الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. التَّضْحِيَةُ بِالْبَعِيرِ عَنْ عَشْرَةٍ وَبِالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ وَبِالشَّاةِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ الْوَاحِدِ
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
حدیث نمبر: 4686
عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً قَالَ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَلَا أَدْرِي مَا رَدُّوا قَالَ هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ
۔ سیدنا مخنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! ہر سال میں ہر گھر والوں پر قربانی اور عتیرہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے؟ ابن عون راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگوں نے اس سوال کا کیا جواب دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4686]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2788، ابن ماجه: 3125، والترمذي: 1518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18048»
وضاحت: فوائد: … عتیرہ کا ذکر اس کے مخصوص باب میں آ ئے گا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 4687
عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجَيَّيْنِ خَصِيَّيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا عَمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ وَلَهُ بِالْبَلَاغِ وَالْآخَرُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَفَانَا
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو چتکبرے اور خصی دنبوں کی قربانی کی، ایک دنبہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں پیغام پہنچا دینے والوں کی طرف سے تھے اور ایک دنبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کی طرف سے تھا۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کفایت کر دیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4687]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي، ولضعف عبد الله بن محمد بن عقيل، وقد اضطرب فيه الوانا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24361»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي
حدیث نمبر: 4688
عَنْ أَبِي الْأَشَدِّ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرَنَا فَجَمَعَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْهَمًا فَاشْتَرَيْنَا أُضْحِيَّةً بِسَبْعِ الدَّرَاهِمِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَغْلَيْنَا بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ وَرَجُلٌ بِرِجْلٍ وَرَجُلٌ بِيَدٍ وَرَجُلٌ بِيَدٍ وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ وَذَبَحَهَا السَّابِعُ وَكَبَّرْنَا عَلَيْهَا جَمِيعًا
۔ ابو اشد سلمی اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا (سیدنا ابو المعلی یا سیدنا عمرو بن عبسہ) رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم کل سات افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم میں سے ہر ایک نے ایک ایک درہم جمع کیا اور ہم نے سات درہموں کے عوض قربانی کا ایک جانور خرید تو لیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو بہت مہنگا جانور لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والی قربانی وہ ہے، جس کی قیمت سب سے زیادہ ہو اور جو سب سے زیادہ موٹی تازی ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور ایک آدمی نے پچھلی ٹانگ کو، دوسرے نے بھی دوسری پچھلی ٹانگ کو، ایک نے اگلی ٹانگ کو، دوسرے نے دوسری اگلی ٹانگ کو، ایک نے ایک سینگ کو اور دوسرے نے دوسرے سینگ کو پکڑا اور ساتویں آدمی نے اس کو ذبح کیا اور ہم سب نے تکبیر کہی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4688]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد، وعثمانُ بن زفر الجھني مجھول، أخرجه الحاكم: 4/ 231، والبيھقي: 9/ 268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15575»
وضاحت: فوائد: … اب ظاہر پرستی اور نمودو نمائش کا دور ہے، کئی لوگ جو اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات سے غافل ہیں، وہ مہنگے مہنگے اور ایک سے زائد جانوروں کی قربانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، واضح طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ ان کا عمل رائیگاں جائے گا، لیکن یہ گزارش ضرور کی جائے گی کہ وہ اپنے عزم کو پاکیزہ کرنے پر توجہ دیں، یعنی وہ سوچیں کہ اس عمل سے ان کا کیا مقصد ہے، کیا اللہ تعالیٰ کی راہ میں قیمتی جانور پیش کرنا مقصود ہے، یا ان کے سرمائے کا تقاضا ہے، یا لوگوں سے مرعوبیت ہے، یا نمود ونمائش مقصود ہے، اس نقطے پر ان کو کافی غور کرنا پڑے گا، وگرنہ ان سے ایک الزامی سوال بھی کیا جائے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات سے غافل ہے، حرام امور کا ارتکاب کرتے ہیں، لیکن قربانی کے مسئلہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت کیسے یاد آ جاتی ہے؟ اس الزامی سوال کی وجہ یہ ہے جو آدمی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہے، اس کے شرعی قانون یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے محرمات سے بچ کر فرائض کی ادائیگی کرے اور پھر نوافل اور مستحبات کا اہتمام کرے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد
63. بَابُ وَقْتِ الذَّبْحِ
ذبح کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 4689
عَنْ زُبَيْدٍ أَخْبَرَنِي وَمَنْصُورٍ وَدَاوُدَ وَابْنِ عَوْنٍ وَمُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَهَذَا حَدِيثُ زُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَدَّثَنَا عِنْدَ سَارِيَةٍ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ وَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَخْبَرْتُكُمْ بِمَوْضِعِهَا قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ قَالَ وَذَبَحَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ قَالَ اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَمْ تُجْزِئْ أَوْ تُوفِ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ
۔ امام شعبی کہتے ہیں: سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے ہم کو مسجد کے ستون کے پاس بیان کیا، اگر میں وہاں ہوتا تو تم کو اس جگہ کے بارے میں بتلاتا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: پہلا کام جو آج ہم اس دن کو کریں گے، وہ یہ ہے کہ پہلے ہم نمازِ عید پڑھیں گے، پھر گھروں کو لوٹ کر قربانی کریں گے، جس نے ایسے ہی کیا، اس نے ہماری سنت پر عمل کیا اور جس نے نماز سے پہلے ہی جانور کو ذبح کر دیا تو وہ گوشت ہی ہے، جو اس نے اپنی بیوی بچوں کو کھلایا ہے، اس کا قربانی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ چونکہ میرے ماموں سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ وقت سے پہلے ذبح کر آئے تھے، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو ذبح کر آیا ہوں،اب میرے پاس ایک جذعہ ہے، لیکن وہ دو دانتے جانور سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کی قربانی کر لے، لیکن تیرے بعد وہ کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4689]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 955، 976، 5556، ومسلم: 1961، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18673»
وضاحت: فوائد: … نمازِ عید کے بعد قربانی کا جانور ذبح کیا جائے گا، وگرنہ وہ قربانی ضائع ہو جائے گی اور استطاعت ہونے کی صورت میں دوبارہ قربانی کی جائے گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 955
حدیث نمبر: 4690
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبًا يُحَدِّثُ أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى قَالَ مَرَّةً أُخْرَى فَلْيَذْبَحْ وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ
۔ اسود بن قیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عید کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوئے اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے نمازِ عید ادا کی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: جس نے ادائیگیٔ نماز سے پہلے جانور ذبح کر دیا ہے، وہ اس کی جگہ پر کوئی اور قربانی کرے، اور جس نے ابھی تک ذبح نہیں کیا، وہ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ذبح کرے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4690]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 985، 5562، 6674، ومسلم: 1960، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18798 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19005»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 985
حدیث نمبر: 4691
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ابْنِ نِيَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَالَفَتْنِي امْرَأَتِي حَيْثُ غَدَوْتُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَى أُضْحِيَّتِي فَذَبَحَتْهَا وَصَنَعَتْ مِنْهَا طَعَامًا قَالَ فَلَمَّا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَانْصَرَفْتُ إِلَيْهَا جَاءَتْنِي بِطَعَامٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَقُلْتُ أَنَّى هَذَا قَالَتْ أُضْحِيَّتُكَ ذَبَحْنَاهَا وَصَنَعْنَا لَكَ مِنْهَا طَعَامًا لِتَغَدَّى إِذَا جِئْتَ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ هَذَا لَا يَنْبَغِي قَالَ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَيْسَتْ بِشَيْءٍ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نَفْرُغَ مِنْ نُسُكِنَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ فَضَحِّ قَالَ فَالْتَمَسْتُ مُسِنَّةً فَلَمْ أَجِدْهَا قَالَ فَجِئْتُهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ الْتَمَسْتُ مُسِنَّةً فَمَا وَجَدْتُهَا قَالَ فَالْتَمِسْ جَذَعًا مِنَ الضَّأْنِ فَضَحِّ بِهِ قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ فَضَحَّى بِهِ حِينَ لَمْ يَجِدِ الْمُسِنَّةَ
۔ سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عید ادا کرنے کے لیے گیا، جب میں نماز کے لیے نکلا تو میرے بعد میری بیوی نے میری قربانی کو ذبح کر دیا اور کھانا تیار کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور میں فارغ ہو کر گھر پہنچا تو میری بیوی کھانا لے کر آ گئی، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: تیری قربانی ہے، ہم نے اس کو ذبح کر دیا تھا اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تاکہ جب آپ گھر آئیں تو کھانا تناول کریں، میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ ڈر لگ رہا ہے کہ یہ عمل جائز نہیں ہو گا، بہرحال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کچھ بھی نہیں ہے، جس نے ہماری اس نماز سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی کر دی تو اس کی کوئی حقیقت نہیں ہو گی،تم دوبارہ قربانی کرو۔ پس میں نے دو دانتا جانور تلاش کیا، لیکن وہ مجھے نہ مل سکا، میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا اور کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں نے دوندا جانور تلاش کیا ہے، لیکن وہ مجھے ملا نہیں ہے، اب میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کا جذعہ تلاش کر کے اس کی قربانی کر لے۔ راوی کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو اس وقت بھیڑ نسل کے جذعے کی قربانی کرنے کی رخصت دی تھی، جب اسے دو دانتا نہیں ملا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4691]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن ان صح سماع بشير بن يسار من ابي بردة، فقد قال ابن عبد البر: يقال: ان بشير بن يسار لم يسمع من ابي بردة، وانظر الحديث الآتي، فانه صحيح، لكن مختصرا منه، أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير: 22/ 508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16604»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ان صح سماع بشير بن يسار من ابي بردة
حدیث نمبر: 4692
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا عَجَّلْنَا شَاةَ لَحْمٍ لَنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقَبْلَ الصَّلَاةِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا جَذَعَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّةٍ قَالَ تُجْزِئُ عَنْهُ وَلَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَهُ
۔ سیدنا براء اپنے ماموں سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے گوشت والی بکری جلدی ذبح کر دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا نماز سے پہلے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو صرف گوشت کی بکری ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکری کا بچہ ہے، لیکن وہ مجھے دو دانتے جانور سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تجھ سے کفایت کرے گا، لیکن تیرے بعد اس قسم کا جانور کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4692]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16599»
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16599
حدیث نمبر: 4693
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ قَدْ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو مدینہ منورہ میں قربانی والے دن نماز پڑھائی، اُدھر کچھ لوگوں نے جلدی کی اور قربانی کر دی، ان کا خیال یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کر چکے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ جس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے قربانی کی ہے، وہ دوبارہ قربانی کرے اور لوگ اس وقت تک قربانی نہ کیا کریں، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کر لیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4693]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16485)_x000D_
(4693) أخرجه مسلم: 1964، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14176»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 4694
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَتُودًا جَذَعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ وَنَهَى أَنْ يَذْبَحُوا حَتَّى يُصَلُّوا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز پڑھنے سے پہلے بکری کا کھیرا بچہ ذبح کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: تیرے بعد اس طرح کا عمل کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز ادا کرنے سے پہلے قربانی کرنے سے منع کر دیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4694]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابويعلي: 1779، وابن حبان: 5909، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14989»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 4695
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لَا قَالَ ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی والے دن فرمایا: جس نے نمازِ عید سے پہلے قربانی کر دی ہے، وہ دوبارہ قربانی کرے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ جس میں گوشت کی خواہش کی جاتی ہے، پھر اس نے اپنے ہمسائیوں کی حاجت کا ذکر کیا، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تصدیق کر رہے تھے، پھر اس نے کہا: اب میرے پاس ایک جذعہ جانور ہے، لیکن وہ مجھے گوشت کی دو بکریوں سے زیادہ پسند ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رخصت دے دی۔ راوی کہتا ہے: اب مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ کیا یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دو دنبوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو ذبح کیا، اُدھر لوگ بھی بکریوں کی طرف گئے، ان کو تقسیم کیا اور ان کی قربانی کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4695]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 954، 5549، 5561، ومسلم: 1962، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12144»
وضاحت: فوائد: … یہ جذعہ بکری کی نسل کا تھا، دوسری روایات سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 954