🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. ومنهم عقبة بن أبي معيط
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10524
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِفَنَاءِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوَّى ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ بِهِ خَنْقًا شَدِيدًا فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ وَدَفَعَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ {أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ} [سورة غافر: 28]
۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہا: تم مجھے یہ بتلاؤ کہ سب سے بڑی ایذا کون سی ہے، جو مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچائی؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے صحن میں نماز ادا کر رہے تھے، عقبہ بن ابی معیط وہاں آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کو پکڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن میں کپڑا ڈال کر اس کوبل دیئے اور سختی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاگلا دبایا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے، انھوں نے اس بد بخت کا کندھا پکڑا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹایا اور کہا: کیا تم اس شخص کو قتل کرتے ہو، جو یہ کہتا ہے کہ اس کا ربّ اللہ ہے اور وہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہارے پاس واضح نشانیاں لایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10524]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6908»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4815
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10525
عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قُلْتُ لَهُ مَا أَكْثَرُ مَا رَأَيْتَ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ قَالَ حَضَرْتُهُمْ وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ يَوْمًا فِي الْحِجْرِ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ سَفَّهَ أَحْلَامَنَا وَشَتَمَ آبَاءَنَا وَعَابَ دِينَنَا وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا وَسَبَّ آلِهَتَنَا لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ أَوْ كَمَا قَالُوا قَالَ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِهِمْ غَمَزُوهُ بِبَعْضِ مَا يَقُولُ قَالَ فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ مَضَى فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ مَضَى ثُمَّ مَرَّ بِهِمُ الثَّالِثَةَ فَغَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَقَالَ تَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ فَأَخَذَتِ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا كَأَنَّمَا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ حَتَّى إِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَصَاةً قَبْلَ ذَلِكَ لَيَرْفَؤُهُ بِأَحْسَنِ مَا يَجِدُ مِنَ الْقَوْلِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ انْصَرِفْ رَاشِدًا فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولًا قَالَ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ حَتَّى إِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ إِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَأَحَاطُوا بِهِ يَقُولُونَ لَهُ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا كَمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ عَنْهُ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ قَالَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ قَالَ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَهُ يَقُولُ وَهُوَ يَبْكِي {أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ} [سورة غافر: 28] ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ فَإِنَّ ذَلِكَ لَأَشَدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ
۔ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا: وہ کون سی سخت تکلیف ہے، جو قریشیوں نے اپنی دشمنی کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچائی ہو؟ انھوں نے کہا: میں خود ایک دفعہ موجود تھا، اشرافِ قریش حطیم میںجمع تھے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ کیا اور کہا: ہم نے اس شخص (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جتنا صبر کر لیا ہے، اتنا صبر تو کبھی بھی نہیں کیا تھا، اس نے ہمارے عقلاء کو بیوقوف بنادیا ہے، ہمارے آباء کو گالیاں دی ہیں، ہمارے دین کو معیوب قرار دیا ہے، ہماری جماعت میں تفریق ڈال دی ہے اور ہمارے معبودوںکو برا بھلا کہا ہے، بس ہم نے بہت بڑی چیز پر صبر کیا ہوا ہے، وہ یہ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے ہوئے آگے بڑھے، حجرِ اسود کا استلام کیا اور پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو انھوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض باتوں کی وجہ سے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کااستہزاء کرتے ہوئے) آپس میں آنکھوں اور ابروؤں سے اشارے کیے، میں نے اس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے میں محسوس کیا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی ان باتوں کو بھانپ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار نظر آنے لگے)، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے چلے گئے، جب دوسری بار گزرے تو پھر انھوں نے آنکھوں سے اشارے کیے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر اس چیزکو پہنچان لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیسری دفعہ گزرے اور انھوں نے آنکھوں سے اشارے کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریشیوں کی جماعت! سن لو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں ہلاکت کو لے کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ اس کلمے نے ان لوگوں پر اس قدر اثر کیا کہ ان میں سے ہر بندہ یوں خاموش ہو گیا، جیسے