سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب أَيُصَلِّي الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ
باب: کیا آدمی پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھ سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 91
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ، قَالَ: وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَؤُمَّ قَوْمًا إِلَّا بِإِذْنِهِمْ وَلَا يَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِنْ سُنَنِ أَهْلِ الشَّامِ لَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے جب تک کہ (وہ فارغ ہو کر) ہلکا نہ ہو جائے“۔ پھر راوی نے اسی طرح ان الفاظ کے ساتھ آگے حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: ”کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ کسی قوم کی امامت ان کی اجازت کے بغیر کرے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو ان سے خیانت کی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اہل شام کی حدیثوں میں سے ہے، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 91]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ پیشاب پاخانہ روکے ہوئے نماز پڑھے، حتیٰ کہ فارغ ہو جائے۔“ پھر جناب ثور نے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔ اور کہا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے حلال نہیں کہ بغیر اجازت کے کسی قوم کی امامت کرائے اور نہ اہل جماعت کو چھوڑ کر خاص اپنے ہی لیے دعا کرے۔ اگر ایسا کرے تو ان سے خیانت کی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ سند اہل شام کی اسانید میں سے ہے، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں (سوائے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 91]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14879) (صحیح)» (اس کے راوی ”یزید“ ضعیف ہے، ہاں شواہد کے سبب یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، البتہ دعاء والا ٹکڑا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا کوئی شاہد نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا جملة الدعوة
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (90)
وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (90)
44. باب مَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْوُضُوءِ
باب: وضو کے لیے کتنا پانی کافی ہے؟
حدیث نمبر: 92
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور ایک مد سے وضو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 92]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”ایک صاع پانی سے غسل اور ایک مد سے وضو کر لیا کرتے تھے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جناب ابان نے قتادہ سے روایت کیا تو ( «عن صفية» کی بجائے) «سمعت صفية» کہا ہے (یعنی میں نے سیدہ صفیہ سے سنا)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 92]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المیاہ 13 (348)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 1 (268)، تحفة الأشراف(17854)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 48 (201)، صحیح مسلم/الحیض 10 (326)، سنن الترمذی/الطہارة 42 (56)، مسند احمد (6/121) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے اور ایک مد تقریباً چھ سو پچیس (۶۲۵) گرام کا، اس اعتبار سے صاع تقریباً دو کلو پانچ سو گرام ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البيهقي (1/ 195) من حديث ابان بن يزيد العطار عن قتادة، وقتادة صرح بالسماع به
رواه البيهقي (1/ 195) من حديث ابان بن يزيد العطار عن قتادة، وقتادة صرح بالسماع به
حدیث نمبر: 93
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع سے غسل فرماتے اور ایک مد سے وضو کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 93]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”ایک صاع پانی سے غسل اور ایک مد سے وضو کر لیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 93]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2247)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 3 (252)، سنن النسائی/الطھارة 144 (231)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 1 (269)، مسند احمد (3/270) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
فيه يزيد بن ابي زياده ضعيف ضعفه الجمھور، ورواه حصين عن سالم بن ابي الجعد عند الحاكم (1/ 161) وصححه علي شرط الشيخين ووافقه الذھبي وللحديث شواھد كثيرة منھا الحديث السابق
فيه يزيد بن ابي زياده ضعيف ضعفه الجمھور، ورواه حصين عن سالم بن ابي الجعد عند الحاكم (1/ 161) وصححه علي شرط الشيخين ووافقه الذھبي وللحديث شواھد كثيرة منھا الحديث السابق
حدیث نمبر: 94
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، عَنْ جَدَّتِهِ وَهِيَ أُمُّ عُمَارَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْرُ ثُلُثَيِ الْمُدِّ".
عباد بن تمیم کی دادی ام عمارہ (ام عمارہ بنت کعب) رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا جس میں دو تہائی مد کے بقدر پانی تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 94]
سیدہ ام عمارہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برتن لایا گیا، اس میں ایک مد کے دو تہائی جتنا پانی تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 94]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 59 (74) (تحفة الأشراف: 18336) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 95
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِإِنَاءٍ يَسَعُ رَطْلَيْنِ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ: عَنْ ابْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ، قَالَ: وَرَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنِي جَبْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، سَمِعْتُ أَنَسًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ رَطْلَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ , يَقُولُ: الصَّاعُ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَهُوَ صَاعُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَهُوَ صَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے برتن سے وضو کرتے تھے جس میں دو رطل پانی آتا تھا، اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن آدم نے اسے شریک سے روایت کیا ہے مگر اس روایت میں (عبداللہ بن جبر کے بجائے) ابن جبر بن عتیک ہے، نیز سفیان نے بھی اسے عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت کیا ہے اس میں «حدثني جبر بن عبد الله.» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے شعبہ نے بھی روایت کیا ہے، اس میں «حدثني عبد الله بن عبد الله بن جبر سمعت أنسا» ہے، مگر فرق یہ ہے کہ انہوں نے «يتوضأ بإناء يسع رطلين» کے بجائے: «يتوضأ بمكوك» کہا ہے اور «رطلين» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے کہ ایک صاع پانچ رطل کا ہوتا ہے، یہی ابن ابی ذئب کا صاع تھا اور یہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی صاع تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 95]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے برتن سے وضو کیا کرتے تھے جس میں دو رطل پانی آتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع (پانی) سے غسل فرما لیا کرتے تھے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے (سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے شاگردوں کے نام اور اسناد میں اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے) کہا کہ شعبہ نے کہا: «حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ سَمِعْتُ أَنَسًا» مگر اس میں ہے کہ آپ «مکوک» (ایک مد) سے وضو کرتے تھے، اس میں دو رطل کا ذکر نہیں ہے۔ «يحيى بن آدم عن شريك» کی روایت میں ہے «عَنْ ابْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ» جبکہ سفیان کی روایت میں «عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى حَدَّثَنِي جَبْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ» آیا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو سنا وہ کہتے تھے: ”صاع پانچ رطل ہے“۔ ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یہی صاع ابن ابی ذئب کا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع اسی طرح کا تھا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 95]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہذا اللفظ أبوداود و سنن الترمذی/الصلاة 609 ولفظہ: یجزیٔ في الوضوء رطلان من ماء (تحفة الأشراف: 962) (ضعیف)» (سند میں شریک القاضی سیٔ الحفظ راوی ہیں انہوں نے کبھی اس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی حیثیت سے روایت کیا ہے، اور کبھی فعل کی حیثیت سے جب کہ اصل حدیث «یتوضأ بمکوک ویغتسل بخمسة مکالي» یا «یتوضأ بالمد و یغتسل بالصاع» کے لفظ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: «صحیح البخاری/الوضوء 47 (201)، صحیح مسلم/الحیض 10 (325)، سنن النسائی/الطھارة 59 (73)، 144 (230)، والمیاہ 13 (346)، (تحفة الأشراف: 962) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 112، 116، 179، 259، 282، 290)»
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
وسنده ضعيف
شريك القاضي مدلس وعنعن (طبقات المدلسين: 56/ 2،وھومن الثالثة)
وحديث البخاري (201) ومسلم (325) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
وسنده ضعيف
شريك القاضي مدلس وعنعن (طبقات المدلسين: 56/ 2،وھومن الثالثة)
وحديث البخاري (201) ومسلم (325) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
45. باب الإِسْرَافِ فِي الْوَضُوءِ
باب: وضو میں اسراف و فضول خرچی یعنی پانی ضرورت سے زیادہ بہانا درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 96
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطَّهُورِ وَالدُّعَاءِ".
ابونعامہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کہتے سنا: اے اللہ! میں جب جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف کا سفید محل عطا فرما، آپ نے کہا: میرے بیٹے! تم اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 96]
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے (ایک بار) اپنے صاحبزادے کو دعا کرتے سنا (جو یوں کہہ رہا تھا): «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جب میں جنت میں داخل ہوں تو مجھے اس کی دائیں جانب سفید محل عنایت ہو۔“ اس پر سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیٹا! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور دوزخ سے پناہ مانگو۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو طہارت میں اور دعا مانگنے میں حد سے زیادہ مبالغہ کریں گے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 96]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدعاء 12 (3864)، (تحفة الأشراف: 9664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: طہارت میں حد سے تجاوز کا مطلب یہ ہے کہ وضو، غسل یا آب دست میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ”تحدید“ سے زیادہ بلا ضرورت پانی بہایا جائے، اور دعا میں حد سے تجاوز کا مطلب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں چھوڑ کر دوسروں کی تکلفات سے بھری، مقفی اورمسجّع دعائیں پڑھی جائیں، یا حد ادب سے تجاوز ہو، یا صلہ رحمی کے خلاف ہو، یا غیر شرعی خواہش ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (418)
ابو نعامه ھو قيس بن عبايه، سمع ابن عبدالله بن مغفل
مشكوة المصابيح (418)
ابو نعامه ھو قيس بن عبايه، سمع ابن عبدالله بن مغفل
46. باب فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ
باب: پوری طرح اور مکمل وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 97
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى قَوْمًا وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ، فَقَالَ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کو اس حال میں دیکھا کہ وضو کرنے میں ان کی ایڑیاں (پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے) خشک تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کو بھگونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی آگ سے تباہی ہے وضو پوری طرح سے کرو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 97]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ (وضو میں جلدی کے باعث ان کے پاؤں خشک رہ گئے اور) ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ایسی) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے، وضو مکمل کیا کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 97]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطھارة 9 (241)، سنن النسائی/الطھارة 89 (111)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 55 (450)، مسند احمد (2/193، 201، 205، 211، 226)، (تحفة الأشراف: 8936)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 3 (60)، 30 (96)، بدون: ”أسبغوا ...“، (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایڑیاں اگر وضو میں خشک رہ جائیں گی تو جہنم میں جلائی جائیں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (241)
47. باب الْوُضُوءِ فِي آنِيَةِ الصُّفْرِ
باب: پیتل کے برتن میں وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 98
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنِي صَاحِبٌ لِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَوْرٍ مِنْ شَبَهٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں پیتل کے ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 98]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے جو پیتل کا بنا ہوا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 98]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17344) (ضعیف)» (”حماد کے استاذ“ مجہول ہیں، نیز ہشام اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے، البتہ متن ثابت ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حماد بن سلمة سمعه من شعبة عن هشام عن أبيه عن عائشة به عند البيهقي (1/31) وبه صح الحديث
حماد بن سلمة سمعه من شعبة عن هشام عن أبيه عن عائشة به عند البيهقي (1/31) وبه صح الحديث
حدیث نمبر: 99
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ مَنْصُورٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 99]
”جناب محمد بن علاء رحمہ اللہ کی سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث کی مانند مروی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 99]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 17344) (ضعیف)» (اس کی سند میں ایک راوی مبہم، البتہ متن ثابت ہے)
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حماد بن سلمة سمعه من شعبة عن هشام عن أبيه عن عائشة به عند البيهقي (1/31) وبه صح الحديث
حماد بن سلمة سمعه من شعبة عن هشام عن أبيه عن عائشة به عند البيهقي (1/31) وبه صح الحديث
حدیث نمبر: 100
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَسَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:" جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّأَ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے ایک پیتل کے پیالے میں آپ کے لیے پانی نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 100]
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ”(ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیتل کے برتن میں پانی پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 45 (197)، صحیح مسلم/الطہارة 7 (235)، سنن الترمذی/الطہارة 24 (32)، سنن النسائی/الطہارة 80 (97)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 61 (471)، (تحفة الأشراف: 5308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/38، 39) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (191، 197) صحيح مسلم (235)