الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابُ نَحْرِ الْإِبِلِ قَائِمَةً مُقَيَّدَةً وَأَكْلِ الْمُهْدَى مِنْ هَدْيِهِ وَالتَّصْدِيقِ بِجِلْدِهِ وَجِلَالِهِ
اونٹ کو کھڑا کر کے اور باندھ کر نحر کرنا، ہدی لے جانے والے کا اپنی ہدی کا گوشت کھانا اور اس کے چمڑے اور پالان وغیرہ کو صدقہ کر دینا اور اس میں کوئی چیز قصاب کو اجرت میں نہ دینا
حدیث نمبر: 4646
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْيِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم عہد ِ نبوی میں ہدیوں کا گوشت مدینہ منورہ تک زادِ راہ میں رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4646]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2980، 5424، ومسلم: 1972، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14319 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14370»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2980
حدیث نمبر: 4647
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقَدِيدَ بِالْمَدِينَةِ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى
۔ (دوسری سند) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (مکہ مکرمہ میں کی گئی قربانیوں) کے پارچے مدینہ منورہ میں کھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4647]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14563»
وضاحت: فوائد: … پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانیوں کا گوشت تین دنوں سے زائد ذخیرہ کرنے سے منع کر دیا تھا، لیکن پھر مستقل طور پر اس کی اجازت دے دی تھی، بہرحال ایسے جانور کے گوشت کی کچھ مقدار مستحق لوگوں کو دی جائے اور باقی ذخیرہ کی جا سکتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14563
56. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأُضْحِيَةِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَفَضْلِهَا وَحُكْمِهَا
قربانی، اس پر ابھارنااور اس کی فضیلت اور حکم
حدیث نمبر: 4648
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ أَوْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ قَالَ سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ قَالُوا مَا لَنَا مِنْهَا قَالَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالصُّوفُ قَالَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ انھوں نے کہا: ان میں سے ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے عوض ایک نیکی۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اون کا کیا مسئلہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی ملے گی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4648]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، ابو داود نفيع بن الحارث الاعمي متروك، وعائذ الله المجاشعي ضعيف، أخرجه ابن ماجه: 3127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19498»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 4649
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَبِي رَمْلَةَ حَدَّثَنَاهُ مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً قَالَ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَلَا أَدْرِي مَا رَدُّوا قَالَ هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ
۔ سیدنا مخنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! ہر سال میں ہر گھر والوں پر قربانی اور عتیرہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے؟ ابن عون راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگوں نے اس سوال کا کیا جواب دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4649]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2788، ابن ماجه: 3125، والترمذي: 1518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21011»
وضاحت: فوائد: … زکوۃ اور نمازِ عیدین کی طرح قربانی کا حکم بھی ۲ہجری میں نازل ہوا، قربانی کی مشروعیت قرآن کریم، حدیث ِ رسول اور اجماع امت سے ثابت ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ} (اے پیغمبر!) آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ (سورۂ کوثر: ۲) عتیرہ کا بیان اس کے مستقل باب میں آئے گا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 4650
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے وسعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4650]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن عياش ضعيف يعتبر به، وقد اضطرب فيه، أخرجه ابن ماجه: 3123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8256»
وضاحت: فوائد: … یہ زجر و توبیخ کا ایک اندازہ ہے، وگرنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ نہیں ہے کہ نمازِ عید کی صحت قربانی پر موقوف ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4651
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ وَأُمِرْتُ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر قربانی فرض کی گئی ہے اور تم پر فرض نہیں کی گئی، اسی طرح مجھے دو رکعت نمازِ چاشت کا حکم دیا گیا ہے اور تم کو ان کا حکم نہیں دیا گیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4651]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، أخرجه الطبراني: 11803، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2917»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ} … اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وہ ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دے رکھے ہیں۔ (سورۂ حج: ۳۴)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي
57. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَضَاحِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں
حدیث نمبر: 4652
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ وَفِي لَفْظٍ مَوْجَيَّيْنِ خَصِيَّيْنِ فَإِذَا صَلَّى وَخَطَبَ النَّاسَ أُتِيَ بِأَحَدِهِمَا وَهُوَ قَائِمٌ فِي مُصَلَّاهُ فَذَبَحَهُ بِنَفْسِهِ بِالْمُدْيَةِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِي جَمِيعًا مِمَّنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ ثُمَّ يُؤْتَى بِالْآخَرِ فَيَذْبَحُهُ بِنَفْسِهِ وَيَقُولُ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَيُطْعِمُهُمَا جَمِيعًا الْمَسَاكِينَ وَيَأْكُلُ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْهُمَا فَمَكَثْنَا سِنِينَ لَيْسَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ يُضَحِّي قَدْ كَفَاهُ اللَّهُ الْمَؤُونَةَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْغُرْمَ
۔ مولائے رسول سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قربانی کرتے تو دو موٹے تازے، سینگوں والے، چتکبرے اور خصی دنبے خریدتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عید ادا کرتے اور لوگوں کو خطبہ دیتے تو ایک دنبے کو لایا جاتا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک عید گاہ میں ہی کھڑے ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود چھری کے ساتھ اس کو ذبح کرتے اور فرماتے: اے اللہ! یہ میری ساری امت کی طرف سے ہے، جنہوں نے تیرے لیے توحید کی اور میرے لیے تبلیغ کی شہادت دی ہے۔ پھر دوسرا دنبہ لایا جاتا، اس کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ذبح کرتے اور فرماتے: یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دونوں دنبے مسکینوں کو کھلا دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت بھی ان سے کھاتے تھے۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر ہم نے کئی برسوں تک دیکھا کہ بنو ہاشم کا کوئی بندہ قربانی نہیں کرتا تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کی وجہ سے ان کو قربانی کے بوجھ اور خرچ سے کفایت کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4652]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، علي بن الحسين لم يدرك ابا رافع، ولضعف عبد الله بن محمد بن عقيل، وقد اضطرب فيه ايضا، أخرجه البزار: 1208، والحاكم: 2/ 391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27732»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 4653
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ يَوْمَ الْعِيدِ كَبْشَيْنِ ثُمَّ قَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے دن دو دنبے ذبح کیے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قبلہ رخ لٹایا تو یہ دعا پڑھی: إِنِّي وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ … … بِسْمِ اللّٰہِ واللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَ لَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَ أُمَّتِہِ۔ (بیشک میں نے اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف متوجہ کیا ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میں یک سو اور مسلمان ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، اس اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی چیز کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے پہلا ہوں، اللہ کے نام ساتھ اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ جانور تیری طرف سے تھا اور تیرے لیے ہے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی امت کی طرف سے)۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4653]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه أبوداود: 2795، وابن ماجه: 3121، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15086»
الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 4654
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ وَكَانَ يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سینگوں والے اور چتکبرے دو دنبوں کی قربانی کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا نام لے کر اور تکبیر کہہ کر ذبح کرتے تھے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھا ہوا ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4654]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5558، 5565، ومسلم: 1966، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11982»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5558
حدیث نمبر: 4655
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشٍ أَقْرَنَ وَقَالَ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگوں والے ایک دنبے کی قربانی کی اور فرمایا: ھَذَا عَنِّيْ وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي (یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے ہے، جنھوں نے قربانی نہیں کی)۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4655]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 1209، والحاكم: 4/ 228، والدارقطني: 4/ 284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11051 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11066»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امت کے ان افراد کی طرف سے قربانی کرنا، جو قربانی نہ کر سکے تھے، یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے اور یہ جائزنہیں ہے کہ ایک بکری ایک سے زائد گھرانوں کی طرف سے قربان کی جائے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح