🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4429
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مُتْعَةَ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟ فَقَالَ: ( (لَا بَلْ لَنَا خَاصَّةً) )
۔ (دوسری سند) سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول!حج کے احرام کو عمرہ میں تبدیل کرکے حج تمتع کر لینے کی اجازت ہمارے لیے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں،یہ صرف ہمارے لیے خاص ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4429]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15948»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15948
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ مَتَى يُحْرِمُ الْمُتَمَتِّعُ بِالْحَجِّ وَمَتَى يَتَوَجَّهُ النَّاسُ إِلَى مِنَى وَمِقْدَارِ مُكْثِهِمْ بِهَا
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ¤کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں¤اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4430
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الَا فَخُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ) ) قَالَ: فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنَى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! مجھ سے مناسک کی تعلیم حاصل کرو۔ پس لوگ حلال ہو گئے، یہاں تک کہ جب ترویہ والا دن آ گیا اور انھوں نے منی کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو حج کا تلبیہ کہا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4430]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 1676، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15006»
وضاحت: فوائد: … آٹھ ذوالحجہ کو یوم الترویہ کہتے ہیں، ”تَرْوِیَۃ“ باب ”رَوّٰییُرَوِّیْ“ کا مصدر ہے، اس کا معنی سیراب کرنا ہے، چونکہ حجاج کرام آٹھ تاریخ کو آئندہ کے لیے پانی لے لیتے ہیں اور سیرابی کا سامان کر لیتے، اس لیے اس کو ترویہ والا دن کہتے ہیں۔ یہ اس دور کی بات ہے، جس میں کنویں اور چشمے نہیں تھے، اب چونکہ ہر مقام پر وافر مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے، اس لیے لوگ اپنے ساتھ پانی اٹھانے یا اس کا اہتمام کرنے سے مستغنی ہو گئے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه الطيالسي: 1676
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4431
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ الظَّهْرَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترویہ والے دن منی میں نمازِ ظہر ادا کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4431]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 1911، والترمذي: 880، وابن ماجه: 3004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2306»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 1911
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4432
عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يُحِبُّ إِذَا اسْتَطَاعَ أَنْ يُصَلِّيَ الظُّهْرَ بِمِنَى مِنْ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِمِنَى
۔ جنابِ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات پسند تھی کہ اگر ان کے لیے ممکن ہو تو وہ ترویہ والے دن ظہرکی نماز منیٰ میں جاکر ادا کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز منیٰ میں اداکی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4432]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6131»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4433
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنَى، وَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ
۔ عبدالعزیزبن رفیع کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ کو یاد ہے تو مجھے بتلائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آ ٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ میں نے پھر کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے بعد واپس جاتے ہوئے عصر کی نماز کہاں اداکی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح وادی میں۔اس کے بعد سیدناانس رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا ؛تم اسی طرح کیا کرو، جیسے تمہارے حکمران کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4433]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1653، 1763، ومسلم: 1309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11998»
وضاحت: فوائد: … مکہ اور منی کے درمیان وادیٔ ابطح واقع ہے، اس کو بطحائ، محصّب اور معرّس بھی کہتے ہیں۔ جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے عبد العزیز کے لیے دو مسئلوں کی وضاحت کی تو ان کو یہ اندیشہ ہونے لگا کہ ممکن ہے کہ یہ آدمی ان سنتوں پر عمل کرنے کا حریص ہو، لیکن ممکن ہے کہ اس کے امراء اس چیز کی پابندی نہ کرتے ہوں، اس لیے انھوں نے وضاحت کر دی کہ اس قسم کے مسائل میں حکمرانوں کا حکم تسلیم کر لینا چاہیے، تاکہ فتنہ برپا نہ ہو جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1653
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4434
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى خَمْسَ صَلَوَاتٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منیٰ میں پانچ نمازیں ادا کی تھیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4434]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه الدارمي: 1871، وابن خزيمة: 2799، والطبراني: 12126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2700»
وضاحت: فوائد: … یعنی آٹھ ذوالحجہ کی ظہر سے نو ذوالحجہ کی فجر تک۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري ۔ أخرجه الدارمي: 1871
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4435
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ بِمِنَى وَصَلَّى الْغَدَاةَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ ذوالحجہ کی نمازِ ظہر اور عرفہ والے دن (یعنی نو ذوالحجہ) کو نمازِ فجر منی میں ادا کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4435]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 1911، والترمذي: 880، وابن ماجه: 3004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2701»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مِنٰی میں ظہر، عصر، مغرب، عشا اور فجر کی نمازیں ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طلوع آفتاب تک وہیں ٹھہرے رہے اور سورج طلوع ہونے کے بعد عرفہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ (صحیح مسلم)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حجاج کرام آٹھ ذو الحجہ کو نمازِ ظہر سے پہلے مِنٰی میں پہنچ جائیں اور نو ذوالحجہ کی نمازِ فجر ادا کر کے طلوعِ آفتاب تک وہیں قیام کریں، پھر سورج کے طلوع ہونے کے بعد عرفہ کے لیے روانہ ہو جائیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 1911
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ وَقْتِ الْمَسِيرِ مِنْ مِنَى وَالنُّزُولِ بِوَادِي نَمِرَةَ وَوَقْتِ الْقِيَامِ إِلَى الْمَوْقِفِ بِعَرَفَةَ
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4436
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: غَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنَى حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَنَزَلَ بِنَمِرَةَ وَهِيَ مَنْزِلُ الْإِمَامِ الَّذِي كَانَ يَنْزِلُ بِهِ بِعَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، رَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُهَجِّرًا فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَى الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کے دن یعنی نوذوالحجہ کو صبح کی نماز منیٰ میں ادا کی،اس کے بعد آپ عرفہ کو تشریف لے گئے اور وہاں جاکر وادیٔ نمرہ میں ٹھہرے،یہی وہ جگہ ہے جہاں عرفہ میں آکر امام ٹھہرتے ہیں، جب ظہرکا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت آئے اورظہر اور عصرکی نمازیں جمع کرکے ادا کیں،اس کے بعد لوگوں کوخطبہ دیا، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کی جگہ پر وقوف کیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4436]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1913، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6130»
وضاحت: فوائد: … عرفات کے پاس ایک مقام کا نام وادیٔ نمرہ ہے، یہ وادی عرفات کا حصہ نہیں ہے، زوال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ عُرَنہ میں تشریف لائے اور وہاں ظہر و عصر کی نمازیں ادا کیں اور خطبہ ارشاد فرمایا، جمہور اہل علم کے نزدیک وادیٔ عُرَنہ بھی عرفات کا حصہ نہیں ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عرفہ میں وقوف کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ نمرہ میں رہے۔ امام ابو حنیفہ امام شافعی اور امام مالک کا یہی مسلک ہے، لیکن امام احمد زوال سے پہلے بھی وقوف کی اجازت دیتے ہیں، مؤخر الذکر قول راجح معلوم ہوتا ہے، مزید حدیث نمبر (۴۴۴۲)دیکھیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1913
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4437
عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ وَادِي نَمِرَةَ، فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ أَيَّةُ سَاعَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ ذَاكَ رُحْنَا، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا يَنْظُرُ أَيَّ سَاعَةٍ يَرُوحُ، فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرُوحَ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوا: لَمْ تَزِغِ الشَّمْسُ، قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوا: لَمْ تَزِغْ، فَلَمَّا قَالُوا: قَدْ زَاغَتْ، ارْتَحَلَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ میں وادیٔ نمرہ میں ٹھہراکرتے تھے، جب حجاج نے سیدنا عبدا للہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تو اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن کس وقت یہاں سے روانہ ہوتے تھے؟ انھوں نے کہا:جب وہ وقت ہوگا تو ہم چل پڑیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا تاکہ وہ خیال رکھے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کس وقت روانہ ہوتے ہیں، پس جب انھوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو پوچھا:آیا سورج ڈھل چکاہے؟لوگوں نے بتلایا: جی نہیں، ابھی تک نہیں ڈھلا، پھر کچھ دیر بعد انھوں نے پوچھا: کیا سورج ڈھل چکا ہے، لوگوں نے کہا: جی نہیں ڈھلا، جب لوگوں نے یہ بتلایاکہ سورج ڈھل گیاہے تو وہ چل پڑے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4437]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سعيد بن حسان الحجازي لم يرو عنه الا ابراهيم بن نافع و نافع بن عمر الجمحي، ولم يؤثر توثيقه عن احد غير ان ابن حبان ذكره في الثقات۔ أخرجه ابوداود: 1914، وابن ماجه: 3009، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4782»
وضاحت: فوائد: … حجاج کرام نو ذوالحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد مِنٰی سے عرفات کے لیے روانہ ہوں گے، وہاں پہنچ کر وقوف کریں گے اور زوال آفتاب کے بعد ظہر کے پہلے وقت میں ظہرو عصر کی قصر نمازیں جمع کر کے ادا کریں، پھر خطبہ سنیں اور پھر غروبِ آفتاب تک وقوف جاری رکھیں اور غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ کے لیے روانہ ہو جائیں، نمازِ مغرب مزولفہ میں نمازِ عشاء کے ساتھ ادا کی جائے گی۔ ابن منذر نے کہا: اس بات پر اہل علم کا اجماع اور اتفاق ہے کہ امام اور اس کی اقتدا میں نماز پڑھنے والے عرفہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے ادا کریں گے۔ یہ حقیقت تو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات میں ظہر و عصر کی قصر نمازیں ظہر کے وقت میں جمع کر کے ادا کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اہل مکہ بھی حج کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جمع بین الصلاتین اور قصر کو ترک کرنے کا حکم نہیں دیا، اس سے ان لوگوں کے مسلک کی تائید ہوتی ہے، جو کوئی حد بندی کیے بغیر مطلق سفر کو قصر کا سبب قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں احناف نے عجیب قسم کے رویے اختیار کر رکھے ہیں، عرفات میں ان کی طرف سے درج ذیل مختلف باتیں سنائی دیتے ہیں:
۱۔ جو آدمی امام کے ساتھ ظہر و عصر کی نمازیں ادا کرے گا، وہ قصر اور جمع کرے گا، وگرنہ پوری نماز پڑھی جائے گی اور اپنے اپنے وقت پر ادا کی جائے گی۔
۲۔ جو آدمی مسجد میں نماز پڑھے گا، وہ جمع اور قصر کرے گا، وگرنہ ہر نماز اس کے وقت پر پوری پڑھنا پڑے گی۔
۳۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے سفر کی وجہ سے جمع اور قصر کیا تھا، چونکہ ہم لوگ عرفات میں مقیم ہیں، اس لیے ہم نہ جمع کریں گے اور نہ قصر۔
قصر اور جمع کے لیے امام یا مسجد یا منفرد یا غیر مسجد کی قید لگا کر فرق کرنا اتنی غیر معقول بات ہے کہ ممکن ہے یہ عُقدہ کسی کو سمجھایا ہی نہ جا سکے، یہ بات تو تسلیم کر لی گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باجماعت نماز ادا کی اور قصر اور جمع کا اہتمام کیا، لیکن اس سے یہ کیسے لازم آگیا کہ جو جماعت کے ساتھ شریک نہیں ہو گا، وہ نہ قصر کر سکتا ہے اور نہ اس کو جمع کر نے کا حق حاصل ہے۔ مسجد کا چونکہ اُس عہد میں وجود ہی نہ تھا، اس لیے اس کو بنیاد بنا کر جمع اور قصر میں فرق کرنا بھی خودساختہ سی بات لگتی ہے۔ رہا معاملہ آخری بات کا تو گزارش ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے اپنے سابق شہر میں پہنچ کر عرفات میں جمع اور قصر کرتے ہیں، لیکن پاکستان اور دوسرے ممالک سے جانے والے جب ایک دن یا نصف دن کے لیے عرفات میں قیام کے لیے جاتے ہیں تو یہ مقیم بن جاتے ہیں۔ سبحان اللہ!
اس سے حیران کن بات یہ ہے کہ جب اسی دن کی شام کو مغرب اور عشا کی نمازیں مزدلفہ میں جمع کر کے ادا کی جاتی ہیں، تو اس وقت یہ لوگ سارے نقطے بھول جاتے ہیں، نہ تو مزدلفہ میں اجتماعی جماعت ہوتی ہے، نہ وہاں کوئی مسجد ہے، اس پر مستزاد یہ کہ مسافت بھی کم ہو جاتی ہے، کیونکہ مزدلفہ، عرفات کی بہ نسبت مکہ مکرمہ کے قریب ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الْمَسِيرِ إِلَى عَرَفَةَ
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4438
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُمَا غَادِيَانِ إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَعْنِي يَوْمَ عَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُنَّا يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا وَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ
۔ محمد بن ابی بکر ثقفی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اس وقت یہ سوال کیا، جب وہ دونوں عرفہ کی طرف جا رہے تھے: تم لوگ عرفہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس دن کو کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا اور کوئی تکبیر پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4438]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 970، 1659، ومسلم: 1285، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13555»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 970
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں