الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. بَابُ مَا لَا يُضَحَّى بِهِ لِعَيْبِهِ وَلَا يُكْرَهُ وَمَا يُسْتَحَبُّ
ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
حدیث نمبر: 4676
عَنْ يَزِيدَ ذِي مِصْرٍ قَالَ أَتَيْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنِّي خَرَجْتُ أَلْتَمِسُ الضَّحَايَا فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا يُعْجِبُنِي غَيْرَ ثَرْمَاءَ فَمَا تَقُولُ قَالَ أَلَا جِئْتَنِي بِهَا قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ تَجُوزُ عَنْكَ وَلَا تَجُوزُ عَنِّي قَالَ نَعَمْ إِنَّكَ تَشُكُّ وَلَا أَشُكُّ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُصْفَرَّةِ وَالْمُسْتَأْصَلَةِ قَرْنُهَا مِنْ أَصْلِهَا وَالْبَخْقَاءِ وَالْمُشَيَّعَةِ وَالْكَسْرَاءِ فَالْمُصْفَرَّةُ الَّتِي تُسْتَأْصَلُ أُذُنُهَا حَتَّى يَبْدُوَ صِمَاخُهَا وَالْمُسْتَأْصَلَةُ الَّتِي اسْتُؤْصِلَ قَرْنُهَا مِنْ أَصْلِهِ وَالْبَخْقَاءُ الَّتِي تُبْخَقُ عَيْنُهَا وَالْمُشَيَّعَةُ الَّتِي لَا تَتْبَعُ الْغَنَمَ عَجَفًا وَضَعْفًا وَعَجْزًا وَالْكَسْرَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي
۔ یزید ذی مصر کہتے ہیں: میں سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابو الولید! میں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے نکلا تھا، لیکن کوئی ایسا نہیں جو مجھے پسند آیا ہو، البتہ سامنے والے دانت ٹوٹا ہوا ایک جانور تھا، اس کے بارے میں تم کیا کہو گے؟ انھوں نے کہا: تو اس کو میرے پاس لے کر کیوں نہیں آیا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ، تمہاری طرف سے جائز ہے اور میرے طرف سے جائز نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، کیونکہ تو شک کرتا ہے اور میں شک نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان جانوروں سے منع کیا ہے:جس کا کان اتنا کاٹ دیا جائے کہ اس کا سوراخ ظاہر ہو جائے، جس کا سارا کان کاٹ دیا جائے،بھینگی آنکھ والا، جس کی آنکھ کانی ہو گئی ہو، وہ جو کمزوری اور عجز کی وجہ سے بکریوں کے پیچھے نہ چل سکتی ہو اور وہ کہ جس کی ہڈیوں میں گودا ہی نہ ہو۔ (آگے ان الفاظ کے معانی بیان کیے گئے ہیں، جو ترجمہ میں واضح کر دیئے گئے ہیں)۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4676]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2803، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17802»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں چار عیوب کا بیان ہے، واضح پن کی قید لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی درجے کا عیب قابل برداشت ہے، سمجھ والے لوگ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ فلاں عیب واضح ہے یا معمولی۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 4677
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزٍ مَوْلَى بَنِي شَيْبَانَ أَنَّهُ سَأَلَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْأَضَاحِيِّ مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَرِهَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ فَقَالَ أَرْبَعٌ لَا تُجْزِئُ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تُنْقِي قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْقَرْنِ نَقْصٌ أَوْ قَالَ فِي الْأُذُنِ نَقْصٌ أَوْ فِي السِّنِّ نَقْصٌ قَالَ مَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ
۔ عبید بن فیروز نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے قربانیوں کے بارے میں سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس قسم کے جانوروں سے منع فرمایا اور ان کو ناپسند کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، جبکہ میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار قسم کے جانور قربانی میں کفایت نہیں کرتے: (۱) بھینگا، جس کا بھینگا پن واضح ہو۔ (۲) بیماری، جس کی بیماری واضح ہو۔ (۳) لنگڑا، جس کا لنگڑا پن واضح ہو اور (۴) ایسا لاغر جانور کہ جس کی ہڈی میں گودانہ ہو۔ میں نے کہا: میں سینگ یا کان یا دانت میں بھی نقص کو ناپسند کرتا ہوں، انھوں نے کہا: جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، اس کو چھوڑ دے، لیکن اس کو دوسروں کے لیے حرام نہ قرار دے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4677]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2802، والترمذي: 1497، والنسائي: 7/ 214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18704»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 4678
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَرَيْتُ كَبْشًا أُضَحِّي بِهِ فَعَدَا الذِّئْبُ فَأَخَذَ الْأَلْيَةَ قَالَ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے قربانی کرنے کے لیے ایک دنبہ خریدا، لیکن بھیڑئیے نے اس پر حملہ کیا اور اس کا سرین کاٹ کر لے گیا،پھر جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4678]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، وجھالة محمد بن قرظة، أخرجه ابن ماجه: 3146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11274 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11294»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي
حدیث نمبر: 4679
