🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب فِي الرَّجُلِ يَسْتَاكُ بِسِوَاكِ غَيْرِهِ
باب: دوسرے کی مسواک استعمال کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 51
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ:" بِالسِّوَاكِ".
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کس چیز سے ابتداء فرماتے؟ فرمایا: مسواک سے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 51]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطھارة 15 (253)، سنن النسائی/الطھارة 8 (8)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 7 (290)، (تحفة الأشراف: 16144)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/42، 110، 182، 188) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (253)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب غَسْلِ السِّوَاكِ
باب: مسواک دھونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 52
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ الْحَاسِبُ، حَدَّثَنِي كَثِيرٌ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَيُعْطِينِي السِّوَاكَ لِأَغْسِلَهُ، فَأَبْدَأُ بِهِ فَأَسْتَاكُ، ثُمَّ أَغْسِلُهُ وَأَدْفَعُهُ إِلَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر کے مجھے دھونے کے لیے دیتے تو میں خود اس سے مسواک شروع کر دیتی پھر اسے دھو کر آپ کو دے دیتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 52]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے ہوتے تھے اور مجھے عنایت فرماتے کہ میں اسے دھو دوں، مگر میں پہلے اسے اپنے منہ میں پھیرتی پھر اسے دھو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس دے دیتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 52]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17570) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (384)
كثير بن عبيد وثقه ابن حبان وصحح له الحاكم (4/ 10) والذھبي وروي عنه جماعة

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. باب السِّوَاكِ مِنَ الْفِطْرَةِ
باب: مسواک دین فطرت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 53
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ بِالْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ"، قَالَ زَكَرِيَّا: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں دین فطرت ہیں ۱؎: ۱- مونچھیں کاٹنا، ۲- داڑھی بڑھانا، ۳- مسواک کرنا، ۴- ناک میں پانی ڈالنا، ۵- ناخن کاٹنا، ۶- انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، ۷- بغل کے بال اکھیڑنا، ۸- ناف کے نیچے کے بال مونڈنا ۲؎، ۹ - پانی سے استنجاء کرنا۔ زکریا کہتے ہیں: مصعب نے کہا: میں دسویں چیز بھول گیا، شاید کلی کرنا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 53]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس باتیں فطرت میں سے ہیں۔ (یعنی سابقہ انبیاء کی متواتر سنت ہیں اور وہ یہ ہیں) مونچھیں کترانا، ڈاڑھی چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی چڑھانا (اور صاف کرنا)، ناخن کاٹنا، (ہاتھوں، پیروں اور دیگر) جوڑوں کا دھونا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، زیر ناف کے بال مونڈنا اور استنجاء کرنا۔ یعنی پانی سے۔ زکریا کی سند میں مصعب نے کہا کہ میں دسویں بات بھول گیا ہوں، شاید یہ کلی کرنا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 53]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطھارة 16 (261)، سنن الترمذی/الأدب 14 (2757)، سنن النسائی/الزینة 1 (5043)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 8 (293)، (تحفة الأشراف: 16188)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اکثر علماء نے فطرت کی تفسیر سنت سے کی ہے، گویا یہ خصلتیں انبیاء کی سنت ہیں جن کی اقتداء اور پیروی کا حکم اللہ تعالی نے ہمیں اپنے قول: «فبهداهم اقتده» میں دیا ہے۔
۲؎: مسلم کی ایک روایت کے مطابق چالیس دن سے زیادہ کی تاخیر اس میں درست نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (261)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 54
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ مُوسَى،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَاوُدُ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْفِطْرَةِ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ وَزَادَ وَالْخِتَانَ، قَالَ: وَالِانْتِضَاحَ، وَلَمْ يَذْكُرِ انْتِقَاصَ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ نَحْوُهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَ: خَمْسٌ كُلُّهَا فِي الرَّأْسِ، وَذَكَرَ فِيهَا الْفَرْقَ وَلَمْ يَذْكُرْ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ نَحْوُ حَدِيثِ حَمَّادٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، قَوْلُهُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ. وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، نَحْوُهُ، وَذَكَرَ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ وَالْخِتَانَ.
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فطرت میں سے ہے، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی، داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا، اس میں ختنہ کا اضافہ کیا ہے، نیز اس میں استنجاء کے بعد لنگی پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے، اور پانی سے استنجاء کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح کی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، جس میں پانچ چیزیں ہیں ان میں سب کا تعلق سر سے ہے، اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سر میں مانگ نکالنے کا ذکر کیا ہے، اور داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث کی طرح طلق بن حبیب، مجاہد اور بکر بن عبداللہ المزنی سے ان سب کا اپنا قول مروی ہے، اس میں ان لوگوں نے بھی داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور محمد بن عبداللہ بن مریم کی روایت جسے انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں داڑھی چھوڑنے کا ذکر ہے۔ ابراہیم نخعی سے بھی اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں انہوں نے داڑھی چھوڑنے اور ختنہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 54]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں فطری امور میں شامل ہیں یعنی کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا۔ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا مگر اس میں ڈاڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں بلکہ ختنے کا ذکر مزید ہے۔ اور ان کی روایت میں «الِانْتِضَاحُ» کا لفظ بیان کیا گیا ہے، «انْتِقَاصُ الْمَاءِ» کا لفظ نہیں کہا گیا۔ «الِانْتِضَاحُ» کے معنی ہیں بعد از وضو شرمگاہ کے مقام پر چھینٹے مارنا اور «انْتِقَاصُ الْمَاءِ» کے معنی پانی کے ساتھ استنجاء کرنا کے ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ پانچ امور (فطرت) سے متعلق ہیں۔ انہوں نے مانگ نکالنے کا ذکر کیا اور ڈاڑھی چھوڑنے کا نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد کی مذکورہ بالا روایت کی طرح طلق بن حبیب، مجاہد اور بکر بن عبداللہ مزنی سے ان کے موقوف اقوال مروی ہیں، انہوں نے بھی ڈاڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں کیا۔ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث، جو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اس میں ڈاڑھی بڑھانے کا ذکر آیا ہے اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں ڈاڑھی بڑھانے اور ختنے کا ذکر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 54]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏حدیث محمد بن عبداللہ ابن مریم تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15003، 10350)، وحدیث موسی بن إسماعیل قد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 8 (294)، مسند احمد (4/264) (حسن)» ‏‏‏‏ (ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی گذشتہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ خود اس کے اندر دو علتیں ہیں: اس کا راوی ”علی بن جدعان“ ضعیف ہے اور سلمہ نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے حدیث نہیں سنی ہے، اور موسیٰ کی روایت کے مطابق تو اس کے اندر ارسال کی علت بھی ہے)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف،ابن ماجه (294)
علي بن زيد بن جدعان ضعيف (تقريب التهذيب: 4734)
وقال البوصيري: والجمھور علي تضعيفه (زوائد ابن ماجه:228)
وقال الھيثمي:وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد206/8،209)قلت: تناقض الھيثمي فيه وقوله ھھنا ھوالصوابوالحديث السابق (الأصل : 53 صحيح) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. باب السِّوَاكِ لِمَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
باب: آدمی رات کو اٹھے تو مسواک کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 55
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 55]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ صاف کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 55]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 73 (245)، الجمعة 8 (889)، التھجد 9 (1136)، صحیح مسلم/الطھارة 15 (255)، سنن النسائی/الطھارة 2 (2)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 7 (286)، (تحفة الأشراف: 3336)، مسند احمد (5/382، 390، 397)، سنن الدارمی/الطھارة 20 (712) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (245، 889) صحيح مسلم (255)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 56
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوضَعُ لَهُ وَضُوءُهُ وَسِوَاكُهُ، فَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ تَخَلَّى ثُمَّ اسْتَاكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دی جاتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھتے تو قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کرتے پھر مسواک کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 56]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (رات کو) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھا جاتا تھا، چنانچہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھتے تو پہلے قضائے حاجت کرتے اور پھر مسواک کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 56]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16111)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 18 (746)، سنن النسائی/الافتتاح 262 (1316)، قیام اللیل 2(1602)، 17(1642)، 18(1652)، 42(1719)، 43 (1721، 1725)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 123 (1190)، مسند احمد (6/44) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
انفرد به ابو داود

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 57
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ، إِلَّا تَسَوَّكَ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رات کو یا دن کو سو کر اٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 57]
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن یا رات میں جب بھی سو کر اٹھتے تو وضو سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 57]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17819)، مسند احمد (6/121، 160) (حسن) دون قوله: ’’ولا نهار‘‘» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله ولا نهار
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان ضعيف (تقدم: 54) والجمھور علي تضعيفه
وأم محمد لم أجد من وثقھاوھي مجهولة
وانظر الحديث الآتي (4898)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 58
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ، أَتَى طَهُورَهُ، فَأَخَذَ سِوَاكَهُ فَاسْتَاكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَاتِ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى قَارَبَ أَنْ يَخْتِمَ السُّورَةَ أَوْ خَتَمَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْل ذَلِكَ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے، اپنی مسواک لے کر مسواک کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ۱؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورۃ ختم کے قریب ہو گئی، یا ختم ہو گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا (یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے، اور اسی طرح کیا، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» پڑھ رہے تھے، یہاں تک کہ پوری سورۃ ختم کر دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 58]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں (ان کے گھر میں) رات گزاری، تو جب آپ بیدار ہوئے تو اس جگہ آئے جہاں پانی رکھا ہوا تھا، آپ نے مسواک لی اور مسواک کرنے لگے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں (سورہ آل عمران کی آخری آیات) ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ [سورة آل عمران: 190] حتیٰ کہ اختتام سورت کے قریب پہنچے بلکہ سورت ختم ہی کر دی۔ پھر آپ نے وضو کیا اور اپنی جائے نماز پر آ گئے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ اپنے بستر پر لوٹ آئے اور سو گئے، اور جتنا اللہ نے چاہا سوئے رہے، پھر (دوبارہ) جاگے اور پہلے کی مانند کیا اور پھر اپنے بستر پر لوٹ آئے اور جتنا اللہ نے چاہا سوئے رہے۔ پھر (سہ بارہ) جاگے اور پہلے کی مانند کیا۔ ہر بار مسواک کرتے اور دو رکعت پڑھتے، پھر آپ نے وتر پڑھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابن فضیل نے حصین کے واسطے سے روایت کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ نے مسواک کی اور وضو کیا اور اس اثناء میں آپ آیات کریمہ ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [سورة آل عمران: 190] پڑھ رہے تھے حتیٰ کہ سورت ختم کر دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 58]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العلم 41 (117)، الأذان 57 (697)، 59 (699)، 79 (728)، اللباس 71 (5919)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن النسائی/الإمامة 21 (803)، 22 (805)، الغسل 29 (441)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 44 (973)، (تحفة الأشراف: 6287)، وراجع حدیث رقم: (1353، 1357)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365)، سنن الدارمی/الطہارة 3 (684) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں (سورۃ آل عمران: ۱۹۰)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. باب فَرْضِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 59
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ، وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ".
ابوالملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی بغیر وضو کے کوئی نماز۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 59]
ابو ملیح اپنے والد (سیدنا اسامہ بن عمیر ہذلی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خیانت کے مال سے کوئی صدقہ قبول نہیں فرماتا اور نہ کوئی نماز وضو کے بغیر قبول کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 59]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 104 (139)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 2 (271)، (تحفة الأشراف: 132)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة2 (224)، مسند احمد (5/74، 75)، سنن الدارمی/الطھارة 21 (713) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
ورواية شعبة عن قتادة محمولة علي السماع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 60
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی شخص بے وضو ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کر لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 60]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی بے وضو انسان کی نماز قبول نہیں کرتا حتیٰ کہ وہ وضو کر لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 60]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 2(135)، الحیل 2 (6954)، صحیح مسلم/الطھارة 2 (225)، سنن الترمذی/الطھارة 56 (76)، (تحفة الأشراف: 14694)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/318) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (135) صحيح مسلم (225)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں