🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَأَنَّ الْبَدَنَةَ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَةٍ
ہدی میں اشتراک اور ہدی میں اونٹ اور گائے کا سات سات افراد سے کفایت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4626
عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ زَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَمًا يَوْمَ النَّحْرِ فِي أَصْحَابِهِ وَقَالَ اذْبَحُوهَا لِعُمْرَتِكُمْ فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْكُمْ فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَيْسٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نحر والے دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم کیں اور فرمایا: ان کو اپنے عمرے کے لیے ذبح کرو، یہ تم سے کفایت کریں گی۔ اس دن سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک سال کا بکرا ملا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4626]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2802»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. بَابُ مَا جَاءَ فِي رُكُوبِ الْبُدْنِ الْمُهْدَاةِ
ہدی والے اونٹ پر سوار ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4627
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ يَرْكَبُ الرَّجُلُ هَدْيَهُ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ قَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالرِّجَالِ يَمْشُونَ فَيَأْمُرُهُمْ يَرْكَبُونَ هَدْيَهُ وَهَدْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَلَا تَتَّبِعُوا شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ عبید اللہ اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا آدمی اپنی ہدی پر سوار ہو سکتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چلنے والے لوگوں کے پاس سے گزرتے اور ان کو حکم دیتے کہ وہ میری ہدی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدی پر سوار ہو جائیں، پھر انھوں نے کہا: تمہارے نبی کی سنت سے زیادہ فضیلت والی کوئی چیز نہیں ہے کہ جس کی تم پیروی کر سکو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4627]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 979»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4628
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ ہدی والے اونٹ کو ہانک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، اس پر سوار ہو جا۔ اس نے کہا: یہ تو ہدی کا جانور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او تو ہلاک ہو جائے، اس پر سوار ہو جا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4628]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1706، ومسلم: 1322، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7447»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1706
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4629
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَزَادَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يُسَايِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي عُنُقِهَا نَعْلٌ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے اس بندے کو دیکھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور اس کی سواری کی گردن میں جوتا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4629]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7723»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7723
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4630
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ بِدُونِ الزِّيَادَةِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں دوسرے طریق والی زیادتی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4630]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2754، ومسلم: 1323، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11981»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2754
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4631
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَدْ سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: اگر تو مجبور ہو جائے تو معروف طریقے کے ساتھ اس پر سوار ہو جا، یہاں تک کہ تو کوئی اور سوار پا لے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4631]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1324، وأبوداود!: 1761، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14473 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14527»
وضاحت: فوائد: … اصل تو یہی ہے کہ ہدی کا اونٹ آگے آگے خالی جائے، اس پر بوجھ لدا ہوا ہو نہ اس پر سواری کی جا رہی ہو، یہ اس کے احترام کا تقاضا ہے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کی اونٹنی اور تھی اور قربانی کے اونٹ الگ تھے، لیکن جب کوئی شخص تنگ دست ہو، اس کے پاس ایک ہی اونٹ ہو، جس کو وہ بطورِ ہدی پیش کرنا چاہتا ہو، جب کہ فاصلہ بعید ہو تو ایسے جانور پر سواری کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، آخری حدیث سے واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ مجبوری کی صورت میں ایسے جانور پر سواری کرنی چاہیے اور مجبوری سے مراد سواری کا نہ ہونا ہے، نہ کہ چلنے سے بالکل عاجز آ جانا، البتہ سواری کرتے وقت اس جانور کا احترام قائم رکھے، یعنی نہ اسے بھگائے، نہ مارے، نہ سب و شتم کرے، بلکہ اس کو اپنی مرضی کے مطابق چلنے دے اور جب وہ تھک جائے تو آرام کرنے دے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1324
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْهَدْيِ يَعْطَبُ قَبْلَ الْمَحِلِّ
ہدی کا اپنے محل تک پہنچنے سے پہلے تھک جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4632
عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ حَجَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَمَعَ سِنَانٍ بَدَنَةٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ فَعَيَّ بِشَأْنِهَا فَقُلْتُ لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ هَذَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قُلْتُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ جَارِيَةٌ وَكَانَ لِي حَاجَتَانِ وَلِصَاحِبِي حَاجَةٌ فَقَالَ أَلَا أُخْلِيكَ قُلْتُ لَا فَقُلْتُ كَانَتْ مَعِي بَدَنَةٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَيْنَا فَقُلْتُ لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ هَذَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبُدْنِ مَعَ فُلَانٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ فَلَمَّا قَفَّا رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِمَا أَزْحَفَ عَلَيَّ مِنْهَا قَالَ انْحَرْهَا وَاصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا وَاضْرِبْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ
۔ موسی بن سلمہ کہتے ہیں؛ میں نے اور سنان بن سلمہ نے حج کیا، سنان کے پاس ہدی کا اونٹ تھا، ہوا یوں کہ وہ اونٹ تھک کر کھڑا ہو گیا اور چلنے سے عاجز آ گیا، میں نے کہا: جب میں مکہ مکرمہ پہنچوں گا تو اس کے بارے میں تحقیق کروں گا، پس جب ہم مکہ میں آئے تو میں نے اس سے کہا: تم ہم کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر چلو، پس ہم ان کے پاس گئے، جبکہ ان کے پاس ایک لونڈی تھی، میری دو ضرورتیں تھیں اور میرے ساتھی کی ایک ضرورت تھی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: کیا میں تجھے علیحدگی میں لے جاؤں؟ میں نے کہا: جی نہیں، بس ایک سوال کرنا ہے کہ میرے پاس ایک اونٹ تھا اور وہ تھک کر کھڑا ہو گیا، میں نے کہا: میں مکہ پہنچ کر اس کے بارے میں تحقیق کروں گا، انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں آدمی کے ساتھ ہدی کے اونٹ بھیجے تھے اور اس کو ان کا امیر بنایا تھا، جب وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو واپس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! جو اونٹ تھک کر کھڑا ہو جائے (اور چلنے سے عاجز آ جائے)، میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے کھانا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4632]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1325، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2518»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1325
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4633
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانِي عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ فَأَمَّرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ أَزْحَفَ عَلَيْنَا مِنْهَا شَيْءٌ فَقَالَ انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَسْمَعْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ مِنْ أَبِي التَّيَّاحِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہدی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو اس معاملے کا امیر بنایا، پس جب وہ چل پڑا تو پھر لوٹ آیا اور اس نے کہا: جو اونٹ تھک کر کھڑا ہو جائے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو ذبح کر دینا اور اس کا جوتااس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا، اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔ امام احمد نے کہا: اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے صرف یہ حدیث سنی ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4633]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1869»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1869
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4634
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ قَالَ انْحَرْهُ وَاغْمِسْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ وَاضْرِبْ صَفْحَتَهُ وَخَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهُ فَلْيَأْكُلُوهُ
۔ سیدنا ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہدی کے اونٹوں کے منتظم تھے، سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو اونٹ چلنے سے عاجز آجا ئے، میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور پھر لوگوں اور اس کے درمیان سے ہٹ جانا، تاکہ وہ اس کو کھا لیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4634]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 1762، وابن ماجه: 3106، والترمذي: 910، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19151»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4635
عَنْ شَهْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَعْتُ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي بِمَا عَطِبَ مِنْهَا قَالَ انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا أَوْ عَلَى جَنْبِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ
۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہدی کے اونٹوں کے منتظم انصاری صحابی بیان کرتے ہیں …، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی روایت بیان کی …، البتہ اس میں ہے: وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تو میں لوٹا اور کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! جو اونٹ چلنے سے عاجز آ جائے، اس کے بارے میں آپ مجھے کیا حکم فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی آدمی نے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4635]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16726»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں