الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ مَا جَاءَ فِي دُخُولِ الْكَعْبَةِ وَاخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ فِي الصَّلَاةِ فِيهَا
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
حدیث نمبر: 4597
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيْقٍٍ ثَانٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: لَقَدْ صَنَعْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا وَ دِدْتُ أَنِّيْ لَمْ أَفْعَلْهُ، دَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَأَخْشٰي أَنْ يَجِيْئَ الرَّجُلُ مِنْ أُفُقٍ مِنَ الآفَاقِ فَلا يَسْتَطِيْعُ دُخُولَهُ، فَيَرْجِعُ وَ فِيْ نَفْسِهِ مِنْهُ شَيْئٌ۔
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج میں نے ایک فعل سر انجام دیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا ہے، میں بیت اللہ میں داخل ہوا ہوں، اب مجھے ڈر یہ ہے کہ ایک آدمی کسی افق (دور کے علاقہ) سے آئے گا، لیکن جب وہ بیت اللہ میں داخل نہیں ہو سکے گا تو وہ اس حال میں لوٹے گا کہ اس کے نفس میں بے چینی سی ہو گی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4597]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19128»
وضاحت: فوائد: … جب بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ احساس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کو سنت سمجھ کر اس کی رغبت کریں گے، اس طرح ہجوم بڑھے گا، اس سے کسی کو تکلیف ہو گی اور کسی کو موقع ہی نہ مل سکے گا، سو وہ اس سنت کے رہ جانے کی وجہ سے بے چین ہو جائے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل نہ ہوتے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19128
حدیث نمبر: 4598
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! كُلُّ أَهْلِكَ قَدْ دَخَلَ الْبَيْتَ غَيْرِيْ؟ فَقَالَ: أَرْسِلِي إِلٰي شَيْبَةَ فَيَفْتَحَ لَكِ الْبَابَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَقَالَ شَيْبَةُ: مَا اسْتَطَعْنَا فَتْحَهُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَ لا إِسْلاَمٍ بِلَيْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: صَلِّي فِي الْحِجْرِ، فَإِنَّ قَوْمَكَ اسْتَقْصَرُوا عَنْ بِنَائِ الْبَيْتِ حِيْنَ بَنَوْهُ وفي لفظ صَلِّي فى الحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْت فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی ساری بیویاں بیت اللہ میں داخل ہوئی ہیں (اور میں داخل نہیں ہوئی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شیبہ کی طرف پیغام بھیجو کہ وہ تمہارے لیے دروازہ کھول دے۔ پس انھوں نے پیغام تو بھیجا لیکن شیبہ نے کہا: ہمیں نہ دورِ جاہلیت میں اتنی طاقت تھی اور اب نہ اسلام میں ہے کہ ہم اس کو رات کو کھول سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تو پھر حِجْر میں ہی نماز پڑھ لو، کیونکہ جب تیری قوم نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے (اخراجات کی کمی کی وجہ سے) اس کو کم کر دیا تھا۔ ایک روایت میں ہے: تم حجر میں ہی نماز ادا کر لو، یہ بھی بیت اللہ کا ہی ایک حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4598]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه دون قوله صلي في الحجر فان قومك استقصروا عن بناء البيت حين بنوه۔ فھو حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 7094، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27978»
وضاحت: فوائد: … جب قریشیوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو وہ بیت اللہ کی شمالی جانب قواعد ِ ابراہیم کا لحاظ نہ کر سکے اور ایک
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه دون قوله صلي في الحجر فان قومك استقصروا عن بناء البيت حين بنوه۔ فھو حسن لغيره
46. مَا يَقُولُ أَوْ يَفْعَلُهُ الْحَاجُّ عِنْدَ قُدُوْمِهِ وَ اسْتِحْبَابُ السَّلَامِ عَلَيْهِ وَ مُصَافَحَتِهِ وَ طَلَبِ الدُّعَاءِ مِنْهُ
اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4599
عَن ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ، أَوْ حَجٍّ، أَوْ عُمْرَةٍ، فَعَلا فَدْفَدًا مِنَ الأَرْضِ، أَوْ شَرَفًا، قَالَ: اَللّٰه أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أكْبَرُ، لا اِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَهُ لا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ، وَ هُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌ، آيِبُوْنَ تَائِبُونَ سَاجِدُوْنَ عَابِدُوْنَ، لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ، صَدَقَ اللّٰهُ وَعْدَهُ، وَ نَصَرَ عَبْدَهُ، وَ هَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَهُ۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ یا حج یا عمرہ کے سفر سے لوٹتے اور زمین کے سخت اور بلند حصے یا کسی اونچی جگہ پر چڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أکْبَرُ … وَ ھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہُ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، وہی معبودِ برحق ہے، اس حال میں کہ وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت اسی کیلئے ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، ہم (اپنے وطن کی طرف) لوٹنے والے، (نافرمانی سے فرمانبرداری کی طرف) تائب ہو جانے والے، سجدہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے ربّ کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دے دی۔) [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4599]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6835، ومسلم: 1344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3256»
وضاحت: فوائد: … لشکروں سے مراد غزوۂ خندق میں جمع ہونے والے دشمنانِ اسلام کے لشکر ہیں، اور اس کو عموم پر محمول کرنا بھی ممکن ہے، یعنی اس سے مراد کفر کے لشکر ہیں، وہ جہاں بھی ہوں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6835
حدیث نمبر: 4600
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنه : أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّي حِيْنَ أَقْبَلَ مِنْ حَجَّتِهِ قَافِلاً فِي تِلْكَ الْبَطْحَائِ، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم الْمَدِيْنَةَ، فَأَنَاخَ عَلَي بَابِ مَسْجِدِهِ، ثُمَّ دَخَلَهُ فَرَكَعَ فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَي بَيْتِهِ۔ قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ عَبْدُاللّٰهِ بْنُ عُمَرَ كَذٰلِكَ يَصْنَعُ۔
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حج سے واپس تشریف لائے تو وادی ٔ بطحاء میں نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے دروازے پر اونٹ بٹھایا اور مسجد میں داخل ہو کر نماز ادا کی، پھر اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4600]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 2782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25942»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں جس سنت کا ذکر ہے، وہ درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے زیادہ واضح ہو جاتی ہے:
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 4601
عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَتَلَقَّى الْحَاجَّ فَنُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ قَبْلَ أَنْ يَتَدَنَّسُوا
۔ حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ادائیگی ٔ حج سے واپس آنے والوں سے ملاقات کرنے کے لیے نکلا، ہم ان پر سلام کرتے قبل اس کے کہ وہ گناہوں کی وجہ سے میلے ہوں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4601]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن عبد الملك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6018»
وضاحت: فوائد: … بہرحال احادیث سے ثابت ہے کہ ادائیگی ٔ حج سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور کسی کی نیکیوں کی وجہ سے اس سے ملاقات کرنا باعث ِ اجرو ثواب عمل ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن عبد الملك
حدیث نمبر: 4602
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحْهُ وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو حاجی کو ملے تو اس پر سلام کہہ اور اس سے مصافحہ کر اور اس سے یہ مطالبہ کر کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے تیرے لیے بخشش کی دعا کرے، کیونکہ اس وقت وہ بخشا ہوا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4602]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، محمد بن الحارث الحارثي، وعبد الرحمن ابن البيلماني ضعيفان، ومحمد بن عبد الرحمن البيلماني ضعيف ايضا، بل قال عنه البخاري: منكر الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5371»
وضاحت: فوائد: … بہرحال نیک لوگوں سے دعا کروانا مشروع عمل ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
47. باب
ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: Q4603]
48. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِشْعَارِ الْبُدْنِ وَتَقْلِيدِ الْهَدْيِ كُلِّهِ
قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا
حدیث نمبر: 4603
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ أَوْ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنَ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحلیفہ مقام پر نمازِ ظہر ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی کوہان کے دائیں پہلو پر علامت لگائی اور پھر اس سے خون صاف کر دیا اور دو دو جوتوں کے قلادے ڈالے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت بیداء مقام پر کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4603]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1243، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2296»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اشعار یہ ہے کہ اونٹنی کی کوہان کی دائیں جانب پر کسی برچھی یا چھری وغیرہ سے زخم لگایا جائے اور پھر خون کو صاف کر لیا جائے، یہ جانور کے ہدی ہونے کی علامت ہو گی، اگر ایسا جانور گم ہو جائے تو دوسرے لوگ خود ہی اس کو حاجیوں تک پہنچا دیتے ہیں، چور وغیرہ بھی اس کو چرانے سے باز رہتے ہیں اور اگر وہ دوسرے اونٹوں میں مل جائے تو اس کو پہنچان لیا جاتا ہے، یہ کام قلادے سے بھی لیا جا سکتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیتے بھی تھے، بہرحال اشعار ایسی علامت ہے جو زائل نہیں ہوتی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1243
حدیث نمبر: 4604
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى فِي بُدْنِهِ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ بُرَتُهُ فِضَّةٌ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں میں ابو جہل کا اونٹ بھی تھا، اس کی نکیل کا کڑا چاندی کا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4604]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن ماجه: 3076، 3100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2079»
وضاحت: فوائد: … یہ عمرۂ حدیبیہ کا واقعہ ہے، یہ اونٹ غزوۂ بدر میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت میں سے تھا۔
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 4605
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً غَنَمًا إِلَى الْبَيْتِ فَقَلَّدَهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ بکریوں کو بطورِ ہدی بیت اللہ کی طرف بھیجا تھا اور ان کو قلادے بھی ڈالے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4605]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1701، 1702، ومسلم: 1321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24656»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع سے پہلے بھی ہدی کے جانور بھیجتے رہتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود مدینہ منورہ میں ہی رہتے، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکریاں بھیجیں تھیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1701