الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. بَابُ صِيَامِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ صِيَامِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3976
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مُرْنِي بِصِيَامٍ، قَالَ: ( (صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً فَزِدْنِي، قَالَ: ( (صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةِ أَيَّامٍ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً فَزِدْنِي، قَالَ: ( (فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ سَبْعَةِ أَيَّامٍ) ) ، قَالَ: فَمَا زَالَ يَحُطُّ لِي، حَتَّى قَالَ: ( (إِنَّ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ أَوْ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ شَكَّ الْجُرَيْرِيُّ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا) ) ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَمَّا ضَعُفَ: لَيْتَنِي كُنْتُ قَنَعْتُ بِمَا أَمَرَنِي بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے روزوں کے متعلق حکم دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید نو دنوں کا اجر بھی مل جائے گا، (کیونکہ ہر نیکی کا اجر دس گنا ملتا ہے)۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں، اس لیے آپ مجھے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو دن روزہ رکھ لیا کرو، تمہیں مزید آٹھ دنوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ میں اس سے زیادہ کی قوت ہے، لہٰذا آپ مجھے مزید روزوں کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دن روزے رکھ لیا کرو، تمہیں مزید سات دنوں کے روزوں کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن میری بار بار گزارش سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید عمل کی مزید گنجائش پیدا کرتے گئے (اور اجر میں کمی کرتے گئے)، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل روزے میرے بھائی داود علیہ السلام کے ہیں، اور وہ اس طرح کہ تم ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کر لیا کرو۔ جب سیدنا عبداللہ بوڑھے ہو گئے تو کہا کرتے تھے: کاش کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے حکم پر اکتفا کر لیا ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3976]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بغير ھذه السياقة، وھو حديث ذكره الامام احمد في عدة اماكن، أخرج بعض لفظه البخاري و مسلم، وانظر لتفصيله الرقم: 6477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6877 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6877»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بغير ھذه السياقة
حدیث نمبر: 3977
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَصُومُ ذَلِكَ الصِّيَامَ حَتَّى أَدْرَكَهُ السِّنُّ وَالضَّعْفُ، كَانَ يَقُولُ: لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي
۔ (دوسری سند) سیدناعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، … سابقہ حدیث کی طرح ہی بیان کیا …،مزید اس میں ہے: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اسی طرح روزے رکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ عمر رسیدہ اور کمزور ہو گئے، اس وقت وہ کہا کرتے تھے: اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہو ئی رخصت کو قبول کر لیتا تو یہ مجھے میرے اہل وعیال اور مال و دولت سے زیادہ پسند ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3977]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6878»
وضاحت: فوائد: … دوسری سندوالی پوری حدیثیہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،، سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا: ”مجھے تمہارے بارے میں یہ ا طلاع ملی ہے کہ تم رات کو قیام کرتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو۔“ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیےیہی عمل کافی ہے کہ تم ایک ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو، چونکہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ملتا ہے، اس لیے گویا کہ یہ سارے زمانے کے روزے ہو جائیں گے۔“ انھوں نے کہا: لیکن میں نے اپنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سختی کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی، میں نے کہا: میرے اندر مزید طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تجھے ہر ہفتہ سے تین روزے کفایت کریں گے۔“ لیکن میں نے مزید سختی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی، میں نے کہا: مجھ میں اس سے زیادہ عمل کی طاقت موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بہترین روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں،یعنی نصف زمانہ کے روزے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے نفس کا تجھ پر حق ہے اور تیرے اہل کا تجھ پر حق ہے۔“ بہرحال سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ یہی روزے رکھتے رہے، لیکن جب وہ عمرہ رسیدہ اور کمزور ہو گئے تو وہ کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو یہ مجھے میرے اہل و مال سے بہتر تھی۔ یہ وجہ زیادہ اچھی لگتی ہے کہ ایک ایک ناغے سے روزہ رکھنے سے روزوں کی کثرت بھی ہوگی اور یہ کثرت عین مطلوب ہے اور زیادہ مشقت اور کمزوری بھی نہیں ہوگی کیونکہ روزوں کے درمیان ناغہ کر لینے سے روزہ رکھنے سے لاحق ہونے والی کمزوری ساتھ ساتھ دور ہوتی جائے گی اور دیگر حقوق بھی متاثر نہیں ہوں گے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه
70. بَابُ صَوْمِ تِسْعِ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمِ عَرَفَةَ لِغَيْرِ الْحَاجِّ
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 3978
عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ امْرَأَتِهِ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحَجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
۔ ایک زوجۂ رسول رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحجہ کے نو دن اور یومِ عاشوراء کو اور ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3978]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطرابه۔ اخرجه ابوداود: 2437، والنسائي: 4/ 205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22690»
الحكم على الحديث:
ضعيف لاضطرابه۔ اخرجه ابوداود: 2437
حدیث نمبر: 3979
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ سَنَتَيْنِ مَاضِيَةً وَمُسْتَقْبَلَةً، وَصَوْمُ عَاشُورَاءَ يُكَفِّرُ سَنَةً مَاضِيَةً) )
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یوم عرفہ یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اور یومِ عاشوراء کا روزہ ایک گزشتہ سال کے گناہوں کا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3979]
تخریج الحدیث: «اخرج نحوه مسلم: 1977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22535 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22903»
الحكم على الحديث:
اخرج نحوه مسلم: 1977
حدیث نمبر: 3980
عَنْ عَطَاءِ نِ الْخُرَاسَانِيِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَوْمَ عَرَفَةَ وَهِيَ صَائِمَةٌ وَالْمَاءُ يُرَشُّ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَفْطِرِي، فَقَالَتْ: أُفْطِرُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ صَوْمَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ) )
۔ سیدناعبدالرحمن بن ابی بکر،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے پاس عرفہ کے دن گئے جبکہ انھوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور (گرمی کی شدت کی وجہ سے) ان پر پانی ڈالا جا رہا تھا، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ روزہ توڑ دیں، لیکن انھوں نے کہا: میں روزہ کیسے توڑ دوں، جبکہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: عرفہ کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3980]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء الخراساني لم يسمع من عائشة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25483»
وضاحت: فوائد: … عرفہ کے دن سے مراد (۹) ذوالحجہ کا دن ہے، جس دن حجاج کرام عرفہ کے میدان میں جمع ہوتے ہیں، اس دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
71. فَصْلٌ مِنْهُ فِي كَرَاهَةِ ذَلِكَ لِلْحَاجِّ
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3981
عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ
۔ مولائے ابن عباس جنابِ عکرمہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کے گھر پر حاضر ہوا اور ان سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3981]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن ولم ار لمضعفه حجة۔ اخرجه ابوداود: 2440، والنسائي: 2830، وابن ماجه: 1732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9759»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں فریضۂ حج میں مصروف لوگوں کو عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع کیا جا رہا ہے، اس کی حکمتیں اپنی جگہ پر واضح ہیں۔ سفر کی مشقت، ذکر کی کثرت اور دوسرے لوگوں کی خدمت کا تقاضہ یہی ہے کہ روزہ نہ رکھا جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ولم ار لمضعفه حجة۔ اخرجه ابوداود: 2440
حدیث نمبر: 3982
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُهُ بِعَرَفَةَ فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ، لَعَلَّكَ صَائِمٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصُومُهُ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ هَذَا الْيَوْمَ
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ مقام میں سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ انار کھا رہے تھے، انھوں نے مجھے کہا: قریب آ جاؤ اور کھاؤ، لیکن لگتا ہے کہ تم نے روزہ رکھا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔ اور ایک دفعہ انھوں نے یوں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3982]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه البيھقي: 4/ 283، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 2814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3266»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه البيھقي: 4/ 283
حدیث نمبر: 3983
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ: لَمْ يَصُمْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ وَلَا عُثْمَانُ يَوْمَ عَرَفَةَ
۔ نافع کا بیان ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے (دورانِ حج) عرفہ کے دن کا روزہ نہیں رکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3983]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ اخرجه الترمذي: 751، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 2825، 2827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5411م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5411»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ اخرجه الترمذي: 751
حدیث نمبر: 3984
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَأَنَا لَا أَصُومُهُ، وَلَا آمُرُكَ وَلَا أَنْهَاكَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْهُ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَصُمْهُ
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یومِ عرفہ کے روزے کے متعلق پوچھا،انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا،پھر ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معیت میں آئے، انہوں نے بھی روزہ نہیں رکھا،پھر ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آئے، انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھا، پھر ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئے، انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھا، لہذا میں بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھتا، لیکن میں تجھے اس روزے کا حکم دیتا ہوں نہ اس سے منع کرتا ہوں، تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3984]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5420»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5420
حدیث نمبر: 3985
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا صُمْتُ عَرَفَةَ قَطُّ وَلَا صَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ
۔ (تیسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی بھی عرفہ کے دن کا روزہ نہیں رکھا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، نہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اور نہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس دن کا روزہ رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3985]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5948»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5948