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْمَعْزِ قَالَ دَاوُدُ السَّيِّدُ الْجَلِيلُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کا جذعہ بکری نسل کے سید سے بہتر ہے۔ داود نے کہا: سید سے مراد جلیل (اچھا بھلا جانور) ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4679]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي ثفال، أخرجه الحاكم: 4/227، والبيھقي: 9/ 271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9216»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي ثفال
حدیث نمبر: 4680
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَمُ عَفْرَاءَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ دَمِ سَوْدَاوَيْنِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہلکا خاکستری رنگ کا جانور کالے رنگ کے دو جانوروں سے زیادہ پسندیدہ اور افضل ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4680]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الحاكم: 4/227، والبيھقي: 9/ 273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9393»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اس کے حکم پر کوئی جانور ذبح کیا جائے تو خاکستری رنگ کا اہتمام کرنا چاہیے، مثلا: قربانی، ہَدی، نذر، صدقہ۔
الحكم على الحديث:
صحيح
61. بَابُ التَّضْحِيَةِ بِالْخَصِيِّ
خصی جانور کی قربانی کرنا
حدیث نمبر: 4681
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجَوَيْنِ قَالَ فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ وَيَذْبَحُ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو موٹے تازے، سینگوں والے،چتکبرے اور خصی دنبوں کی قربانی کرتے، ایک دنبہ اپنی امت میں سے توحید کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں پیغام پہنچا دینے کی گواہی دینے والوں کی طرف سے اور ایک اپنی اور اپنی آل کی طرف سے کرتے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4681]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3122، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26367»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 4682
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ جَذَعَيْنِ خَصِيَّيْنِ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دنبوں کی قربانی کی، وہ دونوں جذعے اور خصی تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4682]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن، ويعلي بن النعمان في عداد المجھولين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22057»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ جانور کا خصی ہونا عیب تو ہے، لیکن قربانی کے سلسلے میں یہ عیب معتبر نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4683
عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجَيَّيْنِ خَصِيَّيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا عَمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ وَلَهُ بِالْبَلَاغِ وَالْآخَرُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَفَانَا
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو چتکبرے اور خصی دنبوں کی قربانی کی، ایک دنبہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں پیغام پہنچا دینے والوں کی طرف سے تھے اور ایک دنبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کی طرف سے تھا۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کفایت کر دیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4683]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي، ولضعف عبد الله بن محمد بن عقيل، وقد اضطرب فيه الوانا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24361»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي
62. التَّضْحِيَةُ بِالْبَعِيرِ عَنْ عَشْرَةٍ وَبِالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ وَبِالشَّاةِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ الْوَاحِدِ
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
حدیث نمبر: 4684
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ النَّحْرُ فَذَبَحْنَا الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَعِيرَ عَنْ عَشَرَةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ عید الاضحی کا موقع آگیا، پس ہم نے سات افراد کی طرف سے گائے اور دس افراد کی طرف اونٹ ذبح کیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4684]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 3131، والترمذي: 905، 1501، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2484»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۴۶۱۹) میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 4685
عَنْ أَبِي عَقِيلٍ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ التَّيْمِيِّ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَغِيرٌ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ وَكَانَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا تھا اور وہ اس طرح کہ ان کی ماں سیدہ زینب بنت حمید رضی اللہ عنہا ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس سے بیعت لو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو چھوٹا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے حق میں دعا کی، یہ صحابی بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تمام اہل کی طرف سے ایک بکری قربان کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4685]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7210، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18210»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7210