الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِشْعَارِ الْبُدْنِ وَتَقْلِيدِ الْهَدْيِ كُلِّهِ
قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا
حدیث نمبر: 4606
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف ہدی کے طور پر بکریاں بھیجی تھیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4606]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14952»
وضاحت: فوائد: … یہ بھی قربانی کی ایک صورت ہے کہ خود انسان اپنے گھر میں ٹھہرے اور قربانی کے جانور کسی شخص یا ادارے کے ہاتھ مکہ مکرمہ بھیج دے کہ وہاں حرم میں ذبح ہوں، اور یہ افضل قربانی ہے۔ ایسے آدمی پر احرام کی کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی، جیسا کہ اگلے باب کی روایات سے معلوم ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
49. بَابُ أَنَّ مَنْ بَعَثَ بِهَدْيٍ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ
ہدی بھیجنے والے پر وہ چیزیں حرام نہیںہوں گی، جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں
حدیث نمبر: 4607
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الرَّجُلِ يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ هَلْ يُمْسِكُ عَمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ قَالَتْ فَسَمِعْتُ صَوْتَ تَصْفِيقِ يَدَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ ثُمَّ قَالَتْ قَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يُرْسِلُ بِهِنَّ ثُمَّ لَا يَحْرُمُ مِنْهُ شَيْءٌ فَمَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَحْرُمُ عَلَى الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ
۔ مسروق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو ہدی بھیجتا ہے، کیا وہ بھی ان امور سے اجتناب کرے گا، جن سے احرام والا آدمی بچتا ہے؟ میں نے جواباً پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی تالی کی آواز سنی، پھر انھوں نے کہا: میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدیوں کے قلادے بٹتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو بھیج دیتے اور کوئی چیز بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حرام نہیں ہوتی تھی۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہوتی تھی جو احرام والے آدمی پر اپنی بیوی کے سلسلے میں حرام ہوتی ہے، یہاں تک کہ لوگ لوٹ آتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4607]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5566، ومسلم: 1321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25469»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5566
حدیث نمبر: 4608
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَدَعُ حَاجَةً لَهُ إِلَى امْرَأَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدیوں کے قلادے بٹتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیوی سے اپنی حاجت پوری کرنے کو ترک نہیں کرتے تھے، یہاں تک حجاج کرام لوٹ آتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4608]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5566، ومسلم: 1321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25217»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5566
حدیث نمبر: 4609
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلَا يَتْرُكُهُ إِنَّا لَا نَعْلَمُ الْحَرَامَ يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدی کے قلادے اپنے ہاتھوں سے بٹتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کسی چیز سے الگ ہوتے اور نہ اس کو چھوڑتے تھے، ہم تو یہی جانتے تھے کہ محرم کو حلال کرنے والی چیز بیت اللہ کا طواف ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4609]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5566، ومسلم: 1321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25064»
وضاحت: فوائد: … اس جگہ حرام سے مراد محرم ہے اور مقصد یہ ہے کہ حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھنے والا بیت اللہ کا طواف کرے تو پھر اس کے لیے وہ چیزیں حلال ہوتی ہیں جو احرام کی وجہ سے حرام ہوتی ہیں۔ بیت اللہ کی طرف قربانی بھیجنے والا چونکہ محرم ہی نہیں اس لیے اس پر احرام والی کوئی پابندی بھی نہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5566
حدیث نمبر: 4610
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْبُدْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ وَأَفْتِلُ قَلَائِدَ الْبُدْنِ بِيَدَيَّ ثُمَّ يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ الْبُدْنُ مَكَّةَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف قربانیاں بھیجتے تھے اور میں اپنے ہاتھوں سے ان کے قلادے بٹتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان قربانیوں کے مکہ مکرمہ تک پہنچنے سے پہلے وہ امور کرتے تھے، جو حلال آدمی کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4610]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24569»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24569
حدیث نمبر: 4611
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: گویا کہ میں اب بھی اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بکریوں کے قلادے بٹتی ہوئی دیکھ رہی ہوں، (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو مکہ مکرمہ بھیجتے اور) کسی چیز سے نہیں رکتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4611]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1703، ومسلم: 1321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26789»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1703
حدیث نمبر: 4612
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ ثُمَّ لَا يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ الْمُحْرِمُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدیاں بھیج دیتے، لیکن ان امور سے اجتناب نہ کرتے تھے، جن سے محرم رکتا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4612]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، انظر الحديث السابق۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25489»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو آدمی قربانی کے جانور مکہ مکرمہ کی طرف بھیج کر خود اپنی رہائش گاہ پر ہی مقیم رہے گا تو اس پر احرام سے متعلقہ کسی چیز کی کوئی پابندی نہیں ہو گی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
50. فَصْلٌ فِيمَنْ رَوَى مَنْ يُعَارِضُ ذَلِكَ
مذکورہ بالا مسئلے کے متعارض روایات
حدیث نمبر: 4613
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَقُدَّ قَمِيصُهُ مِنْ جَيْبِهِ حَتَّى أَخْرَجَهُ مِنْ رِجْلَيْهِ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَمَرْتُ بِبُدْنِي الَّتِي بَعَثْتُ بِهَا أَنْ تُقَلَّدَ الْيَوْمَ وَتُشَعَرَ الْيَوْمَ عَلَى مَاءِ كَذَا وَكَذَا فَلَبِسْتُ قَمِيصًا وَنَسِيتُ فَلَمْ أَكُنْ أُخْرِجُ قَمِيصِي مِنْ رَأْسِي وَكَانَ قَدْ بَعَثَ بِبُدْنِهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گریبان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قمیص کو پھاڑا گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے پاؤں کی طرف سے اتار دیا، جب لوگوں نے تعجب کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل میں نے حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں پانی پر آج کے دن میری ہدیوں کو قلادے ڈالے جائیں اور ان کو اشعار کیا جائے، جبکہ میں نے بھول کر قمیص پہنی ہوئی تھی، اب (جب یاد آیا تو) میں نے اس کو سر کی سمت سے تو نہیں اتارنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود مدینہ منورہ میں مقیم تھے، لیکن ہدی کے جانور مکہ مکرمہ کی طرف بھیجے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4613]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن عطاء ليس بذاك القوي،ثم قد اختلف عليه في اسناده، أخرجه الطحاوي: 2/ 138، 264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15372»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، پچھلے باب میں مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
51. بَابُ عَدَمِ جَوَازِ إِبْدَالِ الْهَدْيِ الْمُعَيَّنِ فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ وَكَانَ مِنَ الْإِبِلِ يُبَدَّلُ بِسَبْعِ شِيَاهٍ
ہدی کے معیّن جانور کو تبدیل نہ کرنا، اگر وہ نہ پایا جائے، جبکہ وہ اونٹ ہو تو اس کے متبادل سات بکریاں ہوں گی
حدیث نمبر: 4614
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بُخْتِيَّةً أُعْطِيَ بِهَا ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْدَيْتُ بُخْتِيَّةً لِي أُعْطِيتُ بِهَا ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ فَأَنْحَرُهَا أَوْ أَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا قَالَ لَا وَلَكِنِ انْحَرْهَا إِيَّاهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خراسانی اونٹ بطورِ ہدی بھیجا، لیکن جب ان کو تین سو دینار کی قیمت کی پیشکش کی گئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک خراسانی اونٹ بطورِ ہدی بھیجا ہے اور اب مجھے اس کی قیمت میں تین سو دینار دیئے جا رہے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا میں اسی کو نحر کروں یا اس کی قیمت کا کوئی اور اونٹ خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اسی کو نحر کر۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4614]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، جھم ابن الجارود، فيه جھالة، ولا يعرف لجھم سماع من سالم، أخرجه أبوداود: 1756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6325»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4615
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً وَأَنَا مُوسِرٌ لَهَا وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ فَيَذْبَحَهُنَّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھ پر ایک اونٹ ہے اور اب میں مالی طور پر اس کی گنجائش بھی رکھتا ہوں، لیکن وہ مجھے مل نہیں رہا، کہ میں اسے خرید لوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ سات بکریاں خرید کر ان کو ذبح کر دے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4615]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عطاء الخراساني صاحب اوھام كثيرة، ثم ھو لم يسمع من ابن عباس شيئا، وابن جريج مدلس، وقد عنعن، أخرجه ابن ماجه: 3136، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2839»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف