سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب فَرْضِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 61
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 61]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ہے، اس کی تحریم «اَللهُ اَكْبَرُ» کہنا اور اس کی تحلیل «اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ» کہنا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 61]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 3 (3)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 3 (275)، (تحفة الأشراف: 10265)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/123)، سنن الدارمی/الطھارة 22 (714) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تحریم سے مراد ان سارے افعال کو حرام کرنا ہے جنہیں اللہ تعالی نے نماز میں حرام کیا ہے، اسی طرح تحلیل سے مراد ان سارے افعال کو حلال کرنا ہے جنہیں اللہ تعالی نے نماز سے باہر حلال کیا ہے، یہ حدیث جس طرح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کا دروازہ بند ہے جسے انسان وضو کے بغیر کھول نہیں سکتا اسی طرح اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ اکبر کے علاوہ کسی اور دوسرے جملہ سے تکبیر تحریمہ نہیں ہو سکتی اور سلام کے علاوہ آدمی کسی اور چیز کے ذریعہ نماز سے نکل نہیں سکتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (312)
ابن عقيل ضعفه الجمھور وللحديث شواھد كثيرة منھا قول ابن مسعود رضي الله عنه، رواه البيهقي (2/ 16) وسنده صحيح وله حكم المرفوع، فالحديث حسن
مشكوة المصابيح (312)
ابن عقيل ضعفه الجمھور وللحديث شواھد كثيرة منھا قول ابن مسعود رضي الله عنه، رواه البيهقي (2/ 16) وسنده صحيح وله حكم المرفوع، فالحديث حسن
32. باب الرَّجُلِ يُجَدِّدُ الْوُضُوءَ مِنْ غَيْرِ حَدَثٍ
باب: وضو ٹوٹے بغیر نیا وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 62
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ يَحْيَى أَتْقَنُ، عَنْ غُطَيْفٍ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَلَمَّا نُودِيَ بِالظُّهْرِ تَوَضَّأَ فَصَلَّى، فَلَمَّا نُودِيَ بِالْعَصْرِ تَوَضَّأَ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، وَهُوَ أَتَمُّ.
ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، جب ظہر کی اذان ہوئی تو آپ نے وضو کر کے نماز پڑھی، پھر عصر کی اذان ہوئی تو دوبارہ وضو کیا، میں نے ان سے پوچھا (اب نیا وضو کرنے کا کیا سبب ہے؟) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”جو شخص وضو پر وضو کرے گا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسدد کی روایت ہے اور یہ زیادہ مکمل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 62]
ابو غطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ظہر کی اذان دی گئی تو انہوں نے وضو کیا اور نماز پڑھی، پھر عصر کے لیے اذان ہوئی تو انہوں نے (دوبارہ) وضو کیا، میں نے انہیں کہا: (جب آپ بے وضو نہیں ہوئے تو نیا وضو کرنے کی کیا ضرورت ہے؟) تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”جو شخص باوضو ہوتے ہوئے وضو کرے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت جناب مسدد کی ہے، جو (محمد بن یحییٰ کی روایت سے) زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 62]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 44 (59)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 73 (512)، (تحفة الأشراف: 8590) (ضعیف)» (اس سند میں عبدالرحمن ضعیف ہیں اور ابوغطیف مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (59)،ابن ماجه (512)
عبد الرحمٰن بن زياد بن أنعم الإ فريقي ضعيف في حفظه (تقريب التهذيب:3862)
وقال العراقي: ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء: 199/2)
وقال الھيثمي: وقد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد: 56/5)
والحديث ضعفه الترمذي (59)
وانظر الحديث الآتي (ح 514)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
إسناده ضعيف
ترمذي (59)،ابن ماجه (512)
عبد الرحمٰن بن زياد بن أنعم الإ فريقي ضعيف في حفظه (تقريب التهذيب:3862)
وقال العراقي: ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء: 199/2)
وقال الھيثمي: وقد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد: 56/5)
والحديث ضعفه الترمذي (59)
وانظر الحديث الآتي (ح 514)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
33. باب مَا يُنَجِّسُ الْمَاءَ
باب: جو چیزیں پانی کو ناپاک کر دیتی ہیں۔
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَفْظُ ابْنُ الْعَلَاءِ، وقَالَ عُثْمَانُ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ الصَّوَابُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر جانور اور درندے آتے جاتے ہوں (اس میں سے پیتے اور اس میں پیشاب کرتے ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کو دفع کر دے گا (یعنی نجاست اس پر غالب نہیں آئے گی)“ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن العلاء کے الفاظ ہیں، عثمان اور حسن بن علی نے ”محمد بن جعفر“ کی جگہ ”محمد بن عباد بن جعفر“ کا ذکر کیا ہے، اور یہی درست ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 63]
سیدنا عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (ایسے) پانی کے متعلق پوچھا گیا جس پر جانور اور درندے وارد ہوتے ہیں (مثلاً تالاب میں داخل ہو جاتے یا اس سے پیتے ہیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو ناپاک نہیں ہوتا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (محمد) ابن العلاء کی روایت میں ”محمد بن جعفر بن زبیر“ آیا ہے جب کہ عثمان بن ابی شیبہ اور حسن بن علی کی روایت میں ”محمد بن عباد بن جعفر“ منقول ہوا ہے اور یہی (ثانی الذکر) صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 63]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 43 (52)، (تحفة الأشراف: 7272)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 50 (367)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 75 (517، 518)، سنن الدارمی/الطھارة 55 (758) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب پانی دو قلہ ہو تو وہ نجاست کے گرنے سے نجس نہیں ہو گا، (الایہ کہ اس کا رنگ، بو، اور مزہ بدل جائے) دو قلہ کی مقدار (۵۰۰) عراقی رطل ہے اور عراقی رطل (۹۰) مثقال کے برابر ہوتا ہے، انگریزی پیمانے سے دو قلہ کی مقدار تقریباً دو کوئنٹل کے برابر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (477)
عبد الله وعبيد الله، ابنا عبد الله بن عمر: ثقتان، ومحمد بن جعفر بن الزبير ومحمد بن عباد بن جعفر ثقتان كما في تقريب التهذيب وغيره، فالإختلاف في السند لا يضر لأنه انتقال ثقة إلٰي ثقة وللحديث شواھد كثيرة منھا حديث حماد بن سلمة عند أبي داود (65) وغيره وسنده حسن وقال ابن معين: ’’فالحديث جيد الإسناد‘‘ (تاريخ ابن معين رواية الدوري: 4/ 240 الرقم: 4152)
مشكوة المصابيح (477)
عبد الله وعبيد الله، ابنا عبد الله بن عمر: ثقتان، ومحمد بن جعفر بن الزبير ومحمد بن عباد بن جعفر ثقتان كما في تقريب التهذيب وغيره، فالإختلاف في السند لا يضر لأنه انتقال ثقة إلٰي ثقة وللحديث شواھد كثيرة منھا حديث حماد بن سلمة عند أبي داود (65) وغيره وسنده حسن وقال ابن معين: ’’فالحديث جيد الإسناد‘‘ (تاريخ ابن معين رواية الدوري: 4/ 240 الرقم: 4152)
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ ابْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلَاةِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگل و بیابان میں موجود پانی کے بارے میں سوال کیا گیا، پھر سابقہ معنی کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 64]
جناب عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جو جنگل میں ہوتا ہے، تو انہوں نے گزشتہ حدیث کی مثل روایت کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 64]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ الطہارة 50 (67)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 75 (517، 518)، (تحفة الأشراف: 7305) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (477)
وصححه ابن خزيمة (92) وابن الجارود (45) وله علة غير قادحة والحديث السابق شاھد له وانظر الحديث الآتي (65)
مشكوة المصابيح (477)
وصححه ابن خزيمة (92) وابن الجارود (45) وله علة غير قادحة والحديث السابق شاھد له وانظر الحديث الآتي (65)
حدیث نمبر: 65
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَقَفَهُ عَنْ عَاصِمٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی جب دو قلہ کے برابر ہو جائے تو وہ ناپاک نہیں ہو گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے عاصم سے اس روایت کو موقوفاً بیان کیا ہے (اوپر سند میں حماد بن سلمہ ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 65]
جناب عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو ناپاک نہیں ہوتا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد بن زید نے اسے عاصم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 65]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7305) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (477)
مشكوة المصابيح (477)
34. باب مَا جَاءَ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ
باب: بضاعہ نامی کنویں کا بیان۔
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْحِيَضُ وَلَحْمُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 66]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کر لیا کریں، جبکہ یہ کنواں ایسا ہے کہ اس میں حیض کے چیتھڑے، کتوں کا گوشت اور گندگی ڈال دی جاتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں، بعض نے راوی کا نام عبداللہ بن رافع کی بجائے عبدالرحمٰن بن رافع بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 66]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 49 (66)، سنن النسائی/المیاہ 1 (327، 328)، (تحفة الأشراف: 4144)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/15، 16، 31، 86) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (478)
مشكوة المصابيح (478)
حدیث نمبر: 67
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَالُ لَهُ: إِنَّهُ يُسْتَقَى لَكَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا لُحُومُ الْكِلَابِ وَالْمَحَايِضُ وَعَذِرُ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ قَيِّمَ بِئْرِ بُضَاعَةَ عَنْ عُمْقِهَا. قَالَ: أَكْثَرُ مَا يَكُونُ فِيهَا الْمَاءُ إِلَى الْعَانَةِ، قُلْتُ: فَإِذَا نَقَصَ؟ قَالَ: دُونَ الْعَوْرَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدَّرْتُ أَنَا بِئْرَ بُضَاعَةَ بِرِدَائِي مَدَدْتُهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَرَعْتُهُ فَإِذَا عَرْضُهَا سِتَّةُ أَذْرُعٍ، وَسَأَلْتُ الَّذِي فَتَحَ لِي بَابَ الْبُسْتَانِ، فَأَدْخَلَنِي إِلَيْهِ، هَلْ غُيِّرَ بِنَاؤُهَا عَمَّا كَانَتْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: لَا. وَرَأَيْتُ فِيهَا مَاءً مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت یہ فرماتے سنا جب کہ آپ سے پوچھا جا رہا تھا کہ بئر بضاعہ ۱؎ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لایا جاتا ہے، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں کتوں کے گوشت، حیض کے کپڑے، اور لوگوں کے پاخانے ڈالے جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے بئر بضاعہ کے متولی سے اس کی گہرائی کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے جواب دیا: پانی جب زیادہ ہوتا ہے تو زیر ناف تک رہتا ہے، میں نے پوچھا: اور جب کم ہوتا ہے؟ تو انہوں نے جواباً کہا: تو ستر یعنی گھٹنے سے نیچے رہتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے بئر بضاعہ کو اپنی چادر سے ناپا، چادر کو اس پر پھیلا دیا، پھر اسے اپنے ہاتھ سے ناپا، تو اس کا عرض (۶) ہاتھ نکلا، میں نے باغ والے سے پوچھا، جس نے باغ کا دروازہ کھول کر مجھے اندر داخل کیا: کیا بئر بضاعہ کی بناوٹ و شکل میں پہلے کی نسبت کچھ تبدیلی ہوئی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پانی کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 67]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا جا رہا تھا کہ آپ کے لیے جو پانی لایا جاتا ہے وہ بضاعہ کے کنویں کا ہوتا ہے، حالانکہ اس میں کتوں کا گوشت، حیض کے چیتھڑے اور انسانوں کی غلاظت تک ڈال دی جاتی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے اسے کوئی شے ناپاک نہیں کرتی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے اس کنویں کے محافظ سے اس کی گہرائی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: پانی زیادہ سے زیادہ پیڑو (ناف کے نچلے حصے) تک آتا ہے۔ میں نے کہا: اور جب کم ہو تو؟ اس نے کہا: شرمگاہ سے کم (یعنی رانوں تک)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے ذاتی طور پر خود اپنی چادر اس کنویں پر پھیلا کر اسے ناپا تو اس کا قطر چھ ہاتھ تھا اور میں نے اس کے محافظ سے پوچھا، جس نے میرے لیے باغ کا دروازہ کھولا اور کنواں دکھلایا تھا، کہ آیا اس کی بنا میں دورِ نبوی سے کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟ تو اس نے کہا: نہیں، اور میں نے اس کا پانی دیکھا تو اس کا رنگ بدلا ہوا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 67]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4144) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بئر بضاعہ: مدینہ نبویہ میں مسجد نبوی سے جنوب مغرب میں واقع کنواں تھا، اس وقت یہ جگہ مسجد نبوی کی توسیع جدید میں مسجد کے اندر داخل ہو چکی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
محمد بن اسحاق بن يسار صرح بالسماع عند احمد (3/ 86)
محمد بن اسحاق بن يسار صرح بالسماع عند احمد (3/ 86)
35. باب الْمَاءِ لاَ يَجْنُبُ
باب: غسل جنابت کا بچا ہوا پانی نجس نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 68
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهَا أَوْ يَغْتَسِلَ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے ایک لگن سے (چلو سے پانی لے لے کر) غسل جنابت کیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن میں بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کرنے کے لیے تشریف لائے تو ام المؤمنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی (اور یہ غسل جنابت کا بچا ہوا پانی ہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی ناپاک نہیں ہوتا“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 68]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اہلیہ محترمہ رضی اللہ عنہا نے لگن میں سے غسل کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وضو یا غسل کرنا چاہتے تھے، تو اہلیہ محترمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ”اے اللہ کے رسول! میں جنابت سے تھی (اور میں نے اسی پانی سے غسل کیا ہے)۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تو کیا ہوا؟) پانی جنبی نہیں ہوتا (پاک ہی رہتا ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 68]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 48 (65)، سنن النسائی/المیاہ (326) بلفظ: ’’لا ینجسہ شيء‘‘، سنن ابن ماجہ/الطھارة 33 (370، 371)، (تحفة الأشراف: 6103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/235، 248، 308، 337)، سنن الدارمی/الطھارة 57 (761) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی غسل جنابت کے بعد بچا ہوا پانی پاک ہوتا ہے اور اس میں چھینٹیں پڑنے سے اس کی پاکی متأثر نہیں ہوتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (65)،نسائي (326)،ابن ماجه (370)
سلسلة سماك عن عكرمة سلسلة ضعيفة،انظر نيل المقصود في تعليق سنن ابي داود (ق 37/1) وسير أعلام النبلاء (248/5)
وانظر الحديث الآتي (2238)
وحديث مسلم (323) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
إسناده ضعيف
ترمذي (65)،نسائي (326)،ابن ماجه (370)
سلسلة سماك عن عكرمة سلسلة ضعيفة،انظر نيل المقصود في تعليق سنن ابي داود (ق 37/1) وسير أعلام النبلاء (248/5)
وانظر الحديث الآتي (2238)
وحديث مسلم (323) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
36. باب الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 69
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس سے غسل کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 69]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر اسی سے غسل کرے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 69]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14529)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 68 (239)، صحیح مسلم/الطھارة 28 (281، 282)، سنن الترمذی/الطہارة 51 (68)، سنن النسائی/الطھارة 46 (57)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 25 (343)، مسند احمد (2/316، 346، 362، 464)، سنن الدارمی/الطھارة 54 (757) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (282)
حدیث نمبر: 70
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَلَا يَغْتَسِلُ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ ہی اس میں جنابت کا غسل کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 70]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ جنابت سے اس میں نہائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 70]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 25 (344)، (تحفة الأشراف: 14137)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/433) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن