الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ جَوَازِ قَبُولِ الْعَطَاءِ إِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ - وَسُؤَالِ الصَّالِحِينَ إِنْ كَانَ وَلَا
اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو¤تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
حدیث نمبر: 3542
عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنِ ارْفَعْ إِلَيَّ حَاجَتَكَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (ابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى) ) وَإِنِّي لَا أَحْسِبُ الْيَدَ الْعُلْيَا الْمُعْطِيَةَ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةَ، وَإِنِّي غَيْرُ سَائِلِكَ شَيْئًا وَلَا رَادٌّ رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ مِنْكَ
۔ قعقاع بن حکیم کہتے ہیں کہ عبد العزیز بن مروان نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف یہ لکھ کر بھیجا کہ ان کی کوئی ضرورت ہو تو وہ پیش کریں۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: خرچ کرتے وقت اپنے زیر کفالت افراد سے ابتدا کیا کرو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اوپر والا ہاتھ دینے والا ہے اور نیچےوالا سوال کرنے والا ہے، لہذا میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کی طرف سے مجھے کوئی چیز بھجوا دے تو اسے واپس نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3542]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه بلفظ المرفوع منه فقط البخاري: 1429، ومسلم: 1033 وأخرجه بتمامه ابويعلي: 5740، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 3549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6402»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه بلفظ المرفوع منه فقط البخاري: 1429
حدیث نمبر: 3543
عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ أَنَّ الْفِرَاسِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: لَا، وَإِنْ كُنْتَ سَائِلًا لَا بُدَّ فَاسْأَلِ الصَّالِحِينَ
۔ ابن فراسی سے روایت ہے کہ سیدنا فراسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: کیا میں مانگ سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر سوال کیے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لیا کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3543]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لجھالة مسلم بن مخشي وابن الفراسي۔ اخرجه ابوداود: 1646، والنسائي: 5/ 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19153»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۳۵۲۸) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آدمی حکمرانوں سے سوال کرسکتا ہے اور اشد ضرورت میں، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، ہر خاص و عام سے سوال کر سکتا ہے، بہرحال مختلف مزاجوں کو دیکھ کر بعض لوگوں سے بچ کر بعض کو ترجیح دی جا سکتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے در کا محتاج رکھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3544
عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يُرَدَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ) )
۔ سیدناخالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے بن مانگے اور بغیر حرص کے اپنے مسلمان بھائی کی طرف سے (ہدیہ، عطیہ، ہبہ وغیرہ جیسی) کوئی چیز ملے تو وہ اسے قبول کر لے اور واپس نہ لوٹائے، کیونکہ وہ اللہ کا رزق ہے، جو وہ اس کی طرف کھینچ کر لایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3544]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابو يعلي: 925، وابن حبان: 3404، 5108، والحاكم: 2/ 62، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 4124، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18101»
وضاحت: فوائد: … اس ضمن میں یہ گزارش کرنا ضروری ہے کہ بعض لوگوں کو جب کوئی تحفہ دیا جاتا ہے یا ان کی ضیافت وغیرہ کی جاتی ہے، تو وہ اسے قبول کرنے میں اتنا تکلف برتتے ہیں کہ تحفہ پیش کرنے والا بیچارہ پریشان ہو جاتا ہے اور اس کا سارا مزہ بے مزہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی آدمی اس قسم کی کوئی چیز پیش کر رہا ہے تو ایک دفعہ بڑی خوشی کے ساتھ قبول کر کے شکریہ ادا کرنا چاہیے، ہاں اگر واضح طور پر معلوم ہو رہا ہو کہ دینے والے کا مقصد خوشامد ہے یا وہ صرف رکھ رکھاؤ کے لیے اپنی حیثیت سے بڑھ کر یہ کام کر رہا ہے تو اسے بعد میں اچھے انداز میں سمجھا دینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابو يعلي: 925
38. بَابُ الْبِرِّ بِالسَّائِلِ وَتَحْسِينِ الظَّنِّ بِهِ وَإِعْطَائِهِ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3545
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أَبِي يَحْيَى عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهَا، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ) )
۔ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سائل کا حق ہے، اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3545]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالةيعلي بن ابييحيي۔ أخرجه أبوداود: 1665، 1666، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1730»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالةيعلي بن ابييحيي۔ أخرجه أبوداود: 1665
حدیث نمبر: 3546
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَتَّخِذُ لَهُ سَوِيقَةً فِي قَعْبَةٍ لِي فَإِذَا جَاءَ سَقَيْتُهَا إِيَّاهُ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ يَأْتِينِي السَّائِلُ فَأَتَزَهَّدُ لَهُ بَعْضَ مَا عِنْدِي، (وَفِي رِوَايَةٍ فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أَرْفَعُ فِي يَدِهِ) فَقَالَ: ( (ضَعِي فِي يَدِ الْمِسْكِينِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا) )
۔ سیدہ ام بُجَیْد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں تشریف لایا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لکڑی کے ایک پیالہ میں ستو بنا تی تھی، جب آپ تشریف لاتے تو میں وہ انہیں پلاتی۔ (ایک دن) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات ایک سائل میرے پاس آتا ہے اور میں اسے اس بنا پر کچھ نہیں دیتی کہ جو کچھ میرے پاس ہوتا ہے، میں اسے بہت معمولی سمجھتی ہوں، ایک روایت میں ہے: اس کو دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی، (ایسی صورت میں میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مسکین کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو، خواہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3546]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ اخرجه ابوداود: 1667، والترمذي: 665، والنسائي: 5/ 86، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27692»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مقصود یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی انتہائی کم قیمت چیزوں کا مالک ہو تو اسے چاہیے کہ ان ہی سے مسکین کامطالبہ پورا کرنے کی کوشش کرے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ اخرجه ابوداود: 1667
حدیث نمبر: 3547
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتُهُ، وَهِيَ أُمُّ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ: وَاللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي، فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنْ لَمْ تَجِدِي لَهُ شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ) )
۔ (دوسری سند)سیدہ ام بُجَیْد رضی اللہ عنہا، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اللہ کی قسم! مسکین میرے دروازے پرآ کر کھڑا ہو جاتا ہے، لیکن اس کو دینے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اسے دینے کے لئے تمہارے پاس جلائے ہوئے کھر کے سوا کچھ بھی نہ ہو تو وہی اس کے ہاتھ میں تھما دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3547]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27691»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27691
حدیث نمبر: 3548
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: إِنَّ سَائِلًا وَقَفَ عَلَى بَابِهِمْ فَقَالَتْ لَهُ جَدَّتُهُ حَوَّاءُ: أَطْعِمُوهُ تَمْرًا، قَالُوا: لَيْسَ عِنْدَنَا، قَالَتْ: فَاسْقُوهُ سَوِيقًا، قَالُوا: الْعَجَبُ لَكِ نَسْتَطِيعُ أَنْ نُطْعِمَهُ مَا لَيْسَ عِنْدَنَا؟ قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا تَرُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ) )
۔ سیدنا عمرو بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک سائل ان کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا، ان کی دادی سیدہ حواء رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا:اس کو کھجور دے دو، گھر والوں نے کہا: ہمارے پاس کھجوریں نہیں ہیں، اس نے پھر کہا: تو پھر اسے ستو پلا دو، اہل خانہ نے کہا: تجھ پر بھی تعجب ہے، جو چیز ہمارے پاس نہیں ہے، ہم اسے کیسے دیں؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی سائل کو (خالی ہاتھ) واپس نہ لوٹنے دو،اگرچہ جو چیز اسے دی جائے، وہ جلایا ہوا کھر ہی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3548]
تخریج الحدیث: «حديث حسن وھذا اسناد ضعيف لجھالة عمرو بن معاذ الانصاري۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير،: 24/ 558، وابن سعد: 8/ 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27998»
الحكم على الحديث:
حديث حسن وھذا اسناد ضعيف لجھالة عمرو بن معاذ الانصاري۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير
حدیث نمبر: 3549
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ، قَالَتْ: فَأَمَرْتُ الْخَادِمَ فَأَخْرَجَ لَهُ شَيْئًا (وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَمَرَتْ بَرِيرَةَ أَنْ تَأْتِيَهَا، فَتَنْظُرَ إِلَيْهِ) قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهَا: ( (يَا عَائِشَةُ! لَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَلَيْكِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سائل نے آ کر ان سے سوال کیا، انہوں نے خادم سے کہا: اسے کچھ دے دو، پس وہ خادم اسے دینے کے لئے کوئی چیز لایا۔ دوسری روایت میں ہے:سیدہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ پہلے وہ چیز ان کے پاس لے کر آتا کہ وہ اس چیز کی مقدار کو دیکھ لے۔ (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: عائشہ! گن گن کر مت دیا کرو، پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3549]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1700، والنسائي: 5/ 73، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24922»
وضاحت: فوائد: … سنن نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دفعہ میرے پاس ایک سائل آیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی موجود تھے، میں نے اسے کچھ دینے کا حکم دیا، لیکن پہلے میں نے دینے والے کو بلایا اور اس چیز کو دیکھا (کہ وہ کیا دے رہا ہے اور کتنی مقدار میں دے رہا ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَمَا تُرِیْدِیْنَ اَنْ لَّا یَدْخُلَ بَیْتَکِ شَیْئٌ وَلَا یَخْرُجُ اِلَّا بِعِلْمِکِ؟)) ”کیا تیرا ارادہ یہ ہے کہ تیرے گھر میں جو چیز لائی جائے اور جو نکالی جائے، اس کا تجھے علم ہونا چاہیے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَھْلًا یَا عَائِشَۃُ! لَاتُحْصِیْ فَیُحْصِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْکِ۔)) ”ٹھیرو عائشہ! گن گن کر مت دیا کرو، پھر اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔“ اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہ ہونے پائے کہ آدمی صدقہ کی ہوئی چیزوں کا حساب کرے اور پھر ان کو زیادہ اور کافی سمجھ کر مزید صدقہ نہ کرے، اس طرح کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی رزق کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ آدمی حیثیت کے مطابق صدقہ کرتا رہے اور صدقے کی بڑی بڑی مقداروں کو مد نظر رکھ کرآئندہ صدقہ کرنے سے رک نہ جائے اور اللہ تعالیٰ سے فقیری کا ڈر نہ رکھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1700
حدیث نمبر: 3550
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ، إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُمْ حَيْثُ أَنْفَقَ كُلَّ شَيْءٍ بِيَدِهِ: ( (وَمَا يَكُونُ عِنْدَنَا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ نَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعْفِفْ بُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ انصاری لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عطا فرما دیا، ان میں سے جو آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے وہ چیز دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، وہ ختم ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، ختم ہوگیا تو آپ نے فرمایا: ہمارے پاس جو مال بھی ہو گا، ہم اس کو تم سے بچا کر نہیں رکھیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے بچا لے گا، جو لوگوں سے استغناء کا اظہار کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے مستغنی کر دے گا اور جو صبر کو اپنائے گا، اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق سے نواز دے گا اور تم (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی بھلائی نہیں دئیے جاؤ گے جو صبر سے بڑی وسعت والی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3550]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11912»
وضاحت: فوائد: … کوئی مانے یا نہ مانے، اس وقت امت ِ مسلمہ پر مسلّط بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبتیہ ہے کہ سوالی کے حق کی معرفت اور شناخت نہیں رہی،یتامی و فقراء و مساکین کے معاملے میں انتہائی لا پرواہی برتی جا رہی ہے، بلکہ بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ بعض مالدار لوگ اپنے ماحول میں غریبوں کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں، جبکہ ان ہی کے محلّوں میں اللہ تعالیٰ کی قابل ترس مخلوق فاقہ میں شب و روز گزار رہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: {فَأَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْھَرْ۔ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْھَرْ۔} (سورۂ ضحی: ۹، ۱۰)) … ”پس یتیم پر تو سخی نہ کیا کر اور سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ نہ کر۔“ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر سوالیوں سے نرمی کرنے اور ان کا حق ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔ ایک اہم مسئلہ عصر حاضر کے سوالیوں اور بھکاریوں کا ہے، اگر کوئی آدمی کسی سائل کی تحقیق کرنا چاہتا ہو تو اس معاملے میں قطعی طور پر اس کو سختی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور اگر اس کی تحقیق کے مطابق وہ سائل مستحق ثابت نہیں ہوتا تو اسے چاہیے کہ حسنِ اخلاق کے ساتھ اس کو سمجھا دے، تاکہ بات اس کے دل میں گھر کر جائے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۵۰۷) کا تقاضا ہے۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11912
39. فَصْلٌ مِنْهُ فِي السُّؤَالِ يُوَجِّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3551
عَنْ ابْنِ عَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْطُوهُ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پناہ طلب کرے، تم اسے پناہ دے دو اور جو کوئی تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے، تم اسے وہ چیز دے دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3551]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ اخرجه ابوداود: 5108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2248 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2248»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ اخرجه ابوداود: 5108