الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ مَشْرُوعِيَّتِهَا وَحُكْمِهَا وَعَلَى مَنْ تَجِبُ
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
حدیث نمبر: 3561
عَنْ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: سَأَلْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَدَقَةِ الْفَطْرِ فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، ثُمَّ نَزَلَتِ الزَّكَاةُ فَلَمْ نُنْهَ عَنْهَا وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، ثُمَّ نَزَلَ رَمَضَانُ فَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ وَلَمْ نُنْهَ عَنْهُ وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ
۔ ابو عمار کہتے ہیں: میں نے سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے صدقۂ فطر کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے تو صدقۂ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، البتہ جب زکوٰۃ (کی فرضیت) نازل ہو گئی تو اس کے بعد نہ اس صدقہ سے ہمیں روکا گیا اور نہ از سرِ نو اس کا حکم دیا گیا، البتہ ہم ادا کرتے آ رہے ہیں۔ پھر میں نے ان سے یومِ عاشوراء کے روزے کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نہ ہمیں از سرِ نو اس روزے کا حکم دیا گیا اور نہ اس سے منع کیا گیا، البتہ ہم اس کا روزہ رکھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3561]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 5/ 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24341»
وضاحت: فوائد: … صدقۂ فطر اب بھی مشروع ہے، زکوۃ کی فرضیت سے اس کی فرضیت میں کوئی فرق نہیں پڑا، زکوۃ کے حکم کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقۂ فطر کے بارے میں از سرِ نو حکم نہ دینا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 5/ 49
43. بَابُ مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِهَا وَأَصْنَافِهَا
صدقۂ فطر کی مقدار اور اجناس کا بیان
حدیث نمبر: 3562
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُؤَدِّي صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، فَلَمَّا جَاءَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَتِ السَّمْرَاءُ فَرَأَى أَنَّ مُدًّا يَعْدِلُ مُدَّيْنِ
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں جو، کھجور، منقی اور پنیر کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر ادا کیا کرتے تھے، لیکن جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (اپنے دور میں حج یا عمرہ ادا کرنے کے لیے) تشریف لائے تو اس وقت شامی گندم بھی آ گئی تھی، انہوں نے یہ خیال ظاہر کیاکہ گندم کا ایک مُدّ دیگر اجناس کے دو مُد کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3562]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1505، 1508، ومسلم: 985، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11698 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11721»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1505
حدیث نمبر: 3563
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ إِذَا كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
۔ (دوسری سند)سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود تھے تو ہم کھانے، کھجور، جو، منقیٰ اور پنیر کا ایک ایک صاع بطور صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہمارے پاس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3563]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11954»
وضاحت: فوائد: … گندم میں سے پورا یا نصف صاع صدقہ فطر دیا جائے گا؟ یہ صحابہ کرام میں بھی ایک مختلف فیہ مسئلہ تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں پاکستان میں گندم سستی اور کھجور مہنگی ہے، اسی طرح اُس وقت عرب میں کھجور سستی اور گندم مہنگی ہوتی تھی۔ جب سیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرے کے موقع پر مکہ مکرمہ تشریف لائے، تو لوٹنے سے پہلے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: میرا خیال ہے کہ شام کی گندم کا نصف صاع (قیمت میں) کھجور کے ایک صاع کے برابر ہے، لہٰذا آئندہ گندم کا نصف صاع ادا کیا کریں گے۔ لیکن سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ اسی طرح (ایک صاع) ہی ادا کرتا رہوں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھا۔ (مسلم) اس حدیث سے یوں معلوم ہو رہا ہے کہ گندم کا نصف صاع بطورِ صدقۂ فطر ادا کرنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ہے۔ اگلے باب میں اس مسئلہ کی وضاحت آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11954
حدیث نمبر: 3564
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ، قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ بَعْدُ نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ، قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي التَّمْرَ، إِلَّا عَامًا وَاحِدًا أَعْوَزَ التَّمْرُ، فَأَعْطَى الشَّعِيرَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مذکرو مونث اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے، بعد میں لوگوں نے گندم کے نصف صاع کو ان اجناس کے ایک صاع کے مساوی قرار دیا تھا۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ صدقۂ فطر کے سلسلہ میں کھجور ہی ادا کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال کھجور کی قلت ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے جو عطا کیے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3564]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1511، ومسلم: 984، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4486»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1511
44. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَنْ رَوَى نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ
گندم کے نصف صاع کی روایت بیان کرنے والے
حدیث نمبر: 3565
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَكَانَ مَعْمَرٌ يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَكَرٍ وَأُنْثَى صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ فَقِيرٍ أَوْ غَنِيٍّ، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ، قَالَ مَعْمَرٌ وَبَلَغَنِي أَنَّ الزُّهْرِيَّ كَانَ يَرْوِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر آزادو غلام، مرد و زن، چھوٹے بڑے اور فقیر اور غنی پر کھجور کا ایک صاع اور گندم کا نصف صاع بطورِ صدقۂ فطر فرض ہے۔ معمر کہتے ہیں: مجھے یہ خبرملی ہے کہ امام زہری اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوعاً بیان کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3565]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، وھو موقوف۔ اخرجه عبد الرزاق: 5761، والدارقطني: 2/ 149، والبيھقي: 4/ 164، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7710»
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
حدیث نمبر: 3566
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ كَذَا وَكَذَا وَنِصْفَ صَاعٍ بُرًّا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقۂ فطر کے سلسلہ میں فلاں فلاں جنس کا ایک ایک صاع اور گندم کا نصف صاع مقرر فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3566]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسن بن ابي الحسن البصري مدلس وقد عنعن۔ اخرجه النسائي: 5/ 50، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2018»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3567
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي آخِرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْبَصْرَةِ! أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ؟ قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى
۔ حسن بصری کہتے ہیں: سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ماہِ رمضان کے آخری دنوں میں خطبہ دیا اور کہا: اسے اہل بصرہ! تم اپنے روزوں کی زکوٰۃ ادا کرو۔ یہ سن کر لوگ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: یہاں مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے افراد کون ہیں؟ اٹھو ذرا اور اپنے بھائیوں کو یہ تعلیم دو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر غلام و آزاد اور مردوزن پر صدقۂ فطر کے سلسلہ میں گندم کا نصف صاع اور جو اور کھجور کا ایک ایک صاع فرض کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3567]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن لم يسمع من ابن عباس، جزم كثير من العلماء علي ھذا۔ اخرجه النسائي: 3/ 190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3291»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 3568
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ الْعُذْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ فَقَالَ: أَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ كُلِّ اثْنَيْنِ) أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ وَصَغِيرٍ وَكَبِيرٍ
۔ سیدناعبد اللہ بن ثعلبہ عذری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الفطر سے دو روز قبل لوگوں سے خطاب کیا اور اس میں فرمایا: تم ہر دو آدمیوں کی طرف سے گندم کا ایک صاع اور کھجور اور جو کی صورت میں ہر ایک کی طرف ایک ایک صاع ادا کرو، یہ صدقہ ہر آزاد و غلام اور چھوٹے بڑے پر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3568]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح، وللحديث شواهد كثيرة (الصحيحة: 1177)۔ اخرجه ابوداود: 1621، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24063»
الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح
حدیث نمبر: 3569
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَدُّوا صَاعًا مِنْ قَمْحٍ أَوْ صَاعًا مِنْ بُرٍّ وَشَكَّ حَمَّادٌ، عَنْ كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، غَنِيٍّ أَوْ فَقِيرٍ، أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ، فَيَرُدُّ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا يُعْطِي
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہر چھوٹے بڑے، مردو زن، آزاد و غلام اور امیرو غریب میں سے ہر دو کی طرف سے گندم کا ایک صاع صدقۂ فطر ادا کرو، رہا مسئلہ امیر کا تو اللہ تعالیٰ اسے پاک کر دے گا اور رہا مسئلہ غریب کا تو اللہ تعالیٰ (دوسرے لوگوں کے ذریعے) اسے اس مقدار سے زیادہ واپس کرے گا، جو وہ صدقہ میں دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3569]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، لكن انفرد نعمان بن راشد في ھذا الحديث بايجاب صدقة الفطر علي الغني و الفقير، وھو ضعيف لسوء حفظه ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24064»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 3570
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: كُنَّا نُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ بِالْمُدِّ الَّذِي تَقْتَاتُونَ بِهِ
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک آدمی کی طرف سے گندم کے دو مُد بطورِ صدقۂ فطر ادا کرتے تھے، یہ وہی مُد ہے، جس کے ساتھ تم غلے کا لین دین کرتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3570]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابن خزيمة: 2401، وابن ابي شيبة: 3/ 176، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27535»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث ِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ گندم کا نصف صاع بطورِ صدقۂ فطر کفایت کرتا ہے، ایک حدیثیہ بھی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ اَوْ صَاعٍ مِمَّا سَوَاہ مِنَ الطَّعَامِ۔)) (دارقطنی: ۲۲۰، ۲۲۱ من طریقین عن ابن جریج عنہ،صحیحہ: ۱۱۷۹) … ”گندم سے دو مدّ اور اس کے علاوہ باقی کھانوں سے ایک صاع۔“ سیدناابوبکر،سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا جابر بن عبد اللہ، سیدنا معاویہ، سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا زبیر، یہ سب اس بات کے قائل تھے کہ گندم کا نصف صاع صدقۂ فطر میںدیا جائے گا۔ ہمارے ہاں عام طور پر عید الفطر کے موقع پر مروّجہ جنس کی قیمت کی صورت میں صدقۂ فطر ادا کر دیا جاتا ہے۔ جواز کی حد تک تو اس کا قائل ہوا جا سکتا ہے، بہرحال اصل شرعی مسئلہ یہی ہے کہ سنت کے مطابق جنس ادا کی جائے، اسی میں مساکین لوگوں کا زیادہ فائدہ ہے۔ اس موقع پر ایک چیز کی وضاحت ضروری ہے، بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ جنس کی قیمت ادا کرنا زیادہ مناسب ہے، وہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ مساکین اپنی ضرورت کے مطابق عید سے متعلقہ مختلف چیزیں خرید سکیں گے۔ ان لوگوں کا یہ فہم دو وجوہات کی بنا پر درست نہیں ہے، ایکیہ کہ وہی صورت زیادہ مناسبت کا حق رکھتی ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اختیار کی گئی ہو اور دوسرے یہ کہ کیا مسکینوں، بے سہاروں اور بے کسوں کی عیدوں کی خوشیاں صرف ہمارے صدقۂ فطر کے پچاس ساٹھ روپوں میں پنہاں ہیں۔ ایسے لوگ عید کے موقع پر جب اپنے بچوں کے لیے قسما قسم کے کپڑے، جوتے، کھلونے اور کھانے کی چیزیں خرید رہے ہوتے ہیں، کیا اس وقت یہ خیال ان کو بے چین نہیں کرتا کہ ہمارے معاشرے میں سینکڑوں ایسے بچے موجود ہیں، جو ایسے موقعوں پر حاجت مند آنکھوں کے ساتھ اپنے ماں باپ کا منہ تک رہے ہوتے ہیں، لیکن ان بے چاروں کی جیب ان کے بچوں کے یہ تقاضے پورے کرنے سے عاجز ہوتی ہے۔ یہ کیسی کھوٹی اور ردّی سوچ ہے کہ ایسے محتاج صرف صدقۂ فطر سے اپنی زندگی کا سارا سرکل چلائیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه ابن خزيمة: 2401