کے اس کے سرپر پرندہ بیٹھ گیا ہو، یہاں تک کہ ان میں جو آدمی اس سے پہلے وصیت کرنے میں سب سے سخت تھا، وہ بہترین الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح کرنے لگا اور کہنے لگا: اے ابو القاسم! آپ آگے چلیں، آپ آگے چلیں، اس حال میں کہ آپ ہدایتیافتہ ہیں، اللہ کی قسم! آپ جاہل نہیں ہیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے چل دیئے، جب اگلا دن آیا اور یہ لوگ حطیم میں جمع ہوئے، جبکہ میں بھی ان کے ساتھ تھا، تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: تم نے پہلے تو ان امور کا ذکرکیا جو تم کو اس (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور اس کو تم سے پہنچے ہیں، پھر جب اس نے تمہارے سامنے آکر ان ہی چیزوں کا تذکرہ کیا، جن کو تم ناپسند کر رہے تھے تو تم نے اس کو چھوڑ دیا، پس وہ اسی قسم کی باتوں میں مگن تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وہاں پہنچ گئے، اب کی بار تو وہ یک مشت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کود پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیر لیا اور کہا: تو وہی ہے جو ہمارے معبودوں اور دین کے معیوب ہونے کی اس قسم کی باتیں کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میں ہی ہوں ایسی باتیں کرنے والا۔ پھر میں نے ان میں سے ایک آدمی کودیکھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر کو پکڑا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور انھوں نے کہا: کیا تم ایسے شخص کوقتل کرتے ہو، جو یہ کہتاہے کہ اس کا ربّ اللہ ہے۔ پھر وہ لوگ وہاں سے چلے گئے، یہ سب سے سخت ایذا تھی، جو قریشیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچائی، میں نے اس قسم کی تکلیف کبھی نہیں دیکھی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10525]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البزار، واشار البخاري الي رواية ابن اسحاق ھذه عقب الحديث3856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7036»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْذِيبِهِم الْمُسْتَضْعَفِينَ وَضَرْبِهِمْ لِلنَّبِيِّ ﷺ وَسَبِّهِ
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10526
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ دَعَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (فَذَكَرَ الْحَدِيثَ) ثُمَّ قَالَ فَقَالَ عُثْمَانُ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ يَعْنِي عَمَّارًا أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ الدَّهْرُ هَكَذَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اصْبِرْ ثُمَّ قَالَ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتُ
۔ سالم بن ابی جعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ کو بلایا، ان میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے، … …، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو عمار کے بارے میں بتلاؤں، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں چلتے ہوئے آ رہا تھا، جبکہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے باپ (سیدنایاسر رضی اللہ عنہ) اور ماں (سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا) کے پاس سے گزرے، جبکہ ان کو عذاب دیا جا رہا تھا، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے والد نے کہا: اے اللہ کے رسول! زمانہ اس طرح بھی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: صبر کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! آلِ یاسر کو بخش دے اور تحقیق میں نے کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10526]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، سلم بن ابي الجعد لم يدرك عثمان بن عفان، وفي الباب ما يشھد لقوله اصبر اللھم اغفر لآل ياسر، أخرجه ابن سعد: 3/ 248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 439»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے اور تحقیق میں نے کر دیا ہے۔ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول کی اور ان کو بخش دیا۔ سیدنا عمار کے والد مکرم کا نام یاسر اور والدہ ماجدہ کا نام سمیہ بنت خیاط تھا، دنیا کییہ اذیتیں جس قدر تکلیف دہ تھیں، اتنا ہی اللہ تعالیٰ نے بہترین صلہ دیا اور چند دنوں کی آزمائشوں کے عوض ہمیشہ کی زندگی کو پرسکون بنا دیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10527
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنْهُ شَتْمُ قُرَيْشٍ كَيْفَ يَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَيَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو تعجب نہیں ہوتا کہ قریش کے گالی گلوچ کو مجھ سے کیسے دفع کر دیا جاتا ہے، وہ مُذَمّم پر لعنت کرتے ہیں، وہ تو مُذَمَّم کو برا بھلا کہتے ہیں، میں تو محمد ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10527]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3533، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7327»
وضاحت: فوائد: … قریشی کفار چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت ناپسند کرتے تھے، اس لیے وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ نام ہی ذکر نہیں کرتے تھے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح لازم آتی تھی، لیکن جب اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے دوسرا نام لیتے تھے، تو وہ سرے سے آپ کا نام ہی نہیں ہوتا تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3533
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10528
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينًا قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ فَقَالَ لَهُ مَا لَكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ وَفَعَلُوا قَالَ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً قَالَ نَعَمْ قَالَ فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي فَقَالَ ادْعُ بِتِلْكَ الشَّجَرَةِ فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَسْبِي
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمزدہ ہو کر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خون لگا ہوا تھا، کیونکہ بعض اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مارا تھا، جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ کاراوئی کی ہے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے وادی سے پرے ایک درخت کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اس درخت کو بلاؤ، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوبلایا اور وہ چلتا ہوا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: اب اس کو حکم دیں کہ یہ لوٹ جائے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا اور وہ اپنی جگہ لوٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے کافی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10528]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه ابن ماجه: 4028، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12136»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جبریل علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ اس معجزہ کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حوصلہ ہو جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غم کم ہو جائے گا، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ معجزہ دیکھنے کے بعد فرمایا: مجھے کافی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10529
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ مَرَّ وَصَاحِبٌ لَهُ بِأَيْمَنَ وَفِئَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ حَلُّوا أُزُرَهُمْ فَجَعَلُوهَا مَخَارِيقَ يَجْتَلِدُونَ بِهَا وَهُمْ عُرَاةٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَمَّا مَرَرْنَا بِهِمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلَاءِ قِسِّيسُونَ فَدَعُوهُمْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا أَبْصَرُوهُ تَبَدَّدُوا فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا حَتَّى دَخَلَ وَكُنْتُ أَنَا وَرَاءَ الْحُجْرَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ لَا مِنَ اللَّهِ اسْتَحْيَوْا وَلَا مِنْ رَسُولِهِ اسْتَتَرُوا وَأُمُّ أَيْمَنَ عِنْدَهُ تَقُولُ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبِلَاءٍ مَا اسْتَغْفَرَ لَهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ اور اس کا ایک دوست سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہاں قریشیوںکے چند لوگوں نے اپنے ازار اتارے ہوئے تھے اور ان کو بٹ کر وہ ایک دوسرے کو مار رہے تھے، جبکہ وہ ننگے تھے، جب ہم لوگ اُن کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ہمارے بارے میں کہا: یہ پادری لوگ ہیں، چھوڑو ان کو، پھر اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے آئے، جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ تتر بتر ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں واپس آ گئے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا، جبکہ میں حجرے کے پیچھے سے سن رہا تھا: سبحان اللہ! نہ ان لوگوں کو اللہ سے شرم آئی اور نہ ان لوگوں نے اس کے رسول سے پردہ کیا۔ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیں، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے لیے بخشش طلب کرو، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشقت اور تاخیر کے بعد ان کے لیے مغفرت طلب کی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10529]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابويعلي: 1540، والبيھقي في شعب الايمان: 7763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17863»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کا نام برکت تھا، یہ حبشن تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد کی لونڈی تھیں،یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گود کھلایا کرتی تھیں، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دورِ نبوت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایمان لائیں، سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے شادی کی تھی، ان ہی سے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تھے،سیدہ ام ایمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے پانچ چھ ماہ بعد فوت ہو گئیں، روایت میں مذکورصحابی سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ ان ہی کا بیٹا تھا، یہ غزوۂ حنین میں شہید ہو گئے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10530
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ قَيْنًا بِمَكَّةَ فَكُنْتُ أَعْمَلُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ فَاجْتَمَعَتْ لِي عَلَيْهِ دَرَاهِمُ فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لَا أَقْضِيَنَّكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ فَإِذَا بُعِثْتُ كَانَ لِي مَالٌ وَوَلَدٌ (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِنِّي إِذَا مِتُّ ثُمَّ بُعِثْتُ وَلِيَ ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأُعْطِيكَ) قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا} [سورة مريم: 77] حَتَّى بَلَغَ {فَرْدًا} [سورة مريم: 80]
۔ مسروق سے مروی ہے کہ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں مکہ میں لوہار تھا، میں نے عا ص بن وائل کا کام کیا اور میرے کچھ درہم اس پر جمع ہوگئے، ایک دن میں ان کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس آیا، لیکن اس نے کہا: میں تجھے اس وقت تک یہ درہم نہیں دوں گا، جب تک تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر نہیں کرے گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر نہیںکروں گا، یہاں تک کہ ایسا نہیں ہو جاتاکہ تو مر جائے اور پھر تجھے اٹھا دیا جائے، اس نے آگے سے کہا:جب مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو میرے لیے مال اور اولاد ہو گی، ایکروایت میں ہے: اس نے کہا: پس بیشک جب میں مر جاؤں گا اور پھر مجھے اٹھایا جائے گا تو وہاں میرا مال ہو گا اور میری اولاد ہوگی، اُس وقت میں تجھے یہ قرض چکا دوں گا، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے اس کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی، کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟ ہر گز نہیں،یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے، یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے، اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہو گا۔(سورۂ مریم: ۷۷ تا ۸۰) [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10530]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2091، 2275، 4733،: 2795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21382»
وضاحت: فوائد: … عمرو بن عاص کا یہ جواب طنز اور استہزاء پر مشتمل تھا۔
ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ عمر و بن عاص یہ جو دعوی کر رہا ہے، کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہاں بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہو گی؟یا اللہ سے اس کا کوئی عہد ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے، یہ صرف آیات ِ الہی کا استہزاء و تمسخر ہے، یہ جس مال و اولاد کی بات کر رہا ہے، اس کے وارث تو ہم ہیں،یعنی مرنے کے ساتھ ان سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا اور ہماری بارگاہ میں یہ اکیلا آئے گا، نہ مال ساتھ ہو گا نہ اولاد اور نہ کوئی جتھہ، البتہ عذاب ہو گا، جو اس کے لیے اور ان جیسے لوگوں کے لیے ہم بڑھاتے رہیں گے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2091
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10531
عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَةً لَهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَنَا وَاسْتَنْصِرْهُ قَالَ فَاحْمَرَّ لَوْنُهُ أَوْ تَغَيَّرَ فَقَالَ لَقَدْ كَانَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ حُفْرَةٌ وَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخْشَى إِلَّا اللَّهَ تَعَالَى وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ
۔ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر تشریف فرما تھے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور اس سے مدد طلب کریں،یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ سرخ ہوگیایا بدل گیا (راوی کو الفاظ کے متعلق شک ہے) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ تم سے پہلے تھے، ان کو گڑھے میں دبایا جاتا، پھر آری لا کر ان کے سر کو چیر دیا جاتا تھا،لیکن یہ تکلیف بھی ان کو اللہ تعالیٰ کے دین سے دور نہ کر سکی اور اسی طرح لوہے کی کنگھیوں سے لوگوں کی ہڈیوں سے گوشت اور پٹھوں کو نوچ لیا جاتا تھا،لیکن یہ آزمائش بھی ان کو دین سے نہ پھیر سکی، سنو، اللہ تعالیٰ ضرور ضرور اس دین کو اس طرح مکمل کرے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک چلے گا اور وہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اور اپنی بکریوں کے بارے میں بھیڑئیے سے ڈرے گا، لیکن تم جلدی کرتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10531]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21371»
وضاحت: فوائد: … اللہ اکبر! کتنی قابل غور بات ہے کہ اتنی تکالیف اور آزمائشوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کو ڈانٹ رہے ہیں کہ تم لوگ جلد بازی سے کام لے رہے ہو، تمہیں چاہیے کہ تم صبر کرو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3852
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعَنُّتِ قُرَيْشٍ فِي طَلْبِ الْآيَاتِ وَاصْرَارِهِمْ عَلَى الْعِنَادِ وَتَأْمُرِهِمْ عَلَى قَتْلِ سَيِّدِ الْعِادِ ﷺ
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10532
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} [سورة القمر: 1-2]
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک نشانی کا سوال کیا، جواباً چاند پھٹ گیا،یہ واقعہ مکہ میں دو بار پیش آیا، پس اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا،یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آ رہا جادو ہے۔ (سورۂ قمر: ۱، ۲) [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10532]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3637، 4867، ومسلم: 2802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12718»
وضاحت: فوائد: … کئی آیات میں یہ مفہوم بیان کیا گیا ہے کہ قیامت قریب ہے اور دنیا ختم ہونے والی ہے، جیسے سورۂ قمر کی پہلی آیت میںکہا جارہا ہے۔
اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہو گیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے، لیکن ایمان لانے کے بجائے ان کا جواب یہ تھا کہ ان آنکھوں پر جادو ہو گیا ہے، یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور کافی احادیث میں اس واقعہ کا ذکر اور تفصیل موجود ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3637
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10533
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَارَ فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةً عَلَى هَذَا الْجَبَلِ وَفِرْقَةً عَلَى هَذَا الْجَبَلِ فَقَالُوا سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ فَقَالُوا إِنْ كَانَ سَحَرَنَا فَإِنَّهُ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہد نبوی میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر نظر آ رہا تھا، کافروں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم پر جادو کر دیا، لیکن بعض لوگوں نے کہا: اگر ہم پر جادو کر دیا ہے تو اس کو اتنی طاقت تو نہیں ہے کہ سب لوگوں پر جادو کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10533]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حصين بن عبد الرحمن لم يسمع ھذا الحديث من محمد بن جبير بن مطعم، بينھما جبير بن محمد بن جبير وھو مجھول، أخرجه الترمذي: 3289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16871»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں