لئے اذان کہی، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک برتن دیا تاکہ میں وضو کر لوں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس برتن میں ڈالیں تو ان سے چشمے پھوٹ پڑے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی وضو کرنا چاہتا ہے کر لے۔)) چنانچہ میں نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کا امیربنایا اور ان کی طرف سے ادا کیے گئے صدقات مجھے عطا کر دیئے، ایک آدمی اٹھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، اس نے کہا: فلاں آدمی نے مجھ پر ظلم کیا ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے لئے امارت میں کوئی خیر نہیں ہے۔ اس کے بعد ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقے کا سوال کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ سر کی درد اور پیٹ کی جلن یا بیماری کا سبب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ فرامین سن کر میں نے اپنی امارت اور صدقات وصول کرنے کا عہدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس لوٹا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: میں اس ذمہ داری کوکیسے قبول کروں، جبکہ آپ اس کے بارے میں یہ کچھ فرما چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات تو وہی ہے جو تم سن چکے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3536]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل ابن لھيعة۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3575، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17677»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف من اجل ابن لھيعة۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3575
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. فَصْلٌ مِنْهُ فِي الْبَيْعَةِ عَلَى عَدَمِ السُّؤَالِ
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3537
عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَأَبِي الْمُثَنَّى أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، وَأَوْثَقَنِي سَبْعًا، وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَيَّ تِسْعًا أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، ثُمَّ قَالَ أَبُو الْمُثَنَّى: قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (هَلْ لَكَ إِلَى بَيْعَةٍ وَلَكَ الْجَنَّةُ؟) ) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَبَسَطْتُ يَدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ: ( (أَنْ لَا تَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا) ) ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ( (وَلَا سَوْطَكَ إِنْ يَسْقُطْ مِنْكَ حَتَّى تَنْزِلَ إِلَيْهِ فَتَأْخُذَهُ) )
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اس بات پر پانچ دفعہ بیعت لی، سات مرتبہ پختہ عہد لیا اور نو بار اللہ تعالیٰ کو مجھ پر گواہ بنایا کہ میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔ ابو مثنّٰی کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: کیا تم ایک ایسی میری بیعت کرنے پر تیار ہو جاؤ گے، جس کے عوض تم کو جنت ملے گی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر میں نے اپنا ہاتھ آگے کر دیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر اس شرط کا تعین کرتے ہوئے فرمایا: تم نے لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرنا۔ میں نے کہا: جی ٹھیک ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوڑا بھی گر جائے تو اس کا سوال بھی نہیں کرنا، بلکہ خود اتر کر اٹھانا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3537]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو اليمان و ابو المثني في عداد المجھولين، لكن تشھد لھاتين الجملتين احاديث اخري:’’اَنْ لا اَخَافَ فِي اللّٰهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ‘‘ و ’’اَنْ لَّاتَسْاَلِ النَّاسَ شَيْئًا‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21841»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3538
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سِتَّةِ نَفَرٍ أَوْ سَبْعَةٍ أَوْ ثَمَانِيَةٍ، فَقَالَ لَنَا: ( (بَايِعُونِي) ) ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! قَدْ بَايَعْنَاكَ، قَالَ: ( (بَايِعُونِي) ) ، فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا فِيمَا أَخَذَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ كَلِمَةً خَفِيَّةً، فَقَالَ: ( (لَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا) )
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چھ یا سات یا آٹھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میری بیعت کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم تو آپ کی بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تم میری بیعت کرو۔ پس ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے ان ہی امور کی بیعت لی، جو دوسروں سے لی تھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخفی سے انداز میں ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور وہ یہ تھا کہ: تم لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3538]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1043، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23993 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24493»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں درج ذیل وضاحت موجود ہے: سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نئی نئی بیعت کی تھے، اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت کا مطالبہ کیا تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول کی بیعت نہیں کرو گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ ایسے فرمایا اور صحابۂ کرام بھی آگے سے یہی بات کہتے رہے کہ ہم تو آپ کی بیعت کر چکے ہیں۔آخری مرتبہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک دفعہ تو ہم آپ کی بیعت کر چکے ہیں، اب ہم کس چیز پر بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہبیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازیں ادا کرو گے اور اطاعت کرو گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پست آواز میں یہ جملہ بھی ارشاد فرمایا: ”اور تم لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرو گے۔“ میں نے دیکھا کہ اگر ان لوگوں سے سواری کے اوپر سے چھڑی گر جاتی، تو وہ کسی سے یہ مطالبہ بھی نہیں کرتے تھے کہ وہ ان کو اٹھاکر دے دے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1043
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3539
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ يَتَقَبَّلُ، (وَفِي رِوَايَةٍ مَنْ يَتَكَفَّلُ) لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَقَبَّلُ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَأَتَكَفَّلُ) لَهُ بِالْجَنَّةِ؟) ) قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: ( (لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا) ) ، فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِيهِ حَتَّى يَنْزِلَ فَيَتَنَاوَلَهُ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے ایک چیز کی ضمانت دے، اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں گا؟ میں نے کہا: جی میں (حاضر ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: توپھر تم نے لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرنا۔ جب سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہوتے اور ان کی لاٹھی گر جاتی تو وہ کسی سے نہیں کہتے تھے کہ وہ ان کو اٹھا کر دے دے، بلکہ خود سواری سے اتر کر اس کو اٹھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3539]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1837، والنسائي: 5/ 96،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22744»
وضاحت: فوائد: … ہمیں اندازہ کر لینا کہ ہمارے مذہب کے نزدیک ہماری عزت اور غیرت کس قدر قیمتی چیز ہے کہ اس کا ہلکا سا متأثر ہونا بھی ہماری شریعت کو گوارا نہیں ہے، جو لوگ شریعت کے اس قانون کے بارے میں محتاط نہیں رہتے، معاشرے میں ان کی قدر گھٹ جاتی ہے، بلکہ وہ خود عزت ِ نفس میں کمی ہوتی ہوئی محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں اس بارے میں اپنے ضمیر کے ساتھ یہ پکا فیصلہ کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کسی شخص سے کوئی مطالبہ نہیں کرنا اور کسی بشر سے کوئی حرص اور لالچ وابستہ نہیں رکھنی، زندگی کا مزہ بھی آئے گا اور اللہ تعالیٰ خیر و برکت بھی عطا کرے گا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1837
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ جَوَازِ قَبُولِ الْعَطَاءِ إِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ - وَسُؤَالِ الصَّالِحِينَ إِنْ كَانَ وَلَا
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو¤تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3540
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ مِنِّي، قَالَ: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ، وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ، وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ) )
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی چیز دیتے تھے تو میں کہتا تھا کہ آپ یہ چیز اس کو دیں، جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے مال دیا اور میں نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ مال مجھ سے زیادہ حاجت مند کو دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ لے لو اور اس کے مالک بنو اور (پھر چاہو تو) اسے صدقہ کر دو، جو مال لالچ اور سوال کے بغیر مل جائے، وہ لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگایا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3540]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7164، ومسلم: 1045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 136»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7164
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3541
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ، فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ: إِنِّي يَا بُنَيَّ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ: رُدُّوهُ عَلَيَّ، فَرَدُّوهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَا عَائِشَةُ! مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَأَقْبَلِيهِ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ) )
۔ مطلب بن حنطب کہتے ہیں: عبد اللہ بن عامر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ خرچہ اور لباس بھیجا، لیکن انہوں نے قاصد سے کہا: میرے پیارے بیٹے! میں کسی سے کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ چلا گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:اسے واپس بلاؤ۔ جب لوگوں نے اسے واپس بلایا تو انھوں نے کہا: مجھے ایک بات یاد آئی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی کہ عائشہ! جو آدمی بن مانگے کوئی چیز تمہیں دے دے تو وہ لے لیا کرو، کیونکہ یہ تو ایسا رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف بھیجا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3541]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه البيھقي: 6/ 184، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26763»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه البيھقي: 6/ 184
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں