🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَضَاحِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4656
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِيدَ الْأَضْحَى فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عید الاضحی ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ذبح کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُمَّ إِنَّ ھٰذَا عَنَّي وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيْ (اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! بیشک یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے، جنھوں نے قربانی نہیں کی)۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4656]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه أبوداود: 2810، والترمذي: 1521، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14898»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4657
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ ثُمَّ قَالَ اسْتَحِدِّيهَا بِحَجَرٍ فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ثُمَّ ضَحَّى بِهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے دنبے کا حکم دیا جو سینگوں والا ہو، اس کے پاؤں کالے ہوں، آنکھوں کے ارد گرد والی جگہ بھی کالی ہو اور پیٹ بھی کالا ہو، پس اس کو لایا گیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی قربانی کریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! چھری لاؤ۔ پھر فرمایا: اس کو پتھر کے ساتھ تیز کرو۔ پس سیدہ نے ایسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری لی اور دنبے کو پکڑا، اس کو ذبح کرنے کے لیے لٹایا اور فرمایا: (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امت ِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے قبول فرما)۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4657]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1967، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24996»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1967
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4658
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِالْمُصَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ
۔ امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربانی والے دن عیدگاہ میں اپنی قربانی کو ذبح کرتے تھے اور بتلاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ہی کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4658]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 982، 5552، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5876»
وضاحت: فوائد: … امام کا عیدگاہ کے میدان میں قربانی کرنا مستحب ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 982
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4659
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْحَرُ يَوْمَ الْأَضْحَى بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَكَانَ إِذَا لَمْ يَنْحَرْ ذَبَحَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں عید الاضحی والے دن نحر کرتے تھے، اگر نحر نہ کرتے تو ذبح کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4659]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 7/ 213، وأخرج البخاري: 5552 عن نافع عن ابن عمر رضي الله عنهما اخبره، قال: كان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يذبح وينحر بالمصلي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6401»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کا ترجمہ یہ ہے: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید گاہ میں ذبح اور نحر کرتے تھے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4660
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور اس عرصے میں ہر سال قربانی کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4660]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه حجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن، أخرجه الترمذي: 1507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4955»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4661
عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَضْجَعَ أُضْحِيَّتَهُ لِيَذْبَحَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ أَعِنِّي عَلَى ضَحِيَّتِي فَأَعَانَهُ
۔ ابو الخیر کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قربانی کو ذبح کرنے کے لیے لٹانا چاہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: اس قربانی کے معاملے میں ذرا میری مدد کرنا۔ پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4661]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23555»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی ذات، اپنے اہل و عیال اور اپنی امت کی طرف سے قربانی کا ذکر ہے، نیز قربانی کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. بَابُ مَا يَجْتَنِبُهُ فِي الْعَشْرِ مَنْ أَرَادَ التَّضْحِيَةَ وَمَا يَقُومُ مَقَامَ الْأُضْحِيَةِ لِلْفَقِيرِ
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4662
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ فَأَرَادَ رَجُلٌ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ بَشَرِهِ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ذوالحجہ کے پہلے دس دن شروع ہو جائیں تو قربانی کرنے کا ارادہ رکھنے والا آدمی نہ اپنے بالوں کو چھوئے اور نہ اپنے جسم کو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4662]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27007»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1977
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4663
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يُقَلِّمْ أَظْفَارَهُ وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَّلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں نہ اپنے ناخن تراشے اور نہ اپنے بال مونڈے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4663]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27106»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27106
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4664
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْحَرَ فِي هِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ
۔ (تیسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ذوالحجہ کے مہینے میں قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4664]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27190»
وضاحت: فوائد: … قربانی کا ارادہ رکھنے والے کو ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جسم سے بال کٹوانے اور منڈوانے اور ناخن تراشنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ قربانی کے لیے بڑے قیمتی جانور لے لیتے ہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کو اپنے وجود پر لاگو نہیں کر سکتے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27190
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4665
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةَ ابْنِي أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ لَا وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: مجھے یومِ اضحی کا حکم دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لیے عید بنایا ہے۔ اس آدمی نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میرے پاس صرف اپنے بیٹے کی ایک بکری ہو تو اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (قربانی والے دن) اپنے بالوں کو کاٹو، ناخنوں کو تراشو، مونچھوں کو کاٹو اور زیر ناف بال مونڈو، یہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری پوری قربانی ہو گی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4665]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 2789، والنسائي: 7/212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6575»
وضاحت: فوائد: … جو شخص قربانی کی طاقت نہیں رکھتا، اس کے لیے شریعت کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنی جسمانی صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کرے، عید والے دن اپنے بال اور ناخن تراشے، اپنی مونچھیں کاٹے اور زیر ناف بالوں کی صفائی کرے، یہ اہتمام اس کے لیے قربانی کے قائم مقام ہو گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں