🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. بَابُ السِّنِّ الَّذِي يُجْزِئُ فِي الْأُضْحِيَةِ
جانور کی اس عمر کا بیان جو قربانی میں کفایت کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4666
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ تَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم صرف دو دانتا جانور ہی ذبح کرو، ہاں اگر یہ جانور تم پر مشکل ہو جائے تو بھیڑ نسل کا جذعہ ذبح کر سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4666]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1963، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14556»
وضاحت: فوائد: … مُسِنَّۃ یا ثَنِیّ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کے سامنے والے دودھ کے دانت گر گئے ہوں اور ان کی جگہ پر نئے دانت نکل آئے ہوں، اس کو اردو میں دو دانتا اور پنجابی میں دوندا کہتے ہیں، بعض حضرات نے مُسِنَّۃ کا معنی ایک سال کاکیا ہے، حالانکہ یہ معنی نہ لغت کے لحاظ سے صحیح ہے اور نہ عرف کے لحاظ سے، کیونکہ مُسِنَّۃ کا سِنّ سے بنا ہے، جس کا معنی دانت ہے، نہ کہ سَنَۃٌ سے، جس کا معنی سال ہے، عرفاً بھی بکرا ایک سال میں دو دانتا نہیں ہوتا، اکثر بعد میں ہوتا ہے، شاذ و نادر طور پر ایک سال کا بھی ہو سکتا ہے، مگر عموماً نہیں۔ جبکہ اصل مقصد دانت کا گرنا ہے نہ کہ عمر، اس لیے کہ دانت گرنے کے لیے کوئی عمر معین نہیں، نیز عمر کا تعین بہت مشکل ہے، کیونکہ جس جانور کو چار پانچ یا اس سے زیادہ ہاتھوں میں فروخت ہونا ہو، اس کے سودے میں کہاں عمر کا ذکر کیا جاتا ہے، بلکہ بیوپاری لوگوں کا اس چیز کا اہتمام کرنا ناممکن نظر آتا ہے، دوسری بات کہ اس میں اختلاف بھی ہو سکتا ہے اور بیچنے والا جھوٹ بھی بول سکتا ہے، مگر دانت گرنا اور اس کی جگہ پر نیا دانت آنا ایک واضح اور یقینی علامت ہے، جس میں دھوکہ ممکن ہی نہیں، لہذا صحیح اور راجح بات یہ ہے کہ قربانی کا جانور دودانتا ہو، بکرا ہویا دنبہ یا گائے یا اونٹ اور یہ سب جانور مختلف عمروں میں دوندے ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1963
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4667
عَنْ أَبِي كِبَاشٍ قَالَ جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَسَدَتْ عَلَيَّ فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ أَوْ نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ قَالَ فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ
۔ ابو کباش کہتے ہیں: میں بھیڑ نسل کے جذعہ جانور مدینہ میں لایا، لیکن میرا معاملہ تو مندا پڑ گیا،سو میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کا جذعہ بہترین قربانی ہے۔ پھر تو لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور ان کو خریدنا شروع کر دیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4667]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة كدام بن عبد الرحمن وأبي كباش، أخرجه الترمذي: 1499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9737»
وضاحت: فوائد: … یہ بکری کی نسل کا جذعہ تھا اور یہ خصوصی رخصت تھی، عام حکم نہیں تھا، جیسا کہ اگلی احادیث سے معلوم ہوگا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة كدام بن عبد الرحمن وأبي كباش
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4668
عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَأَصَابَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ جَذَعَةٌ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا فَقَالَ ضَحِّ بِهَا
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ما بین قربانی کے جانور تقسیم کیے، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کو جذعہ جانور ملا، جب انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر لو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4668]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5547، ومسلم: 1965، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17437»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5547
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4669
عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا فَقَسَمَهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُودٌ مِنْهَا فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِهِ
۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بکریاں دیں تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں ان کو بطورِ قربانی تقسیم کریں، پس بکری کا ایک سال کا بچہ بچ گیا (جو دو دانتا نہیں تھا)، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر لو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4669]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17479»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17479
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4670
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا لِلضَّحَايَا فَأَعْطَانِي عَتُودًا جَذَعًا مِنَ الْمَعْزِ قَالَ فَجِئْتُهُ بِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ جَذَعٌ قَالَ ضَحِّ بِهِ فَضَحَّيْتُ بِهِ
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے لیے اپنے صحابہ کے درمیان بکریاں تقسیم کیں اور مجھے جذعہ بکری دی،میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو جذعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر لو۔ پس میں نے اس کی قربانی کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4670]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 2798، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22032»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4671
عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةَ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ الْأَضْحَى بِيَوْمٍ أَوْ بِيَوْمَيْنِ أَعْطَوْا جَذَعَيْنِ وَأَخَذُوا ثَنِيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مِمَّا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ
۔ مزینہ یا جہینہ قبیلے کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ عید الاضحی سے ایک دو دن پہلے دو دو جذعے دے کر ایک ایک دوندا جانور لے رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جذعہ بھی اس چیز سے کفایت کرتا ہے، جس سے دو دانتا کفایت کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4671]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه أبوداود: 2799، وابن ماجه: 3140، والنسائي: 7/ 219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23511»
وضاحت: فوائد: … اگلی حدیث میں اس جذعہ کو بھیڑ کی نسل کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4672
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمِّي عَنْ أُمِّ بِلَالٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ضَحُّوا بِالْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ فَإِنَّهُ جَائِزٌ
۔ سیدہ ام بلال رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کے جذعہ کی قربانی کرو، اس کی قربانی کرنا درست ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4672]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27612»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4673
عَنْ أُمِّ بِلَالٍ ابْنَةِ هِلَالٍ عَنْ أَبِيهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجُوزُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ أُضْحِيَّةً
۔ سیدام بلال رضی اللہ عنہا اپنے باپ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کے جذعہ کی قربانی درست ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4673]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27613»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ دو دانتے جانور کی قربانی کا اہتمام کرنا چاہیے، ہاں بھیڑ نسل کا جذعہ بھی کفایت کر جاتا ہے، مزید تفصیل کے لیے اس باب کی پہلی حدیث کی شرح ملاحظہ ہو۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27613
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. بَابُ مَا لَا يُضَحَّى بِهِ لِعَيْبِهِ وَلَا يُكْرَهُ وَمَا يُسْتَحَبُّ
ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4674
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالُ لَهُ جُرَيُّ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ عَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ قَالَ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ النَّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ
۔ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کان کٹے ہوئے اور سینگ ٹوٹے ہوئے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ قتادہ راوی کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے (عَضْبَاء کی مقدار کے بارے میں) سوال کیا، انھوں نے کہا: نصف یا اس سے ٹوٹا ہوا ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4674]
تخریج الحدیث: «منكر، قاله الالباني، وقال في ارواء الغليل: وقال أبو داود: (جري سدوسي بصري لم يحدث عنه إلا قتادة) ونقل الذهبي في (الميزان) مثله عن أبي حاتم وقال (لا يحتج به) فتعقبه بقوله: (قلت: قد أثني عليه قتادة)۔ وكأنه لذلك لما قال الحاكم: (صحيح الاسناد)۔ وافقه الذهبي في (تلخيصه)۔ وقال الترمذي: (حديث حسن صحيح)۔ قلت: ولعل ذلك لطرقه وإلا فأحسن أحواله أن يبلغ رتبة الحسن۔ وقد رواه جابر عن عبد الله بن نجي عن علي به۔ أخرجه الطيالسي (97) وعنه البيهقي وأحمد (1/ 109)۔ وجابر هو ابن يزيد الجعفي وهو متروك۔وقال البيهقي عقب هذه الرواية والتي قبلها: (كذا في هاتين الروايتين والاولي مثلهما والاخري أضعفهما وقد روي عن علي رضي الله عنه موقوفا خلاف ذلك في القرن۔ أخرجه أبوداود: 2805، والترمذي: 1504، والنسائي: 7/ 217، وابن ماجه: 3145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 791 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 791»
وضاحت: فوائد: … قارئین درج ذیل بحث کا بغور مطالعہ کریں، کیونکہ بعض اہل علم نے مذکورہ بالا حدیث کو بھی حسن قرار دیا ہے۔

الحكم على الحديث:
منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4675
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ وَلَا مُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَلَا جَدْعَاءَ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ أَذَكَرَ عَضْبَاءَ قَالَ لَا قُلْتُ مَا الْمُقَابَلَةُ قَالَ يُقْطَعُ طَرَفُ الْأُذُنِ قُلْتُ مَا الْمُدَابَرَةُ قَالَ يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ قَالَ تُخْرَقُ أُذُنُهَا لِلسِّمَةِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم آنکھ اور کان کو غور سے دیکھیں اور ان جانوروں کی قربانی نہ کریں: بھینگا، سامنے سے کٹے ہوئے کان والا، پیچھے سے کٹے ہوئے کان والا، لمبائی میں پھٹے ہوئے کان والا، جس کے کان میں گول سوراخ ہو اور جس کا ناک کٹا ہوا ہو۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے ابو اسحاق سے کہا: کیا انھوں نے عَضْبَائ کاذکر کیاتھا؟ انھوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: مُقَابَلۃ کون سا جانور ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، میں نے کہا: مُدَابَرۃ کون سا جانور ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: جس کا کان پیچھے سے کٹا ہوا ہو، پھر انھوں نے کہا: علامت کے طور پر جانور کا کان کاٹا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4675]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه أبوداود: 2804، والنسائي: 7/ 216، والترمذي: 1498، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 851»
وضاحت: فوائد: … کان کے بارے میں پیش کی گئی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ کان میں کسی قسم کے عیب کی گجائش نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں