🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. بَابُ وَقْتِ إِخْرَاجِهَا
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3571
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگوں کے عید کے لئے جانے سے پہلے پہلے صدقۂ فطر ادا کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3571]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1503، 1509، ومسلم: 986، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5345»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1503
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3572
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى، وَقَالَ مَرَّةً: إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ، فَقَالَ: ( (أَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ) ) ، وَتَقَدَّمَ أَيْضًا فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ
۔ (دوسری سند) سابق حدیث کی مانند ہی ہے، البتہ اس میں یہ صراحت ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے عید گاہ کو جانے سے پہلے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، ایک روایت میں ہے: نماز عید کے لئے جانے سے پہلے پہلے۔سیدنا عبد اللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے، اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے عید الفطر سے دو روز قبل لوگوں کو خطبہ دیا اورفرمایا: تم ہر دو افراد کی طرف سے گندم کا ایک صاع صدقۂ فطر ادا کرو۔ نیز سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کا صدقۂ فطر فرض کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3572]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6389»
وضاحت: فوائد: … اِن احادیث سے واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ صدقۂ فطر کا وقت نمازِ عید کی طرف جانے پہلے کا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زَکَاۃَ الْفِطْرِ طُھْرَۃً لِلصِّیَامِ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَۃً لِلْمَسَاکِیْنِ، مَنْ اَدَّاھَا قَبْلَ الصَّلَاۃِ فَھِیَ زَکَاۃٌ مَقْبُوْلَۃٌ، وَمَنْ اَدَّاھَا بَعْدَ الصَّلَاۃِ فَھِیَ صَدَقَۃٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزے دار کے روزوں کو لغو باتوں اور فحش گوئیوں سے پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھلانے کے لیے صدقۂـ فطر فرض کیا ہے، جو آدمی نمازِ عید سے پہلے اس کی ادائیگی کرے گا تو یہ مقبول زکاۃ ہو گی اور جو آدمی نماز کے بعد ادا کرے گا تووہ عام صدقات کی طرح صدقہ ہو گا۔ (ابوداود: ۱۶۰۹، ابن ماجہ: ۱۸۲۷) اگر حکومت کی طرف سے صدقۂ فطر وصول کرنے کے لیے عاملین کاتقرر کیا جائے، تو عید کے دن سے پہلے بھی ان کو یہ صدقہ جمع کروایا جا سکتا ہے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وَکَّلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِحِفْظِ زَکٰوۃِ رَمَضَانَ۔ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کی زکوۃیعنی صدقۂ فطر کی حفاظت کے لیے میرا تقرر کیا۔ (صحیح بخاری) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ لوگ پہلے یہ صدقہ جمع کروا دیتے تھے۔ اسی طرح جناب ِ نافع کہتے ہیں: وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رضی اللہ عنہما یُعْطِیْھَا الَّذِیْنَیَقْبَلُوْنَھَا، وَکَانُوْا یُعْطَوْنَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِیَوْمٍ اَوْیَوْمَیْنِ۔ … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما حکومت کی طرف سے قبول کرنے والوں کو صدقہ دیتے تھے اور ان کو اختتام رمضان سے ایک دو دن پہلے یہ صدقہ دیا جاتا تھا۔ (صحیح بخاری)
صدقۂ فطر کو نمازِ عید سے مؤخر نہیں کرنا چاہیے، بہرحال اہل علم کا اس حقیقت پر اتفاق ہے کہ تأخیر ہو جانے کی صورت میں اس کا وجوب ساقط نہیں ہو گا، بلکہ ادائیگی تک اس کی صورت قرضے والے رہے گی۔ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ابتدائے رمضان سے ہی بھکاری قسم کے یا حقیقی مسکین لوگوں کو بطورِ صدقۂ فطر پانچ دس دس روپے دینا شروع کر دیتے ہیں،یہ انتہائی غیر مناسب بات ہے، جس کی بنیاد بخل اور کنجوسی ہے، لوگوں کو چاہیے کہ وہ دورانِ رمضان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح کثرت سے صدقہ کیا کریں اور عید والے دن نمازِ عید سے پہلے فطرانہ ادا کیا کریں۔ فطرانہ کی رقم کے لیے معاشرے کے فقراء و مساکین کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6389
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. باب
نفلی صدقات کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: Q3573]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. بَابُ الْحَثِّ عَلَيْهَا وَفَضْلِهَا
نفلی صدقات کی ترغیب اور فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3573
عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، قَالَ: فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، قَالَ: فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ {إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}، وَقَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي فِي آخِرِ الْحَشْرِ: {وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ، مِنْ دِرْهَمِهِ، مِنْ ثَوْبِهِ، مِنْ صَاعِ بُرِّهِ، مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ، حَتَّى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَعْنِي كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ) )
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، ابھی دن شروع ہو رہا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں کچھ ایسے لوگ آئے جن کے پاؤں میں جوتے اور جسم پر پورا لباس نہیں تھا، انھوں نے کمبل یا چوغے لپیٹے ہوئے تھے اور تلواریں کندھوں سے لٹکائی ہوئی تھیں، ان میں سے اکثر بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے افراد قبیلہ مضر سے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تنگ دستی کی یہ صورتحال دیکھی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے، پھر جب باہر آئے تو سیدنابلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں یہ آیتیں تلاوت کیں: {یَااَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَائً وَّ اتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہٖوَالْاَرْحَامَاِنَّاللّٰہَکَانَعَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔} یعنی: لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ سورۂ حشر والی یہ آیت تلاوت کی: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَّاتَّقُوْا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔} یعنی: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر فرد دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کے دن کے لئے کیا کچھ آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، جو تم عمل کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ یہ خطاب سن کر کوئی دینار لے کر آیا، کوئی درہم، کوئی کپڑا، کوئی گندم کا صاع اور کوئی کھجور کا صاع لے کر آیا اور کسی نے کھجور کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔ اتنے میں ایک انصاری ایک تھیلی اٹھا کر لایا،(وہ اس قدر وزنی تھی کہ) قریب تھا کہ اس کا ہاتھ عاجز آ جائے گا، بلکہ وہ عاجز آ گیا،یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے پے در پے صدقات پیش کرنا شروع کر دیئے،یہاں تک کہ خوراک اور لباس کے دو ڈھیر لگ گئے، اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا اور وہ سنہری رنگ کا لگ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے اپنے اس عمل کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر بھی اجر ملے گا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جو کوئی اسلام میں برا طریقہ جاری کرے گا،اسے اپنے عمل کا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر گناہ ہو گا اور ان کے گناہ میں کوئی کمی بھی واقع نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3573]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1017، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19388»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1017
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3574
عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا يُخْرِجُ رَجُلٌ شَيْئًا مِنَ الصَّدَقَةِ حَتَّى يَفْكَّ عَنْهَا لَحْيَيْ سَبْعِينَ شَيْطَانًا) )
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بھی کوئی آدمی صدقہ کرتاہے تو وہ ستر شیطانوں کے جبڑے توڑتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3574]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح، انظر الصحيحة: 1268۔ اخرجه ابن خزيمة: 2457، والحاكم: 1/ 417، والبيھقي: 4/ 187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23350»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مسلمان کو کنجوسی اور بخیلی جیسی گھٹیا صفات میں جکڑ دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ صدقہ و خیرات کرنے سے اس کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے ربّ کے حکم کی پیروی کر تے ہوئے اور اسے خوش کرتے ہوئے اور اپنے ابدی دشمن شیطان کو ستاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا کریں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے میں صدقہ و خیرات کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور یہ بڑی اصلاح کا سبب ہے، اس سے جہاں صدقہ کرنے والا خود پاکیز ہ ہوتا ہے اور اپنے مال میں برکت حاصل کرتا ہے، وہاں صدقہ وصول کرنے والا بھی اپنے حالات کو سنوار لیتا ہے۔ کاش کہ ہمارے ہاں بھی صدقہ و خیرات کا یہ نظام منظم بن جاتا اور سرمایہ دار اس چیز کو اپنے لیے اعزاز کا باعث سمجھ لیتے۔

الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3575
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ عَمَّنْ أَيْمَنَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، وَيَنْظُرُ عَمَّنْ أَشَامَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، وَيَنْظُرُ أَمَامَهُ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ) ) ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَلْيَفْعَلْ) )
۔ سیدناعدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا ربّ گفتگو کرے گا، اس حال میں کہ اس کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا، پس جب وہ بندہ اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا، جو اس نے آگے بھیجا ہو گا، پھر جب وہ اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو اسے اُدھر بھی وہی کچھ نظر آئے گا، جو وہ آگے بھیج چکا ہو گا، جب وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو اُدھر اس کے سامنے آگ ہو گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس آدمی میں اپنے چہرے کو آگ سے بچانے کیلئے جو استطاعت ہے، وہ استعمال کر دے، اگرچہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنے کی صورت میں ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3575]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6539، 7512، ومسلم: 1016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19373 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19590»
وضاحت: فوائد: … صدقہ و خیرات کا تعلق مالداری سے نہیں ہے، سخاوت والے مزاج سے ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6539
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3576
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ فَلْيَتَصَدَّقْ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ) )
۔ (۳۵۷۶) (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی آگ سے بچنے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ صدقہ کرے، خواہ وہ کھجور کے ایک حصے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو اور جسے وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3576]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18437»
وضاحت: فوائد: … اچھی بات سے مراد یہ ہے کہ لوگوں سے خندہ پیشانی اور حسن اخلاق سے پیش آنا چاہیے اور اس معاملے میں معرفت اور عدم معرفت کی بنا پر فرق نہیں کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18437
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3577
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ، حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ أَوْ قَالَ: يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ) ) ، قَالَ يَزِيدُ: وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ إِلَّا تَصَدَّقَ فِيهِ بِشَيْءٍ وَلَوْ كَعْكَةً، أَوْ بَصَلَةً أَوْ كَذَا
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر شخص اپنے اپنے صدقہ کے سایہ میں ہو گا۔ یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں: ابو خیر مرثد ہر روز کسی نہ کسی چیز کا صدقہ کیا کرتے تھے، خواہ وہ ایک کیک یا ایک پیازیا اس قسم کی کوئی چیز ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3577]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابن خزيمة: 2431، وابن حبان: 3310، والحاكم: 1/ 416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17466»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابن خزيمة: 2431
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3578
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَانَ مَرْثَدُ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ لَا يَجِيءُ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ يَتَصَدَّقُ بِهِ، قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ بَصَلَةٌ؟ فَقُلْتُ لَهُ: أَبَا الْخَيْرِ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يُنْتِنُ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي! إِنَّهُ وَاللَّهِ! مَا كَانَ فِي مَنْزِلِي شَيْءٌ أَتَصَدَّقُ بِهِ غَيْرَهُ، إِنَّهُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (ظِلُّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ) )
۔ (دوسری سند) یزید کہتا ہے: مرثد بن عبد اللہ جب بھی مسجد کی طرف آتے تو صدقہ کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی نہ کوئی چیز ہوتی تھی۔ ایک دن جب وہ آئے تو ان کے پاس ایک پیاز تھا، میں نے کہا: ابو الخیر! آپ اس کو کیا کریں گے؟ یہ تو آپ کے کپڑوں کو بدبودار کر دے گا۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! اللہ کی قسم! آج میرے گھر میں صدقہ کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی چیز نہیں تھی۔ مجھے ایک صحابی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مومن پر اس کا صدقہ سایہ فگن ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3578]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23886»
وضاحت: فوائد: … جس طرح ہر انسان کی ضروریات اور اہل و عیال کے تقاضے ہوتے ہیں، اسی طرح صدقہ و خیرات ہماری زندگی کی ایک ضرورت اور تقاضا ہے، لیکنیہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ لوگوں نے اپنے بال بچوں میں خوش رہنے اور بیوی بچوں کی ہر قسم کی خواہش پورے کرنے کو ہی مقصد ِ حیات سمجھ لیا، ہمارے ہاں سعادت اور خوش بختییہی علامت ہے، بے سہارا اور فقروفاقہ سے دوچار لوگوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23886
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3579
عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِّي حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ ظِلَّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ) )
۔ ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مومن کا سایہ اس کا صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3579]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 3837، وانظر الحديث السابق لأن ھذا الصحابي المبھم ھو عقبة بن عامر رضي الله عنه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18207»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 3837
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں